اپنا اپنا بوجھ اٹھا کر جا سکتے ہیں … غزل … سعید راجہ

Spread the love

اپنا اپنا بوجھ اٹھا کر جا سکتے ہیں
جانے والے آنکھ بچا کر جا سکتے ہیں

جن لوگوں نے وصل کا نغمہ یاد کیا تھا
اپنے ہجر کا گیت سنا کر جا سکتے ہیں

ناواقف ہیں آپ ہمارے شہر سے گویا
اب بھی وقت ہے خواب اٹھا کر جا سکتے ہیں

انگاروں پر رقص کی خواہش رکھنے والے
فہرستوں میں نام لکھا کر جا سکتے ہیں

دشت میں رہنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے
ایک ذرا کچھ خاک اڑا کر جا سکتے ہیں

آوازوں کا اک میلہ لگنے والا ہے
آپ سعید آواز لگا کر جا سکتے ہیں

سعید راجہ

اپنا تبصرہ بھیجیں