ابھی نہیں کبھی پھر تجھ سے رابطہ کرونگی …. غزل …. کنول ملک

Spread the love

ابھی نہیں کبھی پھر تجھ سے رابطہ کرونگی
میں اپنے آپ سے کچھ روز مشورہ کرونگی

بھٹک رہی ہوں تو اس میں بھی میری مرضی ھے
ترے فریب سے نکلوں گی راستہ کرونگی

نصیب اپنا جگاتے ہیں جاگنے والے
میں تیری یاد مناؤں گی رتجگہ کرونگی

تجھے گنواؤں گی لیکن میں مسکرا کر دوست
میں اب کہ ٹوٹ بھی جاوں تو حوصلہ کرونگی

کنول جدائی نے پتھرا دیا ھے آنکھوں کو
میں کوئی خواب تراشوں گی آئینہ کرونگی

کنول ملک

اپنا تبصرہ بھیجیں