کورونا کے باعث 31 افراد کی ہلاکت، لاپرواہی یا منصوبہ بندی ،تحقیقات شروع

Spread the love

امریکہ اور کینیڈا میں بزرگ افراد کی دیکھ بھال کرنے والے چند اداروں کو ان الزامات پر تفتیش کا سامنا ہے کہ یہ ادارے کورونا سے متاثرہ بزرگ افراد کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ان کیئر ہومز کو اس الزام کا سامنا بھی ہے کہ یہاں کہ منتظمین نے حکام سے، ان بزرگ افراد کے خاندانوں سے اور اپنے ہی سٹاف سے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کو چھپایا۔
امریکہ کی ریاست میسیچوسٹس کے شہر ہولیاک میں قائم ایک ایسے ہی کیئر ہوم کو اب وفاقی سطح پر تحقیقات کا سامنا ہے۔ اس کیئر ہوم میں اب تک 38 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ اس مقام پر ریٹائرڈ فوجیوں کو رکھا گیا تھا۔ اس کیئر ہوم میں صورتحال سے نمٹنے اور مدد فراہم کرنے کے لیے نیشنل گارڈز کو طلب کیا گیا تھا۔
ہولیاک کے میئر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’سولجرز ہوم‘ نامی کیئر ہوم کا سٹاف ریاستی انتظامیہ کو بروقت مطلع کرنے میں ناکام رہا حتی کہ اس وقت بھی جب یہاں کے رہائشی بہت سے بزرگ افراد کورونا وائرس جیسی علامات کا سامنا کرتے ہوئے انتقال کر گئے۔
کینیڈا میں حکام ایک ایسے ہی کیئر ہوم کی تفتیش میں مصروف ہیں جہاں کورونا کے باعث 31 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ کیوبک کی انتظامیہ نے کیئر ہوم کی انتظامیہ پر ’بہت بڑی غفلت‘ برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کیئر ہوم کا سٹاف تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا ہے۔ اسی طرح امریکی ریاستوں نیواڈا، واشنگٹن، کولوراڈو اور مشی گن میں بھی ہوم کیئر سینٹرز کو تحقیقات کا سامنا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ میں قائم نرسنگ ہومز میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 3600 سے زائد ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ تمام افراد جو کورونا کی باقاعدہ تشخیص سے قبل ہی ہلاک ہو گئے تھے وہ ان 3600 ہلاکتوں میں شامل نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں