بے چارہ نیا پاکستان … خالد مسعود خان

Spread the love

گندم کی کٹائی کا سیزن ابھی بمشکل ختم ہوا ہی ہے کہ پاکستان‘ جس کے بارے میں ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ یہ ایک زرعی ملک ہے‘ میں گندم کی قلت کی خبریں ہیں۔ گندم کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔ روٹی اور نان کی قیمت میں تین سے پانچ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اور امسال پندرہ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی خبریں گونج رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہو رہا ہے۔ اگر یہ نیا پاکستان ہے تو اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
گندم کی کٹائی کا آغاز تاریخی طور پر اس خطے میں تیرہ یا چودہ اپریل کو ہوتا چلا آ رہا ہے۔ پنجابی کیلنڈر کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جیسے دیسی کیلنڈر، بکرمی کیلنڈر یا نانک شاہی کیلنڈر۔ یہ بر صغیر بلکہ دنیا کے پرانے ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ دیسی کیلنڈر کا آغاز بیساکھ یا وساکھ سے ہوتا ہے اور اس مہینے کا آغاز گندم کی کٹائی سے۔ پنجاب میں لوگ صدیوں سے گندم کی کٹائی کا آغاز بیساکھی کے تہوار سے کرتے چلے آ رہے تھے۔ تین سو پینسٹھ دن کے بکرمی کیلنڈر میں بیساکھ اکتیس دن کا، جیٹھ اور ہاڑ بتیس دن کے اور باقی نو مہینے تیس دنوں پر مشتمل ہیں۔
یہاں کے موسم مہینوں کے حوالے سے اپنی شناخت رکھتے ہیں مثلاً جب جیٹھ کا ذکر ہو گا تو اس کا مطلب ہے لو چلنے کا موسم۔ ہاڑ شدید گرم اور مرطوب موسم کا اعلان ہے۔ ساون کا ذکر آتے ہی شدید حبس کے ساتھ بارشوں کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے اور بھادوں مون سون کا سیزن ہے۔ پاکستان میں بیساکھی کا میلہ آہستہ آہستہ نا پید ہو گیا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں بالکل چھوٹا سا تھا جب ابا جی اور چاچا جلال کے ساتھ ملتان کے نواح میں سورج میانی کے قریب لگنے والے بیساکھی کے میلے میں گیا تھا۔ پھر یہ تہوار موسم اور زمین سے نسبت کے بجائے مذہب سے منسوب ہوئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متروک ہو گئے۔ پنجاب میں گندم کی کٹائی کا آغاز اب بھی یکم بیساکھ یا پندرہ اپریل کے آس پاس ہوتا ہے۔
ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کی کٹائی بمشکل مکمل ہوئی ہو اور اس کی قیمتوں میں اضافے کا شور مچ جائے، اس کی قلت کی آوازیں کان پڑنا شروع ہو جائیں، اس کی درآمد کی تجاویز آنا شروع ہو جائیں اور روٹی، نان وغیرہ کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہو جائے لیکن اب کی بار ایسا ہو رہا ہے۔ یہ ہمارا نیا پاکستان ہے۔ نیا پاکستان اس لیے کہہ رہا ہوں کہ پرانے پاکستان میں کم از کم یہ سب کچھ نہیں ہوتا تھا اور ابھی اس سلسلے میں سب سے زیادہ خرابی اگلے سال آئے گی کیونکہ پنجاب کے وزیر خوراک و سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ اگلے سال سے پنجاب حکومت گندم کی خریداری کی اپنی پالیسی تبدیل کرے گی اور اتنی گندم نہیں خریدا کرے گی جتنی گندم اب تک خریدتی رہی ہے۔
پاکستان میں گندم کی پیداوار 25-26 ملین ٹن کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ پنجاب میں گندم کی خرید کا ٹارگٹ ساڑھے چار ملین ٹن تھا؛ تاہم بمشکل صرف چار اعشاریہ ایک ملین ٹن گندم خریدی گئی ہے۔ پاسکو کی خریداری ڈیڑھ ملین ٹن تھا اور سندھ حکومت کا ٹارگٹ 1.4 ملین ٹن تھا‘ لیکن دونوں مل کر بمشکل دو ملین ٹن خرید کر پائے ہیں۔ یعنی اس سال کل ملکی پیداوار میں سے صرف چھ اعشاریہ ایک ملین ٹن سرکاری خریداری ہوئی ہے۔ یہ کل قومی پیداوار کا محض پچیس فیصد ہے؛ تاہم یہ وہ خریداری ہے جو ملک میں گندم کی قیمت کو کسی حد تک کنٹرول کرتی ہے اور اسی خریداری کے طفیل کاشتکار کو گندم کے سرکاری نرخ کے قریب قریب ریٹ مل جاتا ہے۔ اگر یہ سرکاری خریداری کی تلوار نہ لٹکتی ہو تو فلور ملز مالکان، آڑھتی، بیوپاری اور ذخیرہ اندوز کاشت کار کو لوٹ کر کنگال کر دیں اور یہ عملی طور پر ہوتا رہا ہے۔ جب بھی گندم کی پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ ہوتی دکھائی دی فلور ملز والوں، آڑھتیوں اور بیوپاریوں نے سرکاری خریداری کے مکمل ہونے کا انتظار کیا اور جیسے ہی پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور پاسکو وغیرہ نے خریداری ختم کی، بے کس اور بے پرسان حال کاشت کار کو ان لوگوں نے مل کر لوٹ لیا اور سرکاری نرخوں سے کہیں کم قیمت پر اونے پونے گندم خرید لی؛ تاہم یہ بات طے ہے کہ اگر مارکیٹ میں سرکاری خریداری کا خوف موجود نہ ہو تو یہ لوگ گندم کے کاشت کار کو پہلے دن سے ہی لوٹنا شروع کر دیں۔ اس بار سرکاری نرخ چودہ سو روپے فی چالیس کلو گرام تھا اور گندم کی قلت کا شور تھا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ نہ صرف سرکاری خریداری میں گندم کے کاشت کار کو ذلت سے نجات مل گئی بلکہ غیر سرکاری خریداری خلاف معمول سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر ہوئی۔ ملتان میں تو یہ عالم رہا کہ گندم کی سرکاری خریداری کا ٹارگٹ بمشکل کھینچ کھانچ کر پورا کیا گیا اور اس پر طرہ یہ کہ کئی کاشت کاروں نے سرکاری بار دانہ تو پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ سے لیا لیکن واپسی پر گندم سرکار کو دینے کے بجائے پرائیویٹ خریدار کو پندرہ سو روپے فی چالیس کلو گرام پر فروخت کر دی۔ اب ضلعی انتظامیہ ان کاشت کاروں سے اپنا خالی بار دانہ واپس لینے کی تگ و دو میں ہے۔
اب پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے سال وہ گندم کی خرید کے سرکاری اہداف کو کم کریں گے تاکہ گندم کی خریداری کے سلسلے میں صوبائی حکومت پر پڑنے والا بوجھ کم کیا جائے۔ یعنی اگلے سال پھر یہ ہو گا کہ فلور ملز مالکان، آڑھتی اور بیوپاری ٹائپ لوگ کاشتکار کو لوٹیں گے، گندم ٹکے ٹوکری ہو گی اور اس سے اگلے سال پاکستان کو گندم درآمد کرنا پڑے گی اور اربوں روپے کا زر مبادلہ برباد ہو گا۔ جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تب حکومتی بھونپو کہیں گے کہ یہ ہم نے نہیں کیا۔ دراصل یہ سمری میاں شہباز شریف نے منظور کی ہوئی تھی لیکن حکومت کے ختم ہو جانے پر اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔ اب ہم نے اسی پرانی سمری کو منظور کر کے لاگو کر دیا ہے یعنی اپنی اس نا لائقی، نا اہلی اور غلط فیصلے کا ملبہ چار سال پہلی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جائے اور یہ پہلی بار نہیں ہو گا۔
پنجاب حکومت نے گزشتہ دنوں اربوں روپے کی اراضی سرکاری افسروں کو نہایت ارزاں قیمت پر الاٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ یہ دراصل گزشتہ حکومت کا فیصلہ تھا جسے اب لاگو کیا گیا ہے حالانکہ واقفان حال کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف نے یہ تجویز مسترد کر دی تھی۔ جب روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہوا تھا تب بھی عوام کو یہی بتایا گیا تھا کہ گزشتہ حکومت نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کم کر رکھا تھا اور الیکشن کے بعد انہوں نے ڈالر کو مارکیٹ کے مطابق روپے کے مقابلے میں مہنگا کرنا تھا؛ تاہم حکومت ختم ہونے کے باعث وہ ایسا نہ کر سکے اور ہمیں گزشتہ حکومت کی غلط پالیسی کے باعث ایسا کرنا پڑا۔ بجلی کے ایک یونٹ کا اوسط ریٹ تیرہ روپے دو پیسے سے اٹھارہ روپے انتیس پیسے ہو گیا ہے۔ گمان ہے یہ بھی گزشتہ حکومت کا فیصلہ ہو گا جو ان کی رخصتی کے باعث لاگو نہیں ہو سکا تھا اور اب پی ٹی آئی کی حکومت نے اسے لاگو کیا ہے۔ رہ گئی بات نیو یارک والے روز ویلٹ ہوٹل کی تو اس کی نجکاری کا منصوبہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں بنایا گیا تھا۔ سارا فائل ورک پیپلز پارٹی کے دور میں مکمل ہوا اور اس پر عمل درآمد کا فیصلہ مسلم لیگ ن کے دور میں ہوا۔ زلفی بخاری بے چارے پر تو خواہ مخواہ کا ملبہ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ کام بھی سابقہ حکومت کا ہے جس پر ہم صرف مجبوراً عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بد حالی بھی گزشتہ حکومت کی حرکتوں کا نتیجہ ہے۔ ہم لوگ اس قابل کہاں کہ یہ کام بھی ڈھنگ سے کر سکتے؟ آہ ! میرا بے چارہ نیا پاکستان!

اپنا تبصرہ بھیجیں