آصف فرخی: تعزیت نامہ … آغر ندیم سحر

Spread the love

آپ یہ جان کر یقینا حیران ہوں گے کہ جب مجھے آصف فرخی کے انتقال کی خبر ملی،میں اس وقت ان کا تازہ تنقیدی مجموعہ’’ایک کہانی نئے مضمون کی‘‘پڑھنے میں مصروف تھا (جسے ۲۰۲۰ء کے آغاز میں عکس پبلی کیشنز نے شائع کیا)۔ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی سب سے پہلے پروفیسر ڈاکٹر ناصرعباس نیر (جو آصف فرخی کے قریبی دوستوں میں شامل تھے)سے رابطہ کیا جن سے اس افسوس ناک خبر کی تصدیق ہوئی۔پھر اس کے بعد سوشل میڈیا پر بے تحاشا پوسٹس پڑھنے کو ملیں جن میں آصف فرخی کے انتقال کی خبر نمایاں تھی۔سینکڑوں ایسے لوگ بھی آصف فرخی کے انتقال پر افسردہ نظر آئے جو یقینا ان سے کبھی ملے نہیں تھے مگر ان کی کتابوں اور تحریروں سے ایک ایسا تعلق قائم تھا جو شاید کبھی ختم نہ ہو سکے۔میرا بھی آصف فرخی سے صرف اتنا ہی تعلق تھا جتنا ایک قاری یا سامع کااپنے پسندیدہ لکھاری سے ہوتا ہے،انہیں کبھی کسی کانفرنس یا فیسٹول میں سن لیتا یا پھر ’’دنیا زاد‘‘کے ذریعے ان کی تحریریں پڑھ لیا کرتا۔ملاقاتوں کی تعدا دبھی کچھ زیادہ نہیںہے لہٰذا میری ان سے نہ تو کبھی گپ شپ ہوئی اور نہ ہی کبھی ان کی میزبانی یا مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو سکا سو یہ سمجھ لیں کہ ان سے جتنا بھی تعلق تھا وہ ان کی کتابوں اور تحریروں کے ذریعے ہی قائم ہوا اور یقینا ہمیشہ رہے گا۔آج جب ان کے لیے تعزیت نامہ لکھا رہا ہوں تو اس سے قبل درجنوں مضامین‘کالم اور تعزیت نامے پڑھے جو مختلف ناقدین اور ادیبوں کے لکھے ہوئے تھے اور ہر تعزیت نامہ اپنے اندر گہرا دکھ اور کرب سموئے ہوئے تھا۔تمام دوست آصف فرخی کو ان کے اس کام سے یاد کر رہے تھے جو یقینا ان کی عمر سے زیادہ تھا۔ کشور ناہید نے اپنے کالم میں بالکل بجا فرمایا’’آصف فرخی ایک آدمی نہیں بلکہ ایک ادارہ تھا‘‘وہ اکیلا اتنا کام کر گیا ‘ادارے بھی اتنا کام اِس تیزی سے نہیں کرتے ۔یہی وجہ ہے کہ اب تک ان کی وفات پر یقین نہیں آ رہا ،یہ سوچ سوچ کے دل ڈوب رہا ہے کہ اب ان سے کسی فیسٹیول یا کسی کانفرنس میں ملاقات نہیں ہو سکے گی،ان کی علمی و ادبی گفتگو نہیں سن پائیں گے۔ان کے لکھے اپنی نوعیت کے منفرد تنقیدی مضامین بھی اب کہیں پڑھنے کو نہیں ملیں گے۔
یہ بات واقعی سچ ہے کہ آصف فرخی کو جب محسوس ہوا کہ موجودہ ادبی ادارے یا درس گاہیں طلباء کی ادبی تربیت یا ذہن سازی میں ناکام ہو گئی ہیں تو وہ خود ایک ادارہ بن گئے اور ’’دنیا زاد‘‘کے ذریعے نئے لکھنے والوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ ان کی ادبی تربیت کا بھی بیڑا اٹھا لیا۔وہ ہمیشہ اس بات پر نالاں نظر آئے کہ موجودہ ادبی ادارے یا درس گاہیں نوجوان طلباء کی اس طرح ذہن سازی نہیں کر سکیں جس طرح کرنی چاہیے تھی یہی وجہ ہے کہ آج کا طالب علم معاصر ادب سے اس طرح واقف نہیں ہے جیسے ایک درس گاہ سے فارغ التحصیل ادب کے طالب علم کو ہونا چاہیے۔ان کے تنقیدی مجموعے میں موجود مضمون’’پاکستان میں کہانی کا عروج و زوال‘‘کا ایک اقتباس دیکھیے:’’ادب کے پڑھنے والوں کی تعداد ایک خصوصی طبقہ یا اختصاص کا حامل طبقہ بنتی جا رہی ہے۔نوجوان طلباء کو معاصر ادب کے بارے میں کوئی خاص معلومات ہوتی ہے اور نہ ان کی درس گاہیں اور واقفیت میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ۔طالب علموں کی کھیپ جو درس گاہوں سے نکلتی ہے ان کے پاس وہ ذرائع ،ذہنی اوزار یا طریقے نہیں ہوتے کہ جس کے ذریعے سے معاصر ادب کو گرفت میں لا سکیںاور اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی زندگی سے مربوط اور پیوسطہ کر کے دیکھ سکیں۔افسوس کی بات ہے کہ اس صورت حال میں ہمارے نام نہاد ادبی ادارے کچھ کرنے کے اہل نظر آتے ہیں اور نہ تعلیم و تدریس کے حکام۔گھر کے ایک کونے میں بچوں کے بے ضرر سے کھیل سے اٹھنے والے شور کی طرح ادب بھی کچھ نہ کچھ کیے جا رہا ہے‘‘۔یہ وہ دکھ ہے جس نے آصف فرخی کی گفتگوئوں اور تحریروں میں نوجوان نسل کی ذہن سازی کا عنصر پیدا کیا۔آپ نے کہانیاں لکھیں،عالمی ادب سے ترجمے کیے،تنقیدی مضامین لکھے،’’دنیا زاد‘‘کا آغاز کیا اور اسے مستقل بنیادوں پر شائع کرتے رہے،آکسفرڈ کے اشتراک سے ادبی میلوں کا آغاز کیا جو پورے پاکستان میں توجہ کا مرکز بنے ۔ میڈیکل ڈاکٹر تھے لیکن ادب کے ڈاکٹروں سے بھی کہیںزیادہ کام کر گئے۔آخری عمر میںذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے مگر اس کے باوجود لکھنے اور پڑھنے میں کوئی کمی نہیں آئی۔’’ہم سب‘‘ کے لیے ویڈیو کالموں کا قابلِ توجہ سلسلہ شروع کیا،ان ویڈیوز میں ان کی صحت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ شدید کرب سے گزر رہے تھے۔ان کی صحت مسلسل بگڑتی جا رہی تھی جس کا اندازہ انہیں خود بھی ہونے لگ گیا تھا۔میں نے وہ تمام ویڈیو کالم سن رہا تھا جو ’’ہم سب‘‘پر مسلسل شائع ہو رہے تھے،ان کے آنکھوں کے گردبننے والے سیاہ حلقے پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور گہرے ہو رہے تھے جو اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ وہ لکھنے اور پڑھنے میں پہلے کی نسبت زیادہ مصروف ہیں۔میں کبھی کبھی اپنی کاہلی پر بہت کڑھتا ہوں کیونکہ میں کبھی بھی کسی ادبی میگزین کے لیے تواتر سے کچھ نہیں لکھ سکا اگرچہ کئی مدیران کی طرف سے اصرار بھی موجود رہا۔آصف فرخی سے جب کراچی یونیورسٹی کی سرسید کانفرنس میں ایک سرسری ملاقات ہوئی تھی تو میں نے’’دنیا زاد‘‘کا ذکر کیا تھا‘کہنے لگے آپ مضمون بھیجیں میں لازمی کوشش کروں گا کہ چھپ جائے مگر میری کاہلی آڑے آئی اور کبھی نہ بھیج سکا۔اب سوچتا ہوں کہ کاش ’’دنیا زاد‘‘کے لیے کوئی مضمون یا تحریر بھیج دیتا تو شاید ان سے تعلق مزید مضبوط ہو جاتا اور یوں ان کی صحبت سے بھی مستفید ہونے کا موقع مل جاتا ۔آصف فرخی کی وفات اردو کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے مگر مسئلہ’’دنیا زاد‘‘کا ہے کہ اس قابلِ قدر اور اہم ترین ادبی میگزین کی ادارت کا ذمہ کون اٹھائے گا اور سب سے اہم کام کہ کیا ’’دنیا زاد‘‘اسی معیار پہ شائع ہوتا رہے گا یا نئے مدیران اس کا چہرہ بگاڑ دیں گے کیونکہ یہ میگزین آصف فرخی کی یاد کے طور پر بھی شائع ہوتا رہنا چاہیے اور اس لیے بھی کہ اس میگزین کے ذریعے مجھ جیسے کئی تشنگانِ علم و ادب کو سیراب ہونے کا موقع مل رہا ہے۔میں آج یہ تعزیت نامہ لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ کس کس سے تعزیت کروں؟لاہور،کراچی اور اسلام آباد سمیت پاک وہند اور دنیا بھر میں ایک بڑا حلقہ احباب موجود ہے جو اآصف فرخی سے ان کی تحریروں کے ذریعے محبت کرتا تھا۔پاکستان میں تعزیت کے لیے کئی احباب کو فون کرنا چاہ رہا تھا مگر یقین جانیںہمت نہیں۔کالم لکھنے بیٹھا توکشور ناہید،مسعود اشعر،ڈاکٹرناصر عباس نیر اور حمید شاہد کی تحریروں نے پہلے سے زیادہ افسردہ کر دیا۔لہٰذا یہ تعزیت نامہ ہر اس قاری اور سامع کے نام جو کسی نہ کسی حوالے سے آصف فرخی سے وابستہ تھا اور ان سے بے لوث محبت کرتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں