کھچڑی … کالم … ظفر اقبال

Spread the love

پٹرول مافیا کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا: سراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ”پٹرول مافیا کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا‘‘ حالانکہ وہ لائسنس کے بغیر بھی یہ کام بڑے احسن طریقے سے انجام دے سکتا ہے اور دے بھی رہا تھا۔ اور اگر حکومت کے پاس لائسنس اتنے ہی فالتو ہیں تو ایک آدھ میرے لیے بھی رکھ چھوڑے ‘جبکہ میں بلا ناغہ تقریریں لائسنس کے بغیر ہی کرتا چلا آ رہا ہوں اور اگر لائسنس مل جائے تو شاید لوگ بھی میری تقریریں توجہ سے سننے لگ جائیں ۔ آپ اگلے روز لاہور میں میاں شہباز شریف اور دیگران کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اپنی مدد آپ
طویل بیماری کے بعد جب ایک صاحب کا آخری وقت آیا تو اس کے تینوں بیٹے اس کے سرہانے آ بیٹھے اور میت کو قبرستان لے جانے کے حوالے سے مشورہ کرنے لگے کہ قبرستان وہاں سے کافی فاصلے پر تھا۔ ایک بولا کہ میرے خیال میں اس مقصد کے لیے ایمبولینس منگوا لی جائے ‘ جس پر دوسرے نے کہا‘ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا‘ ایمبولینس والا پانچ ہزار سے کم پر نہیں آئے گا تو دوسرا بولا کہ ٹرک کا انتظام کر لیتے ہیں‘ اس کی رائے کو بھی یہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا کہ ٹرک والا بھی دو ہزار سے کم پر نہیں آئے گا۔ آؒخر چھوٹا بولا کہ گدھا گاڑی منگوا لیتے ہیں۔ اس پر بھی کہا گیا کہ وہ بھی پانچ سو سے کم پر نہیں آئے گا۔ اتنے میں بابا جی اٹھ کر بیٹھ گئے اور بولے: ”یار تم کیوں پریشان ہو رہے ہو‘ میں پیدل ہی چلا چلتا ہوں!‘‘۔
معذرتیں
ایک اسّی سالہ انگریز کی سالگرہ کے موقعہ پر اس کے تینوں بیٹے دُور دراز کے شہروں سے آ کر شریک ہوئے۔ ایک کہنے لگا: ”ڈیڈی میں بہت شرمندہ ہوں ‘ آپ نے نئے کمبل کی فرمائش کر رکھی تھی‘ جو میں نہیں لا سکا کہ گاڑی کی قسط عین سر پر آ پہنچی تھی۔ ‘‘دوسرا بولا: ”ڈیڈی مجھے بھی بہت شرم آ رہی ہے کہ آپ کے لیے نیا چشمہ نہیں لا سکا‘ کیونکہ مکان کی قسط دینی پڑ گئی تھی۔ امید ہے آپ درگزر کریں گے‘‘۔
تیسرا گویا ہوا: ”ڈیڈی! میں تو آپ کے لیے چاکلیٹ تک نہیں لا سکا کہ میری بیوی نئے زیور خرید بیٹھی تھی‘ اس لیے‘‘۔ اس پر بڑے میاں بولے: ”کوئی بات نہیں میرے بیٹو‘ میں نے بھی اپنی ساری جائداد ایک یتیم خانے والوں کو دے دی ہے‘‘۔
حق گوئی
ایک شخص ایک اونٹ اور بکری کے ہمراہ ایک فائیو سٹار ہوٹل پہنچا اور انتظامیہ سے کہا کہ یہ اونٹ اور بکری گانا بہت اچھا گاتے ہیں‘ اگر آپ اپنے مہمانوں کو انٹرٹین کرنے کے لیے انہیں خرید لیں تو بہت اچھا ہو۔ انتظامیہ یہ سن کر حیران بھی ہوئی اور خوش بھی؛ چنانچہ انہوں نے بڑے ہال میں اپنے مہمانوں کو اکٹھاکیا اور سٹیج پر اونٹ اور بکری کو لے آیا گیا۔ دونوں نے اتنا اچھا گایا کہ دیر تک ہال تالیوں سے گونجتا رہا؛ چنانچہ ہوٹل والوں نے دونوں جانور خریدلیے۔ جب وہ شخص جانے لگا تو بولا: ‘ میں رقم وصول کر چکا ‘ لیکن اخلاقی تقاضے کے تحت میں ایک بات آپ کے نوٹس میں لانا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ گانا بکری گاتی ہے ‘جبکہ اونٹ ساتھ ساتھ صرف ہونٹ ہلاتا رہتا ہے‘‘۔
مستنصر حسین تارڑ
یہ کتاب پروفیسر ڈاکٹر غفور شاہ قاسم کی مرتب کردہ ہے‘ جس میں ہمارے لیجنڈ فکشن رائٹر مستنصر حسین تارڑ کے فن اور شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور جو اکادمی ادبیات نے اپنے سلسلے ”پاکستانی ادب کے معمار‘‘ کے تحت شائع کی ہے۔ سرورق پر تارڑ صاحب کی تصویر ہے‘جبکہ پیش نامہ سید جنید اخلاق کے قلم سے ہے اور پیش لفظ مؤلف کا بقلم خود ہے۔ اس بیش قیمت کتاب کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے‘ مثلاً: پہلے باب میں تارڑ کے سوانح‘ شخصیت اور خاندانی پس منظر سمیت پورا تعارف پیش کیا گیا ہے‘ جبکہ دوسرا باب صاحب ِ موصوف کے سفر ناموں کے حوالے سے ہے‘ تیسرا باب ان کی ناول نگاری کا احاطہ کرتا ہے۔ باب چہارم‘ افسانہ نگاری اور باب پنجم‘ متفرق اصناف‘ نثر مثلاً ؛کالم نگاری‘ خاکہ نگاری اور ڈراما نگاری کو محیط ہے‘ جبکہ آخر میں صاحبانِ قرطاس و قلم کی آرا اور حوالہ جات درج ہیں۔ پس سرورق مؤلف کی تصویر اور تعارف درج ہیں۔اور‘ اب ابرارؔ احمد کے مجموعہ کلام ”موہوم کی مہک‘‘ میں سے یہ نظم:
ٹرانس
نہایت قرینے اور رچائو سے
ہیرگاتی ہوئی
خوب صورت لڑکیوں نے
مجھے ایک گیت سجھایا ہے
جس کا آہنگ اور لفظ
میری گرفت میں نہیں آ رہے
ایک ایسا گیت
جسے ان کے رسیلے ہونٹ ادا کرتے ہوئے
مسکرا سکیں
اور طبلے کی تھاپ پر
سر دھنتے ہوئے
چاندنی میں لپٹے ہاتھ ہلا کر
دھیمے یا اونچے سروں میں گا سکیں
گیت— مٹی اور محبت سے جنم لیتے ہیں
وارث شاہ اور میرے اجداد کی مٹی ایک ہے
اور عشق کی لہر
ہمیشہ اس کے ساتھ ساتھ اُڑتی رہی ہے
ممکن ہے
کسی دل پذیر شام
میں —فریم سے
اپنی پسندیدہ لڑکی کو باہر نکال لائوں
راوی کے کنارے
ٹھنڈی ریت پر
کافی پلاتے ہوئے
اس کے ہونٹوں پر کوئی دھن رکھ سکوں
جسے وہ گا سکے
اپنی سہیلیوں کی سنگت میں
یا پھر
ہیر کے دکھ کو
نئے آنسو— دے کر
مزید سریلا بنا سکے!
آج کا مطلع
ابھی کچھ دیر اُس کو یاد کرنا ہے
ضروری کام اس کے بعد کرنا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں