مضمون:کثیر الجہت انسان (نیل احمد) ،کتاب: میں (انجم سلیمی)

Spread the love

شاعری کی امتیازی صفات و خصوصیت میں وہ اضطراب قابل ذکر ہے جو شعوری اور لاشعوری دونوں سطحوں سے اظہار کی صورت میں سامنے آئے ۔ عصری تغیرات کا شاعر کی فکر کو متاثر کرنا فطری بات ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انسانی تہذیب کی تاریخ کا نفسیاتی اثر زبان کے داخلی توسط سے نئی حسیت کو متاثر کرتا ہے اور اس عمل کے زیراثر زمان و مکان کے پیچاک، حسیت کا دائرہ اور فکر کے عصری رجحانات انسان کی اپنی تلاش اور ذہنی ارتقاء کا سبب بنتے ہیں ۔ کامیابی تو یہ ہے کہ جدید اردو شاعری میں ایک شاعر فکر بروئے کار لاتے ہوئے داخلی اور خارجی زندگی کو مخصوص اکائی کی طرف گامزن کرسکے پھر دیکھنا یہ ہے کہ شعور جدید میں اظہار کس حد تک دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے یہاں قابل فہم تمثیلیں، علامتیں، استعارے، تشبیہات اور فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار دراصل شاعر کی وہ ٹیکنیک ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے شاعر ذہنی تصویریں بناتا ہے جو دراصل قاری کو اس کیفیت میں لے جاتی ہیں جہاں واردات کے دوران خود شاعر موجود ہوتا ہے یا دوسرے لفظوں میں قاری میں شاعر کی روح حلول کر جاتی ہے اور کبھی کبھی یہ کیفیت باز گشت یا خود کلامی بن جاتی ہے ۔ انہیں کیفیات اور صفات سے بھرپور شاعر محترم انجم سلیمی جو “ہستی کے تشخص” , “وجود کی لاحاصلی اور ذات کے کرب” کو اپنے شعری مجموعہ “میں” میں بیان کرتے ہیں ۔ دیکھیے کیا خوبصورت شعر ہے انجم سلیمی کا

میں عدم میں کہیں پڑا ہوا تھا
کالعدم کر دیا گیا ہے مجھے

انجم سلیمی اپنی ذات کی اکائی میں گم ہوکر باطن کی زبان اور وجدان کے لمحوں میں جو بھی تخلیق کرتے ہیں اس لمحے کے دوران وہ خارجی منظرنامے اور سماجی تناظر سے بالکل کٹ جاتے ہیں بعض جدید مفکرین اور فلسفیوں نے اسے “لازمانیت کی حالت” سے تعبیر کیا ہے جہاں شاعر اپنی تخلیق کی صورت و معنی سے بےخبر ہوتا ہے اور اصل صورتحال کا سامنا اس وقت درپیش ہوتا ہے جب عالم ہوش میں آنے کے بعد وہ اپنی تخلیق میں سماجی اور عصری شعور کی جھلک دیکھتا ہے ۔ اسی تناظر میں انجم سلیمی کے خوبصورت اشعار دیکھئے

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں
ابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں
مجھے یقیں ہی نہیں آرہا کہ یہ میں ہوں
عجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں

خود آگہی کا جو مجھ پر نزول جاری ہوا
میں کیا کہوں کہ یہ رحمت ہے یا مصیبت ہے

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں
خود اپنے آپ پہ روتے ہوئے گزرتا ہوں

خود اپنے تغافل سے میں برباد ہوا ہوں
اب جو بھی ہوں الزام زمانے پہ نہیں ہے

خود سے بچھڑوں تو خود کو مل پاؤں
اپنا کھویا ہوا سراغ ہوں میں

انجم سلیمی کا اپنے نفسیاتی تجربات اور مشاہدات کی ہمہ گیری میں “میں” کے علامتی اسلوب کو فکری و نظری شعور اور جدید حسیت کے تحت شعریات کا جز بنانا کمال فن اور ندرت تفکر کا بہترین نمونہ ہے جہاں داخلیت کے ڈانڈے جدیدیت سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔۔۔۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی کے عقلی اور تصوراتی فلسفے نے انسان کی ذات کو ایک ایسی حقیقت قرار دیا تھا جو کہ منطق کے ضابطوں کے اصولوں کی طرح مکمل ہے ان کا ماننا تھا کہ انسان دراصل لافانی صفات سے مزین ہے اور کوئی بھی ناگہانی داخلی یا خارجی حادثہ اس کے اصل جوہر کو ضائع نہیں کر سکتا لیکن بیسویں صدی تاریخ کے اس حسین خواب کی بھیانک تعبیر انسانیت کے سامنے پیش کر رہی تھی اور انسان اپنی روح کی گہرائیوں میں اتر کر اس تلخ حقیقت کو پا رہا تھا کہ فنائیت اور نیستی اس کے وجود کا لازمی جز ہے ۔۔۔ انجم سلیمی کے ہاں یہ کیفیت کس طرح وارد ہوتی ہے ملاحظہ کیجئے

یہ زمانہ مرا زمانہ نہیں
کہاں لے کے میں آ گیا خود کو

وہی زمانہ مری راہ روک لیتا ہے
میں جس زمانے سے ہوتا ہوا گزرتا ہوں

میں خود کو ٹھیک سے اب تک مٹا نہیں پایا
کہیں کہیں کوئی میرا سراغ رہ گیا ہے

نطشے انسان کی “انفرادیت” کو اجاگر کرنا چاہتا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ فطرت اپنی ذات میں لایعنی اور غیر منطقی ہیولوں کا مجموعہ ہے اور صرف انسان اپنی قوت ارادی کو اس میں سرایت کرکے اس کا اور اپنا منطقی جواز پیدا کر سکتا ہے گویا انسان اپنی قوت ارادی کے ساتھ، جو اس کے وجود کا بے مثال مظہر ہے، اس کائنات کا مرکزی کردار ہے ۔ انجم سلیمی کہتے ہیں

مجھ کو مشکل میں ڈال دیتی ہے
اکثر اوقات خیرخواہی مری

کسی طرح سے میں ٹل جاؤں اپنی مرضی سے
سو بار بار ارادہ بدل کے دیکھتا ہوں

کیونکہ جدیدیت کی ساری لہریں “انسان پرستی” سے ہوتی ہوئی گزرتی ہیں جہاں روایت کی نفی یعنی ترقی پسند تحریک سے انحراف کے بعد فرد کے داخلی کرب کا اظہار اور خارجیت سے داخلیت یا بھیڑ سے تنہائی کی طرف آغاز ہے ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادب میں جدیدیت اپنا اظہار اور عقل پرستی کے بیانیہ سے کرتی ہے اور ایسے میں شاعر سماج کو مسترد کرتے ہوئے ایسے ماحول کو اپناتا ہے جہاں بیگانگی کی حمایت حاصل ہے ۔ بیگانگی کا یہ تصور سب سے پہلے ہیگل نے پیش کیا ، اس کا کہنا تھا کہ انسان تمام سماجی اداروں مثلاً زبان، قانون، ریاست، مذہب، اور فلسفہ وغیرہ کی تخلیق کرتا ہے اور ذہن ان اداروں کی پرداخت میں اپنی روح کو منجمد کر دیتا ہے ، یہ معروضی ادارے اس کی ہستی کا خارجی مظہر ہیں لیکن پھر بھی بدقسمتی سے یہ اس سے علیحدہ اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور یہی فرد کی بیگانگی کی علامت ہے لیکن ہیگل کے نزدیک یہ بیگانگی ایک عارضی مظہر ہے اور ذہن کو اپنے ارتقائی سفر میں اس مرحلے سے لازمی گزرنا ہوتا ہے اور بالآخر جب یہ کسی عظیم تر ترکیب میں ضم ہو جائے گا تو ذہن کی بیگانگی اور اجنبیت زوال پذیر ہوجائے گی اور معروضیت و موضوعیت کا امتیاز ختم ہو جائے گا ۔ اس رجحان کے قریب تر اشعار ملاحظہ کیجئے

خود اپنے آپ سے مل کر بھی میں نے دیکھ لیا
کسی سے میری طبیعت نہیں ملی ابھی تک
اسی لئے تو بہت مختلف ہے یہ مجھ سے
زمانے کو مری صحبت نہیں ملی ابھی تک
میں جی رہا ہوں کسی اور کے لئے انجم
خود اپنے واسطے مہلت نہیں ملی ابھی تک

کہاں سماؤں؟ بدن خاک ہو چکا ہے مرا
پلٹ کے آنے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے

کیا گلہ ہے، پتا نہیں چلتا
مجھ سے تکرار ہو رہی ہے مری
میں وہاں پر بہت اکیلا ہوں
جہاں بھر مار ہو رہی ہے مری

کچھ اور بھی ہے دل میں گھٹن کے سوا ضرور
اک دن میں میرا دوسرا چکر ہے باغ میں

چونکہ فلسفہ جدیدیت کے ساتھ ہی ساختیات کی ابتدا بھی ہوئ جو باقاعدہ ایک تحریک نہیں بلکہ ایک طریقہ کار کا نام ہے جس میں نئے انداز فکر کے ساتھ زبان کی ماہیت، ادیب کی شخصیت اور معنی و حقائق کے جامد خیالات کو رد کرتے ہوئے فرد کی سماجی و انسانی روایات سے وابستگی کو بھی رد کرتی ہے یعنی ادب حقیقت کا عکس یا ادیب کی شخصیت کا آئینہ دار نہیں ہوتا ۔۔۔ دوسرے لفظوں میں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کے درمیان مقدمے میں اول الذکر کی ہار کے بعد ساختیات اور پس ساختیات نے آکر ادب کے بکھیڑے کو ہی ختم کر دیا اور لکھنے والے، قاری اور متن کے معنی و مقاصد سب کی ہی موت کا اعلان کر دیا اور حکم صادر کیا کہ صرف متن کا ہی وجود ہے جس میں زبان کے لسانی نظام کی نسبتوں کے حوالے سے مطالعہ کرنا ہی عصری صداقت ہے لیکن انجم سلیمی تو کچھ اور کہتے ہیں

زمین کو بوسہ دیا آسماں پہ پاؤں رکھا
خود اپنے نام پہ، اپنے نشان پہ پاؤں رکھا
بہت جچا ہے وہاں روشنی کا یہ پیوند
میں جب چراغ بکف کہکشاں پہ پاؤں رکھا
جو لفظ روندے پڑے تھے اٹھا کے چوم لیے
معانی طاق میں رکھے، زباں پاؤں رکھا
میں اپنی موج میں رہتا ہوں چاہے دشت میں ہوں
سو دیکھ بھال کے ریگِ رواں پہ پاؤں رکھا
مری طلب میں تم آگے نکل گئے ہو میاں
وہ نقش پا نہیں میں تھا، جہاں پہ پاؤں رکھا

شاعری شعور کی ترسیل کا نام ہے اور گزرے زمانوں کا احاطہ عصرحاضر کے معنوی تناظر میں کرتے ہوئے شعوری آگاہی فراہم کرتی ہے لہذا کسی بھی فن پارے کا تجزیاتی مطالعہ ساختیات اور پس ساختیات کی شرائط پر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہر شعر یا فن پارے میں شاعر خود جگہ جگہ موجود ہوتا ہے اور پڑھنے والے کو بھی معنی کی کثرتیت سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں انجم سلیمی یہ مواقع کس طرح مہیا کرتے ہیں

کھینچا ہوا ہے گردشِ افلاک نے مجھے
خود سے نہیں اترنے دیا چاک نے مجھے
اپنے سوا جہاں میں کوئی سوجھتا نہیں
لا پھینکا ہے کہاں مرے ادراک نے مجھے

ابد کا پہلا کنارہ نظر نہیں آتا
مرے سفر کا اشارہ نظر نہیں آتا
مرا وجود دھڑکنے لگا جسے سن کر
یہ کس نے مجھ کو پکارا، نظر نہیں آتا
کبھی کبھی تری لو سی ابھرتی ہے مجھ میں
ابھی تو سارے کا سارا نظر نہیں آتا
جہاں جبینوں پہ شکنیں دکھائی دینے لگیں
میں اس جگہ پہ دوبارہ نظر نہیں آتا

میں اپنے شور و شر سے کسی روز بھاگ کر
اک اور جسم میں کہیں آرام کرکے آؤں

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں
رات بستر پہ میں سوتا نہیں، مر جاتا ہوں
اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میں
اس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں
سہما رہتا ہوں بہت حلقہء احباب میں، میں
چار دیواری میں آتے ہی بکھر جاتا ہوں
مرے آنے کی خبر صرف دیا رکھتا ہے
میں ہواؤں کی طرح ہو کے گزر جاتا ہوں

کسی فن پارے کی پراسراریت دراصل اس کے متن میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔ انجم سلیمی کا متکلم یعنی “میں” دراصل ان کا مذہب, اعتقاد، ان کے معاشرتی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی اثر کا مظہر ہے لہذا شاعر کی ذات کی نفی ممکن نہیں ہے، یہی پس منظر شاعری میں معنی اور جدت پیدا کرتا ہے اور شاعر آزادانہ طور پر جذباتی، محسوساتی اور حسیاتی سطحوں پر خود سے الگ ہوکر خود کو قاری کے حوالے کردینے میں ہی راحت محسوس کرتا ہے اور میرے نزدیک قاری کے لیے اس سے بڑا انعام کچھ اور نہیں ۔ اس تناظر میں انجم سلیمی کے اشعار دیکھئے

دم بخود سوچتا رہتا ہوں کہیں سچ تو نہیں
لوگ جو کچھ مرے بارے میں بتاتے ہیں مجھے
میری مٹی سے بہت خوش ہیں مرے کوزہ گر
ویسا بن جاتا ہوں میں جیسا بناتے ہیں مجھے

میرے حق میں نہیں گواہی مری
اس سے ثابت ہے بے گناہی مری

بے سود ہوگیا ہوں تو حاصل کہاں گیا
اے اصل زر، میں کونسی مد میں پڑا رہوں

مرے بارے ہی سوالات تھے، کیا پوچھتا میں
مجھ کو معلوم جو تھا، کچھ بھی نہیں جانتا میں

دور جدید کو آفت زدہ قرار دینے والوں میں صفحہ اول پر ہربرٹ مار کوزے کا نام ہے اور اس کے خیال میں انسانی تہذیب کا زوال سترہویں صدی میں روشن خیالی کے دور سے ہی شروع ہو گیا تھا ۔ اس انسانی عقل کی جولانی وجدت نے ایسے ایسے کمالات دکھائے کہ عقل حیران رہ گئی پھر صنعتی انقلاب نے ترقی کی چنگاری پر مہمیز کا کام کیا اور انسان مشین کے ہاتھوں بے بس ہوگیا (چونکہ فرد کی اہمیت اس بات پر تھی کہ فرد پیداوار اور دولت میں کس قدر اضافہ کرسکتا ہے اس لئے افراد کی ایک ایسی جماعت کی ضرورت محسوس کی گئی جو معاشی خوشحالی میں ،جو صرف ایک مخصوص طبقے کے لیے تھی، اضافہ کرسکے) یہاں انسان ایسے غیر انسانی اور غیر روحانی قوتوں کے زیر اثر آ جاتا ہے جس میں اس کا انفرادی تشخص ناپید ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نظام صرف یہ دیکھتا ہے کہ افراد روحانی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سرمائے کی شکل میں کس قدر منجمد کر سکتے ہیں ، نتیجتا انسان اس غیر انسانی ماحول میں فطرت، معاشرے اور خود اپنی ذات سے مغایرت کے رشتے سے جڑے جاتا ہے اور مغائرت کی یہ وجودی کیفیت انسان میں تنہائی، لامکانی اور فنائیت کے تصورات کو بیدار کرتی ہے ۔ ایسے ہی تناظر میں انجم سلیمی کچھ یوں اظہار خیال کرتے ہیں

ہے کون کون مرے ساتھ اس مصیبت میں
میں اپنے ساتھ نہیں ہوں، مجھے شمار نہ کر

خود کو دھتکار دیا میں نے تو اس دنیا نے
مری اوقات سے بڑھ کر مری عزت کی ہے

جب خدا بھی نہیں تھا ساتھ مرے
مجھ پہ بیتی ہے ایسی تنہائی

میں اندھیرے میں ہوں مگر مجھ میں
روشنی نے جگہ بنا لی ہے

اچھا بھلا پڑا تھا میں اپنے وجود میں
دنیا کے راستے پہ مجھے رکھ دیا گیا

مارکوزے نے صنعتی کلچر پر تنقید بڑے مؤثر انداز میں کی ۔ اس کا کہنا تھا کہ بیسویں صدی کے آغاز یعنی صنعتی دور میں فرد کی بے بسی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور فرد پر معاشرتی جبر کے نئے باب کھلے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹیکنالوجی پر انسان کی قدرت ہی اس کے لئے سب سے بڑا عذاب بن گئی ۔ مار کوزے کے خیال میں عصر جدید کا المیہ آلاتی عقل کی بالادستی ہے اور عقل انسانی خود اس جال میں پھنس گئی ۔ انسان تنقیدی عقل کا استعمال گویا بھول گیا اور آلاتی عقل کا غلام بن بیٹھا جس کا مقصد محض مادی، اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی ترقی ٹھہرا اور اس طرح اپنی فلاح کے لئے انسان کی غوروفکر کی صلاحیت مفقود ہو گئی اور اس نے گویا “یک رخہ انسان” پیدا کیا – جس کی عقل خود پر اور اپنے کیے پر تنقید کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی اور اس کا دوسرا رخ، جو کہ تخلیقی اور تنقیدی تھا، استعمال نہ ہونے کی وجہ سے مفلوج ہوگیا گویا عصر جدید کا “یک رخہ انسان” اپنے دوسرے رخ سے واقف نہیں اور اس یک رخی نے انسان کو دکھ اور درد و الام کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ خوف و ہراس، بے اطمینانی، اصطراب، بے چینی، اجنبیت، بیگانگی ذات اور خودغرضی اس یک رخی کا انعام ہے جس کی وجہ سے انسان اس معاشرے میں بدمزہ اور بے رنگ زندگی گزار رہا ہے مگر مارخوزے کی طرح میں بھی ناامید نہیں ہوں اور عصر حاضر کے انسان کوادب جمالیات اور آرٹ کی طرف رخ کرنے کی تجویز پیش کرتی ہوں کیونکہ مارخوزے کی طرح میں بھی اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ انفرادیت کے اظہار کے لئے آرٹ سے زیادہ سے بہتر کوئی پیرایہ نہیں ۔انسان کی طبیعت میں ایک کیفیتی تبدیلی زندگی کے معیار کو بڑھانے میں مددگار ہوتی ہے کیونکہ آرٹ ہمیشہ زندگی پر غیر شعوری اور بالواسطہ اثر ڈالتا ہے ۔ مارکوزے کا یہ بھی ماننا ہے کہ تخلیق کار معاشرے سے متعلق کوئی مثبت نقطہ نظر پیش نہ کرے کیونکہ ایسا کرنا خود فن کی نفی ہے ، فنکار کے فن پارے البتہ کسی انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ہو سکتے ہیں غرض کہ مارکوزے کے مطابق تخلیقی اور تنقیدی عقل جو عقل کا دوسرا رخ ہے مفلوج رہے گی عصر حاضر کے انسان کی بے چینی نہیں جائے گی جب تک عقل کا تخلیقی اور تنقیدی رخ بیدارا نہیں ہوگا اور انسان کے الام میں کمی آنے کا کوئی امکان نہیں ۔ عقل کو جھنجوڑنا آنے والی صدی کے انسان کے لیے چیلنج ہے اور یہ چیلنج انجم سلیمی جیسے تخلیق کار قبول کیے بیٹھے ہیں ۔

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں
بے کار کے سفر میں کوئی کام کرکے آؤں

چلا، ہوس کے جہانوں کی سیر کرتا ہوا
میں خالی ہاتھ خزانوں کی سیر کرتا ہوا
زیادہ دور نہیں ہوں ترے زمانے سے
میں آ ملوں گا زمانوں کی سیر کرتا ہوا

خدا کے خود ہی خدوخال وضح ہونے لگے
یقین کو دل میں جگہ دی ، گماں پہ پاؤں رکھا

گزر رہے تھے شب و روز، وقت ٹل رہا ہے تھا
اسی طرح کا مرا بھی حساب چل رہا تھا

اور کب تک اسے حیرانی سے دیکھے جاؤں
یار اس دنیا میں تو کچھ بھی عجب ہے ہی نہیں
جانتا ہوں کہ ہوس کیا ہے ضرورت کیا ہے
مطمئن ہوں کہ مجھے کوئی طلب ہے ہی نہیں

اگرچہ کچھ بھی نہیں ہے یہاں پہ دیکھنے کو
میں پھر بھی چشم تماشہ بدل کے دیکھتا ہوں
کسی طرح سے نظر مطمئن نہیں ہوتی
ہر ایک شے کو دوبارہ بدل کے دیکھتا ہوں
میں گرد و پیش کو تبدیل کرنے سے پہلے
کچھ اور اس کے علاوہ بدل کے دیکھتا ہوں
کہیں بھی دل جو نہیں لگ رہا مرا انجم
تو کائنات کا نقشہ بدل کے دیکھتا ہوں

میں اگر وقت ہی گزارتا ہوں
کس لیے اتنی جان مارتا ہوں
کوئی تو ہے یقین سا مجھ میں
کوئی تو ہے جسے پکارتا ہوں

میں” کی بنیادی اصلیت یا تشخص کو دراصل انجم سلیمی کی “مکمل ذات” تصور کیا جائے انجم سلیمی جیسے تخلیق کاروں کو پڑھنے کے بعد یہ یقین ہو جاتا ہے کہ انسان جدید دور کے الام سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ ذات کے تشخص کو فکری اور نظری سطح پر برتنے کا فن سیکھ چکا ہے اور اسی وسیلے سے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فن کو قاری تک پہنچانے میں کامیاب ہے ۔ چونکہ تخلیق کائنات کا عمل جاری و ساری ہے لہذا تخلیقی عمل کی ہمیشگی اور ہمہ گیر تسلسل انسانی فکر کو ہمہ جہتی فراہم کرتا ہے اور تخلیق کار چونکہ فطرت کا نقال ہے لہذا کائنات میں موجود علامتیں تشبیہات اور استعاروں کی اپنی تخلیق میں پیوند کاری کرتا ہے، انسانی فکر ارتقا کے مراحل سے گزرتی رہے گی، تخلیق کار اپنی ذات کے تشخص کو پالینے کے بعد بصارت اور فراست کے پردے اٹھاتا ہے تو لفظوں، رنگوں اور مٹی سے ایسی تصویریں بناتا ہے جو اس کی فکری ہمہ جہتی کی اعلی مثال ہیں اور معاشروں اور تہذیبوں میں انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں انجم سلیمی نے ذات کے انکشافات سے کیا کیا پردہ اٹھائے ہیں

کونسا خود سے ہمیشہ ملا کرنا تھا مجھے
کیا ضرورت تھی مرے بارے بہت سوچتا میں
اپنے اندر ہی کہیں ڈھانپ لیا ہے خود کو
ایسے کچرے کو زمانے میں کہاں پھینکتا میں

میرا ہونا میرے ہونے کی گواہی تو نہیں
میرے آگے میرا انکار پڑا ہے مجھ میں

اپنی بینائی پے اعصاب پہ چھایا ہوا میں
ہائے یہ میں، جو مری جان کو آیا ہوا میں

میں نے بھی مجھ کو مرے سامنے شرمندہ کیا
مری نظروں میں بھلا کیا رہی عزت میری

نسبت سے ماورا بھی کہیں ہونا چاہیے
میں ہوں، مرا خدا بھی کہیں ہونا چاہیے

میں خود سے مل کے کبھی صاف صاف کہہ دوں گا
مجھے پسند نہیں ہے مداخلت اپنی

دل وہاں ہے کہ جہاں میں نہ مرا سایہ ہے
کس جگہ لاکے مجھے وقت نے ٹھہرایا ہے

میں آج خود سے ملاقات کرنے والا ہوں
جہاں میں کوئی بھی میرے سوا نہ رہ جائے

اک ایسی ساعت تخلیق سے بھی گزرا ہوں
جب اپنے آپ کو لگنے لگا خدا کی طرح

کل رات مجھ کو چوری کیا جا رہا تھا یار
اور میرے جاگنے پہ مجھے رکھ دیا گیا

مجھ سے دیکھا نہ گیا، لوگ مجھے دیکھتے ہوں
میں نے دیکھا، میں نظارے سے نکل آیا ہوں

آپ ہی کے دو خوبصورت اشعار کے ساتھ اس مضمون کو ختم کرنا چاہوں گی

وہی ہے آخری حد جو ہے نقطہء آغاز
جواب کچھ بھی نہیں ہے، سوال سے باہر

انجم سفر کٹھن سہی تسخیر ذات کا
لیکن مجھے خوشی ہے میرا ہم سفر میں ہوں

محترم انجم سلیمی صاحب کے لیے صحت مند زندگی کے ساتھ قلم کی قوت میں اضافے کی بہت ساری دعائیں
سلامتی ہو

مشتری، عطارد، مریخ ہوشیار باش! … گلِ نوخیر اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں