وبا کاایک سبق……مکالمہ

Spread the love

اردو سپیکنگ بزرگوار ہاتھ میں اخبار لیے کھڑے تھے اور پشت میری طرف تھی۔ میں نے کھنگارتے ہوئے انھیں متوجہ کیا:
“السلام علیکم”
“وعلیکم السلام. ناصر میاں آپ ہیں ، کہیے مزاج شریف۔”
“الحمد للہ. ”
بزرگوار نے چہرہ میری طرف پھیرا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہے۔ پوچھا:” جناب! آج آپ کچھ اداس دکھائی دیتے ہیں۔”
“میاں کل ایک جاننے والے کا پیغام آیا کہ حالات برے ہیں۔ کل رات سے کھیل اڑ کر منھ میں نہیں گئی۔ بال بچے سب بھوکوں مر رہے ہیں۔ اگر ہو سکے تو ایک آدھ کلو آٹے کی فکر کر دیجیے۔ میاں، یہ سن کر پاوں تلے مٹی نکل گئی۔ فورا بچوں کو دوڑایا۔ ان کے گھر میں مہینے بھر کا راشن ڈلوایا۔ میاں، یہ ایک فرد کی کہانی نہیں ہے گھر گھر روٹیوں کے لالے پڑے ہیں۔ سفید پوش طبقہ مر رہا ہے۔ اس پر تو قیامت بپا ہو گئی ہے۔ سوچتا ہوں تو کلیجہ منھ کو آتا ہے۔”
بزرگوار کی بات سن کر میں کانپ گیا۔ تسلی کے دو بول کہے:
” جی بجا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ مخیر حضرات اللہ کی راہ میں دے رہے ہیں۔”

یہ بھی پڑھیے: آئی۔پی۔ایل رواں سال بند دروازوں کے پیچھے کھیلے جانے کے امکاں

“میاں، کیا دے رہے ہیں۔ ہمارے یہاں دینے کا طریقہ حد بھر برا ہے۔ آنکھ بند کی اور روپیہ لٹانا شروع کیا۔ مستحق اور غیر مستحق میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ جس نے سوال کیا اس کو دے نکلے۔ سمجھے کہ ہم بڑے مخیر ہیں۔ واہ کیا مخیر ہیں۔ دے ایسے سفید پوش کو جو ہماری مدد کا صریح محتاج ہو۔ نہ ایسے لوگوں کو جنھوں نے بھیک کو بھی ایک پیشہ مقرر کر لیا ہے۔ ”
“جناب! سب سفید پوشوں تک فردا فردا کیسے پہنچا جائے؟ یہ تو بہت مشکل کام ہے۔” میں نے اعتراض کیا۔
“میاں، ٹھیک کہتے ہو۔ سچ پوچھیے تو یہ کام حکومتی مشینری اور حکومتی نمائندوں کا ہے۔ حکومتی مشینری وشینری تو خیر زبانی داخلہ رہ گیا ہے۔ کہیں نظر نہیں آتی۔ رہے حکومتی نمائندے تو ان کا نہ ہی پوچھیے۔ شرفا کو قطاروں میں کھڑا کرتے ہیں اور تصویریں کھنچواتے ہیں۔ وضع دار تو ایسی جگہ پر جانے سے رہے۔ غیرت دار کے لیے تو ڈوب مرنے کی جگہ ہے۔
پھر ان حکومتی نمائندوں کی دیانت کا یہ عالم ہے کہ حکومت سے دس کے پچاس لیتے ہیں۔ اور کلو کا پاو تقسیم کرتے ہیں۔ اندھیر نگری چوپٹ راجا ہے۔ میاں یہ سب ہمارے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ ہم اپنے نمائندے بھی تو ایسوں ہی کو چنتے ہیں”
“اور کن کو چنیں جناب۔ ہمارے پاس کوئی آپشن بھی تو نہیں ہے۔” میں نے سوال اٹھایا۔
“کیوں نہیں ہےبھئی، یہ دیکھیے۔ آپ کے دل کو ڈھارس ہوگی۔ ” بزرگوار نے اخبار میری طرف بڑھایا اور تصویر کی جانب اشارہ کیا۔ یہ تصویر میں سوشل میڈیا پر پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔
تصویر میں لیاری کا ایم۔پی۔اے عبدالرشید منڈی میں بیٹھا کسی آڑھتی کی طرح حساب کتاب کر رہا تھا۔ وہ منڈی میں آیا تھا تاکہ اپنے حلقے کے سفید پوشوں کے لیے سستا اور وافر راشن خرید کر لے جا سکے اور ان کی روٹی کی فکر دور کر سکے۔

یہ بھی پڑھیے: ایک چالاک آڈٹ کی کہانی … کالم

میں سوچنے لگا کہ لاہور کے ہر ہر حلقے سے عبدالرشید جیسا ایم۔پی اے ہوتا تو عزت دار لوگوں کو قطار بنانے اور تصویریں کھنچوانے کی ذلت نہ اٹھانی پڑتی۔ ایم۔پی۔اے رات کے اندھیرے میں ان کی دہلیز پر راشن پہنچا جاتا۔۔
بزرگوار نے شاید میری سوچ پڑھ لی۔ کہنے لگے:
“میاں اس وبا کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ آئندہ ہم ووٹ دیتے وقت عقل سے کام لیں۔ آسمان پر تھگلی لگانے کا دعوی کرنے والے جھوٹے سیاست دانوں کے بھروں میں نہ آئیں اور بھونڈا چکمہ ہر گز نہ کھائیں۔ بڑے بڑے روسا، نامداروں اور شاہان فلک اقتدار کو دور ہی سے سلام کریں۔ حق یوں ہے کہ صرف خدمت والوں کو ووٹ دیں۔ یہ سیدھے سادھے، صاف طینت، صافی مزاج اور شریف و نجیب لوگ ہیں لیکن ساتھ ہی لائق فائق، جہاں دیدہ اور تربیت یافتہ بھی ہیں۔ یہی گاڑھے وقت میں ہمارے کام آئیں گے۔”
بزرگوار سے رخصت لے کر آگیا۔ راستہ بھر سوچتا رہا کہ کیا ہمارے لوگ خدمت والوں کو پہچان گئے ہیں یا خدانخواستہ انھیں ابھی مزید آزمائشوں کا انتظار ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگرآپ بھی ذی نیوز پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’thezeenewspk@gmail.com‘ پر میل کریں.

6 تبصرے “وبا کاایک سبق……مکالمہ

اپنا تبصرہ بھیجیں