راز کی بات … کالم … ہارون الرشید

Spread the love

پی آئی اے سمیت ملک بھر کے تمام ادارے کس طرح تباہ ہوئے، یہ کوئی راز نہیں۔ راز کی بات یہ ہے کہ اپنی حماقتوں پہ غور کرنے اور خود کو بدلنے کاارادہ ہم ہرگز نہیں رکھتے۔ افسر شاہی کا یہ فرسودہ نظام ڈیڑھ سو سال پہلے تشکیل پایا تھا۔ 1857ء کے بعد بنگال سے پشاور تک سرکاری ہیبت جب قائم ہوچکی تھی۔ سول سروس کے امتحان میں بہترین انگریز افسر منتخب کیے جاتے۔ پھرتربیت کے انتہائی سخت مرحلوں سے گزرتے۔ باقاعدہ حکومت تو 1857ء میں بنی لیکن دو صدیوں سے انگریز بر صغیر کو خوب جانتے تھے۔ اس کی اقوام، علاقوں، ذات برادریوں، راجوں، مہاراجوں، جاگیرداروں اور اہم خاندانوں پر ان کے بہترین دماغوں نے عشروں تک تحقیق کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر اس مشین کا اہم ترین پرزہ تھا۔ الطاف گوہر کی زبانی نواب کالا باغ کا واقعہ معروف ہے: سالِ نو کی صبح علاقے کے زمیندار پھلوں اور مٹھائیوں کی ٹوکریاں لے کر ڈپٹی کمشنر کے گھر پہ حاضر ہوتے۔ رات بھر جشن منانے کے بعد ڈپٹی کمشنر نڈھال پڑا ہوتا۔ کبھی تو شرفِ باریابی بخشا جاتا اور کبھی خانساماں فقط یہ اعلان کرتا: صاحب بولا: سلام ہو گیا۔ ڈپٹی کمشنر اپنے اونچی چھت والے کمرے میں ٹانگیں پھیلا کر براجمان نہ رہتا۔ گھوڑے پر سوار، اپنے عملے کے ہمراہ ضلعے بھر کے دورے کیا کرتا۔ واپسی پر اپنے مشاہدات لکھ ڈالتا کہ کون کس مزاج کا ہے۔ کیونکر اسے برتا یا نمٹایا جا سکتاہے۔ یہ مشق اس لیے کہ بعد والوں کے کام آئے۔ آج تک وہی فرسودہ افسر شاہی۔ دنیا بدل گئی۔ گھوڑے کی جگہ ان جیپوں نے لی جو کچی سڑکوں پہ بھی فراٹے بھرتی ہیں۔ رجسٹروں کی بجائے اب کمپیوٹر ہیں لیکن قدامت پسندی کا مارا برصغیر آج بھی اسی افسر شاہی کا اسیر ہے۔ تربیت کمتر، زیادہ ذہین لوگ سرکاری ملازمت سے بے زار لیکن اختیار آج بھی انہی کا۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ سندھ میں ساٹھ فیصد کوٹہ دیہی آبادی کے لیے مختص ہے۔ باقی چالیس فیصد میں بھی شہری آبادی کا وجود برائے نام۔ اس لیے کہ میرپور ماتھیلو کا کوئی بھی بی اے پاس مکین خود کو کراچی یا حیدر آباد کا مکین ظاہر کرسکتاہے۔ اس میں تگ و دو ہی کتنی ہے، اس پہ خرچ ہی کیا اٹھتاہے۔ آپ کو ایک مکان کا پتہ بتانا ہے اور کسی ذمہ دار شخص سے تصدیق کرانی ہے۔ سفارش ہم پاکستانیوں کے لیے کارِ ثواب ہے، خواہ بالکل ہی غلط ہو۔ دنیا بدل گئی اور اس طرح بدل گئی کہ تاریخِ انسانی میں کبھی اس قدر تیزی سے تبدیل نہ ہوئی تھی۔ ضلعی انتظامی گروپ (ڈی ایم جی)کا کوئی افسر محکمہ صحت کا سیکرٹری لگا دیا جاتاہے۔ بڑے بڑے نامور پروفیسر حتیٰ کہ کسی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو برآمدے میں اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تبدیلی سرکار کا ارادہ اب یہ ہے کہ وائس چانسلروں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو بھی ایسا ہی اعزاز بخشا جائے۔ ایسے ہی ایک سیکرٹری صحت، خواتین ڈاکٹروں سے جو زیادہ ترش روئی سے پیش آتے، وزیرِ اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری ہو گئے تھے۔ ایک خیر خواہ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ موصوف مردم بیزار واقع ہوئے ہیں اور اندھیرے اجالے چوکتے بھی نہیں۔ آنجناب نے سن کر نہ دیا بلکہ بیچ ہی میں بات کاٹ دی اور کہا: براہِ کرم اس کے بارے میں بات نہ کیجیے۔ فلسفہ ان کا یہ تھا کہ کسی افسر کی اہمیت کا انحصار فقط اس ایک بات پر ہوتاہے کہ وہ نتائج پیدا کر سکتاہے یا نہیں، خواہ اس کے لیے کوئی سا حیلہ اور حربہ اختیار کرے۔ معاشرے کی اخلاقی تباہی میں بہت سے دوسرے عوامل کا دخل بھی ہے لیکن شریف برادران کی اس روش نے بھی زوال کو تیز تر کیا۔ اتنا تیز کہ معاملہ اب قابو سے باہر ہو چکا۔سول حکومت کیا، اسٹیبلشمنٹ بھی اب دیواروں سے سر ٹکراتی پھرتی ہے۔ 22ماہ کے عرصے میں پنجاب میں تین آئی جی آئے اور چلے گئے۔ سوچ سمجھ کر تین بہترین چیف سیکرٹری چنے گئے اور رخصت ہوئے۔ بڑھتے بڑھتے بگاڑ وہاں آپہنچا ہے کہ ایک بڑی سرجری کے سوا کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔۔۔ اور اس درجے کا سرجن کوئی نظر نہیں آتا۔ بے بسی سی بے بسی ہے اور مجبوری سی مجبوری ہے۔ بائیس کروڑ کی ایک قوم تاریخ کے چوراہے پہ لاچار کھڑی ہے اور نہیں جانتی کہ آنے والا کل اس کے لیے کیا لائے گا۔ شاعر نے کہا تھا: یہ جامہ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیض کبھی بخیہ گری نے اور پچھلی صدی کے ایک قادر الکلام کا کہنا یہ ہے مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا کچھ چھوٹے چھوٹے پیوند افسر شاہی میں ہم نے لگائے مگر پیوند ہی۔کچھ اصلاح ہوئی تو کچھ خرابی بھی۔دس فیصد افسر اب فوج سے لیے جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تاخیر سے شمولیت (Lateral Entry)کے ذریعے بہت سے نئے افسر شامل کیے تھے۔ لائق فائق بھی ان میں تھے لیکن ایسے بھی کہ سبحان اللہ۔ ایک واقعہ ان کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار بیان کیا کرتے: بھٹو نے اپنے ایک بھانجے کو پی آئی اے میں بھرتی کرایا۔ وہ کہا کرتے: یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نے میٹرک کا امتحان بھی پاس کیا تھا یا نہیں۔ ان کے بقول تھا بہت کائیاں اور چرب زبان چنانچہ سیلز پروموشن افسر بنا دیا گیا۔ ایک کارعنایت کر دی گئی، تواضع کے لیے ہر ماہ معقول رقم اور مرکزی دفتر میں نشست۔ اسی نوجوان جسے پیار سے ’’ٹکو‘‘ کہا جاتا، کا ایک اور رشتے دار سندھ کا وزیرِ اعلیٰ تھا، قہر مان ممتاز بھٹو، جو ایک بادشاہ کی طرح حکمرانی کرتے۔ دوسرو ں کا تو ذکر ہی کیا، جنہوں نے شائستہ اطوار اور وضع دار غلام مصطفی جتوئی کے گھر چھاپہ مارا او رانہیں رسوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس لڑکے کا اصل نام محفوظ مصطفی تھا۔ اس کے بقول یہ اس کی زندگی کا بہترین وقت تھا۔ بار بار افسروں کی طرف سے ٹوکنے اور سمجھانے کے باوجود،اس کان سے سن کر اس کان سے نکال دیتا۔ زچ ہو کر ان افسروں نے پی آئی اے کے اساطیری چئیرمین نور خان سے بات کی۔ اپنی دیانت، خلوص اور ریاضت کیشی کی وجہ سے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ’’ٹکو‘‘ کو انہوں نے بلایا اور کہا کہ آج سے اپنا کام احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دو ورنہ گھر جاؤ۔ اسی اثنا میں جنابِ بھٹو لاڑکانہ کے دورے پر گئے۔ نور خان کو انہوں نے طلب کیا۔ پیغام میں کہا گیا تھا کہ پی آئی اے کے بارے میں وہ ایک بریفنگ چاہتے ہیں۔ بریفنگ مکمل ہو چکی تو وزیرِ اعظم نے کہا ’’یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا ائیر مارشل صاحب!بھٹو بہرحال بھٹو ہوتاہے۔ نور خاں نے فخرِ ایشیا، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کو تعجب سے دیکھا اور واپس چلے گئے۔ کراچی پہنچتے ہی اپنا استعفیٰ انہوں نے وزیرِ اعظم کو بھجوا دیا۔پی آئی اے سمیت ملک بھر کے تمام ادارے کس طرح تباہ ہوئے، یہ کوئی راز نہیں۔ راز کی بات یہ ہے کہ اپنی حماقتوں پہ غور کرنے اور خود کو بدلنے کاارادہ ہم ہرگز نہیں رکھتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں