12 ghazal collection of aleem usmani

ڈاکٹر علیم عثمانی کی 12 غزلیں

Spread the love
Aleem Usmani

ڈاکٹر علیم عثمانی

تعارف

ان کی شخصیات باغ و بہار، طبیعت مرنجان مرنج، آواز سامعہ نواز اور انداز دلنواز تھا۔ ان کی طبیعت میں بلا کی موزونیت تھی۔اس لیے شعرو شاعری سے انہیں فطری مناسبت اور قلبی لگاؤ تھا۔ کم عمری اور زمانہ طالب علمی ہی سے انہوں نے شعر گوئی کے میدان میں قدم رکھ دیا تھا اور گیسوئے سخن کو سنوارنا شروع کر دیاتھا۔ شعرو شاعری نے انہیں آداب شاعری سکھائے تھے اور اس کے اسرارو رموز سے آگاہ کر دیا تھا یہی وجہ ہے کہ ایک استاد شاعر ہونے کے باوجود انہوں نے شعرو شاعری میں کسی استاد سے اصلاح نہیں لی۔
ان کی شاعری میں تجدد اور تنوع ہے۔ ہر صنف میں طبع آزمائی کی روایتی غزل گوئی میں فرد وطاق ہونے کے ساتھ نعت گوئی میں بڑے ماہر و مشاق تھے۔
ان کی شاعری میں غم دوراں و غمِ جاناں کا حسین امتراج ہے۔ 
ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ دیوار 1995 میں زیور طبع سے آراستہ ہو کر مقبول اہل نظر ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر علیم عثمانی کی کتابیں پی ڈی ایف میں  ڈاؤن لوڈ کریں ۔

ڈاکٹر علیم عثمانی کی 12 غزلیں 

غزل#1
اب جام نگاہوں کے نشہ کیوں نہیں دیتے
اب بول محبت کے مزا کیوں نہیں دیتے

تم کھول کے زلفوں کو اڑا کیوں نہیں دیتے
تم شان گھٹاؤں کی گھٹا کیوں نہیں دیتے

اک گھونٹ کی امید سمندر سے نہیں جب
پھر آگ سمندر میں لگا کیوں نہیں دیتے

ہے منتظر حشر بہت دیر سے دنیا
گھنگھرو ترے پیروں کے صدا کیوں نہیں دیتے

یہ دھوپ رہے گی تو یہ رسوائی کرے گی
سورج کو گنہ گار بجھا کیوں نہیں دیتے

تم دوسرے لوگوں پہ نہ رکھا کرو الزام
ہر بات میں تم میری خطا کیوں نہیں دیتے

قاتل کا ہے کیا نام یہ سب پوچھ رہے ہیں
کیا ہم بھی ہیں ہم نام بتا کیوں نہیں دیتے

تم کو مرے انداز وفا سے ہے شکایت
تم مجھ کو وفا کر کے دکھا کیوں نہیں دیتے

جو لوگ علیمؔ اپنی جگہ میر بنے ہیں
اشعار کو وہ طرز ادا کیوں نہیں دیتے

 

غزل#2

میں ان کو کبھی حد سے گزرنے نہیں دوں گا
اس ترک تعلق کو میں چلنے نہیں دوں گا

تم لاکھ اچھالا کرو الفاظ کے شعلے
فردوس محبت کو میں جلنے نہیں دوں گا

کرنا ہی پڑے چاہے صبا سے مجھے سازش
میں آپ کے گیسو کو سنورنے نہیں دوں گا

مایوس نگاہوں سے تم آئینہ نہ دیکھو
میں اپنی نگاہوں کو بدلنے نہیں دوں گا

باریک سہی لاکھ کسی شوخ کا آنچل
نظروں کو میں شیشے میں اترنے نہیں دوں گا

جب اس کی بچھڑتے ہوئے بھر آئیں گی آنکھیں
کس طرح میں ساون کو برسنے نہیں دوں گا

وہ چاہے علیمؔ اب کبھی آئیں کہ نہ آئیں
تا عمر میں پلکوں کو جھپکنے نہیں دوں گا

غزل#3

موت آئی ہے زمانے کی تو مر جانے دو
کم سے کم اس کی جوانی تو گزر جانے دو

جاگ اٹھیں گے ہم ابھی ایسی ضرورت کیا ہے
دھوپ دیوار سے کچھ اور اتر جانے دو

مدتیں ہو گئیں اک بات مرے ذہن میں ہے
سوچتا ہوں تمہیں بتلاؤں مگر جانے دو

گردش وقت کا کتنا ہے کشادہ آنگن
اب تو مجھ کو اسی آنگن میں بکھر جانے دو

خوش نصیبی سے ادھر آتش غم خوب ہے تیز
دوستو اب مری ہستی کو نکھر جانے دو

کوئی منزل نہیں رہ جائے گی سر ہونے کو
آدمی کو ذرا اللہ سے ڈر جانے دو

توڑ دو بڑھ کے یہ مفروضہ وفاؤں کے حصار
دل کی آواز جدھر جائے ادھر جانے دو

وقت کے ہاتھ کا پھینکا ہوا پتھر ہوں میں
اب تو مجھ کو کسی شیشے میں اتر جانے دو

الجھنیں ختم نہ کیوں ہوں گی زمانے کی علیمؔ
ان کے الجھے ہوئے گیسو تو سنور جانے دو

غزل #4

وقت آخر جو بالیں پر آجائیو
یاد رکھیو بہت نیکیاں پائیو

میرے لائق جو ہو مجھ کو بتلائیو
جان حاضر ہے کچھ اور فرمائیو

ایک ڈر مجھ کو عرض تمنا میں ہے
تم پسینے پسینے نہ ہو جائیو

ہم دعا امن کی مانگتے ہیں مگر
آپ بھی اپنی پائل کو سمجھائیو

ہم کو بھی کچھ لکیروں کی پہچان ہے
آپ اپنی ہتھیلی ادھر لائیو

حال دل ہم سناتے ہیں ہنستے ہو تم
ہم نہیں بولتے تم سے اب جائیو

میر کے رنگ میں لکھ کے غزلیں علیمؔ
دھیرے دھیرے نہ تم میر بن جائیو

 

غزل#5

چراغ شام سے آخر جلائیں کس کے لئے
کوئی نہ آئے گا آنکھیں بچھائیں کس کے لئے

کھنچا کھنچا نظر آتا ہے ہم سے ہر آنچل
ستارے توڑ کے لائیں تو لائیں کس کے لئے

نہیں ہے کوئی ہمیں زندگی کا شوق مگر
ہم اپنی جان سے جائیں تو جائیں کس کے لئے

ستم اٹھانے کا مقصد بھی کوئی ہوتا ہے
ہم آسمان سے شرطیں لگائیں کس کے لئے

خلاف ہم نہیں اختر شماریوں کے مگر
سوال یہ ہے کہ نیندیں گنوائیں کس کے لئے

وفا اک آگ ہے بچوں کا کوئی کھیل نہیں
ہم اپنا مفت میں دامن جلائیں کس کے لئے

شراب ہم پہ ہمیشہ سے ہے حرام علیمؔ
پتہ نہیں یہ اٹھی ہیں گھٹائیں کس کے لئے

غزل#6

میں نقش ہائے خون وفا چھوڑ جاؤں گا
یعنی کہ راز رنگ حنا چھوڑ جاؤں گا

تو آنے والے کل کے لئے کیوں ہے فکر مند
تیرے لئے میں اپنی دعا چھوڑ جاؤں گا

تیرے خلاف کوئی نہ کھولے کبھی زباں
تیری نگاہ میں وہ نشہ چھوڑ جاؤں گا

آ جائیے گا شوق سے بے بے چین جب ہو دل
دروازہ اپنے گھر کا کھلا چھوڑ جاؤں گا

رخسار و لب کی تیری نہ کم ہوں گی رونقیں
میں ہر غزل میں ذکر ترا چھوڑ جاؤں گا

آئینے دے سکیں گے نہ تجھ کو کبھی فریب
تیری جبیں پہ تیرا پتہ چھوڑ جاؤں گا

اک خاص چیز چھوڑوں گا سب کے لئے علیمؔ
پہلے سے کیوں بتاؤں کہ کیا چھوڑ جاؤں گا

غزل #7

بادہ خانے کی روایت کو نبھانا چاہئے
جام اگر خالی بھی ہو گردش میں آنا چاہئے

آج آنا ہے انہیں لیکن نہ آنا چاہئے
وعدۂ فردا اصولاً بھول جانا چاہئے

ترک کرنا چاہئے ہرگز نہ رسم انتظار
منتظر کو عمر بھر شمعیں جلانا چاہئے

جذب کر لیتے ہیں اچھی صورتوں کو آئنہ
آئنوں سے کیا تمہیں آنکھیں ملانا چاہئے

میرے اس کے بیچ جو حالات کی دیوار ہے
مجھ کو اس دیوار میں اک در بنانا چاہئے

پھر کرم آگیں تبسم میں ہے پوشیدہ ستم
ہوش مندوں کو پہیلی بوجھ جانا چاہئے

گردش حالات سے مایوس ہونا کفر ہے
عمر بھر انساں کو قسمت آزمانا چاہئے

میری غزلیں ہوں گی کل نا محرموں کے درمیاں
اس کی خوشبو میری غزلوں میں نہ آنا چاہئے

ہم تو قائل ہی نہیں محدود الفت کے علیمؔ
ہم کو الفت کے لئے سارا زمانہ چاہئے

 

غزل#8

دیتی ہیں تھپکیاں تری پرچھائیاں مجھے
رشک بہشت ہیں مری تنہائیاں مجھے

میرے نصیب میں سہی آہ و فغاں مگر
اب تو سنائی دیتی ہیں شہنائیاں مجھے

کتنے عروج پر ہے مرے عشق کا وقار
حاصل ہیں کوئے یار کی رسوائیاں مجھے

مائل ہے چشم مست ادھر لگ رہا ہے اب
آواز دیں گی جھیل کی گہرائیاں مجھے

قائم ہے میرے درد کا اب تک وہی بھرم
اب بھی سلام کرتی ہیں پروائیاں مجھے

اس دور سرکشی کی کشاکش کے درمیاں
لگتی ہے پر سکون جبیں سائیاں مجھے

جو تھے خراب وہ تو بلندی پہ ہیں علیمؔ
پستی میں لے گئیں مری اچھائیاں مجھے

 

غزل#9

ترے چاند جیسے رخ پر یہ نشان درد کیوں ہیں
ترے سرخ عارضوں کے یہ گلاب زرد کیوں ہیں

تجھے کیا ہوا ہے آخر مجھے کم سے کم بتا تو
تری سانس تیز کیوں ہے ترے ہاتھ سرد کیوں ہیں

تجھے ناپسند جو تھے وہی بے وقار رہتے
جو عزیز تھے تجھے وہ ترے در کی گرد کیوں ہیں

وہ کتاب لاؤ جس میں ہے بیان شان قومی
مرے دور کی یہ قومیں بہ گرفت فرد کیوں ہیں

مجھے شک گزر رہا ہے تری چارہ سازیوں پر
اے مسیح وقت بتلا یہ دلوں میں درد کیوں ہیں

جنہیں یاد تھے فسانے بہت اپنے بازوؤں کے
اے علیمؔ مضمحل سے وہ دم نبرد کیوں ہیں

 

غزل #10

وہ عرض غم پہ مشورۂ اختصار دے
کوزے میں کیسے کوئی سمندر اتار دے

دنیا ہو آخرت ہو وہ سب کو سنوار دے
توفیق عشق جس کو بھی پروردگار دے

پھر دعوت کرم نگہ شعلہ بار دے
اللہ مستقل مجھے صبر و قرار دے

جس پھول کا بھی دیکھیے دامن ہے تار تار
کتنا بڑا سبق ہمیں فصل بہار دے

درد جگر شکستہ دلی بے قراریاں
کیا کیا نہ لطف مجھ کو ترا انتظار دے

واعظ اسے بتاؤ نہ جنت کے تم مزے
خلد بریں کا لطف جسے کوئے یار دے

کنگن ادھر کلائی میں گھوما تو یوں لگا
آواز مجھ کو گردش لیل و نہار دے

چہرے پہ وہ سجائے ہے معصومیت کا نور
اب کون اس کو زحمت بوس و کنار دے

میں ہوں شہید راہ محبت مگر علیمؔ
میرا غلط پتہ مری لوح مزار دے

 

غزل #11

گردش مئے کا اس پر نہ ہوگا اثر مست آنکھوں کا جادو جسے یاد ہے
وہ نسیم گلستاں سے بہلے گا کیا تیرے آنچل کی خوشبو جسے یاد ہے

تشنگی کی وہ شدت کو بھولے گا کیا دھوپ کی وہ تمازت کو بھولے گا کیا
تیری بے فیض آنکھیں جسے یاد ہیں تیرا بے سایہ گیسو جسے یاد ہے

کوئی ممتاز ہے اور نہ شاہ جہاں سوز اور ساز ہے کچھ الگ ہی یہاں
تاج محلوں کے وہ خواب دیکھے گا کیا سنگ مرمر کا زانو جسے یاد ہے

اس کو دکھ درد کوئی چھلے گا نہیں اس کی دنیا کا سورج ڈھلے گا نہیں
تیرے بچپن کی خوشیاں جسے یاد ہیں تیرے دامن کا جگنو جسے یاد ہے

اے علیمؔ آفتوں کے یہ لشکر ہیں کیا ایک محشر نہیں لاکھ محشر ہیں کیا
اس کو فتنوں کی پرواہ بالکل نہیں ترا اک ایک گھنگھرو جسے یاد ہے

غزل#12

جس دن سے اٹھ کے ہم تری محفل سے آئے ہیں
لگتا ہے لاکھوں کوس کی منزل سے آئے ہیں

مل کر گلے ہم اپنے ہی قاتل سے آئے ہیں
کیا صاف بچ کے موت کی منزل سے آئے ہیں

راہیں ہیں عاشقی کی نہایت ہی پر خطر
تیرے حضور ہم بڑی مشکل سے آئے ہیں

زلفوں کے پیچ و خم میں پڑیں ہم تو کیا پڑیں
ہم تنگ خود ہی اپنے مسائل سے آئے ہیں

بزم بتاں میں شیخ سکوں کے خیال سے
دامن چھڑا کے ذکر و نوافل سے آئے ہیں

یہ حق پرستیاں مری مرہون کفر ہیں
یہ دن تو فیض صحبت باطل سے آئے ہیں

کچھ وحشیوں پہ رنگ بہاروں سے تھے علیمؔ
کچھ اہتمام طوق و سلاسل سے آئے ہیں

 

اپنا تبصرہ بھیجیں