An article about Shahzad Nayyar's long poem "khakh" by Maleeha Syed

برف کی تہوں میں منجمد خواب … ملیحہ سید

Spread the love

برف کی تہوں میں منجمد خواب
ملیحہ سید

خاک کے بت میں جب روح کی حدت ڈالی گئی ،شعور کی دولت سے نوازا گیا، تو اس نے آگاہی کی منزلیں طے کرنا شروع کیں۔ پھران منزلوں پر چلتے چلتے اس خاک کی حیرت میں غوطہ زن آنکھوں نے خواب بھی بنےُ۔ کچھ ایسا کرنے کی آرزو جو اُسے دوسروں سے منفرد ثابت کرتے ہوئے اس کی شناخت بن جائے۔ ایک ہی شعبے سے وابستہ افراد میں سے کوئی کچھ ایسا کر جاتا ہے ،جو اُسے اپنے ہی ہم عصروں میں ممتاز مقام دے دیتا ہے۔ دنیائے سخن کی جدید اردو شاعری میں شہزاد نیئر ایسا ہی ایک نام ہے۔

شاعری میں نظم منفر دصنف ہے ۔یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ نثری نظم عام انسانی چال ہے جبکہ شعر رقص کی مانند ہے ۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ نثری نظم ایک درمیانی صنف ہے ، جس کی چال گو رقص تو نہیں مگر اس میں رقص کی سب ہی دلفریب ادائیں شامل ہیں۔اٹھاریں صدی کا عظیم فرانسیسی نثر گو شاعر اور نقاد شارل بودلیئر نثری نظم (Poem in Prose) کی طرف بڑھنے کے امکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:

’’ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنی امنگوں کے زمانے میں ایک شعری نثر کے معجزے کا خواب نہ دیکھا ہو۔ ایک ایسی شعری نثر جو موسیقیت سے لبریز ہو۔ بغیر وزن کے، بغیر قافیے کے، لیکن اتنی ہی لچکدار ، اتنی ہی منجھی ہوئی کہ روح کے اُتار چڑھاؤ، تصور کے مدو جزر اور شعور کی شورشوں کا ساتھ دے سکے ۔‘‘

نظم لکھنے والا بھی ایک شیشہ گر کی طرح نوائے جگر خراش کو ایک نغمے میں ڈھالنے کی پوری سعی کرتا ہے۔ اُن سوگوار اور اُداس خیالات کو جو کہر کی گہری دھند میں پوشیدہ ہیں، ان کو اُجالے میں لا کر الفاظ کی حدت سے ایک نئے اسلوب میں منتقل کرتے ہوئے اسے ایک شعری نثر میں بیان کرتا ہے۔بلا شبہ نظم لکھنا بھی کمال فن ہے جو اردو شاعری میں بہت کم شاعروں کو حاصل ہوا۔

انگریزی اور فرانسیسی ادب نثری نظم سے آباد ہے ، دنیائے ادب کے عظیم نظم گو شاعر ان ہی اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو ادب میں کہی گئی غزلیں اپنے مفاہیم اور اسلوب کے حوالے سے ایک مکمل دبستان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اردو شاعری کی زمین ہمیشہ سے ہی غزل کے حوالے سے بہت زرخیز رہی ہے۔ مگر نظم کو لے کر اردو کی گود بانجھ تھی۔ نظم کا تصور نہ ہونے کے برابر تھا ، کسی بھی استاد شاعر نے اس طرف توجہ نہ دی تھی۔ بھلا زمانہ کب ایک سا رہا ہے ، زمانہ تو برق پا ہے ۔سو دھیر ے دھیرے اردو شاعری نے بھی کروٹیں لینا شروع کیں ،مگر اردو نظم کی زمین ابھی بھی سوکھی تھی اور لفظوں کے کسی عظیم دیوتا کی منتظر ۔

گو کہ چیدہ چیدہ نظم گو شاعر سامنے آنے لگے تھے ۔اسی دوران ن۔ م۔ راشد ، مجیدامجد اور وزیر آغا کی نثری نظم کی زمین پر آمد نے اس سوکھی زمین کی آبیاری کی۔ اردو ادب میں نظم کو ایک نئی جہت اور شناخت عطاکی۔ اُن حضرا ت نے مختصر کے ساتھ ساتھ طویل موضوعاتی نظمیں بھی لکھیں۔ جن میں ن۔م۔راشد کی ’حسن کوزہ گر‘‘ اور وزیر آغاکی ’’اک کتھا انوکھی‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ابن انشا اور پھر امجد اسلام امجد کی نظمیں طویل تو نہیں ،اس قدر سحر انگیز ہیں کہ قاری ان کے لفظوں کی انگلی تھام کرایک نئی دنیا کے سفر پر نکل پڑتا ہے۔ تاہم غزل کے ساتھ ساتھ نظم کی دنیا میں ابھی کچھ معجزے ہونا باقی تھے اور نظم کا آسمان کسی نئے روشن ستارے کا منتظر تھا۔جدید اردو نظم میں آج بڑے بڑے نام شامل ہیں ،اردو نظم کی زمین اب تشنہ نہیں رہی۔ہمارے ہر بڑے اور چھوٹے شہروں میں کمال کی نظم لکھنے والے موجود ہیں ،جو تخلیق میں تجربے کی اہمیت سے خوب آگاہ ہیں۔

2006میں ’’برفاب ‘‘کے نام سے ایک مختصر اور طویل نظموں پر مشتمل کتاب منظر عام پر آتی ہے اور اپنے منفرد اور اچھوتے موضوعات ،اُردو زبان کی بے مثال ادائیگی کے ساتھ نظم کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیتی ہے ۔ یوں اردو نظم کو شہزاد نیئر کی صورت میں ایک اور گوہر یکتا مل گیا جس کی کوزہ گری سے نا صرف نئی دنیا تراشی گئی بلکہ وہ خود اس دنیا کا آفتاب بنا۔ شہزاد نیئر کی نظموں نے تو گذشتہ کئی برسوں سے شعری افق پر سکّہ جما رکھا ہے ۔یوں کہئے کہ وہ جب نظم لکھنے کے لیے قلم تھامتا ہے تو فکشن کی دیوی اس پر پوری طرح مہربان ہو جاتی ہے ۔ وہ اس کی انگلی تھامے منطق و شعور کی حدود سے باہر کی دنیا کی یاترا کو نکل پڑتا ہے ۔ پھر ایک کرب میں ڈوب کر نظم تخلیق کرتا ہے۔ وہ ایک نظم نہیں رہتی بلکہ ایک نئی دنیا بن جاتی ہے۔

شہزاد نیئر لفطوں کا وہ کیمیا گرہے جو ہر نظم میں پوری جزئیات کے ساتھ ایک نئی دنیا تشکیل کرتا ہے ۔شہزاد نئیرکی کتاب ’’ برفاب ‘‘ وہ سمندر ہے جس میں یوں تو ایک سے ایک بڑھ کر بے مثال اور دلفریب جزیرے موجود ہیں ۔ تاہم’’برفاب‘‘ کے سمندر میں ’’خاک‘‘ کا ایک صحرا بھی آباد ہے، جو برف کی دھول سے اٹا ہوا ہے۔ جس کی تہوں میں منجمد خوابوں کو کھوجنے کے سفر میں شہزاد نیئر نے بہت کشٹ اٹھائے ہیں۔
’’برفاب ‘‘ کی اس ’’خاک‘‘ کی تخلیق میں شہزاد نے روح کو تھکا دینے والا ایک طویل سفر کیا ہے ، یہ سفر اپنے بند کمرے کے آتشدان کے پاس بیٹھ کر نہیں کیا بلکہ سیاچن کی روح کو منجمد کر دینے والی فضاؤں میں کیا ہے۔

صاحب یہ نظم ’’خاک ‘‘ کیا ہے یقین جانئیے ایک ایسی دنیا کی باتیں ہیں ،رمزیں ہیں۔جن کو سمجھنے کے لیے قاری کو خود اس سفر پر نکلنا پڑتا ہے ۔شعور اور آگاہی کا یہ سفر اسی بات پر اختیام پذیر ہوتا ہے، خواب ہی تو زندگی ہیں یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ آئیے زرا اب اک نظر شہزاد نیئر کی کتاب ’’برفاب‘‘ کی سب سے طویل مگر معنی ،اسلوب اور ربط کے حوالے سے ایک بھر پورنظم ’’خاک ‘‘ کے چند گوشوں پر ڈالتے ہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ ’خاک‘‘ تو آغاز ہے شہزاد نیئر کا ۔ اس کی منزل کیا ہے یہ تو وہی خالق جانے جس نے اپنی مخلوق کو یہ کمال فن بخشا ہے۔

نظم کا آغاز یوں ہے کہ :
کون ہَے؟
کوئی آیا؟
نہیں !
ایک آہَٹ
کہیں دُور اُوپر
یہ آہَٹ ہے یا میری صدیوں سے آواز کی راہ تکتی
سماعَت کا اِک واہمہ !
واہمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کا ہونا بھی اِمکاں کا اثبات ہَے
اِک سہارا ہے بے آس دِل کے لیے
نظم کے اس سفر میں آگے چلتے چلتے شہزاد نیئر کہہ اٹھتا ہے کہ :
سنگِ اَسودَ کی سِل
دِ ل کے اُوپر پڑی
اِتنی بھاری
ہلائے سے ہلتی نہیں !
اور مزید یہ کہ
اَزل تا اَبد
جس میں لمبا سفَر
برف میں رُوزو شَب راکھ ہوتے رہے
اس سفر کے حوالے سے وہ کہتا ہے :
برف کے ساتھ چلتے ہوئے
آج نکلا یہاں
کتنا لمبا سفر ہے زماں در زماں !
کتنی چھوٹی مسافت مکاں در مکاں !

نظم کو پڑھتے پڑھتے میرا یہ احساس قوی ہو جاتا ہے کہ یہ نظم کسی آتشدان کے سرھانے بیٹھ کر نہیں لکھی گئی۔ شہزاد نیئر چونکہ خود ایک فوجی تھے،اس لیے یہ نظم بھی ان کے پیشہ وارانہ احساسات کی ایک نمائندہ کہی جا سکتی ہے ۔ ایک فوجی برف پوش وادیوں میں جنگ کے دوران اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے کچھ ساتھوں کے ساتھ اپنے کاروان سے جدا ہو گیا ہے ۔ برف سے راکھ کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور اس کاوجود وجدان کی تمام تر سچائیوں کے ساتھ جس جس کرب کو محسوس کرتا ہے ،شہزاد نئیر پوری دیانتداری اور کمال فن کے ساتھ اسے لفظوں کا پیراہن دیتا ہے۔

اس طویل نظم کے اختیامیہ اشعار یوں ہیں:
خاک پھر خاک ہے
حدتِ اندروں یخ سے مرتی نہیں
روز و شب کے تسلسل کی گرہیں جلیں
خاک چلنے لگی
جب دھنک روپ بھرنے لگی
خاک اُڑنے لگی !
خاک رنگوں کی جانب چلی
انتظار‘آس چھونے لگا
دائمی خاک سے خاک ملنے چلی
مادرانہ ترنم سے دھرتی کی آغوش وا ہو گئی
مادری بے قراری
حرارت کی نرمی میں گھلنے لگی
گرم آسودگی
رنگ و راحت لطافت ہوئے
زرے زرے میں گھلنے لگی
خاک اُڑنے لگی

اپنا تبصرہ بھیجیں