ارطغرل غازی کا ابن عربی … حسن نثار

Spread the love

آج کل ’’ارطغرل غازی‘‘ کی دھوم مچی ہے جو ماضی پرست اور جذباتی قسم کے عوام کو سامنے رکھتے ہوئے قابل فہم بھی ہے لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ ایکٹر برادری اس ڈرامے کے خلاف کیوں ہے اور اسے اپنی ’’ثقافت‘‘ پر حملہ قرار دیتے ہوئے غیروں کی بجائے ’’مقامی‘‘ ہیروز کی بات کیوں کی جا رہی ہے۔

اگر ان کی بات میں وزن ہے تو کل کوئی اور فنکار اٹھے گا اور کہے گا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ تو عرب تھے، طارق بن زیاد تو بربر تھے، صلاح الدین ایوبی تو تکریت میں پیدا ہوئے کرد تھے، امیر تیمور بھی برلاس تھے اور ظہیر الدین بابر چغتائی تھے۔ بات محمود غزنوی تک بھی جا سکتی ہے جو ترک تھا، علیٰ ہذا القیاس۔رہ گئی ’’ثقافت‘‘ تو فاتحین کی گزرگاہوں کی ’’ثقافت‘‘ ہی نہیں ’’زبان‘‘ بھی رلی ملی ہوتی ہے۔

اور تو اور ’’شلوار‘‘ بھی ہمارا نہیں ترکوں کا پہناوا ہے۔ مقامی اور غیر مقامی کی تُک بھی سمجھ نہیں آتی لیکن ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔‘‘اک اور دلچسپ پہلو کہ اگر یہاں سکندر اعظم، سیزر، ہنی بال، چنگیز خان پر فلمیں بنتی اور ہٹ ہوتی رہیں، سپارٹکس، بن حر اور گلیڈی ایٹر کا میکسی مس بھی داد سمیٹ چکے تو ارطغرل تو پھر دور پار کا رشتہ دار ہے کہ مذہب کا حوالہ اور تعلق بہرحال اہم ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن سچی بات ہے یہ سب میرا موضوع نہیں۔

میرا اصل موضوع تو ’’ارطغرل غازی‘‘ کا ایک ثانوی سا کردار ہے جس کے بارے میں ناظرین میں بہت تجسس پایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ مجھ سے ابن عربی کے بارے پوچھ چکے تو میرے بچوں محمدہ، حاتم اور ہاشم نے یہ آئیڈیا پیش کیا کہ مجھے ابن عربی کے بارے کچھ لکھنا اور کسی ٹی وی پروگرام میں بولنا بھی چاہئے سو آج ابن عربی کے متعلق چند بنیادی معلومات ہی میرا موضوع ہیں۔

ابن عربی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اوریجنلی عرب تھے اور عرب ہونے پر فخر کرتے تھے۔ آپ کا پورا نام شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الحاطمی الطائی الاندلسی تھا۔

ابن عربی اندلس کے شہر مرسیہ میں 27رمضان المبارک 560ہجری (1165ء) کو ایک ایسے عرب خاندان میں پیدا ہوئے جو مشہور زمانہ ضرب المثل امام سخاوت حاتم طلائی کے سگے بھائی کی نسل سے تھا۔

آپ دنیائے اسلام کے عظیم مفکر، ممتاز صوفی، محقق اور اک ایسے عارف تھے جنہیں اپنے زمانے کے مختلف علوم پر دسترس حاصل تھی۔ تاریخ تصوف میں آپ کو شیخ اکبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

اک عام تاثر یہ بھی ہے کہ وحدت الوجود کا تصور بھی سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کیا تھا جس کا سادہ لفظوں میں مطلب یہ ہے کہ انسان عبادت و ریاضت کے ذریعہ اک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے کائنات کی ہر شے میں اللہ ہی اللہ دکھائی دینے لگتا ہے۔

عاشق ہویوں رب دا ہوئی ملامت لاکھ تینوں کافر کافر آکھدے تو آہو آہو آکھاسے فنا فی اللہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

بعض علماء ظاہر نے ابن عربی کے اس عقیدہ کو الحاد سے بھی تعبیر کیا جیسا کہ حسین بن منصور حلاج کے معاملہ میں ہمارے علماء کی دو آرا ہیں۔ ابن عربی کے والد مرسیہ کے ہسپانوی الاصل حاکم محمد بن سعید کے دربار سے وابستہ تھے۔

ابن عربی ابھی صرف آٹھ برس کے ہی تھے کہ مرسیہ پر مؤحدوں کے قبضہ کر لینے کے نتیجہ میں آپ کے خاندان کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی اس لئے آپ کے والد نے نشبونہ میں پناہ لی۔ یہاں یاد رہے کہ یہی نشبونہ آج کے پرتگال کا دارالحکومت لزبن ہے۔ آپ کے ماموں ابو مسلم الخولانی بھی جید عالم اور ایسے متقی تھے جو ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتے۔

مولانا روم بھی ان سے بہت متاثر تھے اور ان کی تحریریں ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے۔بعد ازاں آپ نے دمشق کو اپنا مسکن بنایا جہاں کے حاکم الملک العادل نے خود آپ کو وہاں پر رہائش اختیار کرنے کی دعوت دی تھی۔ وہیں پر آپ نے 28ربیع الآخر 438ہجری مطابق 1240ء وفات پائی اور جبل قاسیون کے پہلو میں سپردخاک کئے گئے۔اک روایت یہ بھی ہے کہ ابن عربی نے وفات سے پہلے یہ پیش گوئی کی تھی کہ … ’’میری قبر گم ہو جائے گی اور یہ اس وقت دوبارہ ظاہر ہو گی جب س ش میں داخل ہو گا۔‘‘

یہاں اس سے مراد سلطنت عثمانیہ کا جری سلطان سلیم اول تھا اور ش سے مراد شام تھا۔ ابن عربی کی قبر تقریباً پونے تین سو سال تک گم رہی۔ ترک سلطان سلیم اول نے 1516میں شام فتح کیا۔ سلطان جونہی دمشق میں داخل ہوا، ایک پرانے بوسیدہ گھر کی دیوار اچانک ڈھے گئی اور ابن عربی کی قبر ظاہر ہو گئی جس پر آپ کے نام کا کتبہ بھی لگا ہوا تھا۔

سلطان سلیم اول ارطغرل غازی کی اولاد میں سے تھا۔ یہ سلطان محمد فاتح کے بیٹے بایزید دوم کا فرزند اور سلطان عثمانیہ کا 9واں سلطان تھا یعنی سلطان سلیم اول بن بایزید دوم بن سلطان محمد فاتح بن سلطان مراد دوم بن سلطان محمد اول بن بایزید اول بن مراد اول بن سلطان اورہان غازی بن عثمان غازی… بن ارطغرل غازی جو ابن عربی کا ہم عصر تھا۔

نوٹ:کامران سوہدروی نے عرق ریزی کے ساتھ ’’سوانح ابن عربی‘‘ لکھی ہے۔ جو تفصیل میں جانا چاہیں اس سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں