چینی پہلی بارگنے سے کب اور کیسے تیار کی گئی؟

Spread the love

پہلی بار گنے سے چینی کی تیاری شمالی ہندوستان میں 4ہزار سال قبل کی گئی…
پاکستان میں’’چینی اسکینڈل‘‘ سامنے آنےکےبعد’’جنگ گروپ اور جیوٹیلی ویژن نیٹورک‘‘نےچینی کی تاریخ کامطالعہ کیاہے، یہ دنیا کی قدیم ترین چیزوں میں سےایک ہے.
اسکینڈل میں حیران کن انکشاف کیاگیاہے کہ 24.912ارب روپےکی برآمدی سبسڈی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 2015سے2018کےدرمیان انتہائی نرمی سے ملک کے اثرورسوخ رکھنےوالے مل مالکان کو دی۔
’’امریکن شوگر ایسوسی ایشن‘‘ کہتی ہےکہ انسانی تاریخ کے اہم موڑ پرچینی اتنی قیمتی تھی کہ لوگ اسے شوگر سیف میں تالالگاکررکھتےتھے۔
’’امریکن شوگرایسوسی ایشن‘‘ کودوسری عالمی جنگ کےدوران جون 1943کودرحقیقت ’’شوگرریسرچ فائونڈیشن‘‘ کے طورپر بنایاگیاتھا، یہ مزیدلکھتی ہے :’’زمانہِ قدیم میں گنے کو میٹھےذائقے کےباعث چباتے ہوئےاسے گھریلو استعمال میں لانے کے پہلے اشارے8 ہزار قبل مسیح میں ملتےہیں۔
دنیابھرمیں چینی کے تاریخی سفر اور ٹیکنالوجی کی ترقی کےباعث آج ہم چینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ نامور تاریخ دان تاسوگیتاگا کی 2014کی کتاب ’’قرونِ وسطیٰ کے اسلام کی سماجی زندگی میں چینی‘‘ اگرچہ پہلی بارچینی پہلی صدی عیسوی کےبعد شمالی ہندوستان میں گنےسےتیارکی گئی تھی،گنےکےپودوں سےچینی کی پیداوارجنوب مشرقی ایشیاءمیں 4ہزار سال قبل شروع ہوئی تھی۔
لفظ’’شوگر‘‘ سنسکرت ادب سےاخذ کیاگیاہے، اس کامطلب ہے’’پسی ہوئی یاکوٹڈچینی‘‘۔

یہ بھی پڑھیے: امریکہ :ممکن ہے ملک کے چند حصے ‘کچھ حد تک شاید اگلے مہینے’ معمول پر واپس لوٹنا شروع کریں۔

15سواور5سو قبل مسیح میں لکھا گیا سنسکرت ادب پہلا مصدقہ گنے کی کاشت اورہندوستانی بنگال میں چینی کی تیاری کےثبوت فراہم کرتاہے۔
تاریخ دان میکائیل اڈاس کی کتاب’’قدیم اور کلاسیکل تاریخ میں زرعی اور مسیحی معاشرے‘‘ کےمطابق ابتدائی طورپر لوگ گنےکواس کی مٹھاس کےباعث چبایاکرتےتھے۔
77سالہ میکائیل ایڈاس ایک امریکی تاریخ دان ہیں اوراس وقت رٹگرزیونی ورسٹی نیوجرسی میں تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ ایک اورامریکی تاریخ دان تھامس ٹراٹمن نے لکھاہےکہ ہندوستانیوں نےحضرت عیسیٰ کے350 سال بعددریافت کیاتھاکہ چینی کےکرسٹل کس طرح سےبنتےہیں۔
ماہرعلمِ بشریات اور یونیورسٹی آف مشی گن میں تاریخ کےپروفیسرتھامس کاخیال ہےکہ ہندوستان میں ریفائنڈشوگرگپتاسلطنت کےدوران تیارکی جارہی تھی۔ ان کےمطابق ان کےمشاہدات ادبی شواہدپرمبنی ہیں۔
پھرگنےکی کاشت قرونِ وسطیٰ کی اسلامی دنیامیں بہتراورنئےطریقوں کےساتھ پھیل گئی۔ گنےکی کاشت اورچینی کی تیاری ویسٹ انڈیزاورامریکاکےگرم علاقوں میں تقریباً16ویں صدی میں شروع ہوئی، اگرچہ 17ویں صدی میں اس کی پیداوار بہتری بھی آئی۔ چقندر کی چینی، ہائی فرکٹوز کارن سیرپ اور دیگر مٹھاس پیداکرنےوالی چیزیں 19ویں اور 20ویں صدی کےدوران پیدا کی جانےلگیں۔
قرونِ وسطیٰ یا’’مڈل ایجز‘‘ کے دور کے اختتام تک، جو 5ویں صدی سے15ویں صدی تک رہا، یورپ کی تاریخ میں چینی بہت مہنگی شئےتھی لیکن آنے والے سالوں میں بڑی تعداد میں اس کی پیداوارنےاسے سستا کردیا۔ یورپ میں چینی کو ’’فائن سپائس‘‘کہاجاتاتھا۔ برسلز میں واقع ’’یورپین فوڈ انفارمیشن کونسل‘‘ نے ذکر کیا:’’ چقندرسےچینی کی پیداوار 19ویں صدی کے آغاز تک یورپ میں ایک لگژری مانی جاتی تھی، جب تک کہ یہ وسیع پیمانے پر دستیاب نہ ہوئی۔
یورپین شوگرکی تاریخ میں پہلی پیشرفت جرمن سائنسدان اینڈریاس مرگراف کی جانب سےایک حیران کن دریافت ہے۔1747میں انھوں نےانھوں نےدکھایاکہ چقندرسےحاصل ہونےوالےکرسٹل گنےکےکرسٹل کی طرح ہی تھے۔‘ ‘انسائیکلوپیڈیابریٹینیکا کے مطابق، یہ ایک جرمن کیمیادان اینڈریاس سگسمنڈمرگریف (1709-1782)تھاجس نے چقندر سے 1747 میں چینی دریافت کی اس کے باعث جدید شوگرانڈسٹری کی بنیاد پڑی۔
1747میں کیمیادان مرگراف نے کچھ پودوں کے جوس نکالنےکیلئےالکوحل کا استعمال کیاتھا،ان میں ایک چقندربھی تھا۔
اس نے مائیکروسکوپ کے استعمال سےپتہ لگایاکہ چقندر کاخشک اور کرسٹلائزڈ جوس گنے کی چینی کی طرح ہی ہے۔
چقندرکی چینی کی اس کی دریافت پراس کی موت کےچارسال بعد1786تک عمل نہیں ہوا اور چقندرکی چینی کیلئے پہلی ریفائنری نے1802میں کام شروع کیا۔ برطانوی تاریخ میں انکشاف ہوتاہے کہ 1299کےدوران لفظ شوگر کو ’’ Zuker‘‘ کی طرح لکھاجاتاتھا، 1316میں ’’ Zucar‘‘ اور 1440 میں ’’ suggir‘‘ ہوگیا۔
دنیا بھر میں اپنی کنسلٹنسی خدمات کیلئے مشہور برطانیہ کا شوگر نالج انٹرنیشنل لمیٹڈ لکھتاہے:’’گیارویں صدی میں صلیبی جنگوں کے نتیجے میں چینی یورپی لوگوں نے دریافت کی تھی۔ جنگجو جو اپنے گھروں کو واپس لوٹے انھوں نے’’ایک نئے مصالحے‘‘کےبارےمیں بات کی اور یہ کتنا خوشگوارتھا۔
انگلینڈ میں پہلی چینی کاریکارڈ1099میں ملتا ہے۔ بعد میں آنےوالی صدیوں میں مغربی یورپ میں اس کی مشرق کے ساتھ تجارت کافی بڑھ گئی۔
مثال کےطورپر یہ ریکارڈ کیاگیا کہ 1319میں لندن میں چینی ’’دوشیلنگ ایک پائونڈ‘‘ میں دستیاب تھی ، یہ آج کی قیمت میں 100ڈالرفی کلو بنتی ہے لہذا یہ کافی زیادہ مہنگی تھی۔
40سال پرانی شوگر نالج انٹرنیشنل لمیٹڈ نے انکشاف کیا:’’15ویں صدی میں یورپ کی شوگرویانا میں ریفائن کی گئی تھی۔
اسی صدی میں کولمبس نے امریکا’’نئی دنیا‘‘ کا بحری سفرکیا۔ یہ ریکارڈ کیاگیا کہ 1493میں وہ گنے کے پودے کیریبین میں لے گیا تاکہ انھیں وہاں اگایاجاسکے۔
گنے کی کاشت کیلئے وہاں کی آب و ہوا بہت زیادہ مناسب تھی کہ وہاں ایک صنعت بہت جلد قائم ہوگئی۔ 1750 تک برطانیہ میں چینی کی 120ریفائنریاں کام کررہی تھیں۔
ان کی مجموعی پیداوار 30ہزارمیٹرک ٹن سالانہ تھی۔ چینی کی تاریخ پر یہ ادارہ مزید کہتاہے:’’ اس مرحلےپرچینی تاحال ایک لگژری تھی اوراس سےاتنامنافع کمایاجارہاتھاکہ چینی کو’’وائٹ گولڈ‘‘کہاجاتاتھا۔

یہ بھی پڑھیے: شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی کرنے والے فیروز خان نے اب کیا کرنے کا فیصلہ کر لیا ؟

حکومتوں نے دیکھا کہ اس سے کافی زیادہ منافع کمایاجارہاہےاورانھوں نےاس پربہت زیادہ ٹیکس عائد کردیا۔ مثال کےطورپر برطانیہ میں 1781میں چینی کا کل ٹیکس 326ہزار پائونڈ تھا، یہ نمبر 1815میں 3لاکھ پائونڈ ہوگیا۔ یہ صورتحال 1874 تک رہی جب برطانیہ حکومت نے وزیراعظم گلیڈ سٹون کے تحت ٹیکس ختم کردیا اور چینی کی قیمت کو عام آدمی کی پہنچ میں کیا۔‘‘
مصنف ڈاکٹرکرسچن ڈینیل جو ہانگ کانگ یونی ورسٹی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے پروفیسرہیں، اپنی کتاب ’’شوگرکین اِن پری ہسٹری‘‘ میں لکھتےہیں،’’ابتدائی 20ویں صدی میں انسان کچھ علاقوں میں چینی کواہم کھانےکےطورپر استعمال کرتے تھے۔

چینی پہلی بارگنے سے کب اور کیسے تیار کی گئی؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں