مشتری، عطارد، مریخ ہوشیار باش! … گلِ نوخیر اختر

Spread the love

علامہ زرتشت آج پھر غصے میں تھے۔ وجہ پوچھی تو دانت پیس کر بولے ’’ایک ہی محلے میں رہتے ہوئے اگر انسان کسی ہمسائے سے کوئی چیز عاریتاً مانگ لے تو لوگوں کو موت کیوں پڑ جاتی ہے؟‘‘۔ میں نے تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ علامہ زرتشت نے اپنے ہمسائے سے ایک دن کے لیے فریج مانگا تھا۔ قبلہ ایسی ہی چیزیں مانگتے ہیں جو شاید آج تک کسی نے نہ مانگی ہوں۔ اُن کا اصل نام کچھ اور ہے لیکن چونکہ ہر وقت آگ سے بھرے رہتے ہیں لہٰذا اجماعِ محلہ سے ’زرتشت‘ کا خطاب پا چکے ہیں۔ ’’علامہ‘‘ کا سابقہ انہوں نے ایک غلط فہمی کی وجہ سے اپنے نام میں شامل کر لیا ہے حالانکہ اہل محلہ اُنہیں’’اُلامہ‘‘ کہتے ہیں۔ آپ ہر وقت کسی نہ کسی کی شکایت لگاتے نظر آتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے ایک محلے دار سے عاریتاً ڈبل بیڈ مانگ لیا تھا۔ محلے دار نے بے بسی کا اظہار کیا تو طوفان کھڑا کرد یا۔ روایتوں کے حوالے دیے اور ثابت کردیا کہ ڈبل بیڈ نہ دینے والے نے جہنم پکی کرلی ہے۔ علامہ زرتشت کی خواہش ہے کہ لوگوں کو آپس میں چیزیں شیئر کرتے رہنا چاہیے مثلاً وہ چاہتے ہیں کہ کبھی وہ اپنے ہمسایہ کی گاڑی مانگ کر لے جائیں اور کبھی ہمسایہ اُن کی موٹر سائیکل۔ محلے والے ان کی باتوں پر ہمیشہ اثبات میں سر ہلاتے ہیں لیکن حرام ہے کبھی کسی نے عمل بھی کیا ہو۔ محلے میں جونہی کوئی نیا کرایہ دار آتا ہے علامہ صاحب جھٹ اُس سے دوستی گانٹھ لیتے ہیں اور پھر کچھ ہی دنوں بعد اُس سے کوئی ایسی چیز مانگ لیتے ہیں جو اُس کے خواب وخیال میں بھی نہیں ہوتی۔ ایسے ہی ایک صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ پچھلی گرمیوں میں علامہ صاحب نے بڑی محبت سے اُن سے فرمائش کی کہ ایک دو دن کے لیے اپنا ایئر کنڈیشنر ہمیں دے دیں۔ بڑا سمجھایا کہ حضور ایئر کنڈیشنر کوئی برتن نہیں کہ اُٹھایا اور دے دیا، اس کی پوری انسٹالیشن ہوتی ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لگانا آسان نہیں۔ لیکن علامہ صاحب نے اسے بدتہذیبی قرار دیا اور آئندہ کے لیے نہ صرف اُن سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کرلیے بلکہ محلے کے دکاندار کے کان میں بھی ڈال دیا کہ اِن کو اُدھار سامان مت دینا یہ اچانک بھاگ جاتے ہیں۔ علامہ صاحب کی تمام تر دوستیاں اُن لوگوں سے ہیں جو اُن کے مقابلے میں بہت بہتر معاشی پوزیشن میں ہیں۔ اپنے جیسوں یا اپنے سے کمتر حیثیت والے لوگوں سے تعلقات رکھنا علامہ صاحب کو پسند نہیں۔ حیرت انگیز طور پر علامہ صاحب اپنی موٹر سائیکل کے معاملے میں وسیع القلب واقع ہوئے ہیں۔ کوئی بھی ان کی موٹر سائیکل مانگ سکتا ہے اور یہ انکار نہیں کرتے۔ کئی دفعہ تو محلے والوں کو خود پیشکش کرتے ہیں کہ ضروری کام ہے تو میری موٹر سائیکل لے جائیں لیکن محلے والے جانتے ہیں آگے کیا ہوگا۔ علامہ صاحب موٹر سائیکل میں صرف اتنا پٹرول رکھتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ پٹرول پمپ تک ہی جا سکے۔ واپسی پر ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ٹینکی تو فل تھی لہٰذا اُسی حالت میں واپس کی جائے جیسے لے کر گئے تھے۔ گمان ہے کہ اس طریقے پر عمل کرکے علامہ صاحب اپنے گھرمیں تیل کا کنواں بنا چکے ہیں۔ ایک دفعہ باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھنے لگے ’’میاں! کیا آپ انسانیت کے کام آنے پر یقین رکھتے ہیں؟‘‘۔ میں نے اطمینان سے سر ہلایا ’’نہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی علامہ صاحب کی کھسیانی سی ہنسی نکل گئی۔ اصل میں خطرہ اس بات کا تھا کہ کچھ پتا نہیں وہ دو دن کے لیے یو پی ایس ہی نہ مانگ لیں۔ محلے کے ہر بندے سے اُنہوں نے ایسی ہی کوئی نہ کوئی محیر العقول چیز مانگی ہوئی ہے۔ شیخ صاحب سے انہوں نے ایک ہفتے کے لیے پانی والی ٹینکی مانگ لی تھی۔ رانا صاحب سے چند گھنٹوں کے لیے چھت والے تین پنکھے بھی مانگ چکے ہیں۔ ایک دن میں نے اُنہیں انتہائی احترام سے سمجھایا کہ حضور کچھ خیال کیا کریں، ایسی چیزیں بھلا مانگنے والی ہوتی ہیں؟ بے بسی سے بولے ’’میاں! میں تو کوئی چھوٹی سی چیز بھی مانگوں تو جہنمیوں کے منہ بن جاتے ہیں۔ وہ نیلے گیٹ والے چوہدری صاحب سے پچھلے دنوں میں نے ایک دن کے لیے فیس بک کا پاس ورڈ مانگا تھا انہوں نے وہ بھی دینا گوارا نہیں کیا اور تو اور ایک دن آدھے گھنٹے، صرف آدھے گھنٹے کے لیے اُن کا ماسک مانگا تو آگے سے گھوری ڈالنے لگے‘‘۔ علامہ صاحب کی بات سن کر مجھے نیلے گیٹ والے چوہدری صاحب پر شدید غصہ آیا کہ انہوں نے محض گھوری پر ہی کیوں اکتفا کیا۔ آج کل علامہ صاحب کی نظرِ التفات مجھ پر گڑی ہوئی ہے۔ پورے محلے میں صرف میں ہی بچا ہوں جس سے ابھی تک انہوں نے کوئی چیز نہیں مانگی۔ وہ اکثر باتوں باتوں میں میرے منہ سے کوئی جملہ نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن میں پوری طرح چوکس رہتا ہوں مثلاً پچھلے دنوں انہوں نے بظاہر عامیانہ انداز میں پوچھا ’’میاں! ہمسایوں کے حقوق ہوتے ہیں یا نہیں؟‘‘۔ میں نے بات بدلتے ہوئے سامنے آنے والی گاڑی کی طرف اشارہ کیا ’’علامہ صاحب یہ گاڑی والا کتنی تیز اسپیڈ سے آ رہا ہے نا‘‘۔ علامہ صاحب نے ایک نظر گاڑی پر ڈالی، پھر سر جھٹک کر بولے ’’خود ہی مرے گا… آپ میری بات کا جواب دیجئے، ہمسایوں کے حقوق ہوتے ہیں یا نہیں؟‘‘۔ میں سمجھ گیا کہ علامہ صاحب آج شکار فتح کرنے کی قسم کھا کر نکلے ہیں۔ ’’دیکھئے ہمسایوں کے حقوق بھی ہوتے ہیں اور فرائض بھی۔ ہمیں دونوں چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے‘‘۔ میرا خیال تھا میں نے معرکہ مار لیا ہے لیکن علامہ صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ گویا تمام تر احتیاط کے باوجود کہیں کوئی کوتاہی سرزد ہو چکی تھی۔ میرا خدشہ درست نکلا۔ وہ تھوڑا قریب ہوئے، پھر عنقریب ہوئے، پھر گل بداماں ہو گئے۔ ’’ماشاء اللہ! کتنی اچھی سوچ ہے آپ کی۔ ہم تو خود قائل ہیں کہ حقوق کے ساتھ فرائض کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اب ایک مہربانی فرمائیے، ہمارے ہاں کچھ مہمان آرہے ہیں، ایک دن کے لیے اپنا واش بیسن عنایت فرما دیجئے‘‘۔

گل نوخیز اختر مزاح نگاری

گل نوخیز اختر کالم

اپنا اپنا بوجھ اٹھا کر جا سکتے ہیں … غزل … سعید راجہ

اپنا تبصرہ بھیجیں