دھوپ سمیٹی کاسے میں … نعیم رضا بھٹی

Spread the love

دھوپ سمیٹی کاسے میں
خواب جڑے دروازے میں

آنکھ بھری آوازوں سے
ہونٹ چھلے سناٹے میں

لاٹ نہیں کرلاٹ ہے یہ
کھوٹ بھرے اس جھمکے میں

بے گھر کو معلوم نہیں
کتنے شہر ہیں نقشے میں

اور بھی میٹھی لگتی ہو
ڈانٹتی ہو جب غصے میں

سب سے عمدہ پھول ہو تم
دنیا کے گلدستے میں

نعیم رضا بھٹی

اپنا تبصرہ بھیجیں