ناشتہ چھوڑنے سے انسانی جسم میں کون کونسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں؟

Spread the love

ہم بچپن سے ہی ناشتہ کرنے کے بے حد فوائد سنتے آئیں ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا ہوتا ہے۔ جو لوگ ڈائٹنگ کرتے ہیں یا سلم اور اسمارٹ بننے کے خواہش مند ہیں انہیں ناشتہ چھوڑنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ناشتہ نہ کرنے سے صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔

ناشتہ نہ کرنے سے ہونے والی چند بیماریاں

دل کے لیے نقصان دہ:

ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ناشتہ نہیں کرتے ان کے لیے دل کے دورے کے خطرات 27فی صد بڑھ جاتے ہیں ۔اس حوالے سے ڈاکٹر لی کیہل کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ اتنا بڑا تو نہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ پابندی سے صحت بخش ناشتہ کرتے ہیں ان کے لیے دل کے دورے کے خطرات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہائپر ٹینشن کا خطرہ بھی ناشتہ نہ کرنے والے افراد کے لیے بڑھ جاتا ہے۔

ذیابیطس کے خطرات:

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق انسان کے کھانے پینے کی عادات کا اس کی صحت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے حیران کن نتائج سامنے آئے جو کہ اسی تعلق کو سمجھنے کے لیے کی گئی۔ 46,2819 خواتین پر کی گئی اس ریسرچ سے معلوم ہوا کہ وہ خواتین جو ناشتہ نہیں کرتیں ان کے لیے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ملازمت کرنے والی خواتین جو اکثر ناشتہ کیے بغیر ہی کام پر چلی جاتی ہیں، ان کے لیے ذیابیطس کے خطرات 54فی صد تک بڑھ جاتے ہیں۔

موٹاپا:

وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد ناشتے کی پابندی کریں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے ان کا وزن جلدی بڑھ جاتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے سے دن بھر بھوک لگتی رہتی ہے اور میٹھا کھانے کا بھی دل چاہتا ہے جس سے انسان کی خوراک بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بر عکس ناشتہ کرنے والے افراد کا پیٹ بھرا رہتا ہے اور وہ دن میں کم کیلوریز کا استعمال کرتے ہیں۔ساتھ ہی جسم کو انرجی بھی حاصل ہوتی ہے۔ موٹاپا انسان کی زندگی کے 8 قیمتی سال چھین لیتا ہے۔

موڈ خراب رہنا:

ناشتہ نہ کرنے سے جسم کو ضروری طاقت اور غذائیت حاصل نہیں ہو پاتی جس سے طبیعت میں ناگواری اور تھکاوٹ سی محسوس ہوتی ہے۔
ایک ریسرچ کے لیے لوگوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کے لوگ غذائیت سے بھرپور ناشتہ کرنے والے تھے، دوسرا گروپ وہ جس میں لوگ صبح صرف کافی کا استعمال کرتے تھے اور تیسرا گروپ جس میں لوگ ناشتے کے وقت خالی پیٹ رہتے تھے۔ ان گروپوں کو کچھ گھنٹوں کے لیے مانیٹر کیا گیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ ناشتہ نہ کرنے والے دونوں گروپوں کی یاداشت کمزور اور مزاج میں چڑچراہٹ محسوس کی گئی۔

کینسر کے خطرات:

ناشتہ نہ کرنے والوں کے لیے کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جس کی ایک اہم وجہ موٹاپا ہے۔ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے ان کا وزن عموماً بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں میں کینسر ہونے کے خدشات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

بالوں کا جھڑنا:

ناشتہ نہ کرنے سے جسم میں پروٹین کی کمی ہوسکتی ہے۔ پروٹین کی ایک حد سے زیادہ کمی کا ہونا کیراٹین لیول کو متاثر کرتا ہے جو بالوں کا بڑھنا رکنے اور بال جھڑنے کا سبب بنتا ہے۔ ایک متوازن اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ بالوں کے فولیسلز کی نشونما میں مدد کرتا ہے۔

نظام ہاضمہ:

جس طرح گاڑی کو چلنے کے لیے فیول درکار ہوتاہے اسی طرح جسم میں نظام ہاضمہ کو سہی طرح سے کام کرنے کے لیے طاقت وتوانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر دن کاآغاز اچھی غذاؤں سے ہوگا تو معدہ دن بھر سہی طرح سے اپنے کام سرانجام دے گا۔ رات کے کھانے کے بارہ گھنٹوں کے بعد جسم کو فوری انرجی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ خالی معدہ تیزابیت بنانے لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں