کورونا وائرس: لاک ڈاؤن میں ایک حاملہ خاتون پر کیا گزرتی ہے؟

Spread the love

کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کے مکین خطرے کی زد میں ہیں لیکن اس صورتحال میں کچھ اضافی احتیاط ان خواتین کو کرنی پڑ رہی ہے جو ماں بننے والی ہیں۔ تہمینہ قریشی بھی ایسی ہی ایک خاتون ہیں جنھوں نے بی بی سی سے اپنی ڈائری شیئر کی ہے۔
میرے پہلے بچے کی پیدائش اگلے ہفتے متوقع ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ میری ہائی رسک پریگنینسی ہے یعنی سی سیکشن ہو گا۔ اس صورتحال کی وجہ سے مجھے عام حاملہ خواتین کی نسبتاً زیادہ مرتبہ تقریباً یعنی ہر دوسرے ہفتے ہی ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیے ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

گذشتہ دو ماہ سے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے میرا ہسپتال آنا جانا مختصر سفر، خوف اور تھکاوٹ سے پرخطر اور بہت حد تک طویل سفر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

تین روز قبل ڈاکٹر نے مجھے چیک اپ کے لیے بلایا، چھوڑنے تو میرے شوہر گئے لیکن اب وہ دو ماہ پہلے کی طرح میرے ہمراہ اندر ہسپتال میں نہیں جا سکتے کیونکہ سماجی دوری کا ضابطہ ہسپتالوں میں بھی نافذ کیا جا رہا ہے یعنی ہسپتال میں جتنا کم رش ہو اتنا ہی اچھا ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے میرے گھر کے پاس قریب چند علاقے سیل ہیں۔ مجھے باہر نکلتے وقت راستوں کو دیکھنا پڑتا ہے کہ کس جانب زیادہ ناکے ہیں تاکہ اس طرف سے نہ جائیں کیونکہ اس کی وجہ سے چیکنگ میں مزید وقت لگتا ہے اور یوں اضافی وقت گھر سے باہر وبا کے خطرے میں گزرنے میں لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں