پاکستان اسٹاک ایکس چینج پردہشت گرد حملے میں بھارت ملوث ہے : وزیراعظم

Spread the love

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو کوئی شک نہیں کہ بھارت گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی کے حملے میں ملوث ہے۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ہماری سیکورٹی فورسز نے کل ایک بڑے سانحے کو رونما ہونے سے روکا کیونکہ دہشتگردوں کے پاس سٹاک ایکسچینج میں لوگوں کو یرغمال بنانے اور خوف اور غیر یقینی کا ماحول پیدا کرکے انہیں قتل کرنے کیلئے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود موجود تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک کا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے بڑا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خفیہ ادارے انتہائی چوکس ہیں اور انہی کی کوششوں کی بدولت اسلام آباد کے نواح میں دوحملوں سمیت دہشتگردی کے چار حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت تک کوئی خطرہ نہیں جب تک وہ اپنے نظریے پر کاربند رہے گی۔
انہوں نے حزب اختلاف کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اقتدار میں حال ہی میں 20 ماہ مکمل کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف حکومت کی کارکردگی پر واویلہ کر رہی ہے کیونکہ ان کی بدعنوانی کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں اور وہ اس سے دور بھاگنا چاہتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ کورونا کی وجہ سے درپیش مسائل سے نکلنے کے بعد تمام ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک مثال بنے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تعمیری شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور وہ خود اس کی نگرانی کر رہے ہیں کیونکہ اس سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے وہ دیگر شعبے ہیں جنہیں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
عمران خان نے کہا کہ کورونا کی وبا نے پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کورونا کی وبا کے باعث محاصل کی وصولی میں دس کھرب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس پر قابو پانے کا واحد طریقہ سمارٹ لاک ڈاؤن ہے اور دنیا نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہماری پالیسی میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستحق خاندانوں کو نقد امدادی رقم شفاف انداز میں دی گئی ہے۔ انہوں نے معالجین اور معاون طبی عملے کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ہسپتالوں میں جہاد کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں