خوف … اجمل اعجاز

Spread the love

انتہائی نگہداشت کے کمرے میں موجود روشنی کے سبب اسے آنکھیں کھولنے میں دشواری محسوس ہورہی تھی، تاہم اس نے اپنی نیم وا آنکھوں کو آہستہ سے کھولا، بالکل اس طرح جیسے کوئی نومولود دنیا کو پہلی بار دیکھتا ہے۔

“آپ کو مبارک ہو، آپ کا آپریشن کامیاب ہوا ہے۔”

یہ کمرے میں موجود نرس کی میٹھی اور نرم لہجے میں ڈوبی ہوئی آواز تھی۔ ریحان کی آنکھیں شبنمی ہوگئیں اور آنسو پلکوں کا حصار توڑ کر رخساروں پر آگئے۔

” نئی زندگی عطا کرنے پر تیرا شکر گزار ہوں میرے مالک” اس نے کہنا چاہا لیکن اس کا حلق اور زبان خشک تھے، اس کے الفاظ منہ میں جامد ہوگئے اور اس کے لب تھر تھرا کر خاموش ہوگئے۔

پا۔۔۔۔” اس نے پانی پینے کی خواہش کا اظہار کرنا چاہا لیکن خشک زبان خشک تالو سے چپک کر رہ گئی، تاہم ہاتھ کے اشارے سے وہ اپنا مفہوم سمجھانے میں کامیاب ہوگیا۔

“پانی کے لیے ابھی آپ کو انتظار کرنا ہوگا۔” نرس کے لہجے میں مسکراہٹ کی نرمی تھی۔ ” ڈاکٹر صاحب وزٹ پر آئیں گے تو ان سے اجازت لینا ہوگی۔” وہ مسکرائی۔

اللہ کا شکر ہے بیٹا جس نے تجھے نئی زندگی بخشی۔” اس کے والد کی شفیق بانہوں نے اس کے سر کو آہستہ سے چھوا۔ خوشی وانبساط اور معبود حقیقی کے تشکر کے اظہار میں دونوں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔

” کیسی طبیعت ہے اب”

” سینے میں کاٹنے والا درد تو اللہ کا شکر ہے ختم ہوگیا ہے، لیکن آپریشن کی تکلیف باقی ہے۔ آخر پسلیوں کے پنجرے کو کاٹا گیا ہے۔ اس کے لہجے میں شوخی اور نقاہت تھی۔

یہ تکلیف بھی انشاء اللہ جلد ختم ہوجائے گی۔” باپ کے لہجے میں امید چھپی تھی۔

“انشاء اللہ۔” وہ مسکرایا۔

“وہ جو کہتے ہیں کہ مایوسی کفر ہے، وہ سچ کہتے ہیں۔ اللہ تعالی نے معجزہ دکھا دیا ہے۔” ان کی آواز گلے میں رندھ گئی۔

“بے شک۔” اس نے آہستہ سے کہا۔

وہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے والد سرکاری افسر تھے لیکن ان کی گذر بسر حلال کی روزی پر تھی۔ ریحان کی ابتدائی تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی داؤ پر لگا دی اور بیٹے نے بھی اپنی شب و روز کی محنت سے ان کی امید کا بھرم رکھا۔

اس نے اچھی درس گاہ سے ایم بی اے کی سند امتیازی حثیت سے حاصل کی اور چند ہی سالوں میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اعلی عہدے پر براجمان ہوگیا۔ اب اعلی تعلیم کے ساتھ اعلی عہدہ، معقول تنخواہ، کمپنی کی عطا کردہ کار اور بنگلہ اس کی پہچان تھے۔ تب اس کی والدہ کو اس کی شادی کی فکر ہوئی اور قرعہ فال شہناز کے نام نکلا۔ وہ ریحان کی یونیورسٹی کی ساتھی تھی۔ پڑھنے میں تیز اور حسن کی دولت سے مالا مال۔ دونوں میں ذہنی ہم اہنگی کے ساتھ ایک دوسرے کو پسند کرنے کا جذبہ بھی کار فرما تھا۔ رشتے کی بات چلی تو شہناز کے گھر والوں کی ابتدائی پس وپیش کے بعد آخر کار شہناز کے فیصلے کے آگے، انہیں سر تسلیم خم کرنا پڑا۔ اس طرح ایک سادہ سی تقریب میں منگنی کی رسم انجام پائی۔

ریحان سکون وآشتی اور کامیابیوں کے سفر پر خراماں خراماں چلا جارہا تھا کہ پھر اچانک یہ سفر ان دیکھے طوفانوں اور آندھیوں کی ذد میں آگیا۔

وہ دفتر میں معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ اچانک اسے گھبراہٹ محسوس ہوئی اور پھر چہرے پر ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ پہلے اسے سینہ میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہوا اور پھر یہ درد شدت اختیار کرگیا۔ اسے لگا جیسے اس کا بے کل دل سینہ کے حصار کو توڑ کر باہر آجائے گا۔ پھر اسے نہیں معلوم کہ اسے کس نے اور کس طرح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ تک پہنچایا۔ مرض کی تشخیص کے لیے دل اور خون کے بے شمار ٹیسٹ ہوئے اور اسے اسپتال میں داخل کرلیا گیا۔

“مسٹر ریحان آپ کی بیماری کے سلسلے میں تمام ممکنہ ٹیسٹ رپورٹس کی روشنی میں ہم نے دوسرے قابل سینئر ڈاکٹرز سے بھی مشورہ کیا ہے اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آپ کے دل کی پیچیدہ بیماری کا علاج نہ تو انجیو پلاسٹی ہے نہ بائی پاس۔ اگر کوئی صحت مند دل بطور عطیہ مل جائے تو دل کی پیوند کاری کے ذریعے آپ کی جان بچائی جاسکتی ہے اور اس سہولت کے حصول کے لیے بھی آپ کے پاس صرف چھ ماہ کا عرصہ موجود ہے اور اس عرصے میں آپ کو مکمل آرام کی ضرورت ہوگی۔”

ڈاکٹر خاموش ہوا تو ریحان کو محسوس ہوا جیسے اس کا دل چلتے چلتے رک گیا ہو۔ اس کا جسم ایک مرتبہ پھر ٹھنڈا پڑگیا۔ مایوسی کے گھپ اندھیرے میں میں اسے نجات کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی تھی۔

“جب تک سانس تب تک آس” اس نے فیصلہ کرلیا کہ زندگی کے باقی چھ ماہ وہ موت سے مقابلہ کرکے جیے گا۔ دفتر سے طویل چھٹی لینے کے بعد اس نے پہلی فرصت میں انٹرنیٹ کے ذریعے ملک کے تمام بڑے اسپتالوں میں اپنے دل اور خون کی رپورٹس، ٹشوز اور بلڈ گروپ کی تفصیلات اس درخواست کے ساتھ بھیج دیں کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں مطلوبہ خواص کا حامل دل بطور عطیہ موجود ہو تو اسے فوراً دل کی پیوند کاری کے لیے طلب کرلیا جائے۔

اس کے گھر والوں کی حتی الامکان کوشش تھی کہ اس کی بیماری کی خبر گھر سے باہر نہ نکلے لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور یہ خبر آناً فاناً دور دور تک جا پہنچی۔ شنہاز کے گھر والوں نے چھ ماہ بعد ممکناں طور سے پیش آنے والے حادثے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی خفت کے خوف سے شہناز کا رشتہ ختم کردیا اور اس طرح اس کی محبت دم توڑ گئی۔

اب وہ دوستوں اور عزیزوں کی دعاؤں کی چھاؤں میں آہستہ آہستہ موت کی جانب بڑھ رہا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی ہمت اور توانائیاں اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھیں۔ اس کی بیماری اب پانچویں مہینے میں داخل ہوچکی تھی۔

اچانک ایک دن اس کے سرہانے موجود ٹیلی فون کی گھنٹی گنگنائی تو اس نے بے توجہی سے ریسور اٹھایا۔

“ہیلو” اس کی آواز مایوسی میں ڈوبی ہوئی تھی۔

“جی مسٹر ریحان سے بات کرنی ہے “دوسری جانب سے آواز آئی۔

“جی میں مسٹر ریحان بول رہا ہوں۔” اس نے آہستہ سے کہا۔

” ریحان صاحب میں نوبل میڈیکل یونیورسٹی سے ڈاکٹر حقانی بول رہا ہوں۔”

“جی ڈاکٹر صاحب۔۔”

“ہمارے پاس ایک خوشخبری ہے آپ کے لیے!”

“میں سن رہا ہوں ڈاکٹر صاحب؟” وہ ایک دم بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“ہاں جناب یہ سچ بھی ہے اور معجزہ بھی ہے۔ بس یہ سمجھ لیں اللہ تعالی نے آپ کی غیبی مدد کی ہے۔ اب آپ پہلی فلائیٹ سے اسپتال پہنچ جائیں۔ گڈ لک۔۔”

اور فون بند ہوگیا۔

“امی جان۔!” وہ تیزی سے کمرے سے نکلا۔

دوسری صبح وہ اپنے والد کی معیت میں اسپتال پہنچ چکا تھا۔

اب وہ دل کی کامیاب پیوند کاری کے بعد اپنے گھر واپس آگیا تھا۔ اس نے سب سے پہلے دل کا عطیہ دینے والے مرحوم شخص کی بیوہ کا شکریہ ادا کیا۔

“محترمہ۔۔ تسلیمات

آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ آپ کے مرحوم شوہر نے اپنے عطیہ کئے ہوئے دل کے ذریعے مجھے نئی زندگی بخشی ہے۔ زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ میں اور میرا خاندان آپ کے مرحوم نیک شوہر کے نیک جذبے اور نیکی کے عمل کو بے حد قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہم ہمیشہ آپ کے شوہر کی آخرت کی بہتری کے لیے دعا گو رہیں گے۔

میری دلی خواہش کہ میں آپ سے مل کر زاتی طور سے آپ کا شکریہ ادا کرسکوں۔

“۔ریحان۔۔۔۔”

چند روز بعد اسے خط کا جواب بھی مل گیا۔

“محترم ریحان صاحب۔۔ تسلیم

مجھے واقعی بے حد خوشی ہے کہ میرے شوہر مرحوم نے اپنے دل کا عطیہ دے کر آپ کو نئی زندگی کی نوید دی۔ میری جانب سے دلی مبارک باد قبول فرمائیں۔ اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کو لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین۔ میں آپ کی مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعا کرتی ہوں۔ مجھے آپ سے مل کر یقیناً خوشی ہوگی۔

“زارا۔۔۔۔۔۔”

اب وہ اپنے گھر کی چہار دیواری میں چلنے پھرنے لگا تھا۔ فون کی گھنٹی بجنے پر اس نے ریسیور اٹھایا۔

“ہیلو کون۔۔” اس کی آواز میں اب توانائی در آئی تھی۔

“ریحان میں شہناز بول رہی ہوں۔ تمہیں نئی زندگی مبارک ہو۔۔” اس کے لہجے میں خوشی اور شوخی شامل تھی۔

“خیر مبارک۔۔” اس نے مختصر جواب دیا۔

“ریحان یقین کرنا پلیز۔ رشتہ ختم کرنے میں میری مرضی شامل نہیں تھی۔ میں تم سے اب بھی اتنی ہی محبت۔۔۔۔”

“شہناز جی۔۔” اس نے شہناز کی بات درمیان میں کاٹ دی۔ ” میں نے اب دل کی کتاب سے محبت کا باب خارج کردیا ہے۔ تم نے تو میرے اپنے دل کا اعتبار بھی نہیں کیا اور اب تو مانگے تانگے کا دل ہے۔ بھلا اس کا بھی کیا اعتبار، نہ جانے کب ساتھ چھوڑ جائے۔” وہ سنجیدہ تھا۔

” ریحان میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔” اس نے التجا کی۔

“سوری شہناز۔” اس نے ریسیور رکھ دیا۔

اب وہ دفتر جانے لگا۔ اس نے فون پر زارا کو اس کے شہر جا کر اس سے ملنے کے پروگرام سے آگاہ کیا اور اس کی رضا مندی کے بعد عازم سفر ہوا۔

اس نے اپنی اٹیچی کیس فرش پر رکھی اور گھنٹی کا بٹن دبایا۔ دروازہ کھلا۔ دراز قد، سفید رنگت، فیشن کے مطابق تراشیدہ بال، نئی وضع قطع کے کپڑوں میں ملبوس زارا، مجسم حسن و خوبصورتی اس کے سامنے کھڑی تھی۔

“اندر آجائیے” اس کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ اور آواز میں وقار تھا۔

وہ اٹیچی کو پہیوں پر چلاتا ہوا ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ ڈرائنگ روم کی سجاوٹ اور پردوں اور قالین کی فرنیچر سے میچنگ حیرت انگیز تھی۔ وہ صوفے پر دراز ہوگیا۔

“بہت اچھا کیا جو تم آگئے بیٹا۔” کمرے میں داخل ہونے والی معمر خاتون نے اس کا استقبال کیا۔” وہ احتراماً کھڑا ہوگیا۔ وہ اچانک آگے بڑھیں اور بے ساختہ اس کی کمر کے گرد حلقہ ڈال کر اس سے لپٹ گئیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔

ریحان کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔ زارا کی بھی یہی کیفیت تھی۔

“اب تم کیسے ہو بیٹا؟” انہوں نے پوچھا۔

“اماں جی زندگی ایک بڑے بحران سے گزری ہے، اب اللہ کا شکر ہے۔

آپ کے مہربان بیٹے کی مہربانی سے یہ بحران ختم ہوگیا ہے۔”

“لیکن ہمارا بحران ابھی ختم نہیں ہوا اور شاید کبھی بھی ختم نہ ہوسکے، کیوں کہ جانے والے لوٹ کر نہیں آتے۔” ریحان نے اپنا ہاتھ عقیدت سے ان کے کندھے پر رکھ دیا۔ “میں کوشش کروں گا کہ مرحوم کی کمی پوری کرسکوں۔”

تھوڑی دیر بعد ہی ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا دیا گیا۔ زارا اور اس کی خوش دامن کھانے پر اس کا ساتھ دے رہی تھیں۔

“کیا مصروفیات ہیں اپ کی۔؟ اس نے زارا سے پوچھا۔

“پڑھاتی ہوں کالج میں۔” اس نے مختصر جواب دیا۔

“آپ کے علاوہ یہاں…… میرا مطلب ہے نواز صاحب کے بچے……” وہ اپنا جملہ مکمل نہ کرسکا۔

“وہ گھر میں بچوں کی کلکاریاں سننے کی آس میں دنیا سے چلا گیا۔” زارا کے جواب سے پہلے اس کی خوش دامن بولیں۔ ان کا لہجہ غم میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے محسوس کیا اس نے غلط سوال کر ڈالا ہے۔

“آپ کے کھانے بے حد لذیز ہیں۔” اس نے باتوں کا رخ موڑا۔

“ماشاء اللہ یہ سارے کھانے اسی طرح شوق سے بناتی ہے۔ ذائقہ ہے اس کے ہاتھوں میں۔” انہوں ستائش بھری نظروں سے اپنی بہو کو دیکھا۔

کھانے سے فراغت کے بعد اس نے اٹیچی کھولی اور ایک شاپر نکال کر اماں جی کی طرف بڑھایا۔

” یہ آپ کے لیے ہے۔”

“میرے لیے؟” انہوں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔

“بیٹے کی طرف سے اماں جی کے لیے چھوٹا سا تحفہ۔” وہ مسکرایا۔ انہوں نے خاموشی سے شاپر تھام لیا۔ اس نے دوسرا شاپر زارا کی جانب بڑھایا۔

“اور یہ چھوٹا سا تحفہ آپ کے لیے ہے۔”

“میرے لیے؟” وہ حیرت زدہ تھی۔

“ہاں آپ کے لیے۔ میں آپ کے دکھ کا مداوا تو نہیں کرسکتا، لیکن میری خواہش ہے کہ میں دکھ سکھ کی ہر گھڑی میں آپ کے ساتھ رہوں۔ یہ حقیر سا تحفہ میرے خلوص کی نشانی ہے اور یہ آپ کو قبول کرنا ہی پڑے گا۔”

زارا نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا شاپر تھاما اور سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔

رات تینوں دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اماں جی نے نواز کے پچپن سے لے کر جوانی تک کے چیدہ چیدہ واقعات سنا ڈالے۔ زارا نے بھی مرحوم شوہر کی عادت، حسن سلوک اور محبت کے واقعات سنائے۔ ریحان نے اپنی ملازمت کی تفصیلات بتائیں اور اپنے مختصر سے خاندان کا تعارف کرایا۔

صبح ناشتے کے بعد جب وہ واپسی کے لیے پرتول رہا تھا، اماں جی نے فرط جذبات سے اسے گلے لگایا، پھر اپنا داہنا کان اس کے سینے سے لگایا۔

“تمہارے وجود میں، میں اپنے بیٹے کے دل کی دھڑکن سن سکتی ہوں۔” ان کی آنکھیں اچانک اشک بار ہوگئیں۔ انہوں نے اپنے بکھرے جذبات کو سمیٹا اور بولیں۔

ابھی طبیعت سیر نہیں ہوئی بیٹا، ایک دن اور رک جاؤ۔” وہ سراپا التجا تھیں۔

“ہاں ایک دن اور رک جایئے۔” یہ زارا کی آواز تھی۔

رات کے کھانے پر وہ دونوں کو شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں لے گیا جہاں سے رات دیر سے واپسی ہوئی۔ دوسرے دن صبح وہ نم آلود آنکھوں کو الوداع کہہ کر واپسی کے سفر پر روانہ ہوگیا۔

اب اس کی زندگی معمول کی ڈگر پر آگئی تھی، لیکن اس دوران اس کی والدہ اچانک بیمار پڑیں اور جھٹ پٹ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ اس نے اماں جی اور زارا کو یہ افسوسناک خبر سنائی تو دونوں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔

“اماں جی بیمار ہیں اور آپ کو یاد کررہی ہیں۔” ایک دن زارا نے خبر دی۔

“میں آرہا ہوں۔” اس کے پاس کوئی اور جواب نہ تھا۔ وہ وہاں پہنچا تو اماں جی کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ وہ بے حد کمزور نظر آرہی تھیں۔ ان کے چہرے کی رونق اچانک ہونے والی بیماری نے چاٹ لی تھی۔

“شاید میرا بھی آخری وقت آپہنچا ہے۔” وہ رو پڑیں۔

“اللہ نہ کرے۔ آپ انشاء اللہ جلد ٹھیک ہوجائیں گی۔” ریحان نے تسلی دی۔

“بیٹا مجھے زارا کی فکر کھائے جارہی ہے۔ مجھے کچھ ہوگیا تو اس کا کیا بنے گا؟”

انہوں نے ریحان کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھاما۔ ” میری خواہش ہے بیٹا، تو اس کا سہارا بن جا۔ اس کا ہاتھ تھام لے۔” انہوں نے امید بھری نظروں سے ریحان کو دیکھا۔ وہ اس صورت حال کے لیے ذہنی طور سے تیار نہیں تھا۔ اس نے زارا کی جانب نظریں اٹھائیں، زارا کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی تھیں۔

“میری خود بھی یہی خواہش ہے کہ میں آپ کے دکھ سکھ بانٹ سکوں، لیکن……”

اس نے سوالیہ نظروں سے زارا کی جانب دیکھا۔

“اسے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔” ان کے لہجے میں اطمینان کی جھلک تھی۔

“میں اس سے بات کرچکی ہوں۔” وہ مطمئن تھیں۔

اس نے ایک مرتبہ سوالیہ نگاہیں زارا کی جانب مرکوز کردیں۔

“میں امی جان کی خواہش کا احترام کروں گی۔” وہ نہایت آہستگی سے بولی اور نظریں جھکائے کمرے سے باہر نکل گئی۔

“مجھے چند روز کی مہلت دیں۔ مجھے والد صاحب کو ہم خیال بنانا ہوگا۔”

اور وہ دونوں کو امید بھرا پیغام دے کر واپس اپنے شہر آگیا۔

ایک ماہ کے اندر اندر اس نے شادی کی تیاریاں مکمل کرلیں اور پھر ایک دن وہ خاموشی کے ساتھ زارا کو اپنے نکاح میں لے کر گھر لے آیا۔ اماں جی کو اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا تھا، اس لیے وہ بھی زارا کے ساتھ نئے شہر اور نئے گھر منتقل ہوگئیں۔

نئی زندگی کے آغاز ہی میں زارا کو چند حقیقتوں نے حیرت میں ڈال دیا، جب ریحان نے انکشاف کیا کہ دل کی پیوند کاری کے بعد اس کی کھانے پینے کی عادت اور پسند و ناپسند کے معیارات تبدیل ہوئے ہیں۔ زارا نے محسوس کرلیا کہ یہ تبدیلیاں حیرت انگیز طور پر اس کے سابقہ شوہر سے مطابقت رکھتی ہیں۔ وہ اب وہی کھانے اور مشروبات پسند کرتا ہے جو اس کے مرحوم شوہر نواز کو پسند تھے۔ حد تو یہ ہے کہ محبت اور نفرت کے اظہار میں بھی اسے ریحان میں نواز کا عکس نظر آنے لگا تھا۔ یہ حقیقتیں اسے خوشگوار احساس عطا کرتیں، لیکن ساتھ ہی اس کے ذہن میں ایک انجانا سا خوف جاگزیں ہوجاتا اور کبھی کبھی خوف کی شدت کے زیر اثر اس کے پورے جسم میں زلزلے کی سی کیفیت طاری ہوجاتی، وہ نڈھال ہوجاتی، اس کی رنگت پیلی پڑجاتی اور اس پر نیم بے ہوشی کا گمان ہونے لگتا۔ اس کیفیت سے معمول کی حالت واپس آنے میں اسے کئی روز لگ جاتے۔ پھر اس کیفیت میں جانے کا وقفہ کم سے کم تر ہونے لگا اور اب مہینے دو مہینے میں وہ اس کیفیت کا شکار ہونے لگی۔ ریحان اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوجاتا۔ اس نے زارا کو مختلف ڈاکٹروں اور ماہر نفسیات کو دکھایا لیکن کوئی بھی مرض کی تشخیص نہ کرسکا۔

“آخر یہ کیسا خوف ہے۔ مجھے کچھ بتاؤ تو سہی۔” اس نے ایک دن زارا سے پوچھا۔

بس کچھ انجانے اندیشے خوف بن کر میرے حواس پر چھا جاتے ہیں، جن کے بارے میں، میں خود بھی نہیں جانتی۔” اس کا جواب تھا۔

ان کی شادی کو اب بارہ سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ زارا کی خوش دامن اور ریحان کے والد بھی اس جہاں سے رخصت ہوچکے ہیں۔ ان کا گھرانہ ایک پانچ سالہ بیٹی اور سات سالہ بیٹے پر مشتمل ہے۔

ان دنوں ایک تو دہشت گردی کے سبب شہر میں امن وامان کی صورت حال بدترین تھی، دوسری جانب وہ اپنی زندگی میں ناجائز اور غیر قانونی فیصلے کرنے کے دباؤ میں تھا اور ساتھ ہی اسکول سے بچوں کی کمزور تعلیمی سرگرمیوں کی مسلسل رپورٹیں آرہی تھیں، وہ انتہائی دلبرداشتہ اور ذہنی دباؤ میں تھا۔

اس دن رات کو وہ حسب معمول پہلی منزل پر اپنے سٹڈی روم میں گیا۔ ابھی نصف گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ اوپر سے آنے والے فائر کی آواز سے زارا حواس باختہ ہوگئی۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرکے اسٹڈی روم تک پہنچ گئی۔ دروازہ بھڑا ہوا تھا۔ اس نے تیزی سے دروازہ کھولا۔

ریحان بستر پر بے حس وحرکت پڑا تھا۔ اس کے سر بہتا ہوا خون کنپٹی سے ہوتا ہوا، بستر کی چادر سے نیچے فرش پر ٹپک رہا تھا۔ پستول اس کے ہاتھ کی ڈھیلی گرفت میں جھول رہا تھا اور اس کی کھلی ہوئی آنکھیں کمرے کی چھت پر مرکوز تھیں۔

اس کا دیرینہ خوف آج مجسم اس کے سامنے تھا۔ بارہ سال پہلے اس کے سابقہ شوہر نواز نے بھی اسی طرح اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں