تشدد کے بعد کہا جاتا ہے شور مت مچاؤ، پڑوسی سنیں گے تو کیا کہیں گے؟

Spread the love

کورونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہونے والے لاک ڈاؤن نے دنیا کی ایک بڑی آبادی کو گھروں تک محدود کر دیا ہے اور اس صورتحال میں گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران جہاں فرانس میں گھریلو تشدد کے واقعات میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے وہیں برطانیہ میں گھریلو تشدد کے لیے بنائی گئی ہاٹ لائن پر 65 فیصد زیادہ واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکہ میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ پہلے سے ہی ایسے رشتوں میں منسلک ہیں جہاں جسمانی تشدد روز کا معمول رہا ہے، ایسے لوگوں کو کیسے بچایا جائے۔

پاکستان میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے اور یہاں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں بی بی سی نے گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی کچھ خواتین سے بات کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ اپنا بچاؤ کیسے کر رہی ہیں۔

ثمین فاطمہ: کراچی

میں نے چھ سال تشدد برداشت کرنے کے بعد حال ہی میں اتنی ہمت کی کہ اپنے شوہر کو طلاق دینے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔

ہماری پسند کی شادی تھی جس پر میرے والدین کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ میں تین بھائیوں کی ایک ہی بہن ہوں۔

شادی کے تقریباً ایک سال بعد ہی ہمارے جھگڑے ہونا شروع ہو گئے۔ میرے شوہر کو میرا کام کرنا پسند نہیں جبکہ میرے کسی بھی دوست کا گھر آنا بھی انھیں پسند نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں