قربانی افسانہ شمسہ نجم .... Qurbani | Afsana | Shamsa Najam

قربانی … افسانہ … شمسہ نجم

Spread the love

افسانہ: قربانی
(سرکم پولر خطے کے دیوتاوں اور ان کو ماننے والوں سے معذرت کے ساتھ)
تحریر : شمسہ نجم

اپنے نام کی طرح چاند کا نور لئے مون ہیومن جس کی پہنچ برزخ اور اس کے آگے کے آسمانی مقامات تک تھی، انسانوں اور ان کی روحوں کے لیے بہت فیاض تھا۔ ان کو اپنے کائناتی وجود کے نور سے جلا بخشتا۔ اپنی ٹھنڈی اور ہلکی خوبصورت روشنی کی شعاعوں سے ان کی تاریک راتوں کو منور کرتا۔
سیلا کے جسم کی نزاکت اور لچک اکثر مون کو اچنبھے میں ڈالتی تھی کیونکہ اس کی لغت میں گے کا لفظ نہیں تھا یا یہ کہ جس جہاں کی دشت نوردی وہ کرتا رہا تھا وہاں کی دنیا پاک رشتوں اور پاک تعلق کی پابند تھی، جس کی حدود خدائی قوتوں کے تابع تھیں۔ وہاں انسانی جبلتوں کا زور نہیں چلتا تھا۔ آسمانی مقامات پر سب صحت مند جسم اور صحت مند دماغ تھے لیکن وہ فقط دو اصناف رکھتے تھے صرف مرد یا صرف عورت۔ اسے یقین تھا کہ اپنی تمام تر طاقت، موسموں پر گرفت اور مردانہ ظاہری حلیے کے باوجود سیلا عورت ہی ہے۔ اور پھر ایک رات شب خوابی کے نیم عریاں لباس میں مون نے اپنی روشنی کی لہروں کے ذریعے اسے دیکھا تو اپنے خیال کی تصدیق ہونے پر اسے دلی خوشی ہوئی کیونکہ اسے سیلا سے محبت ہو گئی تھی۔ چاند کی لہریں اور چاند کی روشنی تو مون ہیومن کا حصہ تھی لیکن اصل چاندنی کا بدن تو سیلا کا تھا ایسا شفاف بدن اور تیکھے نین نقش جو انسانوں میں تو ممکن ہی نہیں۔ مون سیلا کی بڑی بڑی کالی آنکھوں اور لمبی سیاہ زلفوں کا اسیر ہوا تو اس کے ارد گرد دیوانہ وار منڈلانے لگا۔ مون کی محبت رفتہ رفتہ رنگ لانے لگی اور سیلا کا دل بھی مون کی محبت میں پگھلنے لگا۔ اس کے گالوں پر گلاب کھلنے لگے۔ تنہائی میں ملنے اور اپنے محبوب سے قربت کی خواہش شدید ہونے لگی لیکن اس سے پہلے کہ ان کا ملاپ خدا کے سامنے طے پاتا ایک انہونی ہو گئی۔
نیلیاجک ایک اسکیموس قبیلے کی غریب و یتیم اٹھارہ برس کی حسین لڑکی تھی۔ جس کی لانبی پلکیں اور خوبصورت بھورے بال اسے قبیلے کی تمام لڑکیوں سے ممتاز کرتے تھے۔ سرخ و سفید رنگ پر بڑی بڑی بھوری آنکھیں اسے ورثے میں اپنے باپ سے ملی تھیں۔ نیلیاجک جس ایسکیموس قبیلے میں رہتی تھی وہ دیسی لوگ تھے۔ جو روایتی انداز میں مشرقی سائبیریا سے لے کر گرین لینڈ اور الاسکا تک جگہ جگہ سرکمپولر خطے پر ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ نیلیاجک مون ہیومن کی محبت میں گرفتار ہوئی تو اسے قبیلے کے لوگوں نے گناہگار قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ مون خدائی قوتیں رکھتا ہے۔ نیلیاجک کا یہ اقدام کہیں خدائی غضب کو آواز نہ دے۔ کیونکہ دیوتا کی شادی انسان سے نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کی برادری نے اسے سنگسار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ تاکہ ایک خاکی عورت کی جسارت سے ناراض ہو جانے والے دیوتاوں کو خوش کیا جا سکے۔ سیلا کو ایک رات سوتے میں لگا کہ اسے کسی لڑکی نے نام لے کر فریادی انداز میں پکارا ہے اور ہوا بھی یہی تھا۔ نیلیاجک سنگسار ہونا نہیں چاہتی تھی اس نے رو رو کر خدا سے دعا مانگی۔ اور گھر کے قریب پہاڑوں پر جا کر عورت کی طاقت کا واسطہ دے کر سیلا کو آوازیں بھی دیں کہ “آو اور میری مدد کرو”۔ سیلا خدا کی طرف سے ملی طاقتوں کے بل پر دنوں کی مسافت منٹوں میں طے کرکے نیلیاجک سے ملنے آ پہنچی۔ اس وقت نیلیاجک اپنے کمرے پر پلنگ پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ “کیا ہوا نیلیاجک تم نے مجھے آواز دی”۔
“ہاں اے دیوی مجھے مشکل سے نکلنے میں مدد کرو”۔
“کیسی مشکل لڑکی”۔
“مجھے مون ہیومن سے محبت ہو گئی ہے میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں”۔
سیلا کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔ کیا یہ مجھ سے مون کا سوال کرنے والی ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر اس نے کہا
“کیا تم جانتی ہو کہ مون ہیومن کسی اور سے محبت کرتا ہے۔”
“ہاں پرانی پیشن گوئیوں کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف تم سے محبت کرے گا۔”
“تو؟”
“میری برادری کے لوگ میری اس خواہش کو دیوتا کی توہین سمجھ رہے ہیں اس لیے مجھے سنگسار کرنا چاہتے ہیں۔ میں بنا کسی قصور کے مار دی جاوں گی۔ کسی کو چاہنا تو کوئی جرم نہیں۔ مجھے اس طرح مرنا قبول نہیں ہے مجھے بچاو اے مقدس دیوی۔ تمہیں اپنی طاقت کا واسطہ مجھے بچاو”۔
“سنو اے مظلوم لڑکی! تمہاری آہ آسمانوں کے گنبدوں میں گونج اٹھی ہے اس لیے تمہارے لیے آسمانوں سے خصوصی احکامات آئے ہیں۔ اب تمہیں یہاں کوئی بھی کبھی بھی مار نہیں سکے گا اب سمندر تمہارے تابع ہو گا۔ تم سمندر میں رہو گی”۔
نیلیاجک کی برادری کے لوگوں نے کچھ ممنوعات کی خلاف ورزی کی تھی جن میں سمندری جانوروں پر ظلم شامل تھا وہ کثرت سے اس مخلوق کو قید کرکے چراغوں کی حدت سہنے پر مجبور کرتے تھے مچھلی گھر اس طرح کے بنانے کا رواج تھا کہ چاروں طرف مچھلیاں تیرتیں اور ان کے درمیان میں روشنی کے لیے چراغ رکھے جاتے تھے وہ عورتوں اور بچیوں کو ذرا ذرا سی بات پر سنگسار کر دیا کرتے تھے اب ایک یتیم کی آہ پر ان کے لیے آسمانوں سے حکم اتر چکا تھا۔ انسانوں اور سمندری جانوروں کو اذیت دے کر مار دینے والے لوگوں سے سمندر پر دسترس کا اختیار چھین لیا گیا تھا۔ لیکن ابھی اس حکم نامے پر عمل درآمد باقی تھا۔ اور اس کی ذمے داری سیلا ہی کو سونپی گئی تھی۔ سیلا کے ہاتھوں نیلیا جک کو آسمانی طاقتوں کا تحفہ عنایت کیا گیا۔ دیوی کے درجے پر فائز کرتے ہوئے اسے سمندر پر دسترس دے دی گئی۔ اسے “سی ویمن” یعنی سمندری عورت کا لقب ملا۔ سمندری لہروں اور طوفانوں کو قابو کرنے کی طاقت عطا ہوئی سیلا نے بدلے میں مون ہیومن کو حاصل کرنے کی تمنا سے ہاتھ اٹھانے کی استدعا کی۔ نیلیاجک نے وعدہ تو کر لیا لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے چلتے چلتے ایک بات کہی جو سیلا کے دل پر جا لگی وہ بولی “کیا مجھ پر کی گئی یہ ساری عنایات اور مجھے سنگساری سے بچانے کا عمل صرف تم نے اپنی محبت کو بچانے کے لیے کیا تھا سیلا؟”۔
سیلا تڑپ اٹھی اس نے کہا “نہیں نہیں تمہاری آہ نے اثر کیا تھا اور تمہارے لیے حکم آسمانوں سے آیا تھا میں تو صرف وسیلہ تھی۔ میں نے تو بس تمہاری سفارش کی تھی۔ اور مون ہیومن سے مجھے واقعی محبت ہو گئی ہے اسی لیے میں شاید تھوڑی خود غرض ہو گئی تھی۔ ورنہ خدائی احکام میں کہیں کوئی غرض شامل نہیں ہوتی”۔
نیلیا جک روتے روتے مسکرائی لیکن موٹے موٹے سچے موتیوں جیسے آنسو پھر بھی چھلک پڑے۔ ” سیلا میں تمہارے اس خلوص کی وجہ سے مون ہیومن سے دستبردار ہوتی ہوں۔ لیکن ہاں اسے تنہائی میں یاد کرنے کا اختیار مجھ سے نہ چھیننا۔ ورنہ میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔” یہ کہتے ہوئے اس کی آواز رندھ گئی اور وہ “دیوتا نگہبان ہوں” کہہ کر سمندر کی اور روانہ ہو گئی۔
سیلا واپس اپنے مقام کی طرف لوٹی لیکن بہت آزردہ تھی وہ اپنی تمام طاقتیں ایک کمزوری کے آگے ہار گئی اور تڑپ تڑپ کر بہت دیر تک روتی رہی کیونکہ اب اسے رہتی دنیا تک یہ ثابت کرنا تھا کہ خدائی احکام میں کہیں کوئی غرض شامل نہیں ہوتی”۔ ختم شد۔ شمسہ نجم

  گل نوخیز اختر کا مزاحیہ کالم پڑھیے ۔۔۔   مشتری، عطارد، مریخ ہوشیار باش! … گلِ نوخیر اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں