خدمتِ خلق یا دکھاوا: کومل شہزادی،سیالکوٹ

Spread the love

خدمتِ خلق یا دکھاوا:
کومل شہزادی،سیالکوٹ

کوئی بھی معاشرہ خدمت خلق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ہر معاشرے میں کچھ محروم افراد ضرورموجود ہیں جن کی مدد معاشرے کا فرض ہوتی ہے۔جس معاشرے میں کمزور طبقات کی ضروریات پوری ہوں گی وہ معاشرہ ہمیشہ ترقی کرے گا۔مسلم معاشرہ کبھی اس کی علامت ہوتا تھا اب اس سے بیگانہ ہے۔یورپ کی ترقی کی وجہ وہاں کے محروم طبقات کی مدد کا اہتمام ہے حالانکہ مسلمانوں پر یہ فرض زیادہ عائد ہوتا ہے۔خدمت خلق کے معنی ہی غریبوں کے کام آنا ہے۔شرعی طور پر اللہ تعالی کی رضا کے لیے غریبوں،محتاجوں اور بے کسوں کے کام آنا ہی خدمت خلق ہے۔اسلام میں مخلوق خدا کی خدمت صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لیے کی جاتی ہے۔دکھاوا اور نام و نمود کی خاطر کی گئی خدمت بے فائدہ ہے۔مشہور فارسی مصرعہ ہے:
ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد
انسان کے تمام اعمال کا دارومدار اس کی نیت پر ہے۔ اخلاص کے بغیر اسلام میں نہ تو عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ اخلاق و معاملات عبادت کا درجہ پاتے ہیں۔دکھاوا،ریاکاری،نمود ونمائش،خود آرائی اور غیر اللہ کی رضا جوئی کے لئے کیا گیا عمل خواہ کتنا ہی پسندیدہ کیوں نہ ہو اللہ کے ہاں مقبول نہ ہوگا۔موجودہ صورت حال کی بات کروں تو کیاوبا کی وجوہات کی بنا پر خدمتِ خلق کو مدنظر رکھ کر مستحق افراد کی امداد کی جارہی ہے یا دکھاوے کے لیے کیا کمزور طبقے کی مدد دکھاوا ،اپنے مال و دولت کی نمائش کے لیے کرنا درست عمل ہے۔نیکی کا کام فقط رضائے الٰہی کے لیے لیکن موجودہ دنوں اس کے برعکس ہے۔ کرونا وائرس کی مہلک وبا تو پھیلی جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا یہ سب جانتے ہیں۔اگر یہ وبا کمزور طبقے تک رہتی تو مالدار طبقے نے اپنا سامان لپیٹ کر بیرون ملک نکلنے کی کرنی تھی ۔کرونا سے زیادہ خطرناک وبا سے زیادہ موجودہ دنوں میں دکھاوے،نمود و نمائش کی وبا پھیلی ہے۔جس میں جس کا جہاں تک دل چاہتا ہے مستحق افراد کی عزت ونفس مجروح کرنے میں پیچھے نہیں۔شائد کچھ لوگ خدمتِ خلق کو دکھاوے کے لیے کررہے ہیں۔یہ خدمتِ خلق نہیں بلکہ اپنی اور اپنے مال کی نمائش ایسے لوگ کررہے ہیں ۔ دکھاوے کے حوالے سے سورہ البقرہ میںارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اپنے صدقات احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح برباد
نہ کر لیا کرو جو مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے ۔‘‘
اگر مستحق افراد کی امداد کریں تو خالص اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے ہی کیا جائے تب ہی وہ قبول ہوگا اور اگر لوگوں کو دکھاوے کی خاطر کیا جائے تو اسکا ثواب بھی نہیں ہو گا بلکہ اُلٹا اسکا گناہ ہوگا۔ایسی خدمتِ خلق جو اللہ کی بجائے کسی اور کو دکھانے کے لیے کی جائے،خواہ وہ کوئی بھی کرے،جہنم کا ایندھن ثابت ہوگی۔ خدمتِ خلق محض اپنی مقبولیت کی نیت سے یا سوشل میڈیا پر تصاویر کے لیے کی جارہی ہے۔مہلک و با سے کمزور طبقہ پہلے ہی بے بس ہوچکا ہے مزید اُن کی غربت کا مذاق بنانا اور اُن کی عزت نفس کو مجروح کرنا درست نہیں ہے۔رب العزت نے قرآن پاک میں دکھاوے کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
’’وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو کہ اپنا مال محض لوگوں
کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور در حقیقت
وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی روز آخرت پر۔‘‘
(سورہ النساء)
جو شجص بھی انسانیت کی خدمت کرتا ہے وہ خدا کا محبوب بن جاتا ہے اس کا ثواب بھی عبادت کے برابر بلکہ بعض اوقات اس سے بھی بڑھ جاتا ہے۔اس لیے خدمتِ خلق کو فقط دکھاوے کے لیے کرنا وہ ثواب کی بجائے گناہ کے زمرے میں آئے گا۔جیسی نیت ہوگی ویسا ہی اجر ملے گا ۔خدمتِ خلق کی بجائے دکھاوے کی نیت ہو گی تو یہ دنیوی اغراض و مقاصد میںشمار ہوگا اس لئے اللہ کے ہاں کو ئی اجر و ثواب نہ ہوگا۔آپ ﷺ کا فرمان ہے:
’’قیامت کے دن لوگ اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جایئں گے‘‘۔
کچھ احادیث کے مطابق قیامت کے دن کچھ لوگ بھی بارگاہ الٰہی میں حاضر کئے جائیں گے جنھوں نے دنیا میں اچھے اعمال کئے ہونگے مگر انہیں ان کی جزا نہیں ملے گی اور حکم ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے کیونکہ انہوں نے جو بھی اعمال کیے وہ دنیا کے دکھاوے کے لیے کیے۔خدمت خلق کا مقصد اللہ کی خوشنودی کے سوا کچھ اور نہیں ہونا چاہیے لیکن موجودہ صورت حال میں دکھاوا نمایاں ہے۔دکھاوے کے حوالے سے حدیث میں یوں بیان ہوا ہے۔:
’’جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز چار سو
مرتبہ پناہ مانگتا ہے،اس میں وہ لوگ ڈالے جائیں گے
جو کہ نیکی محض لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں۔‘‘
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ جو وبا کے دنوں میں دکھاوے کی نیکی کررہے ہیں یہ ہی ان کے لیے وبال بن جائے گی۔
کہا جاتا ہے نیکی کر اور دریا میں ڈال لیکن وبا کے دنوں میں اس کے برعکس صورت حال ہے نیکی کر اور موبائل میں محفوظ تصاویر کو دکھاوے کے طور پر اُن کی تشہیر سوشل میڈیا پر کی جارہی ہے۔یہ خدمت خلق نہیں دکھاوے کی نیکی ہے جو محض لوگوں کی نظر میں سخی بننے کے لیے کی جارہی ہے اس لیے اس پر سب ثواب رائیگاں جائے گا ۔یہ نیکی اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ دکھاوے کے لیے کی جارہی ہے۔میری نظر سے کچھ ایسی تصاویر گزریں جن میں بہت سے مرد حضرات عورت کو راشن دیتے ہوئے تصاویر اور ویڈیو بنوا کر ان کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرتے نظر آرہے ہیں۔یہ انتہائی برا فعل ہے۔ایسی حرکات سے غریب طبقے کی تذلیل کی جارہی ہے ۔جو وبا سے زیادہ خطرناک جو وبا ٖکمزور طبقے کے لیے ہے وہ یہ ہے کہ اُن کی عزت و نفس کو مجروح کیا جارہا ہے۔جبکہ اللہ اور اُس کے رسول کا ارشاد ہے کہ اگر کسی کو صدقہ و خیرات بھی کروں تو وہ چھپ کر کرو ۔حدیث میں ہے کہ:

’’ اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ ترین شخص وہ ہے جو اس کی
مخلوق کے ساتھ احسان کرے۔‘‘
افسوس کے ساتھ کہ کچھ ایسی تصاویر کے ڈھیر لگے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مستحق افراد میں اشیاء نہیں تقسیم کی جارہیں بلکہ فوٹو سیشن کی کوئی تقریب کی جارہی ہے۔یہ خدمتِ خلق نہیں بلکہ دکھاوے کی نیکی ہے ۔ان دکھاوے کی تصاویر سے نیکیوں میں اضافہ نہیں ہوگا ۔دکھاوے کی کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی۔موجودہ صورت حال میں مفت راشن کے نام پر مستحق افراد کو ذلیل کیا جارہا ہے۔ایسے میں ہر کوئی دعوی کر رہا ہے کہ وہ لوگوں کی مدد کر رہا ہے ،اس کے لیے فوٹو سیشن اور ویڈیو بھی بنائی جارہی ہیں اور دکھاوا کرنے والے بڑھ چڑھ کر اس میں مبتلا ہیں۔اگر کسی کی امداد کرنی ہے تو نیک نیتی سے کیجیے جو فوٹو سیشن کے بغیر خلوص نیت سے بھی ہوسکتی ہے۔ ایسی تصاویر کیا مستحقین کی رسوائی کا سامان نہیں ہے ْ کیا دکھاوا کر کے ثواب ملے گا ۔غور کیجیے آپ ایسے افراد کی مدد کر رہے ہیں یا ان کی عزت و نفس کو مجرو ح کر رہے ہیں۔امداد ایسے کیجیے جیسے حدیث میں بیان ہے کہ دائیں سے مدد کرو بائیں کو خبر نہ ہو۔میں اختتام رسول اللہ ﷺ کے اس حدیث سے کرنا چاہوں گی۔
’’(خیرالناس من ینفع الناس)
تم میں بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ
مفید ہو۔‘‘

گر ملتا ہے حقیقت سے تو کر خدمت مخلوقِ خدا کی
منزل کی کامرانی چھپی ہے اسی بے لوث جذبے میں

(فضہ بتول)

8 تبصرے “خدمتِ خلق یا دکھاوا: کومل شہزادی،سیالکوٹ

  1. Wow, this post is fastidious, my sister is analyzing these things, thus I am going to inform her. I’ve been surfing on-line greater than 3 hours as of late, yet I never found any fascinating article like yours. It is lovely worth sufficient for me. In my view, if all website owners and bloggers made good content as you probably did, the web might be a lot more useful than ever before. I have been surfing online greater than 3 hours as of late, but I by no means discovered any fascinating article like yours. It’s pretty price enough for me. In my opinion, if all site owners and bloggers made excellent content as you probably did, the net can be a lot more useful than ever before. http://www.cspan.net

  2. You really make it seem so easy with your presentation but I find this topic to be really something which I think I would never understand. It seems too complicated and extremely broad for me. I am looking forward for your next post, I’ll try to get the hang of it! http://uricasino114.com

  3. [url=https://cymbaltaduloxetine.com/]buy duloxetine[/url] [url=https://priligytab.com/]priligy buy[/url] [url=https://vermox.us.org/]buy vermox online[/url] [url=https://celebrexcelecoxib.com/]celebrex tablets[/url] [url=https://tadalafilsale.com/]tadalafil cost[/url] [url=https://erythromycinz.com/]purchase erythromycin 500mg[/url] [url=https://ventolinh.com/]can i buy ventolin over the counter in usa[/url] [url=https://isotretinoinacutane.com/]buy accutane[/url] [url=https://ciprofloxacin24.com/]buy ciprofloxacin[/url] [url=https://baclofen24.com/]baclofen comparison[/url]

  4. [url=https://levitra36.com/]cheap levitra online[/url] [url=https://avanatop.com/]buy avana[/url] [url=https://tadalafilsale.com/]tadalafil usa[/url] [url=https://atorvastatin.us.com/]lipitor 1[/url] [url=https://vermox.us.org/]vermox medication[/url]

اپنا تبصرہ بھیجیں