معروف شاعر‘ادیب اوردانشور میجر شہزاد نیرسے آغرؔ ندیم سحر کا مکالمہ

Spread the love

۱۔(پاکستان میں دائیں بازو کی سیاسی و سماجی پارٹیوں نے ترقی پسند نظریے کو انتہائی خلط ملط کر کے پیش کیا یعنی اس نظریے کو دہریت اور لادینیت کی طرف لے گئے اور مزید یہ ہوا کہ ترقی پسند نظریات کے حامی دائیں بازو کے حامیوں سے الجھ پڑے حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ کوئی درمیانی راہ نکال لی جاتی مگر ایسا نہیں ہوا)
۲۔(تنقید میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر‘جدید غزل میں ظفر اقبال،شناور اسحاق،ذوالفقار عادل،جدید نظم میں فرخ یار،دانیال طریر،سعید دوزشی اور عرفان شہود‘نثری نظم میں نصیر احمد ناصر،سدرہ سحر عمران ،ناول میں اختر رضا سلیمی،افسانے میں طاہرہ اقبال اور ادیب کالم نگاروں میں واجد امیر اور آغر ندیم سحر نے متاثر کیا)
۳۔(میں جب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو گفتگو کرتے ہوئے سنتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ بائیں بازو کا کوئی مفکر بول رہا ہے یعنی کوئی ترقی پسندانسان بول رہا ہے کیونکہ وہ تقریروں میں وہی تمام مسائل اٹھاتے ہیں جو بائیں بازو کا منشور ہے)

سوال:سب سے پہلے آپ اپنے آبائی علاقے اور تعلیمی کیرئیر کے حوالے سے بتائیں۔
جواب:سب سے پہلے تو آغر بھائی آپ کا شکریہ کہ آپ نے تفکر کے لیے میرا انٹرویو کیا۔میری پیدائش گوجرانوالہ کے قریب ایک گائوں گوندلہ والا میں ہوئی تھی اور میں نے گائوں ہی کے سکول سے میٹرک کیا تھا۔گائوں کی زندگی ویسی ہی تھی جیسے گائوں کے ہربچے کی ہوتی ہے،یعنی کھیتوں میں کام بھی کیا اور کھیل کود بھی کرتے رہے۔فصلوں کا خیال بھی رکھا اور چارہ بھی کاٹتے رہے۔میٹرک کے بعد ایف سی کالج لاہور میںداخلہ لیا کیونکہ میرے میٹرک میں نمبر اچھے تھے۔ایف ایس سی کے بعد آرمی کو جوائن کر لیا اور اس کے بعد دورانِ ملازمت ہی گریجویشن اور ایم اے اردو کیا۔مزید ایم اے اور ایم فل ابلاغیات(اوپن یونیورسٹی سے) کیا۔فارسی زبان سے لگائو ہونے کے ناطے نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے فارسی زبان و ادب میں ڈپلومہ کیا۔
سوال:آرمی میں رہتے ہوئے یا لکھنے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب:دیکھیں آغر بھائی!لکھنے اور پڑھنے کا شوق تو مجھے سکول کے زمانے سے تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تیسری اور چوتھی کلاس کے دوران اردو سلیبس میں موجود جتنی بھی نظمیں تھیں‘مجھے وہ زبانی یاد تھیں۔اس کے بعد جب ساتویں میں گیا تو سلیبس میں اقبال کی ایک نظم’’ایک آرزو‘‘تھی ‘اس نے تو مجھ پہ جادو کر دیا۔اسی زمانے میں بچوں کے رسائل و جرائد تک رسائی ہوئی تو لکھنا بھی شروع کر دیا۔نویں اور دسویں تک پہنچتے پہنچتے دو کاپیاں بھر لیں جو اگرچہ بے وزن شاعری تھی یا بے ربط نثر لیکن جنون تھا لکھنے کا جسے پورا کیا۔انٹر کے بعد جب آرمی کو جوائن کیا تو جتنا وقت بھی ملا وہ سب لکھنے اور پڑھنے میں گزارا سو آرمی میں رہتے ہوئے بہت سے تجربات ہوئے جو یادگار ہیں اور انہیں صفحہ قرطاس پہ اتارا۔یہاں یہ بتاتا چلوں کہ دسویں کے ساتھ ہی یا تھوڑا بعد ‘میں نے سید ماجد الباقری کی شاگردی اختیار کی۔ان کے بعد حضرت جان کاشمیری سے عروض کے بارے رہنمائی لیتا رہا۔پی ایم اے (پاکستان ملٹری اکیڈمی ایبٹ آباد)میں رہتے ہوئے بھی مسلسل لکھا اور جب آرمی کو بطور آفیسر جوائن کر لیا تب بھی لکھنے کا سلسلہ موقوف نہیں کیا بلکہ تیزہو گیا۔
سوال:میں تھوڑا سا پیچھے جائوں گا جب آپ ترقی پسند اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے اور بھرپور لیکچر دیتے رہے۔میں پوچھنا چاہتاہوں کہ کیا ہمارے ہاں اس وقت ترقی پسند سوچ ہے یا نہیں؟ترقی پسند تحریک کا کردار بھی واضح کریں؟
جواب:یہ جو آپ نے پوچھا کہ پاکستان میں ترقی پسند سوچ پروان چڑھ رہی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں ترقی پسند سوچ ہمیشہ سے رہی ہے حتیٰ کہ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی پروگریسو سوچ ان علاقوں میں موجود تھی۔انجمن بھی موجود تھی اور جب قیام پاکستان کی حمایت کی تھی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے ،قوموں کی آزادی کے اصول پر پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔پھر جب پاکستان وجود میں آ گیا تو کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان اور کیمونسٹ پارٹی آف انڈیاالگ الگ ہو گئیں۔اسی طریقے سے انجمن ترقی پسند مصنفین جس میں فیض اور جنر سیکرٹری ندیم صاحب تھے،وہ بھی کئی سالوں تک ساٹھ ستر کی دہائی میں بہت فعال رہی۔اسی کی دہائی میں اس پہ کڑا وقت آیا جب ضیاکی آمریت تھی،نوے کی دہائی تک بھی تقریبا رہی۔اب مجھے یوں لگتا ہے کہ ترقی پسند سوچ ایک نئے انداز میں ری آرگنائز کر رہی ہے،اس میں کچھ سیاسی پارٹیاں بھی ہیں جیسے ورکرپارٹی ہے۔اب یہ بھی مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں بائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں اس انداز میں کبھی متحرک نہیں رہی ہیں لیکن یہ کہوں گا کہ سیاسی سوچ ہر مکتبہ فکر میں ہر دور میں رہی۔لکھاریوں میں بھی ہر دور میںیہ سوچ پروان چڑھتی رہی اور لوگوں کا اضافہ ہوتا رہا،اب صورتِ حال یہ ہے کہ ایک ترقی پسندوں کی لاہور میں کتنی شاخیں بن چکی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی ان کا مسئلہ ہے کہ یہ لوگ متحد نہیں ہیں۔بائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ یہ کبھی متحد نہیں ہو ئے جس وجہ سے مار کھاتے رہے۔خیر پاکستان میں ترقی پسند سوچ نئے اندازمیں توانا ہو کر ابھر رہی ہے مگر ہمیں خود کو آرگنائز کرنا ہے‘سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا‘یہ ہماری سوچ بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے سو اس کو بھی چاہیے کہ مثبت سوچ کو پروان چڑھائے۔یہی وجہ ہے لاہور میں سٹوڈنٹ مارچ ہو یا انڈیا میں ‘جالب و فیض کی ترقی پسند نظمیںقومی ترانہ بن رہی ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ترقی پسند فکر نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں دائیں بازو کی سیاسی و سماجی پارٹیوں نے ترقی پسند نظریے کو انتہائی خلط ملط کر کے پیش کیا یعنی اس نظریے کو دہریت اور لادینیت کی طرف لے گئے اور مزید یہ ہوا کہ ترقی پسند نظریات کے حامی دائیں بازو کے حامیوں سے الجھنے لگ گئے سو ہونا یہ چاہیے تھا کہ کوئی درمیانی راہ نکال لی جاتی جیسے حسرت موہانی‘مولانا عبید اللہ سندھی تھے، تو یہ جنگ ختم ہو سکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا جس کا خیر بہت نقصان ہوا۔میں سمجھتا ہوں کہ مذہب پسندوں سے الجھنے کی بجائے ہمیں مساوات‘وسائل کی مساویانہ تقسیم،مواقع کی منصفانہ تقسیم ،وسائل پر چند لوگوں کے قبضے کی بجائے اسے عوام الناس کے افادے کے لیے رکھنا ،اور حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانے دینا جس سے ہماری مقامی پروڈکشن کو ترویج ملے اور ہمارا غریب طبقہ اوپر اٹھے۔انجمن ترقی پسند مصنفین بلاشبہ لکھنے والو ں کی فکری تربیت کا ایک اہم ادارہ ہے لیکن جیسا کہ پہلے کہا کہ ان لوگوں میں اتحاد نہیں ہے یعنی ہر شہر میں اس کی کئی کئی برانچز ہیں،اب یہ اتنی فعال نہیں رہی جتنی کسی زمانے میں تھی۔
سوال: ہمارے ہاں ہر دور میں جب بھی کسی سیاسی جماعت نے ووٹ مانگا تو اس کے نعرے بائیں بازو والے نعرے رہے‘یہ کیا وجہ ہے؟دائیں بازو والے ہوں یا بائیں بازو والے‘نعرے وہی ہیں۔یعنی ووٹ لیتے وقت ان کی سوچ لیفٹ ہو تی ہے مگر ووٹ لینے کے بعد نہ یہ لیفٹسٹ رہتے ہیں نہ ہی رائیٹسٹ۔
جواب: میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ لگ بھگ تمام سیاسی پارٹیوں جو نعرے ہیں وہ بائیں بازو کی انسان دوست فکر سے ہی اخذ کیے گئے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ مارکسزم انسان مرکز فلسفہ ہے یعنی وہ انسانی کی جو مادی ضروریات ہیں (مثلا کھانا،پینا،رہنا،تعلیم،صحت،انصاف)کو ہی ڈسکس کرتا ہے۔تاہم جو جدلیاتی مادیت کا فلسفہ ہے وہ چاہے کوئی ماکرسسٹ ہے یا نہیں،اسے متاثر کرتا ہے۔سو یہی وجہ ہے کہ جو آپ نے کہا کہ ہر پارٹی کے منشور میں آپ کو وہی فلسفہ نظر آئے گا جو مارکسی فلسفہ ہے۔باقی جب یہ پارٹیاں حکومت میں آ جاتی ہیں تو عالمی سرمایہ داری کے جو گماشتے ہیں ‘بڑے بڑے جو سامراجی ممالک ہیں جن کی ایسی ایسی کمپنیاں ہیں کہ ایک کمپنی کا بجٹ دس غریب ملکوں کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے،ان کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔یعنی ان کی مصنوعات اس ملک کو منڈی سمجھ کر بے تحاشا منگوائی جاتی ہیں جو یہاں فروخت ہوتی ہیں۔اس طریقے سے ہماری اقتصادیات دوسروں کے پنجوں میں چلی جاتی ہے۔کسی حکومت میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ عالمی سرمایہ دارانہ طاقتوں کے سامنے کھڑی ہو سکے۔انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ ہماری جو اپنی اقتصادیات ہے،شایدوہ بیرونی سرمائے یا بیرونی مصنوعات کے بغیر نہیں چل سکتی۔حالانکہ میں ذاتی طور پر بین بین اس کے حق میں ہوں یعنی جو ضروری چیزیں ہیں وہ باہر سے منگوائی جائیں باقی یہاں تیار کی جائیں تاکہ ہم مکمل طور پر دوسرے سرمایہ دارانہ ملکوں کے رحم و کرم پر نہ ہوں۔باقی اپنے لوگوں کو وسائل دیں تاکہ وہ اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق پراڈکٹ بنائیں اور اپنے ملک میں ہی بیچ کر ہماری اقتصادی صورت حال کو بہتر کریں۔اچھا میں آپ کو بتائوں جیسا کہ آپ نے سوال کیا،میں جب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو گفتگو کرتے ہوئے سنتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ بائیں بازو کا کوئی مفکر بول رہا ہے یعنی کوئی ترقی پسندانسان بول رہا ہے کیونکہ وہ تمام مسائل اٹھاتے ہیں جو بائیں بازو کا منشور ہے۔
سوال:شہزاد بھائی بات دور نکل گئی‘میں ادب کی طرف آتا ہوں۔ہمارے ہاں دو طرح کے طبقے ہیں‘ایک کا خیال ہے کہ کلاسیکی ادب سے استفادہ کیا گیا جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ کلاسیک سے استفادہ نہیں کیا گیا بلکہ چوری کی گئی یعنی کلاسیک کا چربہ بنا کر جدیدیت کا نعرہ لگایا گیا۔آپ اس بات سے کتنا متفق ہیں ؟
جواب:آغر بھائی!میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں رویے آج کی شاعری میں دیکھے جا سکتے ہیں۔کلاسیکی ادب سے آگاہی ایک بات ہے اور کلاسیکی ادب کا گہرا مطالعہ دوسری بات ہے(آگاہی سے مراد سرسری پڑھنا)۔یہ بات غزل پہ صادق آتی ہے کہ کتنا استفادہ کیا گیا۔غزل کا جو کرافٹ ہے وہ دو مصرعوں کا کینوس ہے تو وہ کہیں نہ کہیں عکس آ جاتے ہیں۔اس کے باوجودہمیں ایسی مثالیں واقعی ملتی ہیں کہ جان بوجھ کر پورا کلاسیکی خیال چرایا گیا جس میں کئی شعرا کے نام آتے ہیں۔دوسری طرف ہمیں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جنہوں نے روایت کو مکمل پڑھاالبتہ وہاں سے صرف لطفِ سخن لیا۔مثلا احمد مشتاق‘ذولفقار عادل،کاشف حسین غائر،رسا چغتائی۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلاسیک پڑھا ضرور مگر غزل میں اپنی ایک الگ راہ نکالی۔نظم کا معاملہ الگ ہے اگرچہ آزاد نظم کی تاریخ بہت تھوڑی ہے مگر اس کے باوجود کچھ شعرا ایسے مل جاتے ہیں جن کو پڑھتے ہی آپ کہتے ہیں کہ اچھا یہ تو راشد کے اسلوب میں کہہ رہے ہیں مثلا خاور اعجاز جن کی طویل نظم ’’تمثیل‘‘کو پڑھتے ہوئے خیال راشد کی طرف جاتا ہے۔دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے الگ اپنا سلوب بنایا یعنی روایت سے بالکل ہٹ کر،جنہیں ہم جدید غزل گو یا نظم گو کہتے ہیں۔جیسے شاہین عباس،شناور اسحاق،ظفر اقبال ہیں۔ان لوگوں نے غزل کو الگ کرافٹ اور الگ اسلوب دیا۔اب ظفر اقبال نے تو اتنا کلام کہا ہے کہ ہر موقف کے حق میں کافی دلائل میسر آ جاتے ہیں۔ایک ہی وقت میں ظفر اقبال کا کلام بہت اعلیٰ اورعمدہ بھی ہے اور ایک ہی وقت میں سطحی بھی ہے۔اسی طرح شہزاد احمد بھی تھے جو جدید شاعر تھے اور کلام بہت اعلیٰ تھا۔میں جدید اسے کہتا ہوں جو اپنی تاثیر کے لیے روایتی شاعری کے پیمانوں سے انحراف کرتا ہے جو روایتی وسائلِ شعری استعمال ہوتے تھے‘جدید شاعر ان کی بجائے اپنے عہد سے شعری ٹولز لیتا ہے اور شعر کہتا ہے اور اس میںظفر اقبال، احمد مشتاق اور اکبر معصوم کا نام نمایاں ہے۔جدید شاعری کے نام پر جو کم کوش لوگ اور کم وسیلہ و کم تر ذہنی سطح کے لوگ جیسے میں کسی کا شعر پڑھ رہا تھا جس کا مفہوم تھا کہ ہائے وہ کون لوگ ہتے ہیں جن کو تو اپنے ان باکس تک رسائی دیتی ہے۔اب یہ کہاں کی جدیدیت ہے سو اس سے بچنا ہوگا۔جدید نظم میں ڈاکٹر وحید احمد،علی محمد فرشی ،نصیراحمد ناصر،فہیم شناس کاظمی،فرخ یار اورر پھر آپ کا خادم شہزاد نیر ہے۔ان لوگوں نے نظم کو اسلوب سے اور بلند آہنگ اور لہجے سے نجات دلائی ہے اور اسے ایک ایسا جمالیاتی ذائقہ دیا ہے جس سے آپ ہمارے عہد کی جدجد نظم کو کلاسیکی عہد کی نظم سے بالکل الگ پہچان سکتے ہیں چاہیے آپ اسے اقبال،راشد یا عرش صدیقی کے ساتھ رکھ کر دیکھ لیں۔سو آپ کا سوال واقعی درست ہے کہ دونوں طرح کے رویے ادب میں موجود رہے ہیں۔
سوال:اچھا شہزاد بھائی آپ کی نظم پہ ایک الزام لگتا ہے کہ آپ نے ڈکشن بہت مشکل استعمال کیا اور بہت مشکل تراکیب لے کر آئے‘ایسا کیوں ہے؟آپ کی نظم پہلی قرات میں قاری پر نہیں کھلتی جو واقعی قابلِ توجہ بات ہے۔
جواب:جو میری پہلی نظموں کی کتاب’’برفاب‘‘ہے،اس کی حد تک تو میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ایسا ہوا اور اس وجہ یہ ہے کہ مجھے فارسی اور عربی زبان و ادب سے لگائو رہا اور مطالعہ بھی تھا سو اس کا عکس میری نظموں میں آیا۔اختصار پسندی کی وجہ سے کوشش کرتا ہوں کہ نئی تراکیب بنیں تو یوں نئی نئی اور مشکل تراکیب بن جاتی ہیں۔یہ دونوں باتیں اسلوب کو بوجھل کر دیتی ہیں۔اسی وجہ سے ایک عام قاری جو جدید نظم سے زیادہ لگائو نہیں رکھتا اس کے لیے میری نظم مشکل ہے۔اس کے بعد’’چاک سے اترے وجود‘‘یا’’گرہ کھلنے تک‘‘میں جو نظمیں ہیں یا پھر جو اس کے بعد کہیں،اس میں میری یہ کوشش رہی کہ بہت بھاری بھرکم تراکیب اور فارسیت سے اجتناب کروں اور یہ کوشش کامیاب بھی ہوئی سوامیں مانتا ہوں کہ میرا اسلوب توڑا سا دشوار ہے۔
سوال:ہمارے ہاں بیسویں صدی یا اس کے بعد جو شعر ابھی کہا جا رہا ہے‘اس میں نظم اور غزل میں آپ کسے کتنے نمبر دیں گے ؟یعنی آپ بیسویں صدی کی آخری دہائیاں بھی لے لیں تو کیا سمجھتے ہیں ہماری غزل‘نظم یا افسانہ کہاں کھڑا ہے؟اسی طرح صحافتی حوالے سے کالم میں یا تنقید میں کون سا نام سامنے آیا؟
جواب:دیکھیں اکیسویں صدی کی بھی دو دہائیاں تو لگ بھگ گزر چکی ہیں،اسی طرح بیسویں صدی کی جو آخری دہائی ہے اس میں،میں نے خود اور میرے ساتھ کئی لوگوں نے جیسے اختر رضا سلیمی ہے یا پھر ندیم بھابھہ ہیں،ہم سب نے نوے کی دہائی میں کہنا شروع کیا۔لیکن ہماری کتابیں اکیسویں صدی میں آئیں تو میں اکیسویں صدی پہ ہی بات کروں گا۔پچھلے جو بیس سال گزرے ہیں تو ان میں میرے خیال میں (جو آپ نے دو دو نام مانگے ہیں تو)تنقید میں نہایت سنجیدہ اور وقیع نام ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا ہے اور اس کے بعد ایک نام ٖغافر شہزاد کا ہے جنہوں نے اچھے موضوعات اٹھائے۔اسی طرح جدید شاعری یعنی غزل میں شاہین عباس،ذولفقار عادل اور شناو ر اسحاق نے نہایت اعلیٰ درجے کا کام کیا۔اسی طرح نظم میں رانا سعید دوشی،دانیال طریر(خالص اکیسویں صدی کی حسیت کو لے کر آگے بڑھا)،فرخ یار اورعرفان شہود کا نام لازمی لوں گا۔ نثری نظم میں سدرہ سحر عمران اور ایک نام میرے ذہن سے نکل گیا‘اس کی ابھی ایک کتاب آئی’’دشمنوں کے درمیاں‘‘ وہ کمال کی نثری نظم کہہ رہا ہے۔افسانے اور ناولٹ میں مجھے طاہرہ اقبال نے متاثر کیا جنہوں نے اس عہد کی حسیت کو پکڑا۔اسی طرح اسلم سراج الدین جن کی کتاب اکیسویں صدی میں آئی تو ان کو بھی میں نمایاں سمجھتا ہوں کیونکہ ان کا بیانیہ بھی بیت پاورفل ہے۔اچھا نئے افسانے میں محمد جمیل اختر ہیں جو اچھا افسانہ لکھ رہے ہیں مزید ترقی پسندوں میں عبدالوحید ہے یا حسنین جمیل (اگرچہ اس کے ہاں فن کی وہ سطح نہیں) اچھے افسانہ نگار ہیں۔ناول جو ان دنوں آئے ان میں اختر رضا سلیمی کا نام نمایاں ہیں‘ان کے دونوں ناول کامیاب رہے۔باقی سینئرز تو بہت ہیں لیکن میں خالص اکیسویں صدی کی بات کر رہا ہوں۔اسی طرح اردو کالم نگاری میںیاسر پیرزادہ‘محمد اظہار الحق،ہارون الرشید‘ظفر اقبال،عطا الحق قاسمی تو سینئرز ہوں گئے۔ اسی طرح بعد کے لکھنے والوں میں واجد امیر کے کالم بہت پسند آتے ہیں۔نوجوانوں میں مجھے آپ کی کالم نگاری نے بہت متاثر کیا کیونکہ نثری طور پر یا یوں کہہ لیں ادبی مباحث کے حساب سے(کیونکہ آپ عمومی طور پر ادبی مباحث چھیڑتے ہیں)یا متنازعہ موضوعات کے حساب سے بہت اچھے ہوتے ہیں ‘اسی وجہ سے آپ کا کالم پڑھتا ہوں۔باقی شاعر یا ادیب جو کالم لکھتے ہیں‘میں کسی کا نام نہیں لوں گا مگر مجھے خاص پسند نہیں۔
ْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں