چشمِ بوزر کی طرح دیدہء تر ہونے تک … اسد اعوان

Spread the love

چشمِ بوزر کی طرح دیدہء تر ہونے تک
ہم بھی خاموش رہے شہر بدر ہونے تک

ہر کوئی جانتا ہے عشق میں مجنوں کی طرح
ہم بھی سرگشتہ پھرے خاک بسر ہونے تک

ہر گھڑی شہرِ جفا کار میں خاموش رہے
اپنے احساس کا لوگوں پہ اثر ہونے تک

ہمسفر تھا نہ کوئی اپنا ٹھکانہ تھا کہیں
دم بہ دم چلتے رہے ختم سفر ہونے تک

ہم حریفوں کی حراست میں ظفر یاب رہے
واقعہ ایسا کوئی بارِ دگر ہونے تک

شہر کا شہر نکل آیا تھا ملنے کے لیے
وہ مگر لوٹ گیا ہم کو خبر ہونے تک

ہم ستاروں کی طرح دیکھتے رہتے ہیں اسد
خواب میں زہرہ جبینوں کو سحر ہونے تک
اسد اعوان

اپنا تبصرہ بھیجیں