یادوں کے دریچے سے … ابوالفضل صدیقی

Spread the love

توجیہ اہل سیاست اور محقیقین تاریخ کیا کریں مگر ہم جیسے عامی اپنے تجربوں کی بناء پر سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر سلیقہ خواجگی میں راسخ و طاق اور خوئے غلامی تراشنے میں فطین و مشتاق انگریز حکومت کو سستی انفرادی اور سطحی حق کوشی کا کریڈٹ بہرحال جاتا ہے، خواہ برٹش رویہ کے تحت یہ ایمانداری بھی پالیسی ہو، ورنہ تاریخ عالم کے بوجھ بجکھڑ تاریخ عالم کے سالوں صدیوں کے اعدادو شمار کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں کہ عمل و درعمل کی فطری منطق کے تحت تاریخ کے پہیہ کا آفاقی مزاج چلا آرہا ہے کہ ہر ایسی تاریک مدت کے بعد جیسی اٹھارویں صدی سے انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان کے اندر گزری بہرحال امن و آتشی اور حق گوشی و انصاف کا دور آتا رہا ہے۔ چلیے مان لیں تو پھر کہنا پڑتا ہے کہ انگریز قوم نے باوجود اجنبی، اور دوسری نسل ہونے کے ہندوستان کے اندر اسے ڈھنگ کے ساتھ برتا۔

یہاں انگریز قوم اور برطانوی دور حکومت کی قصیدہ خوانی منظور نہیں، جو کچھ رائے ہے وہ تمہیدی سطور میں عرض کردی، بات برسبیل تذکرہ اس صدی کے اوائل سالوں کی کہنی ہے، جب انگریز حکومت کے تیور بتارہے تھے کہ ہندوستان کے اندر بھی ملکہ برطانیہ عظمیٰ کی کم و بیش آٹھ دس پشتیں جلوس تخت نشینی ہی منائیں گی اور اسی نتیجہ پر برطانوی مدبرین اور ہندوستانی انگریز پسند دانشور پہنچے ہوئے تھے اور انگریز مخالف کا کھلم کھلا تو وجود ہی نہ تھا۔ تو کبھی کبھی نو آبادیاتی انگریز ناظم عامل لال قلعہ اور جامع مسجد تک پہنچی ہوئی تہذیب اور تاج محل و اعتماد الدولہ تک پہنچے ہوئے تمدن کے درمیان وہ حرکتیں کر بیٹھے جو افریقہ کے جنگل نشینوں اور ایشیا کے صحرا نشینوں کے ساتھ چلارہے تھے اور پھر بیچارے دہی کے دھوکے کپاس بھی چبا جاتے اور یہ یوں بھی ہوتا کہ سپر جینس ہونے کا خناس کھوپڑی کے اندر بٹھا دیا جاتا، اور ہچومن دیگرے نیست، دائیں بائیں، اوپر نیچے ، آگے پیچھے دور دور تک نظر بھی نہ آتا۔

یورپ کی رنگ ساز انڈسٹری کے لیے نیل کی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی سے برٹش گورنمنٹ کو خام مال کی لوٹ کھسوٹ میں افیون کی برآمد اور ایشیا میں کہیں (غالباً چین میں) منڈی ہاتھ آئی جس کی کاشت ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں ہندوستان کے اندر ہوتی بھی اور برٹش دور بھر ’’کرائی جاتی رہی‘‘ کرائی جاتی رہی؟ ‘‘ یوں کہ اس کی پیداوار کا باضابطہ لائسنس جاری ہوتا اور انفرادی طور پر لائسنس مراد کاشتکاروں اور گورنمٹ کے درمیان کل خرید و کل فروخت کا سال بہ سال معاہدہ ہوتا رہتا جو گورنمنٹ کی جانب سے ایک اونچا گزٹیڈ آفیسر اوپم ایجنٹ کیا کرتا۔ اعلیٰ ترین یک جائی، قطعات اراضی فرداً فرداً ہر کاشتکار کے ہم سوانہ مقبوضے پیمائش کیے جاتے، پیداوار کی تخم ریزی سے بھی قبل تخمینہ کرکے زر پیشگی تقسیم ہوتا۔ یوں اوپم ایجنٹ کو اپنے ہم رتبہ افسران مال کی نسبت معائنہ موقع وغیرہ امور میں زیادہ دورے کرنے پڑتے۔ ڈسٹرکٹ اوپم بالعموم تجربے کا ر ڈپٹی کلکٹر رینک کا عہدیدار ہوتا اور کبھی کبھی نسلی گوراولایت امپورٹیڈ نیا سولین بھی نامزد کردیا جاتا جس نے پڑھا ہوتا تو انگریزی کتابوں میں کہ گرم ممالک کے اندر ایک پودا Popy ہوتا ہے لیکن یہ گورا افسر ہندوستان کی سرزمین پر قدم دھرتے ہی چودہ طبق روشن، ہر کار کا اہل کار اور ہر فن مولا تصور ہو جاتا۔ ماتحت دیسی عملے کا رویہ سب ہی کے ساتھ اور ان صاحب بہادروں کے ساتھ خاص پر تعاون رہتا۔ افیون کے علاوہ دوسری فصلوں کے اوقات شدید موسم کے امکانات اور تیوہار ملحوظ خاطر رہتے۔ ان عرصوں میں دورے ملتوی رہتے اور اوپم ایجنٹ اور عملہ ہیڈ کوارٹر میں دفتری کام کیا کرتا۔ اونچی سطح پر اس زمانے میں بجز پولیس اور انجینئرنگ کہیں رشوت کا چلن نہ تھا۔ نچلی سطح پر اس محکمے میں مواقع بھی نہ تھے۔

مسٹر نیدر سول ڈسٹرکٹ اوپم ایجنٹ نے فہرست تعطیلات دیکھ کر ماتحت عملے کو دورے کا پروگرام بنانے کا آرڈر دیا، لیکن یہ دسہرہ اور دیوالی کی درمیانی مدت تھی،اس عرصہ میں کنوار کی پورن ماشی پڑتی تھی جو ’’شرت پورنما‘‘ (سال کی روشن ترین پورن ماشی) کہلاتی ہے اور چڑھتے چاند کے تقریباً پندھڑوارے بھر دیہات کے اندر گانا بجانا ہوتا ہے۔ فہرست تعطیلات میں اس تیوہار کی قسم، مدت اور تاریخ کا ذکر نہ تھا۔ لیکن ناظر نے اس کی دیہاتی مصروفیت کا حوالہ دیا اور سردست دورہ ملتوی کرنے کی عرض داشت کی لیکن صاحب بہادر نے نیٹو اہل کار کو غرا کر چپ کرادیا۔

مسٹر نیدر سول Nether Sole تازہ ولایت جواں سال، فوج کے سپلائی شعبے کے نکلے اسکاٹ نسل اوپم ایجنٹ تھے۔ گاؤں کے قریب اک دو فرلانگ پر کیمپ تھا، چھوٹی چھوٹی راوٹیوں کا دیسی عملہ کا جھمگٹا ایک جانب کو اور صاحب بہاد ر کا شاندار خیمہ و خواب گاہ سول لائن ذہنیت و قاعدہ کے مطابق ذرا پرے کو جس سے ملحق صرف اردلی کی چھول داری تھی۔ ادھر بستی میں پرکھوں والی بڑی چوپال پر لق ودق چبوترہ اور وسیع دالان بھرے ہوئے تھے۔ گھڑے اور ڈھول کے ساز پر گیت ابل رہے تھے۔ بستی اور آس پاس دیہات کا بڑا اکھٹ تھا۔ گھروں میں نوخیز بیٹیاں، نویلیں بہووئیں ڈھولکی اور مجنیروں پر اپنے گیت گارہی تھیں۔ بڑی بوڑھیاں میٹھے اور نمکین پکوان بنا رہی تھیں۔ خریف کی فصل کٹ کر کھیتوں سے نئی نئی آئی تھی۔ ربیع کی تخم پری کے لیے گیہوں، چنا، کھیٹوں بخاریوں سے نکلا تھا اور بچا پڑا تھا۔ جوار باجرے ماش گڑ کھانڈ، تل سرسوں، جنس اعلیٰ اور گیہوں ، چنے کی ریل پیل تھی۔ خریف کے کھیت خالی ہو کر اور ربیع کے رقبے ابھی حال میں بوائی ہوکر سب کھلے تاحد نگاہ میدان ہی میدا ن تھے۔ اور فرصت ہی فرصت تھی اور شرت پورنما کی شب ماہتاب تھی۔ شیتل خنک چاندنی کے پسارلیا، تمام عالم مطلع انوار ہوگیا، کھلے میدانوں میں ہرنیاں چوکڑی بھر اٹھیں، گھنیرے باغوں میں مور اترا اترا کر ناچ پڑے، پہیئے ارغفوں بجانے لگے اور کوئلیں کوک پڑیں۔ چوپال کا سازو نغمہ بلند ترہوا، فضا بسیط میں چاندی کی افشاں بھر کئی تاحد نگاہ میدانوں پر سونے کا پتر چڑھ گیا، دنیا ہم مستی، تمام آہنگ و نغمہ ہوگئی، جوہڑوں اور چھاڑوں سے پارہ کے فوارے اچھل پڑے، ندیوں اور نالوں میں چاندی کی لہریںچل پڑیں، فطرت اور خلوص بغل گیر ہوگئے۔ چاندنی کے پسار کے ساتھ دیہاتی جشن ماہتاب پورا بپا ہوگیا اور درخشانی اور خنکی میں سازو آہنگ بھرپور جوش میں آگئے۔

صاحب بہادر نے بیرون خیمہ ماحول سے بے نیاز رات کے کھانے پر معمول کے دو تین چھوٹے بڑے وہسکی کے پیگ لگا لیے تھے۔ پینے والے شائقین کہتے ہیں کہ شراب کا عمل اقسام اقسام کے علاوہ خطے خطے کے لوگوں پر متنوع ہوتا ہے۔ بعض پی کر مہکتے ہیں اور سرور میں اور بھی زیادہ حاضر دماغ و فرازانے ہو جاتے ہیں، کچھ چھک کر بہکتے ہیںاور اچھے بھلے جیسے خود ساختہ دیوانے ہو جاتے ہیں، کچھ مسخرے شوخ طبع اپنی پوزیشن ، قانون اور اخلاق سے ماورا سمجھتے ہوئے شراب پی کر بھی جھوٹ بول سکتے ہیں۔ زبان لڑکھڑاتی اور قدم ڈگمگاتے ہیں، اور تمام بدن ڈانواں ڈول کرنے کا ایکٹ کرتے ہیں اور اس میں انہیں لطف آتاہے۔اور صاحب تو اول الذکر قطار کے تھے، زیادہ سے زیادہ آنکھوں میں سرور آجاتا اور نہ غم دنیا اور نہ غم جاناں، سنگل ٹن انگریز، فکرو غم ہو تو غلط ہو۔ بستر پر دراز ہوئے تو بستی سے شور کی آواز آرہی تھی۔ سرور میں مخل اور شاید نیند میں حارج محسوس ہوئی، سلیقہ حاکمیت بیدارہوا اوررولنگ ریس کا شعور تو ازلی و جبلی ہے اور انگریز میں آفاقی، اور ہندوستان کے اندر تو ہر دور میں جیسے تازہ ہو اور سورج کی روشنی کے بھائو پر سوتے میں بھی جاگتا رہا ہے۔ اور منوجی اسے تیز تر او نکھار کر درجہ بدرجہ منزل بہ منزل پیش کر گئے ہیں اور آدمیوں آدمیوں کے درمیان پیدائشی مقدر بنا گئے ہیں۔ صاحب بہادر کی برنیست کی ٹیک اور شخصی حکومت کا غرور شعور سے اچھل کر بروئے کار آیا۔ اردلی کو حکم دیا یہ شور بند کرائو۔ اردلی لپکتا ہوا پہنچا تو حکم تو نہ سنایا کم بخت انہیں میں سے تھا، گانا سننے بیٹھ گیا۔ ادھر صاحب بہادر نے کچھ دیر انتظار کیا تو حکم عدولی کا شعور بیدار ہوا اور کچھ دیر یوں ہی شور ہوتے گزری تو حکم عدولی برٹش پر سٹیج میں خلل کا شور جاگ پڑا او ر یہ ٹیپ کا بند اس کے احساس تحفظ کے فرض منصبی میں جا پہنچا جو انگلستان چھوڑتے ہوئے سروس کی حلف وفاداری کی اہم مشق تھی، ایکشن نے کروٹ لی اور اسکاٹ النسل فوجی سویلین کے اندر نشہ فرض منصبی کی ادائیگی کی تحریک بن گیا جو یوں بھی ہندوستان کے اندر ہر گورے کا اولین منصب ہے۔چنانچہ ہور گورا رودبار انگلستان سے عازم مشرق ہو کر اس تحفظ میں از سوڈان تا امرتسر، کانپور دہلی وغیرہ لارڈ کچنز، جنرل ڈائر اور کون وکیا کیا نہیں، غرض علامہ اکبر الہ آبادی کی ترکیب میں لفٹیننٹ گورنر ہو جاتا کرتا تھا اور سات خون معاف اور مسجد کی بیخ ودین تو درکنار، قبر کی مٹی اکھیڑ کر دریائے شور میں بہا دینے پر تلا رہتا تھا۔ ڈسٹرکٹ اوپم ایجنٹ صاحب بہادر ہوں، یا ضلع کے تاج برطانیہ کے نمائندے کلکٹر صاحب بہادر، یا تخت برطانیہ کے سنگین بردار چوکیدار سپرنٹنڈنٹ پولیس صاحب بہادر، خواہ اپنی ماں بیوی اور بیٹے کے تحفظ کے کتنے ہی وسیع القلب و صاحب نظر و شوخ و بے پرواہ ہوں، لیکن برٹش پر سٹیج کے تحفظ میں قومی کریکٹر کے تحت بلا کے حساس ہو تے ہیں۔ شور بند نہ ہوا تو حکم عدولی کا احساس جاگا اور یہ دل ہی دل میں برٹش تحفظ کا احساس فرض سے جاملا اور وبانیٹ ہارس وہسکی کا نشہ گھٹی ہوئی بھنگ کی ترنگ میں بد لگام اور پھٹ کر بے راہ ہوگیا اور بھنگ کی خنک اور وہسکی کا سرور حکومت کے نشہ میں ملفوفہ بن گیا۔ برتھ رائٹ کا تحفظ و حق بڑے زور سے سنسنا پڑا۔ اور بھنکی کی سمجھ میں تو ’’ہونی اور انہونی‘‘ اور ’’ان ہونی ‘‘ ’’ہونی ‘‘ہوا کرتی ہے۔ پر وہ پرٹنگا، ولایتی ساخت کا بنا ہنٹر اتارا، یوں اپنے تئیں ایٹم بم سے مسلح ہوئے۔ آگے آگے بے خودی، پیچھے پیچھے ہوش، چل ہی تو پڑے اور برٹش حق، ہندوستانی ناحق پر کوڑے کا قانون چلانے کے لیے ہاتھ میں لہراتے یک دم چوپال کی اوپروالی چودہویں سیڑھی پر مرک بزگام کی صورت نمودار ہوئے۔ بھیڑوں کے گلے میں بھیڑیا اور گوریوں کی تنگ میں شکرا، بھاگڑ پڑی تو سیڑھیوں پر تو دعا کا مقام اور دریائوں کا ٹھور تھا۔ ملک الموت کا قبضہ، نو مینٹ اونچے کرسی والے چبوترے پر سے جس کا جدھر کو منہ اٹھا۔ آس پاس گلیاروں کو پھاند پڑا اور پہلی چاپ پر جیسے بو سونگھ کر صاحب کا اردلی پھاندا۔ تاہم بوڑھا نمبردار چودہری علاقے بھر کی چار چار کوس غیر متنازعہ مقدر شخصیت اپنی گپھاسی سفید مونچھوں، چہرہ اور جھریوں کے سہارے، اس پندار میں کہ اس پر اینگلو انڈین قانون کی کوئی دفعہ لاگو نہیں۔ اس جٹ، ناخواندے مہمان کی پیشوائی ، معافی خواہی کے انداز میں ہاتھ جوڑے جھکا ہوا، پاؤں پکڑتا رینگتا بڑھا تو عمل و رد عمل کی منطق بے منطقی میں اس خوش آمدید کے جواب میں بوٹ کی ٹھوکروں سے فیئر ویل کیا اور اوپر سے تانت کے ہنٹر کی بارش سے شراق پڑاق جواب نیاز مندی دیا۔ مجمع تین نسلوں سے مزین تھا۔ پہلی نسل کے افراد سات بیٹوں بھتیجوں کا باپ تایا چچا اور ان سات کے پانچ پانچ نوجوانوں پوتوں کا دادا، اور ان پانچ کے ایک ایک پوتے کا پردادا۔ اول الذکر تینوں نسلیں تو آبائی چوپال کے چبوترے پر سے تنگ و تاریک گلیوں کو پھاند گئیں، لیکن چوتھی اونچ نیچ دیکھے بغیر اور آگا پچھا سوچے گھوم پڑی، جیسے زمین ازلی گردش کرتے کرتے الٹی پھرکی سے گئی۔ سورج مغرب سے طلوع ہوا۔ ار زل خاک بگولہ بن کر آسمان سے جا ٹکرائی اور آسمان کا پیالہ الٹ کر سیدھا ہوگیا۔ ایلپس کی جولیس، ٹیمنس کی روانی رکی اور ہمالیہ بندھیا چل کی برفانی چوٹیاں لودے اٹھیں۔ ولایتی مردار تانت اور کھٹیلی کڑوا تیلی پلائی کالی لاٹھیوں کا مقابلہ ہی کیا، نوخیز لونچڑوں نے جیسے مونچھ کے گھٹے کی طرح موگلی سے کوٹ کر رکھ دیا۔

اور بڈھا تو شاہنامہ فردوسی کا ان پڑھ شارح تھا۔ فردوسی کا ہیرو رستم بیل تن، روئیں تن شہزادہ اسفند یار کو مار کر داستان کے اختتام المیہ سے بچ نہ سکا، اور اپنے ربیب رادہ برادر کے ہاتھوں چاہ اندر چاہ گر کر ہلاک ہوا۔ اور سرکاری اہل کار تو ہر دور میں روئیں تن شاہزادہ اسفند یار رہا ہے اور اس دور میں سب سے زیادہ ہے، جسے پھول کی چھڑی سے چھونے والا زرد انتقامی کے ساتھ تاخت و تاراج ہوا ہے۔ اب تک راعی اور رعایا، صاحب بہادر اور بڈھے کے درمیان یک نہ شد دو شد، چوٹوں ٹھوکروں اور ہنٹروں کے درمیان یک طرف مارپیٹ تھی مگر اب بڑھ کر ایک مثبت ایک گیارہ ہوئی اور تین تیرہ ہوگئی اور بڈھے کو سب بارہ بانٹ ہوتے نظر آئے۔ نوخیز اٹھا کر بچوں نے جد امجد کی بیں بیں کیا کرتے ہو!! نہ اس کان سنی ہی نہ اس کان اڑائی ہی۔ جاگتی آنکھوں کے خواب کابوس کی بڑبڑاہٹ، صدا بہ صحرا ہو گئی۔ صاحب بہادر اس وقت قتل مقتول اور خود کو حق بجانب قاتل سمجھ کر ہی ہاتھ روکا اور آن کی آن میں تعزیرات ہند اور ضابطہ فوجداری کی جلدوں کے شیرازے اکھیڑ کی ورق ورق بکھیر دئیے۔

کہتے ہیں بابانے قانون سویلین اعظم نے روم کے لیے قانون بنایا تو اس میں ماں باپ کے قاتل کے لیے سزا مخصوص نہ کرسکا۔ اسی طرح پاپانے صاحب تعزیرات ہند لارڈ میکالے انگریز ہوتے ہوئے ہندوستان کے اندر انگریز کو مارنے والے کی سزا متعین نہ کرسکے، کیونکہ دونوں ہی عظیم مقننوں کے وہم و گمان میں جب کہ روم اور اب ہندوستان کے اندر ایسے ارتکاب جرم کا امکان نہ تھا۔ مگر لارڈ کچنز نے درویش سوڈان کی ہڈیاں اکھیڑ کر خاکستر کیں اور راکھ دریائے شور میں بہادی تو انتقام فطرت میں اس ظالم کی ارزل خاک کے لیے زمین نے اک دو گز پیوند لینا گوارا نہ کیا اور جیتی زندگی دریائے شور ہی نے کچا نکلا۔۔۔

اردلی تو ایک ہی گرو گھنٹال ہوتے ہیں، ناسزا جیسے اپنے صاحب بہادر کی بونیچے والی سیڑھی سے لے کر بھانپ گیا۔ اور جب تک صاحب بہادر اوپر والے پٹہ پر پہنچیں، کم بخت عیار نے حق نمک میں مدد کی بجائے الٹی چبوترے پر سے جست لگائی۔ جیسے چھلاوہ ہو گیا۔ اور کتے کے لتاڑی لومڑی کی طرح دمچی دے کر اپنی چھول دار ی میں آدبکا اور پھر نظر پڑا تو استغثے کے وکلاء کا رٹایا سیق طوطے کی طرح عدالتوں میں پڑھتا اور صفائی کے وکیلوں کی طرح جرح میں پھنسا، اگزبیٹ میں اپنے صاحب بہادر کا ٹوٹے دستہ کا ہنٹر شناخت کرتا۔ جارح وکیلوں کے درمیان بہ حلف بیان دیتا’’خدا کو حاضر ناظر جان کر نہیں کہتا ہوں بلکہ جو کچھ کہتاہوں سچ نہ کہوں گا، جھوٹ کہوں گا، اور نہ کوئی جھوٹ بات چھپاؤں گا۔ خدامیری مدد کرے یا نہ کرے۔ اور ثبوت کا اہم گواہ، صفائی کی جو گالی کا تختہ مشق چارہ بنا، بیچارہ۔۔۔!‘‘

رہا ماتحت عملہ، اس ہڑبونگ کو اکھٹ بڑہنے کا آخری شورسمجھ کر اطمینان سے بیٹھا رہا۔ تاہم ذرا معمول سے قبل ،لیکن جو گزری وہ سمجھا نہیں اور پھر خاموشی اور سناٹا، صبح کو، جب بیرا ارلی ٹی لے کر پہنچا تو بستر خالی اور صاحب ندارد، اور پھر تو آرے آرے ہوگئی۔ تھانہ، شفاخانہ، پہنچی اور افواہوں اور حاشیہ آرائیوں میں اڑ کر برٹش پارلیمنٹ تک جا گونجی۔ بگ بین کی زنجیر عدل جیسے خود کار انداز میں بج اٹھی، قصر بکھنگم کے میناروں سے بنیادوں تک بازگشت اندر بازگشت۔۔۔!

۱۸۵۷ء کے ترپن برس بعد برٹش بلڈ ہندوستان کی مٹی میں جذب ہونے کی تکرار ہوئی تھی۔ صاحب کلکٹر بہادر کی آنکھیں اور ملکہ وکٹوریہ و ایڈورڈہفتم کی قبریں اور چھاتیاں پھٹی رہ گئیں۔ نیٹوز خاندان میں کہرام پڑ گیا۔ ویسے صاحب بہادر سنگل ٹن آدمی تھے۔ مرجاتے تو خیر مار پیچھے پکار تو ایسی ہوتی، جیسی آج ہوئی اور خیر پادری بھی رقیق آوازوں میں برکتیں تو بھیجتے۔ لیکن رونے والا انگلستان میں ہو تو ہندوستان میں تو دور دور نہ تھا۔ البتہ تعزیرات ہند نے بڑے خوبصورت انداز میں انگڑائی لی اور ضابطہ فوجداری نے اپنے منتشر اوراق چوپال کے چبوترے پر سے جلدی جلدی بین کر مضبوط شیرازہ بندی کی اور جو رس پروڈینس پوری توانائی کے ساتھ حرکت میں آیا۔

تھانے دار انچارج اور افسر دوئم برق رفتار گھوڑوں پر سوار موقع واردات پر پہنچے۔ افسر دوئم کو تو وہیں چھوڑا، اور انچارج وقوعہ کی سنگینت کے زیر نظر روزنامچہ اول کے اندراج کے لیے سادہ ورق لے کر صدر صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس بہادر کے حضور صبح تڑکے ہی حاضر ہوا۔ ادھر افسردوئم نے مسٹر اوپم ایجنٹ صاحب بہادر کی سسکتی ہوئی لاش اپنے اور ان کے عملے کی مدد سے شفاخانہ پہنچائی۔ جہاں سے سول سرجن نے میڈیکل معائنہ رپورٹ میں ۲۵ ضربات آلہ کند کی تحریر کیں، جن میں پانچ شدید تھیں۔ دو پسلیاں داہنی جانب کی اور تین بائیں جانب کی سمپل اور ااہنے پاؤں اور بائیں ہاتھ کی ہڈیاں کمپائونڈ فریکچر تھیں۔ ایس پی کلکٹر صاحب بہادر اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کونسلر نے سرجوڑ کر مضمون رپورٹ اول مرتب کیا اور منشی جی رپٹ نویس تھانہ نے، تھانہ اصطلاح میں اسے قلم سے اندراج کر کے ’’اچھی طرح کیس گانٹھ‘‘ دیا۔

اور دوسرے روز علی الصبح نور ظہور کے وقت روزنامچہ عام ’’روزنامچہ خاص کی تمام خانہ پریاں‘‘ تعزیرات ہند اور ضابطہ قوجداری کی دونوں ضخیم جلدیں لارڈ میکالے کے منہ پر الٹی مار اور تھانہ کا پورا دفتر غرق مے ناب اولیٰ کرکے چل پڑے۔ صرف تھانے کی پوری نفری اور جتنی سنگین فیکٹس اور ہتھکڑیاں مال خانے میں موجود تھیں ساتھ لے لیں اور تین کنستر مٹی کا تیل۔۔۔ اور خس پوش گاؤں کا شکاری وحشی دور والے انداز میں ہانکنے کے لیے محاصرہ کیا۔ ہوا کے رخ کے موافق بستی کے تین اطراف سے مٹی کا تیل چھڑکا اور چوتھی سمت ہتھکڑی ہاتھ میں آویزاں نفری لگادی اور پھر ایک دم ان تینوں سمتوں سے دیا سلائی دکھلادی۔ اور یا تو پوری بستی لذت خواب ہی میں تھی یا تین سمت سے بھڑکتی آگ کے شعلوں سے بچنے کے لیے چوتھی سمت پولیس کے چنگل میں آپوں آپ، اپنے پاؤں بھاگ کر پہنچ گئی۔ اور یوں آٹھ درجن، بوڑھے، جوان، نوجوان او ر نوخیز باندھ کر کشاں کشاں پولیس تھانے کی دونوں حوالات بھرلیں۔ آگ کے متنوع عمل میں، اور اسی کے تحت ایک فرقہ آتش پرست ہو گیا۔ لیکن جناب زرتشت کو بھی اپنے معبود کے اس پہلو کا پتہ نہ تھا کہ یوں بھڑک اٹھنا ہیبت طاری کرتا ہے اور حکومت کی دھاک بٹھاتا ہے اور پھرہم خرما ہم ثواب سزا کا بھی اولیں ذریعہ ہے اور فوری ریڈی جسٹس کا اجتماعی۔ اور پولیس کا ایسے سنگین وقوعوں میں جن میں خود پولیس والے کسی افسر یا ایڈمنسٹریشن کے کسی اہل کار کے ساتھ مزاحمت بکار سرکار، معمول تھا اور یہ بالعموم افسران بالا کے اشارہ پر کبھی عمر میں ایک آدھ بار ہوتا تھا۔ رپٹ میں وکیل سرکار کے مشورہ سے زمین آسمان کے مضبوط قلابے ملے ہوئے تھے۔ عدالت کے لیے بغاوت کے حدود چھوتی ہوئی فرد جرم کی گنجائش تھی ۔ادھر دروغا جی نے اپنا کچا کینگ کیس (Gang Case) چلا دیا۔ موقع واردات ربڑ کی طرح کھینچ دیا۔ بہرحال گنجائش تھی بھی۔ مجمع ناجائز طور پر حلقہ پر چاروں سمت محیط ہوسکتا تھا۔ بلکہ سرحدی تھانوں تک بھی امکان تھا۔ کوئی بھی شریک جرم ہو سکتا تھا۔ لہذا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوکر اپنے پورے ممالک محروسہ پر تو بہرحال پھیلا ہی دیا۔ وہ جو گھر میں روٹی پہ روٹی دھر کر کھارہا تھا وہ بھی اور جو کر گزارا تھا وہ بھی۔ رشوت کا تو نام بدنام تھا، استحصال بالجبر سے کوئی بچ نہ سکا۔ تھانہ داروں کی جیبیں چھن چھنا پڑیں، سپاہیوں کی بغلیں بج اٹھیں۔ اونٹ تو خیر پکڑے گئے لومڑیاں بھی لدنے سے نہ بچیں، کمر ٹوٹ گئی۔ کسی کو بھاگ کر بھی پناہ نہ ملی۔ جرم سے زیادہ وقوعہ کی ہیبت عظیم تھی۔ ضربات خفیف و شدید اور گورا جسم، بغاوت اور اقدام قتل اور گوری حکومت ۔ پھر ہم خرمہ ہم ثواب، ترکی کے ہاتھ پڑا، تازی کے کان ہوئے۔ خوف میں خانہ ساز گواہوں کی کھیتی خوردو انداز میں اگتی چلی گئی۔ اچھے اچھے پسندیدہ داستان گو قسم کے گواہان ثبوت کی قطار ایستادہ ہو گئی۔ برساتی مینڈک ٹرٹرا پڑے۔ وہ جو کہتے ہیں سو سو برس کے بوڑھوں کی یادوں میں ایسا سنگین وقوعہ نہ تھا کہ کسی حاکم کا یہ سواگت ہوا ہو اور کرئہ ارض پر چالیس ولایت میں برٹش پر سٹیج کا سورج غروب ہونا تو درکنار، مقدر اقبال نصف النہار پرتھا اور اس ڈیڑھ لاکھ مردم شماری کے ضلع پر یہ خیرگی، تین انگریز اپنی اندھیاریاں چڑہانے پوقدے چلائے چل رہے تھے۔

ویسے تو سب انہیں کے تھے، رنگون سے پشاور تک اور لنکا سے گلگت تک ضلع ضلع کے تاج برطانیہ کے محافظ، نمائندے اور برٹش پر سٹیج کے محافظ کلکٹر صاحب بہادر ہوں یا صاحب سپرنٹنڈنٹ بہادر لیکن تیسرے ڈسٹرکٹ و سیشن جج صاحب بہادر کو ملکہ عالیہ، کبھی کبھی اس تحفظ کے ضمن میں ذرا کنکھیوں سے دیکھ لیتیں، جو قلم ہاتھ میں لیے روبرو تھے۔ ویسے خیر سے سب ان کے تھے لیکن آخرالذکر تھے تو ان کے مگر شاید ان کے اپنے نہیں۔اور یہ تیسرے مسٹر تھرسٹن صاحب بہادر ڈسٹرکٹ و سیشن جج تھے۔ ویسے سب کے سب امپورٹیڈ اور ان کے اپنے برآمد، درآمد کردہ تینوں کے تینوں ان کی سول سروس اکیڈمی لندن کے کڑھے نکلے، آئی سی ایس ہی تھے لیکن مسائل مختلف۔

قتل ڈکیتی کے سنگین مقدموں میں پولیس کو تفتیش کرتے کئی کئی ہفتے لگ جایا کرتے تھے لیکن یہ کیس ہفتہ اندر چالان ہو کر عدالت ابتدائی کمٹنگ مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہو گیا، تاکہ گرم لوہا سرخ ہی سرخ پٹ جائے اور بیٹھی دھاک مدھم نہ ہو پائے۔ ویسے بیچارہ کمٹنگ مجسٹریٹ لیڑ بکس ہوتا ہے اور فائل سیشن جج کو دو سطری تجویز کے ساتھ بڑھا دیتا ہے۔ اور جہاں تک زبانی شہادت کے معتبر نامعتبر ہونے کا سوال ہے، یہ خالصتاً سیشن جج کا اختیار تمیزی ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ عدالت العالیہ تک اس میں قلم مارنے کی گنجائش نہیں ہوتی کوینکہ یہ فاضل سیشن جج کے رو برو ہوتا ہے۔ اور یہ وہ زمانہ تھا جب سنتے ہیں کہ اسٹیشنوں پر بعض بنچیں اور ریل کے بعض کمپارٹمنٹ For Europeon only مخصوص تھے اور موری نینی تال مری وغیرہ پہاڑی مقدمات میں بعض دکانیں جیب بھرے کانوں نے اپنے اوپر کھسیٹے سے بند کررکھی تھیں اور No trough fare اور Not at home تو تختیاں عام سی بات تھی۔ اور اب کیس مسٹر تھرسٹن کے روبرو زیر سماعت تھا۔ ان کے روبرو دائیں بائیں چار اسیسر ساتھ سن رہے تھے۔ لیکن صما بکما بولنے کے مجاز نہ تھے اور سننا تو غیر اختیاری عمل ہے، تاہم حاضر دماغ ہو کر سمجھنا نہیں۔ اسیسر صاحبان واجبی حرف شناس پڑھے ہوئے لیکن ستم یہ تقریباً سب ہی اس نواح کے جہاں وقوعہ عمل پذیر ہوا۔ لہذا اصل واقعہ سے پوست کندہ واقف۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ پھر شریف، نیک چلن اور غریب کبھی کبھی سمجھ دار بھی اور پھر نتیجہ میں فدوی۔ وہ سمجھنے پر مجبور جو حضور سمجھیں اور پھر رائے ظاہر ہے جو حضور کی وہ فدوی کی ۔۔۔ تاہم فیصلہ میں ان کی رائے عالیہ کار سمی تذکرہ ہونا ضروری ہوتا جو وہ عدالت کے ڈرامہ اسٹیج اور ایکٹنگ سے سمجھتے اور اصل واقعہ کو بھول جانے پر دیا کرتے۔

جرم یوں تو سنگین تھا اور پورے ضلع میں افواہوں اور چرچوں نے سنگین تر بنا دیا تھا۔ عام خیال یہ تھا کہ جج صاحب بھی وہی کریں گے جو کلکٹر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کہا۔ ایک اونچا گورا وکیل گورنمنٹ نے بڑے مشاہرہ پر ہائی کورٹ سے بلایا تھا۔ ملزمان نے ضلع کے مانے ہوئے بڑے وکلا صفائی کے لیے حاصل کئے تھے۔ مسٹر تھرسٹن یوں تو مرمریں بت سنگین قسم کے جج تھے، لیکن کبھی سراجلاس بول پڑتے تو بڑے بڑے بیرسٹروں، وکیلوں کوزچ کردیتے، اور یوں اظہار رائے ہو جاتا۔ یوں فیصلہ بھی باضابطہ سنانے سے قبل ہی سنائی پڑجاتا۔ تاہم یہ مقدمہ پورے انہماک کے ساتھ سماعت کیا، ثبوت و صفائی کی شہادتیں خاموشی کے ساتھ سنیں اور بالعموم ایسا کیا نہیں کرتے، لیکن شاید مقدمہ کی اہمیت کے زیر نظر معائنہ موقع کرنے پہنچے تاہم رخ کا اندازہ نہ ہوا۔ جانبین نے شہادت ختم (Evidence Close)کرنے کا اعلان کیا تو جانبین کی بحث، ثبوت کے دلائل اور صفائی کے جوابات سنے، البتہ جانبین نے دو ایک چرت او ر چبھتے ہوئے سوالات اور جملے ادا کئے، مگر جواب الجواب کا وقت آیا تو دوسرا پروسیجر اختیار کیا۔

وکلا فریقین اور اسیسروں کو کمرئہ اجلاس سے ساتھ لے کر چیمبر میں گئے اور ان سب کو ایک قطار میں بٹھا کر جیسے وکیل بنے خود سامنے کھڑے ہو گئے۔بلا شبہ یہ طریقہ کورٹ پروسیجر میں عجیب سا اقدام تھا، تاہم قانون کے منافی بھی نہ تھا۔ عدالت کو اختیار تھا اور فاضل مجوز نے لائق بیرسٹر کی طرح پوری کیس اسٹوری پیش کرنا شروع کی تو نتیجہ اور فقرے پر پہنچنے کا تو اندازہ نہ ہوا لیکن ایسے معلوم ہوا کہ جیسے ہم زاد کی طرح ہر ہر مرحلہ میں مستغیث اور ملزمان کے ساتھ سایہ کی طرح لگے رہے ہوں اور ہر مقام پر تو ناظر و تماشائی تھے ہی تمام ترحیات اور ردعمل میں شریک تھے، اور لطف یہ کہ یہ تمام کیس کی روئیداد سے اخذ کیا تھا، ورنہ معائنہ موقع کرنے پہنچے تھے تو بستی سے آتشزدگی کے نشانات بھی معدوم ہو چکے تھے، کیونکہ گھروں کی معمول کی لسائی لپائی ہو چکی تھی۔

کیمپ میں رات کو صاحب بہادر کے ساتھ اکل و شرب میں بھی شریک تھے اور پھر جیسے صاحب بہادر کے سرور، میں مخل اور نیند میں حارج بستی کے شور میں شریک تھے اور صاحب بہادر کا اردلی کو حکم بھی سنا کہ ’’شور بند نہ ہو کہ چوپال پر کیتوں کا ابال اور ڈھول وکھڑے کے ساز اور مجمع بھی کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا تھا اور جب شور بند نہ ہوا تو صاحب بہادر کے دماغ میں حکم عدولی کا دھواں کھٹتے بھی دیکھا، جو اپنے سرو رونیند کے بجائے برٹش پرسٹیج میں خلل بن کر دماغ کو چڑیا اور تحفظ میں احساس فرض کی صورت دل کا معاملہ ہوگیا اور یہ تمام سرسراہٹیں جیسے اوپم ایجنٹ سے نکل نکل کر جج کو سنائی پڑتی اور تمام نظارے دکھانے پڑتے ہوئے۔ اور یہ سب کے سب سماعت مقدمہ کے ذریعہ کاروائی مقدمہ کے دوران اجلاس میں بیٹھے بیٹھے کی اخذ کیس اسٹوری تھی جو کیس اسٹوری کی صورت جیسے آنکھوں دیکھی بیان کی اور پھر کیمپ سے چوپال تک ہنٹر کے قانون سے آراستہ صاحب بہادر کے ساتھ پہنچے۔ اور پھر وہ ہوا جس ان ہوئی میں یہ مقدمہ ہورہا تھا اور آرگومینٹ ختم ہوتے ہی اسٹینو گرافر کو جج منٹ فوراً کا ذرا تازم دم املا کرادیا، جس کا پہلا جملہ یہ تھا ’’ایسے ہی انگریز ہیں جیسے مسٹر نیدر سول (خاندان کا برٹش نام) جنہوں نے برٹش جیسی مہذب و شائستہ قوم کو مشرق میں ملعون کیا اور ایسے ہی عہدہ دار حاکم ہیں جیسے مسٹر نیدر سول اوپم ایجنٹ جنہوں نے دنیا کی عظیم حق پسند عادل انگریز حکومتوں کو جنگلوں اور ایشیا کے صحرائوں کے درمیان خوار و رسوا کیا، اور اس سے قبل مسٹر۔۔۔ ایڈمنسٹریٹر۔۔۔ نے اور مسٹر۔۔۔ و ایڈمنسٹریٹر ۔۔۔ نے۔۔۔مقام ۔۔۔ پراور پرسنل۔۔۔ میجر۔۔۔ نے ۔۔۔ معرکوں میںراہب شکرے او ر بڑبیک چونچ پنجے تراش دینے کے لطیفہ کی طرح ہوئی جس کے نتیجہ میں برٹش حکومتوں کو چھوٹی چھوٹی بغاوتوں سرکشوں کا سامنا کرنا پڑا اور برٹش قوم تاریخ عالم میں ظالم و جابر کے لقب سے ملعون و بدنام ہوئی جو یقینا نہیں تھی اور یہ ان جیسے کھردرے ہاتھوں کے طفیل ہوا جسے مسٹر نیدر سول اوپم ایجنٹ قانون کا ہنٹر پکڑے انصاف کرنے جاپہنچے تھے جس کے نتیجہ میں میری یہ تجویز شاید مزید ہوا خیزی کی موجب ہو، جو حکام اور رعایا سب ہی کی امیدوں اور اندیشوں کے منافی ہوگی، لیکن حق و انصاف پر مبنی ہے۔ اس شاخسانہ میں امن و امان اور داخلی حق و انصاف ترویج و قیام کی ذمہ دار اورلیں پولیس نے اپنی گورنمنٹ کا پرسٹیج ساکھ قائم رکھنے اور شاید اپنا مزید رعب دھاک بٹھانے کے لیے آتشزدگی، حبس بے جا جرائم کا ارتکاب کیا اور کون جانے یہ بھی ایڈمنسٹریٹر جیٹس میں مقامی بڑے ایڈمنسٹریرین کے اشارہ مرضی ورنہ چشم پوشی کی امید پر مبنی ہو۔ لیکن ایسے کوئی نام نہ فائل میں ہیں اور نہ دوران مقدمہ میرے روبرو کسی صورت میں کوئی صاحب پیش ہوئے لہذٰا میں محض شبہ کے تحت اظہار رائے سے بھی قانونی طور پر قاصر ہوں، لیکن مرتبین روزنامچہ اور چالان کنندہ مسمان سردار سنگھ اور راج بہادر تھانہ داراں حلقہ جو بیان حلفی، تصدیق تحریر ہر صورت میں میرے سامنے پیش ہونے، خلوص کار اور کارگزاری خاص میں ۹۶نام نہاد ملزمان ۔۔۔ نام چالان کرنا پڑے یہ بھی غالباً برٹش پرسٹیج کے تحفظ کے تحت ہوا اور برٹش پرسٹیج کی عمل داری عام آتشزدگی کے ذریعہ بٹھانی پڑی جو۔۔۔ مقام پرسنہ۔۔۔میں۔۔۔ ایڈمنسٹریٹر کو کرنا پڑی تھی۔ اور حیرت تو یہ کہ ذمہ دار فاضل کمنگ مجسٹریٹ نے مستغیث کے جسم کی پچیس ضربات اور مارنے والوں کی چھیانوے تعداد تناسب کے بغیر بلا شمار فی ضرب پانچ پانچ ملزم جیسے بلا کئے ’’اعداد شمار‘‘ آنکھیں میچ کر جھٹ پٹ میرے روبرو کر دیا۔

میں فائل سے نام غائب اور اپنے اجلاس کے اندر غیر موجود چھوٹے بڑے افسروں کے متعلق شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے کچھ نہیں کر سکتا، حتیٰ کے مشتبہ لوگوں کے نام بھی ظاہر کرنے سے قانوناً معذور ہوں، ان کے متعلق بجز اس کے محکمہ جاتی تحقیقات کے لیے گورنمنٹ کو ریفر کروں، اور تھانہ داروں کے متعلق صوبائی انسپکٹر جنرل پولیس کو نام بھیج دوں، البتہ گواہان ثبوت جو سب کے سب جھوٹے ہیں او رخوف و دبائو کے تحت کشاں کشاں لائے گئے ہیں ان کی سفارش کرتا ہوں کہ حسب دفعہ ۱۹۳ ضابطہ فوجداری کیس نہ چلایا جائے تو النسب ہے، اگرچہ وہ خود ذمہ دار ہیں اور ایسی صورت میں قانون معاف نہیں کرتا۔ مسمیان، جسیر سنگھ، بل بیر سنگھ، رن بیر سنگھ وغیرہ کو باعزت بری کرتا ہوں۔ اگرچہ یہ ہنٹر کے مقابلہ پر لاٹھیوں سے تحفظ حق خود اختیاری استعمال کرنے میں بڑھ چڑھ کر اقدام کر گئے، لیکن پھر یہ بوڑھے جدامجد کی تحقیر و مارپیٹ کے تحت، فطری اشتعال فوری Graveand Sudden Provocation کے تحت عمل پذیر ہوا جو قتل کے جرم میں بھی قابل معافی ہے۔ اس کے علاوہ ۹۶ میں سے ان پانچ کو بھی ممیز نہیں کرسکتا جو اصل اقدام کے مرتکب تھے، لہٰذا سب کو بری کرتاہوں۔ تاہم کسی ہرجانہ کا مستحق قرار نہیں دیتا۔ فریقین کو ہائی کورٹ میں حق اپیل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں