ہم سفر … افسانہ … احمد صغیر

Spread the love

شام نے اپنے گیسو پھیلا دئیے تھے۔ سورج آہستہ آہستہ روپوش ہو رہا تھا اور ہر آدمی جلدی جلدی اپنے گھر پہنچنے کے لئے بس اسٹاپ کی طرف بھاگ رہا تھا۔میں بھی اپنے دفتر سے نکل کر بس اسٹاپ پر آگیا اور ایک بینچ پر بیٹھ کر بس کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے جامعہ نگر جانا تھا اور میری بیوی ابھی تک نہیں آئی تھی۔ وہ بھی پاس ہی کے دفتر میں نوکری کرتی ہے اس کے آنے کا وقت ہو گیا تھا ۔ میں بس اسٹاپ پر بیٹھا آس پاس کاجائزہ لینے لگا کچھ ہی فاصلے پر بلو رنگ کی جنس اور پنک کلر کی کرتی پہنے ایک لڑکی بیٹھی تھی اس کے بغل میں ایک لڑکا بھی بیٹھا تھا جو لڑکی سے زیادہ ہینڈسم اور اسمارٹ تھا۔ دونوں دنیا و مافیہا سے بے نیاز باتوں میں مشغول تھے۔ اسی بینچ کے بالکل آخری کنارے پر بڑے پستان والی ایک عورت بیٹھی تھی۔ اس کی عمر یہی پینتس سال ہوگی۔ اس کے ساتھ دو بچے تھے۔ ایک تقریباً آٹھ سال کا اور دوسرا چھ سال کا۔ دونوں ماں کے بغل میں خاموش بیٹھے تھے۔ بس اسٹاپ پر کئی مرد عورتیں کھڑی بس کا انتظار کر رہی ہیں۔ ایک لڑکی میرے کچھ فاصلے پر کھڑی بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ موبائل اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ موبائل پر بار بارنگاہ کرتی۔ شاید کسی کی کال آنے والی تھی۔ اس کے چند قدم کی دوری پر ایک ضعیف شخص کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلہ تھا۔ غالباً وہ کچھ سامان خرید کر گھر لوٹ رہا تھا۔ اس سے ذرا ہٹ کر ایک ادھیڑ عمر عورت بھی بس کے انتظار میں کھڑی سامنے کی سڑک پر آتی بسوں کو تک رہی ہے جب اس کے نمبر کی بس نہیں آتی تو اس کے چہرے پر مایوسی کی لکیریں ابھر آتیں۔

ایک ساتھ کئی بسیں آئیں اور لوگ چڑھنے لگے۔ ایک بس پر وہ ضعیف شخص سوار ہو گیا تو دوسری بس پر وہ ادھیڑ عمر عورت۔ بس اسٹاپ پر بھیڑ قدرے کم ہو گئی ۔ وہ لڑکی جو بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ کسی بھی بس پر سوار نہیں ہوئی یا تو اس کی بس نہیں آئی تھی یا اسے کسی اور کا انتظار تھا۔ میرے ساتھ بینچ پر بیٹھے لڑکے لڑکی اور وہ بڑے پستان والی عورت بھی اسی طرح بیٹھی تھی۔ لڑکی نے اس لڑکے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ لڑکے نے دوسرا ہاتھ اس کے گلے میں ڈال دیا۔ لڑکی مسکرانے لگی۔ بڑے پستان والی عورت نے دونوں کو ایک بار دیکھا پھر دوسری طرف منھ پھیر لیا۔ اس کے دونوں بچے اب کھڑے ہو گئے۔

’’ممی پیشاب کرنا ہے‘‘——بڑے بیٹے نے کہا۔

’’ممی مجھے بھی‘‘—— چھوٹے بیٹے نے بھی کہا۔

’’پیچھے کر لو‘‘—— بڑے پستان والی عورت نے بیٹھے بیٹھے بس اسٹاپ کے پیچھے اشارہ کیا۔دونوں پیچھے چلے گئے۔ بس اسٹاپ کے پیچھے ایک چھوٹی سی نالی بہہ رہی تھی۔ نالی کے قریب دیوار تھی۔ دونوں بچے نالی کے کنارے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگے۔ چھوٹے والے نے اپنے پیشاب کی دھار بڑے کی دھار سے ملایا۔ بڑا والا بھی ذرا ترچھا ہو کر دھار سے دھار ملانے لگا۔ اب دونوں پیشاب کی دھار کو ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اور ہنس بھی رہے تھے۔

’’دیکھتا ہوں کون کاٹتا ہے۔‘‘—— بڑے لڑکے نے کہا۔

’’میں کاٹوں گا‘‘—— چھوٹے لڑکے نے کہا۔

لیکن اس کا پیشاب جلد ختم ہو گیا اور دھیرے دھیرے اس کی دھار کم ہو کر رک گئی۔

’’میں جیت گیا!‘‘—— بڑے لڑکے نے کہا۔ چھوٹا لڑکا بغیر کچھ کہے ماں کے پاس آگیا۔ ماں نے بوتل سے پانی انڈیل کر ہاتھ پر دیا۔ اس نے ہاتھ دھو لیا۔ بڑے لڑکے نے بھی ہاتھ دھو لیا۔

’’ممی آئس کریم!‘‘—— چھوٹے لڑکے نے آئس کریم والے کو دیکھ کر کہا۔ آئس کریم والا ابھی ابھی آیا تھا۔ بڑے پستان والی عورت نے پرس سے بیس کے نوٹ نکالے اور بڑے بیٹے کو دیتے ہوئے کہا………

’’دس دس کے دو آئس کریم لے لو‘‘

دونوں بچے آئس کریم والے کے پاس چلے گئے۔ چھوٹا والا پہیئے پر چڑھ کر آئس کریم کے ڈبے کے اندر جھانکنے لگا۔

’’مجھے ڈنٹی والا چاہئے‘‘

’’مجھے ڈبے والا‘‘

آئس کریم والے نے دونوں کی پسند کی آئس کریم دے دی۔ دونوں ماں کی بغل میں بیٹھ کر کھانے لگے۔

وہ لڑکی جو کافی دیر سے کھڑی بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ سامنے سے ایک بائیک آکر بس اسٹاپ پر رُکی۔ وہ جلدی سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ بائیک ایک لڑکا چلا رہا تھااس نے تیزی سے بائیک آگے بڑھائی اور لڑکی اس کی پیٹھ سے چپکتی چلی گئی۔

میرے کچھ فاصلے پر بیٹھے لڑکے لڑکی ایک دوسرے کی انگلیوں سے کھیل رہے تھے اور باتوں میں مشغول تھے۔ جیسے آج پوری رات گزر جائے گی مگر بات ختم نہ ہوگی۔

’’آئس کریم کھاؤگی؟‘‘—— لڑکے نے لڑکی سے پوچھا۔

’’ہوں!‘‘—— لڑکی نے چھوٹا سا جواب دیا۔

لڑکا اٹھ کر آئس کریم والے کے پاس گیا۔ پرس سے سو کا نوٹ نکال کر آئس کریم والے کی طرف بڑھایا اور دو مہنگے آئس کریم لے کر آگیا۔ ایک لڑکی کو دیا اور دوسرا خود کھانے لگا۔ کھانے کے دوران دونوں خاموش رہے البتہ لڑکی نے اپنا ایک ہاتھ لڑکے کے کندھے پر رکھ دیا پھر اپنا کھایا ہوا آئس کریم اس کے منھ کی طرف بڑھایا۔ لڑکے نے تھوڑا سا کھا لیا۔ لڑکے نے بھی اپنا آئس کریم اس کے منھ کی طرف بڑھایا۔ اس نے اس کا ایک حصہکھا لیا۔ آئس کریم کھانے کے بعد لڑکی نے پرس سے ہینکی نکال کر ہاتھ صاف کیا پھر لڑکے کی طرف بڑھایا۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ صاف کرکے ہینکی واپس کر دیا۔

بس اسٹاپ پر دھیرے دھیرے بھیڑ بڑھنے لگی۔ میں نے گھڑی پر نگاہ کی ابھی تک میری بیوی نہیں آئی ہے۔ میں نے ایک بار پھر بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں کی طرف دیکھا‘ ایک بائیک آکر رکی اس کے پیچھے چہرے کو نقاب سے ڈھکے ایک لڑکی اتری۔ اس نے لڑکے کو بائی کہا۔ لڑکا بھی بائی کہہ کر بائیک کو آگے بڑھا دیا۔ لڑکی بس اسٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کرنے لگی۔ اسی درمیان ایک لڑکی اپنا پرس سنبھالتی ہوئی میری بغل میں جو تھوڑی سی جگہ خالی تھی بیٹھ گئی۔ میں نے اس کی طرف بس ایک بار دیکھا۔ اس ڈر سے نظر ہٹا لیا کہ اگر دیر تک گھور کر دیکھتا رہوں گا تو مجرم قرار پاؤں گا اور کسی لڑکی کو دیر تک دیکھنے کے جرم میں کئی سالوں تک جیل کی دیواروں کو دیکھنا پڑے گا۔

’’آپ مجھے گھو رہے تھے!‘‘—— لڑکی مجھ سے مخاطب ہوئی۔

’’نہیں تو!‘‘—— میں نے بغیر دیکھے کہا۔

’’میں کہتی ہوں کہ آپ نے مجھے دیکھا ہے۔‘‘

’’صرف ایک بار………‘‘

’’کیوں دیکھا‘‘

’’کسی کو بھی دیکھنا انسانی فطرت ہے‘‘

’’انسانی نہیں مردانی فطرت ہے‘‘—— آس پاس کے لوگ ہماری طرف متوجہ ہو گئے۔

’’آپ جو سمجھ لیجئے‘‘

’’لیکن آپ نے مجھے دیکھا کیوں؟‘‘

’’یونہی نگاہ اُٹھ گئی……… اگر آپ کو دیکھنا میرا برا لگا تو معافی چاہتا ہوں‘‘

’’کمال کرتے ہیں۔ گناہ کرکے معافی مانگتے ہیں۔ اس طرح تو کوئی بھی گناہ کرے گا اور معافی مانگ کر بچ جائے گا‘‘

’’ایک بار دیکھنے کے لئے سرکار نے ابھی کوئی قانون نہیں بنایا ہے۔ جب قانون بنے گا تب میں سزا کا مرتکب ہوں گا‘‘

’’لیکن میری نظر میں آپ مجرم ہیں۔ اس لئے کہ آپ نے مجھے دیکھا ہے‘‘

’’میں نے معافی مانگ لی ہے‘‘

اسی وقت ایک جلوس سڑک سے گزرنے لگا۔ جلوس میں بہت سارے مرد عورت ہاتھوں میں تختی لئے خاموش چل رہے تھے۔ جیسے ان کے لب کسی نے سی دئیے ہوں۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ تختی پر جو نعرے لکھے ہیں اسے کتنے لوگ پڑھ پائیں گے۔ اگر ہندوستان کا ہر آدمی اس نعرے کو پڑھ لیتا تو ملک میں انقلاب نہ آ جاتا؟

’’یہ جلوس کس چیز کے لئے نکلا ہے بابو جی؟‘‘——میرے تھوڑے فاصلے پر جو ابھی ابھی ایک مزدور آکر کھڑا ہوا تھا‘ بغل میں کھڑے آدمی سے پوچھا۔ اس آدمی نے حقارت سے اس کی طرف دیکھا۔

’’تختی میں سب لکھا ہے‘ پڑھ لو‘‘—— اس نے جھنجھلا کر کہا۔

وہ مزدور خاموش ہو گیا۔ آئس کریم بیچنے والا بھی حیرت سے جلوس کو گزرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس مانگ کو لے کر جلوس نکالا گیا ہے۔

’’دیکھا آپ نے لوگ عورتوں کی حفاظت کے لئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور آپ یہاں بیٹھے ایک اکیلی لڑکی کو گھور رہے تھے‘‘—— میری بغل میں بیٹھی لڑکی پھر مجھ سے مخاطب ہوئی۔

’’اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ قانون بنانے سے اگر سدھار آجاتا تو یہ ملک کب کا ترقی یافتہ ملک بن جاتا۔ انسان کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی محترمہ۔ اپنا نظریہ بدلنا ہوگا۔ جب ہم گھر سے نکلتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ میرے گھر میں بھی جوان بہن ہے لیکن ہم دوسری لڑکیوں کو دیکھ کر اپنی آنکھیں سینکتے ہیں۔ جب ہم اپنی بہن کے ساتھ سفر کرتے ہیں تو ہرگز نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا مرد اس کی بغل میں بیٹھے لیکن جب ہم اکیلے رہتے ہیں تو لڑکی کی بغل میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی بہن‘ اپنی بیوی کی عزت کی بڑی فکر ہوتی ہے اور دوسرے کی بہن کی عزت لوٹنے میں پل بھر کے لئے بھی اپنی بہن کا خیال نہیں آتا کہ جب وہ اکیلی باہر نکلے گی تو اس کے ساتھ بھی کوئی ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ جب تک ہم نہیں بدلیں گے ملک نہیں بدلے گا۔‘‘

’’تو پھر آپ ہی انقلاب کا پرچم ہاتھوں میں لے کر نکل پڑئیے‘‘—— اس لڑکی نے ہاتھ نچا کر کہا۔

’’انقلاب سوچ میں لانا ہوگا……… اپنی فکر میں لانا ہوگا……… نظرئیے میں لانا ہوگا……… ہمیں عورتوں کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا……… ہمیں اس کی عزت کا خیال رکھنا ہوگا……… اس کی پاکیزگی کا بھرم رکھنا ہوگا……… تب کوئی قانون بھی کارگر ہوگا۔ ہندوستان میں قانون بنتے ہیں اور توڑے بھی جاتے ہیں یا خریدے جاتے ہیں‘‘

’’آپ تقریر بہت اچھی کر لیتے ہیں لیکن جناب بس آگئی ہے چلئے………‘‘

اس نے اٹھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا ‘ ہم دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا اور بس میں سوار ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں