نِکّی نِکّی ڈھولکی … نیلم ملک

Spread the love

پچھلے دو تین مہینے میں نے خود کو جی بھر کے نظر انداز کیے رکھا اور نتیجہ اس کا حسبِ توقع برآمد ہوا کہ جب کسی خیال بلکہ بے خیالی سے چونک کر نظر آئینے پر پڑی تو پتہ چلا کہ آنکھوں کے نچلے پپوٹوں پر واضح لکیریں بن گئی ہیں۔
آج کل انہی لکیروں کو پیٹتے ہوئے وقت گزر رہا ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو قوی امکان ہے کہ اس پیٹنے سے خار کھا کر لکیریں اور بھی اینٹھ جائیں گی اور اپنی جگہ سے ہٹنے کو بالکل راضی نہ ہوں گی۔
اس کے باوجود اپنے تئیں بھلی چنگی سوجھ بوجھ ہوتے ہوئے اب تک یہ نہیں ہوا کہ ان لکیروں کو کم کرنے کا سوچا جائے اور پھر اس سوچ پر عمل شروع کیا جائے۔ اس سے پہلے کہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے اور آنکھوں کے نچلے پپوٹوں پر پڑنے والی یہ تازہ تازہ لکیریں قسمت کی ہمیشہ گیلی رہنے والی تختی پر جا پڑیں جو اسی لیے کبھی نہیں سوکھتی کہ ہم جب مرضی اپنے کئے کا سارا مدعا اس پر ڈال سکیں۔
کچھ ایسا ہی حال ہمارے عوام سے لے کر چھوٹے بڑے تاجروں اور گھریلو سیاست میں الجھی خواتین سے لے کر ملکی حکمرانوں تک کا ہے کہ لکیر پیٹنے میں ان سب کا کوئی ثانی نہیں۔ سب کے سب اپنی مثال آپ ہیں بلکہ یوں سمجھیے کہ اپنے نام کے ایک ہی ہیں۔ سب تندہی اور جانفشانی سے اپنے اپنے حصے کی لکیر پیٹنے میں مست مگن ہیں۔ یہ سوچنے کی کسی کو فرصت ہی نہیں کہ ایسی ہر لکیر ہماری اپنی ہی لاپروائیوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ وقت رہتے معاملات کو نہ سنبھالنے اور میسر مہلت سے استفادہ نہ کرنے کے نتائج ایسے ہی نکلتے ہیں۔ تو کیا برا ہے اگر لکیر پیٹتے رہنے کے بجائے آئندہ کے لیے ہی احتیاطی تدابیر پر غور کر لیا جائے!!
اب جبکہ ان سب کا حال ایک جیسا ہے تو سوشل میڈیائی فورسز بھلا کیوں الگ رہیں۔ یہ کون سے اچھوت، کھشتری یا کسی دوسرے سیارے سے زمین پر اتری مخلوق ہیں۔ آخر یہ سب بھی اسی معاشرے کی ایسی پیداوار میں سے “خاص” اور “چنندہ” بُوٹیاں ہیں جو “نیم کسان” کے بے وقت بوئے ہوئے بیج کے نتیجے میں نمودار ہوئیں۔
جب باقی سب لکیروں کو بھرنے کا سوچنے اور “کُھڈّوں” کو بند کرنے کی تدبیر کرنے کے بجائے اِنہیں پِیٹ پِیٹ کر گہری کھائیاں بنائے چلے جا رہے ہیں تو سوشل میڈیائی فورسز بھی یہی کریں گی نا۔
“یہ تو ہو گا” کیونکہ خاص طور پر ان وبا کے دنوں میں اور کوئی کام دھندا تو کرنے کو ہے نہیں اور نِچلے بیٹھنا ہمیں آتا نہیں۔ آخر “وہ” بھی تو ہمِیں میں سے ہیں جو ابا جی کے جنازے کا انتظار بھی بیکار بیٹھ کر نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ “جدوں تک ابا جی نوں نہلایا جا ریا، چلو اسیں نِکی نِکی ڈھولکی وجا لئیے” ۔۔۔
اب بھیا شہ کے مصاحب تو اپنی ڈیوٹی کر کے کان لپیٹے نکل لیے کیونکہ ان کا ذمہ یہیں تک تھا۔ اب رعایا لگی دل پشوری کے لیے لکیر پیٹنے۔ جبکہ ان ڈنڈا برداروں کو خود بھی خوب پتہ ہے کہ ان کی یہ اٹھا پٹخ لاحاصل ہے۔ ویسے تو سوائے چَس لینے کے ان کا مقصد کچھ حاصل کرنا ہے بھی نہیں اور چَس تو خوب آ رہی ہے۔
یا پھر اس مبارک مہینے میں ہر کسی کو اپنی اپنی فکر پڑ گئی ہے۔ جیسے خلائی مخلوق نے ان سب کا کچا چٹھا لے جا کر شہ کے مصاحب کے عین سامنے کھول دیا ہو۔ پھر اُنہوں نے جو بھی کہا وہ نام بہ نام اِنہی کو مخاطب کر کے کہا ہو۔
اسی لیے تو اُن کا کہا ہر لفظ تیر کی طرح ہر کسی کے اسی مقام پر پیوست ہوا جو آسان ترین ہدف تھا۔
جبکہ حقیقت میں ایسا تو بالکل نہیں ہوا کہ کسی فردِ واحد کا نام لیا گیا ہو۔ بلاشبہ انہوں نے اپنے تخاطب میں واحد کا صیغہ استعمال کیا لیکن وہ قوم کے لیے تھا یعنی ہم سب کو “ایک قوم” کہا، اور کیسی کیسی قوم کہا یہ سبھی نے سن لیا اس لیے دہرانا غیر ضروری ہے۔
سیخ پا ہونے سے پہلے ذرا سوچ کر بتائیے کہ اس سے پہلے کب ہم نے اتنے اتفاق کا مظاہرہ کیا کہ ایک پہ چلی گولی دوسرے نے سینے پہ کھائی ہو؟ ایک کو پڑی گالی دوسرے نے خود پر جھیلی ہو؟ کبھی نہیں کِیا نا ایسا؟ تو پھر اب کیوں؟ ہم تو ہمیشہ اپنے علاوہ باقی سب کو “قوم” کہہ کر گالیاں دیتے رہے تو پھر آج ہر کوئی خود کو قوم کیوں سمجھ رہا ہے؟
کہیں دال میں کالا تو نہیں؟ یا پھر چور کی داڑھی میں تنکا؟ اگر یہ بھی نہیں تو پھر ہماری اجتماعی دُم پر شہ کے مصاحب کا پاؤں ضرور آ گیا ہے تبھی سب کے سب علیحدہ علیحدہ بلبلا اٹھے ہیں اور ہر کوئی یہی محسوس کر رہا ہے کہ پاؤں دراصل خصوصی طور پر اسی کی دم پہ رکھا گیا ہے اور جان بوجھ کر کسی سازش کے تحت رکھا گیا ہے۔
شہ کے مصاحب کی بات پر اس مبارک مہینے میں سب کو اپنی اپنی صفائی پیش کر کے خود اپنے ہی ضمیروں کو مطمئن کرنے اور گواہیاں جمع کرنے کا موقع مل گیا ہے کہ بھئی ہم تو دودھ کے دھلے ہیں بلکہ ہمیں تو کبھی “دھونے دھلانے” کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ جبکہ ان کی یہ صفائیاں نہ یہاں کسی کام کی ہیں نہ وہاں۔ کیونکہ یہاں والوں کو اپنی پڑی ہے اور وہاں والا خوب جانتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے اور کون دودھ کا دھلا۔
پھر بھی سب کو فلٹرز کے ذریعے چمکائی ہوئی اپنی اپنی پشت دکھانے کا اور یہ جتانے کا بھوت سوار ہے کہ بھیا ہماری پشتیں صاف ہیں۔ ان پر ایسے اعمال کا کوئی بوجھ نہیں جن کی بِنا پر یہ بھڑکتی ہوئی آگ میں تپائی ہوئی مہروں سے داغی جائیں یا ان کی وجہ سے دنیا پر کوئی آفت نازل ہو۔۔
یوں بھی اب ہمارے ہاتھ اتنے لمبے ہو چکے ہیں کہ ہماری پشت کے اس مقام تک بھی باآسانی پہنچ سکتے ہیں جہاں کھجانے کے لیے اگلے وقتوں میں کسی دوسرے کی مدد درکار ہوا کرتی تھی۔ کسی کے گریبان تک پہنچنا اور اس کے چیتھڑے اڑانا تو ہمارے لمبے ہاتھوں اور بڑھے ہوئے ناخنوں کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اس وقت تو اور بھی آسانی ہو جاتی ہے جب گھر بیٹھے بٹھائے ایک ہاتھ سے پشت کھجاتے اور دوسرے ہاتھ کی انگلیاں موبائل پہ چلاتے ہوئے یہ کام کیا جائے کیونکہ اِن کو صحیح اور غلط ہر مقام پر چلانے میں سب خوب ماہر ہیں۔
سچ پوچھیں تو ہم ایسا درد مند دل ( یہاں دل کو دل ہی پڑھا اور سمجھا جائے) رکھنے والی قوم ہیں کہ اس مبارک مہینے میں بھی ہمیں اپنی بجائے شہ کے مصاحب کی عاقبت خراب ہونے کا دکھ کھائے چلا جا رہا ہے اور ہم اسی کی خاطر ہلکان ہو رہے ہیں ورنہ ہمیں کیا پڑی ہے کہ کورونا کا پیچھا چھوڑ کر شہ کے مصاحب کی فکر کریں۔
رہی بات اُن چند صحافیوں کی تو بدلتے وقت کے ساتھ ابلاغ کے طریقے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
ان صحافیوں نے بھی تمیز اور بدتمیزی کی مقامی لکیر پھاند کر سوال کرنے کا راستہ کھولا ہے۔ اور جب پتھریلی زمینوں پر راستے بنتے ہیں تو اول اول ناہموار ہی ہوتے ہیں پھر مسافروں کے آنے جانے سے ہموار ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح سوال کا راستہ ابھی اکھاڑ پچھاڑ سے اَٹا ہوا سہی لیکن بنا ہے تو کبھی نہ کبھی ہموار بھی ہو جائے گا اور سوال کرنے کو گناہ یا بداعتقادی کہہ کر رد کرنے کے بجائے سوال کرنے کی تہذیب سے بھی ہم واقف ہو ہی جائیں گے۔

نِیلم ملک

اپنا تبصرہ بھیجیں