مضمون: تبصرہ و تجزیہ ….. نیل احمد

Spread the love

مضمون ۔ تبصرہ و تجزیہ

“فنا بھی ایک سراب”
“آدھا دن اور آدھی رات”
“حصار بے در و دیوار”
“پس آئینہ”
(دوسری زندگی)
“ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے”
(انتخاب)
“بے ثمر پیڑوں کی خواہش”
یاسمین حمید

“سو صدیوں کی تہذیب”
نیل احمد

شاعر کے یہاں کوئی تخلیق معاصر سماجیات، جمالیات اور تہذیبی و ادبی اقدار کے تحت معنویت قائم کرتی ہے، جہاں مختلف واقعات، تاریخ، دیومالا واساطیر دراصل معاصر خطوط اور رنگوں میں تبدیل ہو کر قابل فہم صورت اختیار کرتے ہیں ۔ یاسمین حمید کی شاعری پڑھتے ہوئے یہ احساس شدت اختیار کرتا گیا کہ آپ نے مثالی علامتوں، حکایات، استعاروں اور اساطیر کو تخلیقی بنت میں ازسرنو تخلیق کیا ہے اور یہی چیز دراصل شاعر کے مطالعے کی وسعت کا بھید کھولتی ہے کہ خود شاعر جن علامتوں، حکایات اور استعاروں کو بطور حوالہ اپنی تخلیق کا حصہ بناتا ہے انہیں وہ اپنے تجربے میں بیت چکا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس روش نے یاسمین حمید کے شعری اسلوب اور متن کے معیار کو بلندی عطا کی ہے ۔ آئیے اسی پس منظرمیں نظم “بہت سانس کھینچوں بھی تو” سے چند سطریں پڑھتے ہیں

میرے زمانے میں
پچھلے زمانے کی
کوئی بھی شے اب سلامت نہیں ہے

اک نسل کی خوش گمانی کو
خوش اعتباری کو
اوراق تاریخ سے کاٹ دیں گے
بہت سانس کھینچوں بھی تو
اپنے قصے میں خود میں نہ ہوں گی
مگر
یہ جو رستہ کہیں جا رہا ہے
مجھے اس پہ چلنا تو ہے
اپنے بچے کی انگلی پکڑ کر
کسی موڑ تک
دھند میں
دھوپ میں
ایک بہروپ میں

نظم “مجھے خواہش ہے”

مجھے خواہش ہے
تصویریں بناؤں
لفظ جو کچھ کہہ نہیں سکتے
انہیں رنگوں کے دریا میں بہاؤں
ہنستے رنگوں میں کہیں
گہری سیہ
گدلی خاموشی کو ملاؤں
ڈوبتے احساس کا ایسا خفی لمحہ
جو لفظوں سے گریزاں
قطرہ قطرہ بہتا جاتا ہے
کہیں اس وقت سے پہلے
کہ جلتی ریت میں تحلیل ہو جائے
کسی بادل کسی ندی میں کھو جائے
اسے رنگوں کے دامن میں سمو ڈالوں
وہ ہلکی سی خفی جنبش
جو لفظوں کی ادھوری دسترس میں آ نہیں سکتی
وہ نقش موقلم میں ثبت ہو جائے
بکھرتے فاصلوں کا ربط ہو جائے

نظم “کیوں” سے چند سطریں

کیوں میری بات
مرے لہجے کی نرمی سے گریزاں ہو کر
اپنا مفہوم بدل لیتی ہے
کیوں یہ تقصیر بھی میری ہے
کہ یہ روح، یہ بینائی، یہ الفاظ
مرے بس میں نہیں

مزید چند اشعار بھی دیکھتے ہیں

اک نیا خاکہ لکیروں کا سیہ نقطوں کا
بیچ میں رنگ نما بات پرانی بولے
کس کی وحشت نے مجھے جامہ تحریر دیا
اپنی تخلیق پہ شرمندہ کہانی بولے

سیہ مہتاب کی وہ چاندنی تھی
قلم کے نقش سے جو پھیلتی تھی
کوئی بھی حرف بے معنی نہیں تھا
کتاب دل کبھی ایسے کھلی تھی

کھنچ کے آگیا ہوں جو پچھلے دور کی زد میں
آنے والے وقتوں کا ایسا ایک لمحہ ہوں

رد تشکیلیت کے بانی دریدا کا کہنا ہے کہ روحانی یا مابعدالطبیعیاتی نظام کبھی مکمل نہیں ہوتا ۔ اس کے خیال میں متن کے معنی قاری کے نظریہ حیات کے درمیان بین العمل پر مبنی ہوتے ہیں اور متن کے لفظوں میں آئیڈیالوجی یا نظریہ حیات کا رنگ چڑھا ہوتا ہے۔ وہ جزوی طور پر نئی تشریحات کے ذریعے پرانے متن میں نئی زندگی تلاش کرتا ہے اور نئے تناظر میں متنوں کے پوشیدہ رموز کی نئے معنی، نئی تشریحات اور تفہیمات تلاش کی جاتی ہیں۔ وہ معنی پس معنی اور معنی درمعنی کو الٹا کر ردمعنی میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ متن کے متعین معنی نہیں ہوتے کیونکہ کئی موضوعی عناصر متن کی معنویت تبدیل کر دیتے ہیں۔ یاسمین حمید کے ہاں لفظ اور متن کی اہمیت جابجا ہمیں استفسار پر مجبور کرتی ہے آئیے اس پس منظر میں ان کی شاعری کا انتخاب دیکھتے ہیں

متن سادہ کی صداقت نے گواہی دی تھی
اس لیے فیض ملا حاشیہ آرائی کو

وہی ہوا کہ جسم و جاں کے دائرے میں تھک گئی
یہ عمر پھر قیاس کے وجود میں بھٹک گئی
پرانے متن کی نئی عبارتوں میں کچھ نہ تھا
مگر وہ اک سخن کہ بس نظر جہاں اٹک گئی
کہیں سے آئی بات اس طرف تو پھر پتا چلا
یہاں سے بات کیسے ایک اور شہر تک گئی

یہ حرف کیا ہیں، یہ لے یہ کیسی، یہ راگ کیسا
بدل گیا گیت تیری میری سماعتوں کا
مرا جزیرہ نئی زمینوں سے کٹ گیا ہے
پرانا ہے متن دل کی تازہ عبارتوں کا

میں اس یقین سے مٹی میں حرف بونے لگی
وہ ڈھونڈ لے گا مجھے جس کی داستان میں ہوں

سارے بکھرے ہوئے لفظ کوئی اٹھا لائے گا آن کی آن میں اور پھر
الجھی الجھی زباں اپنی ترتیب بدلے گی اور اک کہانی میں ڈھل جائے گی

کوئی حرف ہے جو کسی کتاب میں بھی نہیں
کوئی عہد ہے جو لکھا گیا ہے ہواؤں پر

بات جیسی ہوئی ہے ویسا ہی
ذائقہ بھی زبان میں رہے گا

نئے وقتوں کے ہم پالے ہوئے ہیں
پرانے عہد کے بھی دکھ سہیں کیا

اب چونکہ معنی دریدہ کے یہاں التواء ہی التواء ہے اس لیے صداقت مطلق نہیں ۔ اب یہ سوال کہ وہ کیا ہے اور کس صورت میں موجود ہے، رد تشکیلیت ان سوالوں کے جواب فراہم نہیں کرتی بلکہ سوال در سوال در سوال پر اصرار کرتی ہے کیونکہ اس کے نزدیک سوال قائم کرنا ہی نامعلوم سے معلوم کو اخذ کرنے کی پہلی سعی ہے ۔ اس حوالے سے یاسمین حمید کی شاعری دیکھئے

نہ جواب ہوں کسی بات کا نہ سوال ہوں
فقط ایک حیرت مستقل کی مثال ہوں

یہ کس پیرائے میں ہے گفتگو اب
نہ میری ہے نہ یہ اس کی زبان ہے

اک بے قیاس بات سے منسوب ہوگیا
پھیلا ہوا حروف میں جو اضطراب تھا

جہاں لفظ و معانی شور کرتے ہیں
وہاں احساس کی ترسیل کیسے ہو

اس کو دانستہ کسی نے بھی معانی نہ دیئے
یہ نہیں ہے کہ میرے لفظ کو سمجھا نہ گیا

کئی نقطے پس ابلاغ ہونگے
بہت کچھ چھپ گیا ہے دائرے میں
مرے انکار کی تلخی نمایاں
تمہاری بات کے ہر زاویے میں

سنہری حرف تو لکھے ہوئے ہیں
مگر معنی بہت الجھے ہوئے ہیں
ستم کا ربط ان کے درمیان ہے
اگرچہ سانحے بکھرے ہوئے ہیں

اک وہی اس کی سمجھ میں آیا
جو مری بات کا مفہوم نہیں

سوچ پر جب سزا ہو، بندش ہو
کیسے موج طلب میں جنبش ہو

قتل کی سازش تھی تیرے لہجہ سفاک میں
تیز خنجر جا لگا میری رگ ادراک میں
اک سفر کی ابتدا تھی اک اشارہ آنکھ کا
داستان کی داستان تھی جنبش بیباک میں

اسی پس منظر کی عکاسی کرتی ہوئی نظم “پاؤں رکھ زمین پر” سے چند سطریں دیکھیے

دیکھ اپنے ہاتھ کو
ہاتھ کی زبان پڑھ
ہاتھ ہی میں اولین دن کی ایک ایک بات
ہاتھ ہی میں آخری مقام کا نشان ہے
روشنائی اور قلم
دیکھ ان کے ساتھ ساتھ
لفظ کا عروج ہے
لفظ کا زوال ہے
ذہن میں کوئی خیال ڈھونڈتا ہے راستہ
خلق بھیڑ میں پکارتی ہے
اپنی سمت کھینچتی ہے کیوں
عام راہ سے الگ جو راستہ ہے
اس طرف بھی دیکھ
اور سوال کر

یاسمین حمید کے یہاں لفظوں کی نشست و برخاست نہایت مہذب انداز میں ترتیب پاتی ہے لیکن اپنے تجربات و مشاہدات کو رقم کرتے ہوئے جس اذیت و کرب سے وہ دوچار ہوتی ہیں اس کی معنویت اور رمزیت کو محسوس کرنا ہی ان کی شاعری کا جوہر ہے ۔ آپ کی شاعری ایک فکرانگیز تجزیے کی متقاضی ہے جہاں آگہی کا سفر منفرد اور اچھوتے انداز میں ملتا ہے پھر آپ کے ہاں استعمال شدہ تراکیب، علامتیں، تشبیہات کا خوبصورت انداز میں موضوع اور مضمون کی صورت متن میں ڈھل کر اپنے مفہوم کی تشکیل کرنا جہاں لفظ ذہنی تصویر کشی کرتے جاتے ہیں قاری کے لئے ایک عمیق تجربہ ہے ، اسی تناظر میں منتخب کلام ملاحظہ کیجئے

نظم “سلسلہ در سلسلہ” سے چند سطریں

جو سادہ ورق پر
خون کے بدرنگ قطرے سے
کسی بے کیف لمحے میں
تمہارے اور مرے پرکھوں نے لکھا تھا
کہانی کے تسلسل سے الجھتا ہے
وہی اک لفظ
میرے اور تمہارے درمیاں پھیلے ہوئے ابہام کی پہلی عبارت ہے
جسے ہم روز وشب تخلیق کرتے ہیں
یہ اس دکھ کا صحیفہ ہے
یہ اس دکھ کی روایت ہے
ذرا سوچو
وہی اک لفظ
میرے اور تمہارے بعد آنے والی نسلوں کی وراثت ہے

یاسمین حمید کے مزید اشعار دیکھتے ہیں

روح و جاں کی تشنگی نے یوں بھی دیکھا ہے سراب
برف پر تھے پاؤں میرے اور سر پر آفتاب
مجھ کو سائے کی، کسی کو دھوپ کی خواہش رہی
ایک کی تسکین ٹھہری دوسرے کا اضطراب
روشنی بھی، رنگ بھی، ساتوں اکھٹے تھے مگر
کھل نہ پایا زندگی پر اک نئے رستے کا باب
درد کی دیوار پر لکھی کہانی دھل گئی
جسم کی مٹی کا حصہ ہوگئی تحریر آب
ڈھونڈتی تو ہوں مگر اب وہ ورق ملتا نہیں
پڑھتے پڑھتے بند کر دی تھی جہاں میں نے کتاب

اب کھلے رکھیے مناجاتوں کے در
حرف سے ٹپکائیے خون جگر
جب دیار ذات میں کچھ بھی نہیں
کیا ہوا جو گر گئے دیوارودر
دیکھئے چٹخیں گے انگارے بہت
کیوں دیئے پانی کے چھینٹے آگ پر
کون چھو کر انتہا کو آئے گا
کس پہ ہوگا انکشاف بال پر
بس اچانک ہی اندھیرا ہوگیا
جس طرح یک لخت چمکی تھی سحر
کس لئے خاکہ ادھورا رہ گیا
یہ نہ بتلائے گا کوئی نقش گر

پہلے تو مسئلہ ہوا کا تھا
اب ہوا ہے تو بادبان نہیں

نام والوں کی بستی میں آتے ہی گم نام کیسے ہوا
نقش پوری تب و تاب ہوتے ہوئے خام کیسے ہوا
کس طرح رنجشوں کے خدوخال تصویر میں آگئے
آج تک جو گراں تھا بہت رنگ وہ عام کیسے ہوا

اس کی یورش میں کبھی درد کی گیرائی تھی
اور اب عالم تنہائی میں ہے ٹھہراؤ
میں اسے حرف میں محسوس نہیں کر سکتی
جس تخیل سے میری ذات میں ہے پھیلاؤ

حیرت دید نے افلاک و زمیں پر اک ساتھ
ڈوبنے اور ابھرنے کا تماشا دیکھا
اس کی مٹی پہ اگانی ہے نئی فصل مجھے
وحشت یاس نے جس کھیت کو جلتا دیکھا

میرے نزدیک لفظ کے حصار کو لفظ ہی توڑتا ہے کیونکہ شاعری کی حد معنی نہیں بلکہ شاعر اور قاری کی وسعت ذہنی، مطالعہ، اسرار کی تلاش اور رمز کے پہلو میں کہیں موجود رہتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ معنی کی دریافت قابل حصول ہو سکتی ہے مگر تخلیقی عمل کے اسرارورموز تک آگاہی اور وارداتی کیفیت تک رسائی کے لیے قاری کو شدید محنت کرنا ہوتی ہے کیونکہ شعر کے مفہوم میں قیام نہیں ہوتا ۔ اس پس منظر میں یاسمین حمید کی چند تخلیقات دیکھیے

نظم “کبھی جب”

کبھی جب دل کی حد میں دو مخالف راستوں کا میل ہو جائے
تو کوسوں دور کا منظر بھی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں
دھندلکے کا طلسمی راستہ
اسرار کی زد سے نکل جائے
تو ہر شےخواب سی، جاگی ہوئی معلوم ہوتی ہے
اچانک دن نکلتا ہے
اچانک رات ہوتی ہے

نظم “میں اور تم”

تم فصیل آہن ہو
میں کہ ٹوٹ سکتی ہوں
دائرے میں شدت سے
گھوم کے جو ٹکراؤں
پاش پاش ہو جاؤں
اور فصیل آہن پر
ایک نقش بن جاؤں

نظم “کچھ نہیں”

کچھ نہیں
روز روشن میں بھی کچھ نہیں
شام ظلمت میں شاید کہیں روشنی کی کرن ہو تو ہو
کچھ نہیں
مشت ماضی کے ذروں میں بھی کچھ نہیں
خاک آئندہ شوریدہ سر آندھیوں میں
زمانے کی کن کروٹوں میں بہے
کون سے راستے کی خبر لے کے آئے، اگر لائے بھی

اسی مناسبت سے کچھ منتخب اشعار

گھر جہاں ہونا تھا نقشے میں، وہیں پر گھر ہے
اس سے آگے کی مگر بات بتاتے کس کو
تیز چلنے سے بھی جو طے نہیں ہوگا رستہ
ایسے رستے کی طرف کھینچ کے لاتے کس کو

روح کے آئینے میں صرف عکس تھے روشنی نہ تھی
وقت رواں کا شور تھا یہ کوئی زندگی نہ تھی
موت سے ماورا کوئی باب طلسم اس میں تھا
ورنہ تو اس زمین پر شے کوئی دائمی نہ تھی
بس وہی قافلہ تھا پھر سارے کا سارا منتشر
صدیوں کی باز گشت میں بات کوئی نئی نہ تھی
ساز قدیم تھا کوئی نغمہ گروں کے ہاتھ میں
سر کوئی دوسرا نہ تھا لے کوئی اجنبی نہ تھی
بازی گری کے زعم میں لفظوں کا ہیر پھیر تھا
کشف وجود کے بغیر شاعری شاعری نہ تھی

مشہور لسانیات دان ساسر کے مطابق زبان کے مطالعے کے پس پشت در اصل روایات (الفاظ اور قوائد) کا وہ نظام ہے جس کی بنیاد پر کوئی نشان (لفظ) اپنا مفہوم یا معنی بتاتا ہے اور یہی نشان یا معنی بنیادی اکائی ہیں اس طرح ایمیج لفظ کو ذہنی تصویر سے جدا نہیں کر سکتا۔ گویا شاعر اپنی جذباتی کیفیت کا تخیلی نقشہ یا امیج، لفظوں کے ذریعے ہی ترتیب دیتا ہے ۔ آئیے یاسمین حمید کے لفظی امیج دیکھتے ہیں

نظم “گراں بد ذائقہ کا لمحے”

گراں بد ذائقہ لمحے
مجھے ڈر ہے
نہ ایسا لفظ لکھ دوں
جس کی بے مہری
ہمیں ان دائروں کی سرزمیں پر چھوڑ آئے
جو بگولوں کی طرح بس گھومتے ہیں
گھومتے رہتے ہیں
اور پھر زندگی کی سرحدوں سے دور ان دیکھے سفر پر جا نکلتے ہیں

اسی مناسبت سے کچھ منتخب اشعار

دیے سے تو دیا جلتا رہے گا
مگر پہلا دیا کیسے چلے گا
یہ ہم پر سانحہ ہو کر رہے گا
دھواں جلتے دیے سے بھی اٹھے گا
اسے پہچاننا مشکل نہیں ہے
دوبارہ دیکھنے پر ہی کھلے گا

شام ہوئی تو جل اٹھا دیکھو چراغ یاس بھی
لو ہے تھکی تھکی ہوئی رویا ہوا اداس بھی
درد کی تیز آندھیاں چھو کے کسے گزر گئیں
گرد و غبار رہ گیا کچھ میرے آس پاس بھی
جب سے ندی نظر میں تھی اتنا کٹھن نہ تھا سفر
اس کے خیال سے فقط بھولے ہوئے تھے پیاس بھی
دیکھتے دیکھتے یہاں ایک مکاں تو بن گیا
کاش کسی کو ہو نصیب آئے کسی کو راس بھی
پہلے زمین سنگ کو اپنے لہو سے تر کروں
پھر مجھے اس زمین سے آئے وفا کی باس بھی
کشتی کا بادبان ہی کشتی پہ بوجھ ہوگیا
ڈوبے گی بھی تو اس طرح اس کو نہ تھا قیاس بھی
ایک طویل نیند سے جاگے تو دیکھتے ہیں کیا
خواب تو خواب ہے نہیں خواب کا التباس بھی

ہر لفظ کسی نہ کسی ماہیت کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن ماہیتوں کے زوال کا سلسلہ ڈیکارٹ سے شروع ہوگیا تھا ۔ جب ماہیت نہیں رہتی تو ماورائیت بھی ختم ہو جاتی ہے جبکہ نطشے نے بھی تصور عقل کی نفی کرکے ماورائیت کو ختم کردیا تھا ۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے نظریہ تنقید کے ناقدین کے مطابق انسانی تہذیب کا یہ مظہر ایک ایسے دور پر مشتمل ہے جس کی ابتدا اور انتہا دونوں ہی کا کوئی یقینی تعین نہیں کیا جاسکتا ۔ مفکرین کے مطابق یہی کہا جاسکتا ہے کہ انسانی تہذیب ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنے بام عروج پر پہنچی تو انسان اپنے ارتقاء کے ایک ایسے دور میں شامل ہوا جو بظاہر توارتقاء تھا لیکن دراصل زوال کی بدترین صورت تھا۔ اس دور میں ٹیکنالوجی میں تہذیب کو پستی کے ایک ایسے گہرے غار میں دھکیل دیا جس سے نکلنا اسے ناممکن نظر آرہا ہے ۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس پس منظر میں یاسمین حمید کی خوبصورت نظم “سفر آغاز کرنا تھا” دیکھتے ہیں

مجھے ترتیب دینا تھا
گزرتے وقت کو
لمحوں کی بندش سے کہیں آزاد ہونا تھا
کہیں زنجیر ہونا تھا مجھے ان میں
کہیں دن رات کے بہتے سمندر پر مجھے
تخلیق کرنے تھے سفینے
اور سفینوں کے لیے ساحل
بنانی تھی مجھے تصویر ماہ و سال کی
اور پھر
سمٹنا تھا مجھے تصویر کے رنگوں میں
خاکے کی لکیروں میں
مجھے ترتیب دینا تھا
دل بے سمت کی بے انت بے چینی کو
مجھ کو جمع کرنے تھے وہ اعضاء
جن کی روحیں قید ہوتی ہیں
مجھے سینے میں گرتی سانس کو ہموار کرنا تھا
مجھے اس جھوٹ کا چہرہ بنانا تھا
جو میرے سچ کی پاکیزہ حدوں میں درد کی فصلیں اگاتا تھا
مجھے ترتیب دینا تھا
سرابی وسعتوں کو
راستے تجویز کرنے تھے
مجھے قدموں کو اک لمبی مسافت کا یقیں دینا تھا
پیروں میں بگولے اور ہاتھوں پر ستارے باندھنے تھے
ساتھ لینا تھا مجھے اس روشنی کو
جو عذاب و خواب کے ٹکراؤ سے پھوٹی تھی
اپنے آپ سے اک عہد کرنا تھا
سفر آغاز تھا

نشاۃ ثانیہ کے بعد سترویں صدی, اٹھارویں اور انیسویں صدی میں فرانسیسی انقلاب, صنعتی انقلاب, جمہوری انقلاب, مارکسی انقلاب اور دوسرے انقلاب برپا ہوئے ۔ سترویں صدی کے بعد سے اس دور کو عرف عام میں “دور تنویر یا روشن خیالی کا دور” بھی کہا جاتا ہے گویا سترویں صدی سے بیسویں صدی تک آتے آتے تہذیب نے بے شمار مراحل طے کیے اور اب بیسویں صدی میں داخل ہو کر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی اور نئی تہذیب کہلائی ۔ اسی پس منظر میں ایک نظم “Environmental Hazard” دیکھیے

ابھی بیج بویا ہے
پہلے ہری شاخ پھوٹے گی
پھر سالہا سال مٹی سے موسم کے رشتے کی نسبت سے پھول اور پھل آئیں گے
بیج کو شاخ سے پیڑ ہونے میں کتنے ہی موسم لگیں گے ۔۔۔۔
ادھر ننھے پھولوں کے پہلو میں
نم گھاس پر
جو تنا پیڑ کا
جڑ سے اکھڑا ہوا، خم پڑا ہے
ابھی جو گرا ہے
یہ اس کی جڑیں تھیں
جو مٹی میں رستہ بناتے ہوئے
فرش و دیوار و در کاٹ کر
مجھ میں پیوست ہونے لگی تھیں
مری ذات کے خستہ دیوار و در کو ہلانے لگی تھیں ۔۔۔۔۔
میرا کام بس اس قدر ہے کہ میں
ایک گھر کی حفاظت کروں
اور پرانے درختوں کا نوحہ لکھوں

نئی تہذیب کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات بھی منظر عام پر آئے اور انسانیت کے مجموعی حوالے سے یہ زوال پذیری کا دور کہلایا ۔ بعض مفکرین کے یہاں جدیدیت کے دور کی تعریف کے لئے صرف “زوال پذیری” کا لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ جدیدیت کا دور ٹیکنالوجی پیدا کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے تو انتہائی حیرت انگیز تھا لیکن نظریہ تنقید کے مطابق زوال دراصل انسانی قدروں کی پامالی کے ذریعہ آیا۔ گویا جدیدیت دراصل ٹیکنالوجی کے نقطہ عروج پر پہنچنے کے سبسب عقل معاون کی چیرہ دستیوں کے نتیجےمیں انسانی قدروں میں تبدیلی کا نام ہے جہاں خود انسان نے اپنی تباہی اور بربادی کا سامان پیدا کیا اور اپنی آزادی اور سکون کھو بیٹھا ۔ اس طرح انسانی تہذیب اپنے آپ کو ایک ایسے موڑ پر لے آئی جہاں اس کی پیدا کردہ ٹیکنالوجی خود اس کے تشخص کے لیے چیلنج بن گئی اور انسان ایک ایسے دور میں لاشعوری طور پر داخل ہوگیا جس میں خود اس کی بنائی ہوئی تہذیب ایک طاعون جیسی وبا کا سامان بن گئی ۔ یاسمین حمید کی نظم “تمہارے بیٹے سے میں کہوں گی” کی چند سطریں ایسی ہی صورتحال کی عکاس ہیں

وہ لمحہ جس نے بہار دیکھی نہ اس کی آمد کا خواب دیکھا
وہ اپنا موسم گزار کر دور جا چکا ہے
وہ آنکھ جس میں نہ صبح دیکھی نہ صبح کی آب و تاب دیکھی
وہ دن کے باقی تمام حصوں کو
اپنی پتلی میں جذب کرکے
انہی سے منسوب ہوچکی ہے
وہ جسم جس نے نہ ہجر مانگا
نہ زندگی سے وصال مانگا
وہ اپنے حصے کی آگ میں جل کے سو گیا ہے
وہ دہن جس نے حدوں کو تسخیر کرلیا تھا
وہ دہن جس نے
سیاہ رستوں پہ قصہ مہر و ماہ لکھا
وہ ذہن نا مطمئن رہا ہے

جدیدیت نے بظاہر انسان کو سخت اور طویل جسمانی محنت سے نجات دلانے کا بیڑا اٹھایا لیکن حقیقت میں اس نے انسانی روح کو بری طرح مجروح کیا کہ انسان کی جسمانی سکت کے ساتھ ساتھ ذہنی سکت بھی جواب دے گئی اور انفرادیت خواب بن کر رہ گئی ۔ مغربی فلسفی ہیبر ماس نے اس کیفیت کو “آہنی پنجرے” سے تعبیر کیا ہے لیکن وہ اب بھی نجاتی و تنقیدی فکر کی صلاحیت سے مایوس نہیں اور اسے اجاگر کرکے نئے انسان کے لئے مناسب راہ تلاش کرتا ہے اور تجویز پیش کرتا ہے کہ افراد کے درمیان مسائل کے حل اور انفرادی تشخص کے حصول کے لئے اجماع پیدا کرنے میں کامیابی ممکن ہے جو کہ انفرادی اور شخصی آزادی اور تشخص کا محافظ ثابت ہوگا ۔ دیکھتے ہیں یاسمیں حمید اس پس منظر میں کیا کہتی ہیں ۔ نظم “وقت رہ گیا ہے کم”

بہہ رہا ہے وادیوں میں زہر
آگ پھانکتے ہیں شہر
ہوک ہے گلی گلی
دریغ ہے دلوں کی تھاہ میں
شب چراغ میں سرک رہے ہیں سائے
آدمی کو آدمی کا خوف ہے
وہ خوف جس کے نام صد ہزار
خوف، جس کے روبرو ہے
مہ وشوں کی اک قطار
جس کے ترش و تلخ کی
خبر ابھی نہیں ہے عام ۔۔۔۔
ٹوہ لے کہاں سے آرہی ہے بین کی صدا
پلٹ، پلٹ کے بین سن
آسماں تو دور ہے
یہ زمین کا ہے ساز
سن زمین کی پکار
اس کے آنسوؤں کو پونچھ
اس کا پیرہن بدل
اپنا ماس دے اسے
اپنا جسم چاک کر
اور اس میں بھر
زمین کا وجود
لے زمین کے قدم
وقت رہ گیا ہے کم

ہیبر ماس عصر حاضر کے نئے انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ بحیثیت انسان ناطق آپس میں مکالمے کے ذریعے اپنے مسائل کے حل کے لیے اجماع کا راستہ تلاش کرے اور اپنے لئے ایسی نئی قدروں کا تعین کرے اور انسان کو ایسی سچی آزادی دے جو اسے شخصی اور اجتماعی سطح پر ہمکنار کر سکے اور اس کے احساسات و جذبات کی بھی حفاظت کرے ۔ انسان اپنی ارفع شناخت تک رسائی صرف ایسی صورت میں حاصل کرسکتا ہے جب وہ ارتقاء کے زینوں پر چڑھتا ہوا جسمانی تقاضوں کے باوجود وجود کے اس اعلی منصب تک پہنچ جائے جو فرشتوں سے بالاتر ہے یعنی تخلیقی صلاحیتوں کی ذہنی معراج اورماورائی پرواز جو ہمہ جہت زندگی کے پر اسرارِ نہاں خانوں میں بے قرار رازوں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے – میرے نزدیک یہ اجماع آرٹ کی وہ صورت ہے جہاں فن مصوری، فن سخن وری، فن اداکاری اور تخلیقی آرٹ کے وہ تمام شعبے ہیں جہاں انسان غیر محسوس طریقے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور باہمی جذبات و احساسات کی ترسیل ممکن ہو پاتی ہے – مجھے یاسمین حمید کی شاعری پڑھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہےگویا آپ نے سو صدیوں کی تہذیب کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے یاسمین حمید کی خوبصورت نظم “زمین احتیاط و ضبط میں”

زمین احتیاط و ضبط میں
کیسی فراست کی صبوحی سے بھری ٹھنڈک ہے
کیسا نم
کہ منظر بھی ہرا ہے
اس ہری رنگت کے بھی پھر رنگ کتنے ہیں
ہرے پتے، ہری بیلیں
ہرے کانٹے، ہرے ڈنٹھل
ہرے پربت، ہرے رستے
ہرے جوہڑ
ہرے کائی لگے دیوارودر

اوراس ضمن میں ثقافت و اقدار، ادب و فلسفہ، روایات، اساطیر، تہذیب، وسیع و عمیق تجربات و مشاہدات اور عصری آگہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ انسان نے تخلیقی صلاحیت کے ذریعے اپنی حیات اور کائنات کو اپنے درون ہمہ جہتی کے آئینے میں دیکھا گویا تخلیق کو انسان سے الگ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ فرد کی ذات ہی وہ قوی آلہ ترسیل ہے جس کے ذریعے انفرادی اور اجتماعی مسائل اور معاملات کی تفہیم ممکن ہوتی ہے ۔ اگرچہ فرد کو اجماع اور سرگزست کو انفس و آفاق کا استعارہ بنانا ایک کرب آمیز فن ہے اور الفاظ سے ماورا احساس کو زبان دینا یاسمین حمید کو خوب آتا ہے، ایسا لگتا ہے آپ کی حسیات ہی نہیں بلکہ لفظیات بھی بصیرت اور بینائی سے لبریز ہیں ۔ جب یاسمین حمید کسی کیفیت انسانی اور صورت زمانی کا انکشاف شاعری میں کرتی ہیں تو اس پر کشف کا گمان ہوتا ہے گویا آپ کے ہاں توازن واعتدال، زبان اور بیان اور بلاغت فکرونظر کے نمونے ملتے ہیں اور ان پر الہام کے لفظ کا اطلاق ہی ادبی دیانت کہلاتا ہے ۔ آپ کے یہاں شعروسخن کو وقت کی تقویم کے ساتھ ہم آہنگ کرنا فکرونظر میں ہی نہیں بلکہ لفظ و بیان میں بھی جدت آمیزی کہنا چاہیے اوراس کو رجائیت پسندی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔

جو مٹتا جا رہا ہے پھر وہی منظر بنانا ہے
مجھے احساس کی دیوار میں اک در بنانا ہے
مجھے پہچان دینی ہیں کسی موہوم رشتے کو
مجھے بے جسم و جاں تصویر پر اک سر بنانا ہے
مجھے زنجیر کرنا ہے کہیں بےسمتی دل کو
ہوا کی موج پر ٹھہرا ہوا اک گھر بنانا ہے
مجھے تو عکس اپنا ڈھونڈنا ہے پتھروں میں بھی
طلسم آب و آتش سے انہیں گوہر بنانا ہے
کنارِ دشت ایک کشتی ہے اور پتوار ہاتھوں میں
سو اب دریا مجھے اس دشت کے اندر بنانا ہے

حدوں کی بات فیصل و قفس کی بات نہیں
یہاں سے کوچ ہمارے ہی بس کی بات نہیں
یہ ایک دو کا نہیں شہر بھر کا ماتم ہے
چمن کی موت ہے یہ خاروخس کی بات نہیں

مناظر گھول کر آسودگی کے
میں آنکھوں پر لگانا چاہتی ہوں
میں لہجے گوندھ کر میٹھے سروں کے
سماعت کو سنانا چاہتی ہوں

نمود صبح سے پہلے کا لمحہ دیکھنے کو
اندھیری رات کے پیکر میں ڈھلنا چاہتی ہوں
میں شہر شب کو آنکھوں کی دعا دینے سے پہلے
در و دیوار کا چہرہ بدلنا چاہتی ہوں

بے شک آج کا فرد بے انتہا جسمانی ترقی حاصل کر چکا ہے لیکن وہ اب بھی اپنے تخلیقی وفور کی بلندیوں کو چھو رہا ہے کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ اس کی تخلیقی صلاحیت ہی اس کی اصل ہے ۔ یاسمین حمید اس سلسلے میں کہتی ہیں

اتنی آسانی سے یہ نقش نہیں مٹ سکتا
مجھ میں زندہ ہے مری ذات کا معمار ابھی

حساب میں جو ہوا کے سیاہ بخت ہوئی
وہ شاخ ٹوٹ کے پھر سے نیا درخت ہوئی

ہزار کوس چلیں اور پلٹ کے آئیں وہیں
مسافروں کو کوئی شہر دوسرا نہ ملے

یاسمین حمید صاحبہ کی نیک شہرت اور صحت و تندرستی کے لیے ہزاروں دعائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں