پاکستانی فلم ساز نے نیو یارک فیسٹیول میں 2 ایوارڈ حاصل کر لیے

Spread the love
دستاویزی فلم ’وائٹر شیڈ آف ٹیرر‘ کا ایک سین، اسکرین گریب

پاکستانی فلم ساز شہزاد حمید احمد کی دستاویزی فلموں ’وائٹر شیڈز آف ٹیرر ‘ اور ’ کاٹ اِن دا کراس فائر‘ نے نیویارک فیسٹول 2020 میں دو ایورڈز حاصل کرلیے۔
نیو یارک فیسٹیول 2020 میں پاکستانی فلم ساز شہزاد حمید احمد اپنی دستاویزی فلموں کے لئے ایک نہیں بلکہ دو ایوارڈز جیتنے میں کامیاب رہے، ان کی دستاویزی فلموں کو ’ہیومن رائٹس یعنی انسانی حقوق‘ اور’ہیومن کنسرن یعنی انسانی تحفظات ‘کی کیٹیگری میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

کاٹ اِن دا کراس فائر، اسکرین گریب

انسانی تحفظات‘ کے زمرے میں شہزاد حمید کی نسل پرستی اور دہشت گردی کی داستان پر مبنی دستاویزی فلم ’وائٹر شیڈز آف ٹیرر‘ نےسلور ایوارڈ حاصل کیا۔ فلم ساز نے اس فلم میں نسل پرستی اور دہشت گردی کو دکھانے کے لیے تفتیش کی غرض سے ناروے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سفر کیا۔
نیویارک فیسٹول 2020 کے ہیومین رائٹس یا انسانی حقوق کی کیٹیگری میں شہزاد حمید احمد کی جنگ زدہ افغانستان کے مسائل پر مبنی دستاویزی فلم ’کاٹ اِن دا کراس فائر‘ کانسی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہی ۔
دو حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم ’کاٹ اِن دا کراس فائر‘ دو گھنٹے طویل دورانیے کی ہے، جس کی عکس بندی کے لیے فلم ساز نے جنگ کے دوران فرنٹ لائن پر افغانستان کا سفر کیا۔

دستاویزی فلم کی پہلے حصے کی کہانی ایک صحافی، ایک خاتون ا سٹریٹ آرٹسٹ اور ایک نوجوان آرمی کیڈٹ کے گرد گھومتی ہے، جو طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ میں پھنس جاتے ہیں۔
فلم کا دوسرا حصہ طالبان کے زیر قبضہ علاقوں تک رسائی اور یہ سمجھنے پر مرکوز ہے کہ آخر یہ جنگجو کیسے 18 سال قبل امریکی افواج کی آمد کے باوجود ملک کے اتنے بڑے علاقے پر اپنا تسلط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
نیویارک یونیورسٹی میں صحافت اور دستاویزی فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنے والے 34 سالہ شہزاد نے کئی بین الاقوامی ایوارڈ اپنے نام کیے ہیں، جن میں اسپین کے بادشاہ کی طرف سے 2014 میں نوازا گیا ’انٹرنیشنل کوآپریشن ایوارڈ‘ بھی شامل ہے۔
دستاویزی فلموں کے اعتراف میں وہ نیویارک کے چار فیسٹیولز ایوارڈز جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ 2016 میں انہوں نے اپنی ڈاکیومنٹری ’فلائٹ آف دی فیلکنز‘ کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا، اس ڈاکیومنٹری کو کمیونٹی پورٹریٹس کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا تھا۔
2017 میں شہزاد حمید نے قصور لوسٹ چلڈرن نامی ڈاکیومنٹری کے لیے ہیومن کنسرن کیٹیگری میں سلور ایوارڈ حاصل کیا تھا۔
14 سال سے دستاویزی فلمیں بنانے اور بطور براڈکاسٹ جرنلسٹ کام کرنے والے شہزاد حمید عالمی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

پاکستانی فلم ساز نے نیو یارک فیسٹیول میں 2 ایوارڈ حاصل کر لیے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں