رہتے ہیں آج کل بڑے وہ بے قرار سے … غزل … دلشاد نسیم

Spread the love

د

رہتے ہیں آج کل بڑے وہ بے قرار سے
نکلے نہیں تھے جو کبھی اپنے حصار سے

ہم گھونٹ گھونٹ پی گئے مستی نگاہ کی
اے کاش ہوش آئے ناں اب اس خمار سے

کوئی بھی بات ہو ہمیں بے چینیاں رہیں
ہم تنگ آئے بیٹھے ہیں اب اس فشار سے

سارے جہاں کی گرد جو سینے میں رہ گئی
نکلے گی جانے کیسے یہ دھڑکن غبار سے

ہم نے ادائے ناز سے جھٹکے تھے بال یوں
ہم جانتے تھے بیٹھے ہیں وہ کچھ بے زار سے

مرجھا گئے ہیں پھول یہ جو تازہ تھے کبھی
دلشاد ان کو دیکھا نہ کیوں تم نے پیار سے ؟

شاعرہ: دلشاد نسیم

اپنا تبصرہ بھیجیں