دکھ … کہانی … نوید احمد اختر گوندل

Spread the love

آج چودھری صاحب کی حویلی میں بہت رونق تھی۔ حویلی کو خوب سجایا گیاتھا۔ اچھی طرح صفائی ستھرائی کی گئی اور کیلے لگا کر بڑے دروازے کے سامنے والے راستے کو مزید خوبصورت بنایا گیا تھا۔
چودھری صاحب آنے والے مہمانوں کی خوب آؤبھگت کر رہے تھے ان کوٹھنڈےمشروبات ،چائے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوازمات بھی پیش کئے جا رہے تھے۔ ایک طرف شامیانے لگے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ دیگیں پک رہی تھیں۔ طرح طرح کے کھانے پکائے جا رہے تھے جن کی خوشبو سے سارا ماحول معطر تھا۔
مہمان تشریف لا رہے تھے اور اپنے ساتھ فروٹ اور مٹھائیوں کے ساتھ ساتھ مختلف تحائف بھی لارہے تھے۔اور آنے والے مہمان اپنے بچوں سے چودھری صاحب کو متعارف بھی کروا رہے تھے۔ چودھری صاحب مہمانوں کی آئو بھگت کے ساتھ ساتھ نوکروں چاکروں اور کام کرنے والوں کو ہدایات بھی دیتے جا رہے تھے۔
حویلی کے پچھواڑے میں بنے گارے اور مٹی کے ایک کمرے کے مکان میں بیٹھا عبداللہ اپنے پوتے پوتیوںکو سمجھا رہا تھا کہ آج چودھری صاحب کے ہاں مہماں آئے ہوئے ہیں اور تم لوگ ادھر نہ جانا ورنہ چودھری صاحب ناراض ہوں گے۔ عبداللہ کے پوتے اور پوتیاں میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس حویلی میں جانے کی ضد کر رہے تھے جبکہ عبداللہ سوچ رہا تھا کہ اگر بچے ادھر جائیں گے تو زرق برق کپڑوں میں ملبوس اور صاف ستھرے بچوں کو دیکھ کر مزید پریشان ہوں گے اس لیے ان کو سمجھا کر ادھر گھر میں بٹھانا ہی ضروری ہے۔
عبداللہ کی بڑی بیٹی جس کے بالوں میں سفیدی آ گئی تھیاور ابھی تک بن بیاہے ہی گھر بیٹھی تھی، چولہے پر بیٹھی آگ پھونک کر قہوہ بنانے میں مصروف سوچوں میں گم تھی ۔ عبداللہ کی آواز پر چونکی اور اس نے عبداللہ کو لا کر مٹی کے برتن میں قہوہ پیش کیا اور بچوں کو بھی قہوہ کے لیے چولہے کے پاس لے گئی۔ جبکہ عبداللہ کی بیوی اور بیٹا چودھری صاحب کی حویلی میں تھےاور مہمانوں کی خدمت اور کام کاج کر رہے تھے۔

بچے قہوہ پی رہےتھے عبداللہ نے موقع غنیمت جانا اور بچوں کو کہا کہ تم لوگ یہاں ہی رہنا میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتا ہوں جس سے بچوں کے چہرے پر رونق آگئی ۔
کھانا تیا ر ہوچکا تھا۔ تمام مہمانوں کو شامیانہ میں بلا لیا گیا اور ان کو کھانا پیش کیا جانے لگا۔ شامیانہ میں پلیٹوں اور چمچوں کی آوازیں آنے لگیں۔ چودھری صاحب بذات خود نگرانی کر رہے تھے ۔
عبداللہ جب شامیانہ کے پاس پہنچا تو اندر سے پلیٹوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ چودھری صاحب کے ڈانٹنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ عبداللہ باہر ہی کھڑا ہوگیا وہ جانتا تھا کہ اندر جانے پر چودھری صاحب خفا ہوں گے ۔
تمام لوگ کھانا کھا چکے تو چودھری صاحب سٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور مہمانوں کو فخریہ انداز میں مخاطب کیا کہ میں اور میری بیوی اس دفعہ پانچویں حج پر جا رہی ہیں اور بارہ عمرے بھی کر چکے ہیں ۔ اللہ نے زندگی دی تو آئندہ ہر سال دو عمرے اور حج لازمی ہو گا۔ تمام مہمانوں نے چودھری صاحب کی خوب تعریف کی اور ان کو پارسا ، بزرگ اور ولی اللہ تک کہہ دیاکیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو ہی ایسی توفیق دیتا ہے۔چودھری صاحب تما م شرکاء کو اپنے گزشتہ حج و عمرہ کے قصے کہانیاں سنا رہے تھےاور مہمان ان سے جائے نماز ، کھجوروں ، آب زم زم اور تسبیوں کی فرمائش کر رہےتھے۔
چودھری صاحب نے تمام لوگوں سے وعدہ کیا وہ ان کی فرمائشیں ضرور پوری کریں گے۔ کچھ لوگ چودھری صاحب سے وہاں موجود کبوتروں کو دانہ ڈالنے کی بھی فرمائش کی جس کو بھی چودھری صاحب نے پورا کرنے کا وعدہ کیا۔
عبداللہ خاک پر بیٹھا یہ سب کچھ سن رہاتھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش کسی غریب کا قرض معاف کرنے کا بھی ثواب ہوتا!
کسی غریب کی بیٹی کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کا بھی ثواب ہوتا!
کسی غریب کے بچوں کو کپڑا یا جوتا لے کر دینے کا بھی ثواب ہوتا!
عبداللہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اس کو چودھری صاحب کی گرج سنائی دی کہ عبداللہ جو کھانا میزوں پر بچا پڑا ہے سب اکٹھا کر و اور گھر لے جاؤ ۔ چودھری صاحب نے ساتھ وضاحت بھی کی کہ کھانا کافی زیادہ بچا ہے تم لوگ ہو ہی کتنے ، کافی دن تک رج کے کھاؤ۔
عبداللہ جو گہری سوچوں میں گم تھا ، اٹھا اور شامیانہ میں اسی امید کے ساتھ داخل ہوا کہ چلو چودھری صاحب حج پر جارہے ہیں تو پیٹ بھر کر کھانے کو تو ملا ہے اور جب واپس آئیں گے تب بھی ملے گا اور جب اگلی مرتبہ پھر جائیں گے تب بھی ملے گا ۔ چاہے بچا کھچا ہی سہی

2 تبصرے “دکھ … کہانی … نوید احمد اختر گوندل

  1. I’ve been browsing online more than three hours today, yet I never found any interesting article like yours. It is pretty worth enough for me. In my view, if all web owners and bloggers made good content as you did, the internet will be much more useful than ever before. Hi, I do believe this is a great website. I stumbledupon it 😉 I will come back once again since i have saved as a favorite it. Money and freedom is the best way to change, may you be rich and continue to help other people. I will right away take hold of your rss as I can’t to find your email subscription link or newsletter service. Do you’ve any? Kindly let me understand in order that I may just subscribe. Thanks. http://www.cspan.net

اپنا تبصرہ بھیجیں