دنیا بھر کے کاروبار ٹھپ لیکن تابوت بنانے کی فیکٹری میں ملازمین ’اوور ٹائم‘ پر مجبور

Spread the love

کوورنا وائرس کے سبب جہاں ایک طرف دنیا بھر کے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں وہیں ایک ایسی صنعت بھی ہے جہاں روزبروز بڑھتی مانگ کے باعث فیکٹری ملازمین اوور ٹائم کرنے پر مجبور ہیں۔

اور وہ ہے تابوت یا میت کو دفن کرنے والے صندوق بنانے کی صنعت۔

یہ حقیقت ہے کہ جہاں آج کل بہت سے افراد کے لیے برا وقت چل رہا ہے وہیں تابوتوں کی صنعت سے جڑے افراد کے لیے وقت اچھا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کی ایک فیکٹری میں ملازمین اپنے پیاروں سے جدا ہونے والے خاندانوں کی مانگیں پورا کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔

فیکٹری کے ڈائریکٹر ایمانوئل گیریٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ عموماً فروخت ہونے والے 15 ڈیزاینوں کے مقابلے میں ’اس وبا کی وجہ سے ہم نے تابوتوں کے صرف وہ چار ماڈل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خریداروں میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس تبدیلی سے ہم پیداوار بہتر بنانے کے قابل ہوئے ہیں۔‘

عام دنوں میں 370 تابوتوں کے مقابلے میں آج کل روزانہ 410 تابوت تیار ہو رہے ہیں۔ اور مزدوروں کو روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔

تابوتوں کے لیے لکڑی کا انتخاب کرنے والی ٹیم کی سربراہ ڈیڈیئر پیڈنسٹ کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو پہلے ہی پیشگی اطلاع دی جا چکی ہے اور وہ ہفتے کے روزبھی آکر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

فرانس، کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں