ویکسین کی کھوج کے دوران بندروں کی طلب، قیمت کا اضافہ

Spread the love

کورونا کی ویکسین تلاش کرنے والی ایک چینی لیبارٹری میں سائنسدان پورے ہفتے کام میں مصروف رہتے ہیں اور چھٹی بھی نہیں لے پاتے۔ جبکہ یہاں بندروں پر ویکسین کی آزمائش سے قبل ان کی کمی واقع ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی لیب یشینگ بائیو فارما گذشتہ جنوری سے ویکسین کی تلاش میں شامل ہے۔ کمپنی اپنی ویکسین کی آزمائش جانوروں پر کر رہی ہے جبکہ اس کے بعد انسانوں کی باری آتی ہے۔

ان کے مطابق چوہوں اور خرگوشوں پر ویکسین کے اچھے نتائج آئے ہیں جس سے جسم میں اینٹی باڈیز بننے میں مدد ملی۔

کمپنی کے مطابق ویکسین صرف وائرس سے محفوظ نہیں رکھے گی بلکہ مریضوں کو صحتیاب ہونے میں بھی مدد دے گی۔

کمپنی کے لیے اگلا مرحلہ ویکسین کی بندروں پر آزمائش ہے۔ یہ مرحلہ اب مہنگا ہوگیا ہے کیونکہ کئی لیبارٹریاں کووڈ 19 کے لیے اپنی ادویات اور ویکسینز کی بندروں پر آزمائش کر رہی ہیں جس سے ان کی طلب کافی زیادہ ہوگئی ہے۔

کمپنی کے ایک سائنسدان کے مطابق ہر بندر کے لیے 1400 سے 2800 ڈالر دینا پڑتے تھے۔ اب یہ قیمت 14 ہزار ڈالر تک جا چکی ہے۔

چین خود بڑے پیمانے پر لیبارٹریوں کے لیے بندروں کی برآمد کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں