مضمون “میں استعاروں میں جی رہا ہوں” ڈاکٹر سلمان ثروت “ہے یہ بھی جینے کا اک سلیقہ” نیل احمد

Spread the love

حامد اللہ افسر میرٹھی اپنی کتاب “تنقیدی اصول اور نظریے”میں تحریر کرتے ہیں کہ تنقید کے متعلق بعض لوگوں کو غلط فہمی ہو گئی ہے کہ اس کا مقصد محض عیب بینی ہے اور اس عمل سے تخلیقی ادب کی نشونما مسدود ہو جاتی ہے ورنہ تنقید کو عیب بینی سے کوئی سروکار نہیں بلکہ بعض ماہرین فن تو یہاں تک کہتے ہیں کہ تنقید کا مقصد صرف کسی تصنیف کے محاسن بیان کرنا ہے – جہاں تک میں تنقیدی کتابوں سے استفادہ کررہی ہوں تو میں یہ سمجھ پائی ہوں کہ نقاد کا سب سے بڑا فرض بے لوث ہونا ہے اور پھر زیرمطالعہ تصنیف کی اہم ترین خصوصیات اور محاسن کا تجزیہ پیش کرتا ہے اور قاری کے سامنے اس تصنیف کے عارضی اور مستقل رہنے والے کلام کو پیش کرنا ہے اور سب سے اہم بات جو دور جدید کے نقاد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ کسی ادب پارے میں جمالیاتی اور اخلاقی عنصر کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ اور عالمگیر موضوعات کی ترجمانی بھی نقاد اور قاری کی ذہنی تربیت اور وسعتت کا سبب بنتی ہے ۔ دراصل ادب کا موضوع حیات انسانی کے ہر جز اور پہلو کا احاطہ کرتا ہے، کامیاب ادیب وہی ہے جو مکان و لامکاں تک رسائی رکھتا ہو اور پھر نقاد کا رابطہ بھی دونوں عالموں سے ہونا ضروری ہے تاکہ وہ بیک وقت عقل و حواس کی دنیا سے عشق کی معراج کا سفر اپنے تنقیدی تخیل کی پرواز میں طے کر سکے تب ہی جاکر ایک تاریخی اور بھرپور تنقید وجود میں آتی ہے ۔۔۔ اسی پیرائے میں نظم “آمد خالص”:دیکھیے

عقل حیراں ہوئی
اور مجھے
کچھ تعجب نہیں
اجنبی استعاروں کی محفل سجی
آدھ چھوئی سی علامت نے آواز دی
ان بنے سے مناظر کی دنیا کھلی
اور گماں سے بھی آگے کی باتیں ہوئیں
میری نظمیں جو ہیں رمزیت کا فسوں
میری غزلوں کہ جو خوبصورت ہیں شعر
وہ مجھے رات کی سلطنت کے سفیر
عرصہ نوم کے
گوشہ خام میں
تحفتاً دے گئے

یہ نظم عہد حاضر کے معتبر شاعر ڈاکٹر سلمان ثروت کے پہلے شعری مجموعے “میں استعاروں میں جی رہا ہوں” سے ماخوز ہے ۔ آپ کی کتاب پڑھتے ہوئے مجھے کہیں ایسا محسوس نہیں ہوا کہ آپ کی شاعری کا مقصد تفریح و تسکین طبع ہے بلکہ آپ نے نہایت سنجیدہ انداز میں عصر جدید کے طرز حیات، آشوب و آلام اور معاشرتی اور اخلاقی پہلوؤں کو شاعری کے قلب میں ڈھالا ہے ۔ شاعروں کے ہاں دو باتیں اہم ہوتی ہیں ایک یہ کہ جس دور یا زمانے سے شاعر گزر رہا ہو اور دوسرا اس دور کی ذہنی کیفیت ۔ کیونکہ ادیب کی شخصیت پر اس زمانے کی ذہنی فضا کا اثر ہوتا ہے لہذا جو بھی کچھ معرض وجود میں آتا ہے وہ اسی کے زیر اثر ہوتا ہے ویسے بھی تخلیقی و تاریخی ادب کے ظہور کے واسطے کسی ادیب کا صرف حقیقی یا وہبی شاعر ہونا کافی نہیں بلکہ اس کے لئے مخصوص ماحول اور فضا کی ضرورت ہوتی ہے جہاں ان دونوں میں سے کسی ایک کی کمی ہوئی وہیں شاعری کا توازن بگڑ جاتا ہے اوران دونوں چیزوں کا قابل اطمینان حد تک کسی ادب پارے میں موجود ہونا ہی کامیاب شاعر یا تصنیف کی علامت سمجھا جاتا ہے اس تناظر میں ڈاکٹر سلمان ثروت کی خوبصورت نظم “یہ وہی آگ ہے” دیکھیے

سر بسر پھیلی
جسم سے روح تک
وحشتوں کی فضا میں سلگتی ہوئی
مجھ میں جلتی ہوئی یہ عجب آگ ہے
وحشتوں کی فضا
جس کی آغوش میں
دل بھی خود سوز ہے
بس تذبذب کا علم شب و روز ہے
اک طرف آگہی کی حسیں کہکشاں
اک طرف شاعری کا پرستان ہے
اک نظر میں اگر ہے جہان یقین
ایک نظر میں تخیل کا امکان ہے
اور اس بے قراری کے ماحول میں
ایک طرفہ تماشہ ہے کارِ جہاں
زندگی عناصر کے سنجوگ سے شعلہ زن
ایک آتش کدہ
جو بھڑکتا ہے روح و بدن کے تعلق کی تکرار سے
اہتمام ہنر کی رکاوٹ میں آتے فرائض کے انبار سے
کشمکش ہے جو بین علم و عمل
شعلگی سے اٹھی تھی روز ازل
یہ وہی آگ ہے

یہ وہی آگ ہے
بام ادراک پر
جس نے روشن کیے
آگہی کے دیے
جو بھی دل کے معبد میں قرنوں اجالے کا مبع بنی
جسے شوق جنوں کو حرارت ملی
جس کی شدت سے احساس کندن بنا

ڈاکٹر سلمان ثروت کے یہاں عصری شعوراور جدید حسیت نمایاں ہے کیونکہ وہ اپنے عہد سے کٹ کر شاعری نہیں کرتے ان کی بیشتر نظمیں اورغزلیں دور حاضر کا آشوب نہایت دردمندانہ انداز میں بیان کرتی نظر آتی ہیں بالخصوص انسان کی ناقدری، بے چارگی اور کسمپرسی کو ایک لمحہ فکریہ کے طور پر پیش کیا ہے ۔ علاوہ ازیں سائنسی ترقی، مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کی مضبوط تر ہوتی حاکمیت اور سامراجی قوتوں کے جابرانہ استحصالی رویوں پر بھی اظہار تاسف کیا ہے ، ادب میں گہرائی اسی وقت ممکن ہے جب اس کی جڑیں زمین میں پیوست ہوں پھر مادی حالات کے تغیر و تبدل کا منظر نامہ ذہن میں تازہ ہو ، جو ادیب اپنے دور یا سماج کی کشمکش کو پیش نہیں کرسکتا وہ تاریخی اہمیت کھو دیتا ہے لیکن ادیب کا کام محض حقیقت کی عکاسی نہیں بلکہ اس کی درستگی اور نادرستگی کا تجزیہ کرنا بھی ہے اور زندہ ادب وہی ہے جو سماج کو بدلنے میں ہتھیار بننے کی ترغیب دیتا ہے ۔ آج کا ادب اپنی فکر کی بنیاد “مادّیت و عقلیت پرستی” کی بنیادوں پر کھڑی کرتا ہے کیونکہ آج کا سماج علوم سے اکتساب کرتا ہے جس کے نتیجے میں انسان نے زندہ رہنے کی جدوجہد میں درندگی چھوڑ کر انسانیت کی اعلیٰ قدروں کو اپنایا اور انسان بننے کی جدوجہد میں فنون لطیفہ اور سائنس پیدا کی یعنی سائنس اورادب کا رشتہ عاشق اور معشوق کا سا ہے ۔ دونوں کا حسین امتزاج اور توازن ہی خوبصورت معاشرے کی تشکیل میں معاون ہے ۔ آج کے ادیب اور سائنسدان دونوں ہی نئی صدی کے سنگم پر کھڑے ہیں اور دو متضاد ہوتی ہوئی دنیا کی فکری جہتوں سے واقف ہوکر ان سے جنم لینے والے تضادات سے گہری شناسائی پیدا کر رہے ہیں اور انہیں اپنے نفس میں جذب کرکے ایک نئی معنوی ترکیب کی تخلیق میں مشغول نظر آتے ہیں اور روح عصر کے ساتھ متحد اور متصل ہو کر ایک جہان تازہ کی بشارت دے رہے ہیں ۔ اس حقیقت کا بیان ڈاکٹر سلمان صاحب کے نظم “سائنس دان اورادیب” میں بخوبی جھلکتا ہے

سراغ حقیقت کے آزار میں
وہ نکلے ہیں دیکھو بڑی شان سے
فلک زاد ہیں
اتر آئے ہیں نردبان تخیل پہ چلتے ہوئے
مسافت کٹھن ہے مگر منزلوں کی ہے پروا کسے
انہیں حیرتوں سے، گماں سے، زمیں آسماں سے، سروکار ہے
رموز جہاں ہوگئے مہرباں
بڑھی تشنگی
تو کم سن خوشی سے لگا جھومنے
ہوا میں اچھالے عناصر کئی
سوالات سے رنگ دی کائنات

ادھر وہ معمر، خراماں خراماں، مناظر پر نظریں جمائے ہوئے
کسی سوچ میں گم، سنانے لگا ہے کوئی داستاں
خیالات سے تھم گیا آسماں

لیکن عقل معاون کی بے رحمی نے سائنس کی چیرہ دستیوں کے ذریعے انسان کے جوہر کو بکھیر کر رکھ دیا ، جدیدیت کا نصب العین انسان کو آزادی سے ہمکنار کرنا ہے اور اس کا حصول جدیدیت کے مطابق عقل کے ذریعے ہی ممکن تھا لیکن یہ نصب العین پورا نہ ہوسکا کیونکہ انسان ایک قسم کی غلامی سے آزاد ہو کر دوسری قسم کی غلامی کا شکار ہوگیا مثلا مظاہر فطرت کو تو تسخیر کرنے میں کامیاب ہوگیا لیکن مشین یا ٹیکنالوجی کا غلام بن گیا، حشرات الارض پر تو کسی حد تک قابو پالیا اور بیماری و موت کے اسباب کسی قدر گرفت میں آ گئے لیکن فطری توانائی سے کسی حد تک ہاتھ دھو بیٹھا، جادو منتر, توہمات سے تو نجات پا لی لیکن گھمنڈ غرور اور خود پسندی نے اس کے دل اور ذہن کو جکڑ لیا، انسان مطلق العنان حکومتوں سے تو کسی حد تک آزاد ہوگیا لیکن جمہوریت اور اس کے لوازمات کا اسیر ہوگیا غیر عقلی اداروں سے آزاد ہوکر مختلف اداروں مثلا بیوروکریسی وغیرہ کا غلام ہو گیا یعنی مساوات اور آزادی کا نعرہ لگانے والا اب ان نعروں کی قید کاٹ رہا ہے اور سچی شخصی آزادی سے آج بھی محروم ہے ۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ عقل معاون یا کارساز کی سازش نے انسان کو نئی قسم کی غلامی کی زنجیر پہنائی اورایک ایسے نظریہ حیات کے بندھن میں باندھ دیا جو تمام انسانوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور شخصی آزادی اور انفرادیت کا کوئی لحاظ نہیں کرتے ۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس تناظر میں لکھی گئی ڈاکٹر سلمان کی نظم “شورآلود” کو شامل کر لیتے ہیں

ایک مدت ہوئی
دشت آواز میں
کوئی تنہا صدا
خامشی کی نوا
میں نہیں سن سکا
گوش مفلس مرے
اب ترسنے لگے
کی فطرت کی آواز کم ہوگی
زندگی کیسے ہنگام میں کھو گئی
شورش گوش و لب
کاش یہ تھم سکے
تو مجھے خود کلامی کا موقع ملے
میں تخیل کی آہٹ سنوں
اور تخلیق کے ان سنے گیت گانے لگوں
شور و غل سے تعفن زدہ ایسے ماحول میں
یہ فقط خواب ہیں
اب کہاں
وہ خلاؤں کے جیسا سکوت ازل
وہ سمندر کی تہہ کا سکون ابد
اس خرابے میں اب
ساز و آواز کی
مخملی ڈوریاں
خار و خاشاک ہونے لگیں
درد آثار ہونے لگیں
اک گھٹن سی فضاؤں میں پیوست ہے
دور ایجاد کی
مستقل گڑگڑاہٹ
سماعت کو بنجر کیے جا رہی ہے
خیالات مفلوج ہونے لگے ہیں
میری روح وحشت زدہ ہے
سرعرصہ خستگی
خامشی لاپتا ہے

پھر ہائی ٹیکنالوجی جس نے انسان کو مشین کی غلامی عطا کی ، یہاں سوشل ٹیکنالوجی بھی شامل ہے جس نے اداروں کی غلامی کو لازم کر دیا غرض کہ انسانی زندگی کا ہر پہلو کسی نہ کسی ذہنی اور جسمانی غلامی میں جکڑا ہوا ہے ۔ جدیدیت میں دراصل فرد کے جذبات کے بجائے اس کو خارجی اور سائنسی فارمولوں سے پرکھنے کی کوشش کی گئی اور سائنس کو ہی صداقت کا معیار سمجھا جانے لگا اور عقل کو تمام مسائل کا حل مانا گیا اس طرح وہ “فرد” پیدا ہوا جو تنہا اور سماج سے کٹا ہوا تھا اور خارج سے ہٹ کر اپنی داخل میں گم ہونے والا تھا ۔ جدید فرد کی اس داخلی کیفیت کو مریضانہ عمل یا سوچ بھی کہا گیا لیکن سارتر نے اس بات کو رد کرکے جدیدیت کی وضاحت میں دلائل دیے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس اجماع میں “فرد” کہیں گم ہو گیا اور ان نظریات و خیالات نے انسان کو بے بس اور تنہا کر دیا اور اس کی خوشیوں کو اجماع کی خوشیوں کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا جبکہ وہ اپنے غم میں بے نام اور اکیلا ہی تھا ، اس کی آواز اجماع میں کہیں گم ہو گئی اور جدید فرد سماج کو اپنی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ تصور کرنے لگا، یوں فرد اپنی ذات کے سفر پر گامزن ہوا اور اپنے وجود کے تشخص کے لیے اس نے وجودی فکر کو اپنا لیا ۔ اپنی اب تک کی گفتگو کی حمایت کرتی ہوئی ڈاکٹر سلمان ثروت کی خوبصورت نظم “شہر زادے” شامل کرتی چلوں

اس دور کے ہیں قصہ گو
ہم شہر زادوں کی سنو
یہ داستان زیست ہے
کچھ خواب کی تعبیر ہے
کچھ درد کی تمثیل ہے
آئندگاں کا شہر یہ ، ہے رفتگاں کی آرزو
اک گہماگہمی کوبکو، پھیلی ہوئی ہے چار سو
ایجاد در ایجاد ہوتی خواہشیں اور جستجو
ہر سمت میں بڑھتا ہوا یہ خار زار رنگ و بو
آسائشوں کے اس گھنے جنگل میں تنہا میں کہ تو

ہم مشعل آشفتہ لو
ہم شہر زادوں کی سنو

اور آسماں سے بات کرتی ان فصیلوں کا یہ جال
اس جال میں محبوس ہوتی روز و شب یہ زندگی
اس زندگی سے منقلب ہوتی ہوئی وارفتگی
ہر آن ہے کوئی خلش، ہر پل کے جیسے تشنگی
ہر جال میں پھر بھی مقدم کاوش آسودگی

ہم آسماں کے راہرو
ہم شہر زادوں کی سنو

اس کوچہ و بازار میں اجناس کے انبار ہیں
فطرت سے کوسوں دور ہیں یہ جو بھی کاروبار ہیں
اس دوڑ میں سب لوگ ہی پیہم سبک رفتار ہیں
اپنی مشینی زندگی سے آدمی بیزار ہیں
لیکن ہمارے حوصلے اس دور کے معمار ہیں

ہم سے ملی تاروں کو ضو
ہم شہر زادوں کی سنو

ہیں خود فراموشی پر غالب خود فریبی کی چبھن
تکرار سے تعبیر ہیں یہ زندگی کے ماہ سن
یکسانیت کے دشت میں کھلتا ہے ندرت کا چمن
مانوس جذبوں سے ادھر کچھ کر دکھانے کی لگن
بیم و رجا کے درمیاں ہم شہر زادوے ہیں مگن
ہم شہر زادوں کی سنو
ہم راقم تاریخ نو

وجودیت میں انسان کو اول اوراس کے جوہر کو ثانوی حیثیت دی گئی جس نے انسان کو “بطور فرد” اہمیت کا احساس دلایا ۔ فرد میں شخصی صلاحیتوں کے ادراک اور انتخاب کی آزادی کے تصور نے انسان کو جینے کا حوصلہ عطا کیا ، یوں تو انسانی وجود کو ہر دور میں تسلیم کیا گیا لیکن وجودی فکر محض “فرد” کے وجود پر اصرار کرتی ہے اسی لیے وجودی ادب میں “کرب اور بے بسی” کے الفاظ بار بار دہرائے جاتے ہیں ۔ ایسی ہی کرب انگیز صورتحال ڈاکٹر سلمان ثروت کی نظم “آؤٹ سائیڈر” میں دیکھنے کو ملی ، ڈاکٹر سلمان ثروت نے اس نظم کو تین عنوانات کے ساتھ پیش کیا ہے

نظم “آؤٹ سائیڈر”

“واردات”

ہر ایک محفل سجی سجائی
ہر ایک دفتر نگارخانہ
تمام منظر، تمام باتیں
کہ جیسے پہلے سے طے شدہ ہیں
کسی کہانی کا واقعہ ہیں

جو لوگ مجھ سے ملے ہیں اب تک
جو میرے جیون کے آئینے سے گزر رہے ہیں
میرے تخیل کے کینوس پر بکھر رہے ہیں
کسی تماشے کے محض کردار ہیں یہ شائید
بس ایک میں ہوں جسے حقیقت کی کچھ خبر ہے
نہ جس کے آگے یہ راز ہستی کھلا ہے اب تک
میں عمر بھر سے اسی تذبذب میں مبتلا ہوں
کبھی تو عقدہ کھلے میں کیا ہوں
تماشا گر ہوں تماش بیں ہوں
کہ ان حوالوں سے کچھ نہیں ہوں
میں اجنبی تھا میں اجنبی ہوں
میں اپنے لوگوں میں اجنبی ہوں
زمانے بھر میں بھی اجنبی ہوں
کہ آپنے باطن سے لے کے ظاہر کی ہر روش پر
میں اجنبی ہوں میں بے یقیں ہوں

“بازگشت”

نہ میں خرد کی یقین صورت
نہ میں جنوں کی حسین وحشت
نہ عہد رفتہ ہیں فخر میرا
نہ دور حاضر ہے عصر میرا
نہ میں صحیفوں کا پاسباں ہوں
نہ میں رواجوں سے بد گماں ہوں
نہ اجتماعی معاشرے کی سبیل ہوں میں
نہ انفرادی معاشرت پر دلیل ہوں میں
نہ دائیں بازو، نہ بائیں بازو سے منسلک ہوں
میں ہر نظریے سے منحرف ہوں
میں اپنے اندر الگ ہی دنیا میں منہمک ہوں
میری نظر میں
ثقافتوں کی یہ رنگارنگی خیالیہ ہے
معیشتوں کی یہ گہماگہمی سوالیہ ہے
یہاں سیاست کا تانا بانا مثالیہ ہے

“استغراق”

نہ جانے کیسے شکوک میرے مزاج میں ہیں
نہ جانے کیسی تلاش میری سرشت میں ہے
کہ منزلیں ہیں فقط پڑاؤ
ہے راستوں پر میرا جھکاؤ
وہ راستے جو مجھے گماں کے سیاہ پردوں میں لیے گئے ہیں
میں کن خیالوں میں کھو گیا ہوں
یہ میری تشکیک فلسفے کی اجارہ داری کا شاخسانہ
وجودیت کے مباحثوں نے
مجھے علامت بنا دیا ہے
میں استعاروں میں جی رہا ہوں

الون ٹوفلر Alwin Toffler ایک صحافی ہے، اس کے مطابق وقت کی رفتار آج کے دور میں اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہا، آج کا انسان اپنے مستقبل کے بارے میں انتہائی بے یقینی کا شکار ہے اور روزانہ اسے نئے نئے دھچکے لگتے ہیں ۔ سائنسی دور میں ٹیکنالوجی اس تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ جس بات پر کل تک آدمی کا ایمان تھا وہ آج بالکل غلط ثابت ہو چکی ہے۔ کوئی علم کوئی شعبہ زندگی ایسا نہیں جہاں یقین سے کہا جا سکے کہ آئندہ کے دنوں میں صورتحال کیا ہوگی ۔ انسانی قدروں کا بھی یہی حال ہے دوستوں سے، اہل خاندان سے اور مقاصد سے وفاداری کے تصور کی جگہ اب نئے تصورات جنم لے رہے ہیں غرض کہ مابعد از جدید کی خاص پہچان ہے تبدیلی کا وہ طوفان جو مستقبل کے دھچکوں کی صورت میں بڑی تیزی سے امڈ رہا ہے ۔ ہر شخص تیزرفتاری سے بھاگ رہا ہے ، پیچھے مڑ کر دیکھنے کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے اور نہ ہی سست رفتاری کی گنجائش ۔ ٹوفلراس ساری صورتحال کو “مستقبل کا دھچکا – Future Shock” قرار دیتا ہے , میرے نزدیک یہ مستقبل کا دھچکا فرد اور معاشرے کی بے چہرگی کا سبب بنا کیونکہ اس نئی دنیا نے عجیب و غریب طرز حیات دکھائے ، ایک معاشرے میں لوگ ایک جیسی زندگی گزارتے نظر نہیں آتے ۔ “طرز حیات” ایک مبہم سی اصطلاح بن کر رہ گئی ہے ، وہ باتیں جو روایتی ادوار میں ناممکن تھی اب نہ صرف ممکن ہیں بلکہ حقیقت بن گئیں ہیں ۔ وقت کا یہ حال ہے کہ طرز حیات کے حوالے سے بقول ٹوفلر “عجیب بے ہنگم شخصیات پیدا ہورہی ہیں” بارہ سال کے بچوں میں بچپن نظر نہیں آتا، پچاس سالہ بزرگ بچے نظر آتے ہیں پھر لاعلمی کی انتہا اور شخصیات سے متعلق انتہا درجے کی لاعلمی نئے دور کی پہچان ہے ۔ ٹوفلر سوال کرتا ہے کہ “تحلیل نفسی یا وجودیت” کہ بندھے ٹکے فارمولے کے علاوہ کیا اس صورت حال کو سمجھنے کا کوئی طریقہ ہے؟ جو عجیب وغریب نیا معاشرہ ابھر کر آرہا ہے کیا ہم اسے سمجھ سکتے ہیں اور اس کی اگلی منزلوں کی تشکیل کر سکتے ہیں اور کیا ہم اس سے نئے معاشرے سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں؟ ایسی ہی صورتحال کی عکاسی کرتی ڈاکٹر سلمان ثروت کی نظم “مبادا” ہے جو جدید دور کی بے چہرگی، فرد اور معاشرے کی شناخت کے بحران پر سوال اٹھاتی نظر آتی ہے ، آئیے اس کو پڑھتے ہیں

بڑی حیران کن ہے
حقیقت خواب ہے یا خواب سے آگے کی منزل
یہ دنیا خواب کی دنیا پر سبقت لے گئی ہے
فسانوں سے فزوں تر زندگی ہے
گماں کی سرحدیں ہو یا تخیل کی اڑانیں
خرد کی جست سے پیچھے، کہیں پیچھے دکھائی دے رہی ہیں
خرد کی دسترس میں کیا نہیں ہے
نہیں ہے غیر ممکن
کبھی امکان سے جو ماوراء تھا
فقط ایک داستان ہے
گئے وقتوں میں جو رائج اساطیری خدا تھا
درایجاد کی چوکھٹ پہ حیرت سرنگوں ہے
یہ سب ادراک کا دست جنوں ہے
پس ادراک جلوہ آفریں ہے عقل کی جادو نگاہی
شعور عصر حاضر میں سمٹی ہے خدائی
سماعت کا یہ عالم ہے، جو گم گشتہ صدائیں تھیں، سنائی دے رہی ہیں
بصارت اس بلا کی ہے کہ ذرے میں بھی دنیائیں دکھائی دے رہی ہیں
جہان آگہی کے راستوں پر چلتے چلتے
ستاروں کو سر امکاں تلک اب لاچکے ہیں
نئی دنیاؤں کے ہم بھید دھمکیاں کیا کیا پاچکے ہیں
خرد یہ چاہتی ہے موت کو بھی زیر کر دے
وجود ہست پھیلا دے، قیام زندگی تا دیر کر دے
خرد کی یہ فسوں کاری
یہ اتنی تیز رفتاری کہاں جا کر تھامے گی
کہاں پر ختم ہوگی
کہانی جستجو کی
جہاں انسان کا اگلا پڑاؤ ہے وہ منزل
وہ منزل اجنبی رستوں کا حاصل
کسی انجام دنیا سے مماثل
مجھے یہ خوف کھائے جا رہا ہے
کہ اپنی ذات، اپنے آپ سے ہم
کہیں نکلے تو اتنی دور جا پہنچیں، جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو

شناخت کا یہ بحران دراصل “ثقافتی دھچکے Future Shock” ہی کا نتیجہ ہے جہاں فرد کی بے بسی، ناواقفیت اور اجنبیت کا ملا جلا احساس ہے جو معاشرے میں ہر فرد کو ہوتا ہے کیونکہ “قدر مشترک” کے سبب سے رویے اور طرز حیات اس کے اپنے معاشرے کے مقابلے میں بالکل نیے اور مختلف انداز میں سامنے آنے لگتے ہیں یعنی جس بات کو وہ سچ سمجھ رہا تھا وہ جھوٹ سمجھی جانے لگی اور جس اخلاقی قدر پر اس کا ایمان تھا وہ فضیلت کے برعکس رزالت سمجھی جانے لگی یا جن سماجی رویوں کا وہ عادی تھا وہ غیر اخلاقی سمجھے جانے لگے چنانچہ ایسا شخص ذہنی انتشار کا شکار ہوتا ہے اور مغایرت، اصطراب، تنہائی، تشویش اور بے بسی اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے کیونکہ وہ “ثقافتی دھچکے” کا شکار ہو چکا ہے اور ایک “بے چہرہ” دنیا میں بھٹک رہا ہے۔ ٹوفلر اس کیفیت کو “اجتماعی بے جہتی یعنی Mass Disorientation” کا نام دیتا ہے – انسانی تاریخ دو حصوں میں بٹ چکی ہے ، پہلا پتھر کے دور کا انسان کہلایا اور دوسرا جدید دور کا انسان ۔ ممکنات کی دنیا اور معجزات کی دنیا میں فرق مٹ گیا کسی ایجاد کے خیال کو حقیقت کا روپ دھارنے میں چند دنوں، ہفتوں یا مہینوں سے زیادہ وقت نہیں لگتا اس سے قبل انسان کو اپنے خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لئے صدیاں درکار ہوتی تھی مگر یہ ہائی ٹیکنالوجی کا دور کسی بھی شے کو زیادہ دیر تک خاطر میں نہیں لاتا اس دور میں ثبات ایک بے معنی تصور ہے ۔ مادی دور محض تغیر کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے یہاں تک کہ فرد خود اپنی ذات کی یکسانیت سے بیزار نظر آتا ہے اور بقول جیک ٹرؤٹ Jack Ttrout جو کہ مارکیٹنگ کے شعبے میں ماہر ہے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ “کوئی بعید نہیں کہ چند سالوں میں لوگ ایک نئی نفسیاتی بیماری کا شکار ہو جائیں گے جس کا نام وہ “انسائیکلو فوبیا” یعنی “الیکٹرونک انسائیکلو فوبیا” تجویز کرتا ہے ۔ چونکہ بعد از جدید دور ایک لحاظ سے تہذیبی تنوع اور رنگارنگی کے خلاف بھی ہے ۔ ابلاغ میں حیرت انگیز ترقی کی وجہ سے دنیا عالمی گاؤں یا گلوبل ولیج میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک عالمگیر ثقافت تشکیل پا رہی ہے اور رفتہ رفتہ تہذیبی تنوع کی جگہ یک رنگی اور یکسانیت جنم لے رہی ہے جس کو مفکرین “تجانس یا ہومو جینائزیش – Homogenization” کا نام دیتے ہیں اور عرف عام میں اسے ،”ہیمبرگر کلچر – Humburger Culture ” کہا جاتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں تمام دنیا ایک جیسی نظر آتی ہے مثلا ایک جیسی کاریں، ایک جیسی عمارتیں ایک جیسے لباس، کھانے ,تفریح ہیں وغیرہ ۔یہ اعصاب شکن مشترکہ اقدار کی صورت میں پیدا ہونے والے عوامل بین الاقوامی وبا کی صورت اختیار کر رہے ہیں جس پر عام آدمی کا اختیار نہیں بھیڑ چال کے برخلاف انفرادیت کا اظہار دراصل انسان کی سب سے بڑی پہچان ہے اور شناخت ہے جس کو تراشنا اور برقرار رکھنا آج کے مشینی دور میں چیلنج بن گیا ہے ۔ گلوبل ولیج کے جھنڈے تلے عالم کی ثقافت سے پیدا ہونے والی یکسانیت اور یک رنگی “شناخت کے بحران” کا موجب ہے ۔ اس صورتحال کو ڈاکٹر سلمان ثروت نے شعری ہیت عطا کی ہے ۔ نظم کا نام ہے “آئیڈنٹٹی کرائسس”

آسمان و زمیں
مختلف سمت کی گردشوں کے سبب
زندگی کی چکی کے دو پاٹ ہے
ان کی مابین پستا ہوا آدمی
آدمی، اسماں کے مطابق فلک زاد تھا
اس کا منصف زمینی خرافات تھا
ماورا تھا مگر
اس نے خود کو خباثت کا مجرم کیا
اس کا خاکی بدن روح پر فوقیت لے گیا
اس بنا پر وہ میرے غضب کا سزاوار ہے
اور زمیں تو بہ ضد ہیے اسی بات پر
آدمی مجھ میں آباد ہے
میرا ہم راز ہے ، میرا دم ساز ہے
آدمی کچھ نہیں ہے فقط خاک ہے
جب کبھی خاک سے، اپنی بنیاد سے
آدمی نے بغاوت کا سوچا اگر
آسماں کی طرف جو اٹھائی نظر
تو میرے قہر نے
قوت دہر نے
اس کی سوچوں کی باگیں فقط ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیں
آدمی آسمان و زمیں کی کشاکش میں پستے ہوئے سوچتا ہے
کہ میں کون ہوں

آدمی جب سے آسمان سے زمین پر منتقل کیا گیا ہے تب سے وہ اپنی اصل شناخت کھو چکا ہے، وقت کروٹیں لیتا رہا اور معاشرے بنے، بڑھے اور پھیلے تو مشترکہ اقدار کا رجحان بھی بڑھ نے لگا ۔ کہتے ہیں کہ ہر معاشرہ کچھ بنیادی مشترکہ اقدار کے سہارے پنپنا ہے جن میں مذہبی، معاشرتی، ثقافتی، سیاسی اور مذہبی کے علاوہ علاقائی، نسلی وغیرہ اور وہ تمام قدر مشترک جو کسی معاشرے اور افراد کے اشتراک میں معاون ثابت ہوتی ہیں ، انھی مشترکہ اقدار کی اکثریت ایک یکجہتی پروان چڑھاتی ہے جو ایک قوم کو متحد رکھتی ہے، یہ قدر مشترک دراصل سماجیات کی اصطلاح میں “سماجی شناخت” کے نام سے موسوم کی جاتی ہے ۔ مشترکہ اقدار یا قدرمشترک دراصل فرد یا معاشرے میں احساس خودی اور پھر احساس یکجہتی پیدا کرنے میں معاون ہیں ۔ یہ مشترکہ اقدار زمانے کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور فرد یا معاشرہ اوپر بیان کی گئی قدر مشترک میں سے کسی ایک کا نہیں بلکہ کئی اقدار کا سہارا لیتا ہے اور اپنی روزمرہ زندگی میں کئی چہرے اپناتا ہے اور اپنی “سماجی شناخت” تشکیل دیتا ہے۔ کبھی کوئی قدر سامنے رکھی جاتی ہے اور کبھی کوئی لیکن ان تمام کے علاوہ ہر فرد کی ایک مستقل سماجی شناخت بھی ہوتی ہے یعنی “فرد کی خودی یا فرد کی انا” جو کسی فرد کی شخصیت کو واضح کرنے میں معاون ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کی شدید یلغار نے جس بے یقینیی کی صورت حال سے فرد کے ذہن کو متاثر کیا ہے اس نے فرد اور معاشرے کو بے چہرگی کی اذیت سے دوچار کرتے ہوئے “شناخت کے بحران – Identity Crisis” کا شکار کر دیا ۔ اب نہ صرف قوم بلکہ دنیا کا ہر فرد تذبذب میں مبتلا ہے کہ کس طرح اس بحران کے نتیجے میں بننے والی بے چہرگی کے عکس در عکس یا چہرے پر چہرہ چڑھانا، جس کو عرف عام میں سیلفی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، کے سلسلے کو روک سکیں اور ذہن میں چاروں طرف اٹھنے والی آئینے کی دیواروں کو گرا کر حقیقی شناخت سے واقفیت حاصل کی جاسکے کیونکہ شناخت کے بحران میں مبتلا افراد اور معاشرے اگر بنا سوچے سمجھے کسی ایک قدر کو شدت سے تھام لیں گے اور باقی سے مکمل اجتناب برتنے لگیں گے گے تو یہ ایک قسم کی انتہا پسندی یا فکری قحط سالی علی یا اپنی حقیقی شناخت کے قتل کے مترادف ہوگا کا ہم خودی خود پسندی جیسی نفسیاتی بیماری کو جنم دیا جو دراصل مایوسی کے سبب پیدا ہوتی ہے اور اس میں فرد صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے کیونکہ معاشرے میں خاطرخواہ تبدیلی میں ناکام ہونے کی صورت میں وہ بے صبری سے اپنی ذات کی یکسانیت کو مٹانے کے لیے سیلفی کا سہارا لیتا ہے اور اپنی ذات کو روخ بدل بدل عکس کرتا ہے مگر یہ بے چہرگی کا عذاب اسے مزید الجھاؤ میں مبتلا کر رہا ہے اس کا اظہار ڈاکٹر سلمان نے نظم “سیلفی” میں یوں کیا ہے

نارسیس کے پہلو میں بیٹھے ہوئے
عکس اپنا ہی تالاب میں دیکھ کر
کتنی صدیوں میں اپنی ہی الفت میں گم
خود پسندی کے مارے ہوئے لوگ تھے
خود نمائی کے زیر اثر آگئے
اینئے کا فسوں اس قدر بڑھ گیا
خود کو تصویر کرنے کی خواہش اٹھی
اپنے کانوں میں اپنی ہی آنکھیں لیے لیے
مختلف زاویوں سے نظر خود کی
بے یقیں ہو گئے
خود فریبی میں مدہوش ہوتے ہوئے
اضطراب نظر اک مرض بن گیا
پھر وبا کی طرح پھیلتا ہی گیا
نفسیاتی گرہ جب وہ الجھنے لگی
اپنی تشہیر کا سر میں سودا ہوئے
آپ اپنا تماشا لگایا گیا
اور دکھاوے کے بے سود قرطاس پر
نقش در نقش خود کو مٹایا گیا
روپ بہروپ صورت میں لایا گیا
خال و خد گم ہوئے
شخصیت کے سبھی رنگ اڑ گئے
اور بے چہرگی عکس ہونے لگی

ڈاکٹر سلمان ثروت کی شاعری میں وجود اور ذات کی حاصلیت اور لاحاصلی دونوں کا قرب اور سرخوشی “انکشاف ذات” کا احاطہ کرتی محسوس ہوتی ہے ۔ ہر شاعر زندگی کے مختلف تجربات کو اپنے مخصوص انداز فکر اور مخصوص اظہاریے کے رنگ میں پیش کرتا ہے یعنی بیانیہ شاعر کی فکر کے بصری منظرنامہ کو پیش کرتا ہے ۔ فلسفہ لسانیات کے حوالے سے بیسویں صدی کے مشہور فلسفی مارٹن ہائیڈیگر کی سب سے مشہور تصنیف “بینگ اینڈ ٹائم – Being and Time” جرمن زبان میں ہے ۔ فلسفے کے معیار کے مطابق یہ ایک مشکل ترین کتاب ہے یہاں تک کہ زبان کے ماہرین بھی اس کتاب کو سمجھنے میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ہائیڈیگر کے فلسفے میں مشکل اور پیچیدگی اس لئے در آئی کہ وہ زبان کا استعمال بہت انوکھے انداز میں کرتا ہے مثلآ عمومی طور پر استعمال ہونے والی اصطلاحات اور مروج فلسفیانہ اصطلاحات کو خود واضح کرتا ہے اور پھر پہلے سے موجود الفاظ کے اندر ایسے معنی داخل کرتا ہے جو لفظ کی ساخت سے نسبت رکھتے ہیں لیکن جن کے معنی سراسر ہائیڈیگر کے اپنے زرخیز ذہن کی اختراع ہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہائیڈیگر پر زبان کی اہمیت اس قدر روشن ہوئی کہ بالآخر اس کے تمام فلسفیانہ کام کا رخ زبان، لفظ، معنی، شعراورآرٹ کی طرف ہو گیا اور مغربی فلسفے کا مجموعی رخ مادہ اور شعورکی بحثوں سے نکل کرلفظ کی طرف ہو گیا، اس طرح جدیدیت سے نکل کر آگے بڑھنے کے لئے لفظ کا سہارا لیا اوراپنی اس پیش قدمی کو ادبیات میں برپا کر دیا اورتحریک کی شکل دی ۔ اس طرح نئے وجود میں آنے والے عہد کے خدوخال اگرچہ بہت واضح نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ عہد بعد از جدید لفظ، اس کے معنی اور دونوں کے مابین تعلق مستقبل میں رواں دواں رہے گا ۔ ڈاکٹر سلمان ثروت اپنی نظم “مابین الفاظ اعداد” میں ایسی ہی صورتحال کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں ۔ لفظ و معنی کا یہ کھیل ہررخ سے ایک نئی بساط بچھاتا ہے یا یوں کہیے کہ کھیل وہی رہتا ہے کھلاڑی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اورہرکھلاڑی اپنی وسعت فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے چال چلتا ہے ۔ آئیے اس تناظرمیں اس نظم کو پڑھتے ہیں

اک جہاں اعداد کا
ایک طرف الفاظ ہیں
دورخی یہ کائنات آ گہی
سوچ میں الجھاؤ بنتی کس قدر دشوار ہے
لفظ کے سیارچے
ایک جگہ رکتے نہیں
کھینچ لاتے ہیں معانی حلقہ افکار میں
کتنے پر تو چھا رہے ہیں گردش سیار میں
لفظ جو اظہار کی بنیاد ہیں
لفظوں میں احساس ہے، جذبات ہیں
لفظ کے سیارچے
زندگی آثار ہیں
دوسری جانب عدد کا ثابت و جامد خلا
ابتدائے وقت سے ہے اک جگہ ٹھہرا ہوا
آج بھی سارے عدد اس ایک ہی مقدار کے غماز ہیں
جو ازل کے دن ودیعت ہوچکی
اس خلا کی گود میں
آن گنت حیران کن دنیائیں ہیں
عقل کے امکان کی
منطقی وجدان کی
رمز کی، ایقان کی
میں کہ ان دنیاؤں میں آوارگی کرتا ہوا
منجمد سیال کی ایک ماورائی اوٹ سے ٹکرا گیا
دفعتا تاریک روزن وا ہوئے
کوکب ابجد مقابل آ گیا

لفظ و معنی کے اس کھیل میں شاعردوران استغراق ہونے والے “انکشاف ذات”کی باز گشت اور معنی بدلتے استعارے اور تشبیہات کی صورت میں اپنے ہونے کی دلیل پیدا کرتا ہے ۔ تخیلات سے مفر نہیں ۔ احساس خیال کا روپ دھارتا ہے اور ہر خیال چونکہ غیر مادی ہوتا ہے اس لئے ھم اسے دیکھ نہیں، سن نہیں سکتے، سونگ نہیں سکتے، یوں کہیے کہ خیال آزاد ہوتا ہے اور شاعری لفظوں سے نہیں بلکہ تخیل، خیال اور جذبے سے بنتی ہے جب کہ اس تیز رفتار سائنسی دور میں، جسے معروضیت کا زمانہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، ہم ایک نئے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں خارجی حقیقت قبولیت کا ایک نیا باب رقم کر رہی ہے وہاں ہمیں “مشترکہ قدروں” کا بھی سامنا ہے اور موضوعی حقیقت محض خواب بنتی جا رہی ہے۔ اس مادی ماحول میں تخیل کی پرورش نہایت مشکل ہے جب کہ آدمی روز ازل سے جذبے کا اسیر ہے، جب جب اسے تکلیف پہنچتی ہے وہ اپنے آپ سے رجوع کرتا ہے، اپنے اندر اترتا ہے تو اس کے اندر کی دنیا آباد ہو جاتی ہے اور اس کی سوچ اسے اپنے اندر گہرائی میں لے جاتی ہے اور وہ “انکشاف ذات” کے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے ، اس سفر کی نہ تو کوئی سرحد ہے اور نہ کوئی منزل ۔ اپنے سفر کی روداد بیان کرنے کے لئے شاعراستعاروں اور تشبیہات کی دنیا بناتا ہے کیونکہ استعارہ تراشنا خیال کا مقدر ہے اس سلسلے میں ڈاکٹر سلمان ثروت کے خوبصورت اشعار دیکھیے ۔

گماں کے در پے، تیقن کے آشیانوں میں
بھٹک رہا ہوں علامات کے جہانوں میں

میرے وجود کا عقدہ کبھی بھی کھل نہ سکا
میرے خیال کی وسعت قدم قدم پہ کھلی

تخیلات کے دانے بکھیر کر ہر سو
زمین عقل پر حیرت اگانے والا ہوں

مرے وجود کو نسبت مرے خیال سے ہے
مرا شمار کہاں ہوگا رایئگانوں میں
جسے خرد کے مخالف میں کھوجتے ہی رہے
ملا وہ اسم ہمیں دل کی داستانوں میں
نہیں کھلا تو فقط آدمی ہی کھل نہ سکا
وگرنہ راز کیا ہے سات آسمانوں میں

کبھی تو سامنے کی بات بھی ہم پر نہیں کھلتی
کبھی تہہ داریوں میں گم اشارہ ڈھونڈ لیتے ہیں

دیوار کی گھڑی کی ٹک ٹک سے پوچھتا ہوں
صدیاں گزر گئیں یا لمحہ گزر گیا ہے ہے
محسوس ہو رہا ہے جیسے خلاؤں میں ہوں
اڑتے ہوئے یہ کمرہ حیرت نگر گیا ہے

ہم اس جہاں کو مثل سوال کیا دیکھیں
نظر نظر ہے سرابوں کا جال کیا دیکھیں
بدل رہے ہیں مناظر پلک جھپکنے میں
گزرتے لمحوں کو اب خال خال کیا دیکھیں
نہیں ہے کوئی حقیقت ورائے وہم و گماں
یقین کس پہ کریں حسب حال کیا دیکھیں
حصار وقت سے نکلے تو انکشاف ہوا
شمار زیست میں ہم ماہ و سال کیا دیکھیں
فقط زبان سے غرض ہے سخن ترازوں کو
تو سوز لائیں کہاں سے، خیال کیا دیکھیں

سمندروں میں کھل رہے ہیں راستے ادھر
حدیث دل اتر رہی ہے طور کی طرف
فقط سحاب تھا کبھی جہان بےکراں
یہ کون لے گیا اسے ظہور کی طرف

یہ زندگی ادا ہوئی طواف ماہ و سال میں
کہ ہر عمل قضا ہوا خیال ہی خیال میں
مکاں سے لامکاں ہوئے، زماں سے لازماں ہوئے
کہیں کے بھی نہ رہ سکے پڑے جو احتمال میں
مروجہ اصول کو الٹ پلٹ کے دیکھ لیں
سوال ہے جواب میں، جواب ہے سوال میں
سماج کیا، نظام کیا، ضمیر کیا، دلیل کیا
سمجھ میں آ گیا مگر الجھ گیا ہوں حال میں
نہ جانے کیسی جستجو حواس پر سوار تھی
ہمیں اڑا کے لے گئی جہاں صدوبال میں

حدود آگہی سے ماسوا پر پیج ہیں رستے
تیقن کے چھلاوے ہیں، گماں کی بد گمانی ہے
خرد کے راستے میں ہیں، تحیر بھی، تعجب بھی
سبھی کچھ ہے یہاں لیکن تاثر کی گرانی ہے

تصور خرد لیے سرور کی طرف
شعور سے گیا ہوں لاشعور کی طرف

ڈاکٹر سلمان ثروت مندرجہ بالا اشعار میں تخیل کی پرواز، استغراق کی گہرائی، محویت کے اسرار اور عالم بالا میں پیش آنے والے حالات و واقعات کو ستعاروں اور تشبیہات کی مدد سے ہیت عطا کرتے ہیں ۔ خیال چونکہ استعاروں کا محتاج ہے اور یہ وہ شے ہے جو زندگی کو نئے معنی عطا کرتی ہے ۔ شاعر نا ممکنات کی دنیا کو تخلیقی واردات میں استعاروں کے انتخاب سے ممکن بناتا ہے پھر شاعر اپنے دور کے آشوب ، واقعات ، ماضی، حال ، مستقبل اور خیر و شر کا بیان وغیرہ اس اعتماد سے کرتا ہے گویا اس نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور نئے آنے والے حالات سے مکمل آگاہ ہو۔ یہ وہ طاقت ہے جو شاعر کو وقت اور زمانے سے آزاد کرتی ہے اور ماضی اور مستقبل کو حال میں لا کھڑا کرتی ہے ۔ ڈاکٹر سلمان ثروت کیا خوب کہتے ہیں کہ

گماں کی حد سے بھی آگے پڑاؤ ڈالا ہے
بہت رکا تو فقط شب بتانے والا ہوں

ایسے خوف میں مبتلا کہ بیاں کروں تو کروں بھی کیا
تھی جو ممکنات سے ماورا مجھے ایسی بات کا ڈر رہا

چاند تارے آسماں سے توڑ کر لاؤں تو کیا
آسماں در آسماں لاوں تو ہو تسکین شوق

ازل کی یاد نہیں ہے ابد کا دھیان نہیں
بکھر گیا ہے تخیل مرا زمانوں میں

مولانا الطاف حسین حالی نے ادبی تنقید میں پہلی بار “تخیل کو تخلیق کی اولین شرط قرار دیا” اور چونکہ استعارہ تخیل کی ایجاد ہے اور استعارہ ہی وہ ہم جز ہے جو تخیل میں موجود واقعیت یا امکانی صورت حال کو شعر کی ہیںت عطا کرتا ہے ۔ چونکہ ارسطو نے اس حقیقت کو پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ “امکانی صورتحال کا رشتہ استعارے سے ہے” یہی وجہ ہے کہ ارسطو نے “استعارے کو شاعری کے لئے تزئین کا سامان کہا اور کلام کا جوہر قرار دیا” ڈاکٹر سلمان ثروت کہتے ہیں

مکتب کلیسیوں کا رسالہ تھا زہر کا
ہاتھوں میں کوزہ گر کے پیالہ تھا زہر کا
یورپ ذرا گزشتہ کے اوراق تو پلٹ
ہر باب، ہر ورق پہ حوالہ تھا زہر کا
آلودگی میں ڈوب چلی ناؤ سوچ کی
اطراف میں خیال کے ہالہ تھا زہر کا

آج کا ادیب شاعری کو محض اپنے جذبات کے اظہار کا ہی ذریعہ نہیں بناتا بلکہ اپنے نظریات کی تعبیر و تفہیم کے لیے بھی بروئے کار لاتا ہے ۔ ڈاکٹر سلمان ثروت دور جدید کے نمائندہ شاعر ہیں ، نظم آپ کا خاص اور مضبوط اظہاریہ ہے ۔ آپ نہ صرف اپنے ملک کے بلکہ دنیا کے ادبی، سماجی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی منظرنامہ کے اثرات کی حساسیت کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اپنے تخلیقی وفور کو نظم و شعر کے قالب میں ڈھالتے ہیں ۔ آپ بظاہر معروضی دنیا میں موجود ہیں لیکن حقیقی طور پر ذات کی موضوعی جہت کے علمبردار ہیں اور “استعاروں میں جی رہے ہیں” گو کہ یہی ان کی اصل ہے ۔ مادی دنیا کی پل پل بدلتی صورتحال ، یقین کے امکانات، لفظوں، تشبیہات اور استعاروں کہ معنی جو انسان کی ذات کے تشخص اور شناخت کے لیے ایک امتحان بن کر ابھر رہے ہیں ، کو ڈاکٹر سلمان ثروت ” انکشاف ذات” کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ ہمیں اس صورت حال میں رہتے ہوئے ہی اپنی تلاش جاری رکھنی اور مضبوط شناخت سے سرفراز کرنا ہے کیونکہ ” ہے یہ بھی جینے کا اک سلیقہ ”





اپنا تبصرہ بھیجیں