سوتیلی ماں اور بچے عدالت میں پیش،فیصلہ کیا ہوا؟

Spread the love

کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ سینٹرل کی عدالت میں سوتیلے بچوں پر تشدد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران موسیٰ کالونی کی سوتیلی ماں اور بچوں کو پولیس نے عدالت میں پیش کر دیا۔
عدالت میں سوتیلی ماں اور بچوں کے بیانات قلم بند کیے جائیں گے۔
2 روز قبل ماں کے سوتیلے بچوں پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق سوتیلی ماں کی جانب سے بچوں پر تشدد کا یہ واقعہ گلبرک تھانے کے حدود میں پیش آیا تھا۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے گلبرگ کی موسیٰ کالونی میں سوتیلی ماں کی جانب سے بچوں کو بھوکا رکھ کر زنجیروں سے باندھنے کے واقعے کا انکشاف دو روز قبل ہوا تھا جب گھر میں قید بچوں کو بازیاب کروا لیا گیا تھا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق خاتون اپنے 4 سوتیلے بچوں پر تشدد کرتی تھی اور انہیں کئی کئی روز تک کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا، بچوں کی عمر 4 سے 10 سال کے درمیان ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ’بچے بغیر بتائے 3،3 دن کیلئے گھر سے بھاگ جاتے تھے‘

پولیس کا کہنا ہے کہ گھر میں بچوں کے زنجیروں میں قید ہونے کی اطلاع ملنے پر شہریوں نے گھر میں داخل ہو کر ویڈیو بنائی جس میں بچوں کو زنجیروں سے بندھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں کی مدد سے بازیاب کروائے گئے بچوں کو والد کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
بچوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر پولیس کا کہنا ہے کہ سوتیلی ماں نے بچوں کو گھر میں رکھنے کے لیے انہیں زنجیر سے باندھا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے جیو نیوز کی خبر پر نوٹس لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ بچوں، ماں اور بہن کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ عدالتی فیصلے پر حکم کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سوتیلی ماں نے چھوٹے بچوں کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا۔
پولیس نے بچوں، سوتیلی ماں اور سگی بہن کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں۔
پولیس کے مطابق بچوں کی سوتیلی ماں نے بچپن میں ان بچوں کو سنبھالا، بچے بتائے بغیر 3، 3 دن کے لیے گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔
پولیس کو بیان دیتے ہوئے بچوں کی سگی بہن نے کہا تھا کہ دونوں بھائی اکثر 3، 3 دن کے لیے گھر سےغائب رہتے ہیں، ایک بھائی کے کمزور ہونے کی وجہ اس کا مسلسل بیمار رہنا ہے۔
پولیس کے مطابق بیمار بچے کے علاج کے لیے ڈی آئی جی ویسٹ نے رقم فراہم کی ہے جبکہ اگلے 3 ماہ تک ڈی ایس پی گلبرگ ہر روز خاندان سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ متاثرہ بچوں کی کپڑوں کے بغیر زنجیروں سے جکڑی ویڈیو جاری ہونے کے بعد یہ کارروائی عمل میں آئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں