20ویں صدی میں ایک بار پھر سے ‘‘ارطغرل’’ کی پیدائش، دنیا میں ہنگامہ برپا

Spread the love

اسلامی فتوحات پر مبنی شہر ہ آفاق ترک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ نے جہاں پاکستانیوں کو اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے تو وہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھی اِس تاریخی ڈرامے کا ایسا اثر ہوا ہے کہ والدین نے اپنے نوزائیدہ بچے کا نام ہی ’ارطغرل‘ رکھ دیا ہے۔
مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر طاہر نامی صارف نے نوزائیدہ بچے کی پیدائش کے بعد بننے والے اسپتال کارڈ کی تصویر شیئر کی جس سے واضح ہو رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مقیم والدین نے اپنے بیٹے کا نام ’دیرلیش ارطغرل‘ کے مرکزی کردار ’ارطغرل‘ کے نام پر رکھا ہے۔

صارف نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ مقبوضہ کشمیر میں پہلا واقعہ ہوا ہے کہ نومولود بچے کا نام ترک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ کے مرکزی کردار ’اطغرل‘ سے منسوب کرکے رکھا گیا ہے۔‘
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ماہر امراض اطفال کا کہنا ہے کہ بچے کے والدین بڑے ہی شوق سے ترکش سیریز دیکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے بیٹے کا نام ’ارطغرل‘ رکھا ہے۔
ماہر اطفال اور صدر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن مقبوضہ کشمیر ڈاکٹر سہیل نائک نے بتایا کہ اُنہوں نے دیکھا تھا کہ موسم سرما کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جانوروں کی کھال سے تیار کردہ ایک خاص ٹوپی خرید و فرخت کی جارہی تھی۔
ڈاکٹر سہیل نائک نے بتایا کہ اُنہیں لگا کہ یہ شاید کوئی فیشن ہے لیکن جب اُنہوں نے خود ترک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ دیکھنا شروع کی تو اُنہیں معلوم ہوا کہ یہ ٹوپیاں تو ارطغرل اور اُس کے سپاہی پہنا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی ’دیرلیش ارطغرل‘ لاک ڈاؤن کے دوران زیادہ مقبول ہوا ہے اور کشمیر عوام بڑے ہی پُرجوش انداز میں اس ترک سیریز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
اسلامی فتوحات پر مبنی تُرک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ میں 13ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے قیام سے پہلے کا دور دِکھایا گیا ہے۔
اِس سیریز کا مرکزی کردار ایک بہادری جنگجو ’ارطغرل‘ ہے جس نے ایمان کی طاقت، اللّہ پر یقین اور اپنی بہادری سے منگولوں، صلیبیوں جیسے دشمنوں کو شکست دی۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ پر مبنی اِس تُرک سیریز کو پاکستان سمیت دُنیا بھر کے مسلم ممالک میں خوب پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور مسلمان ارطغرل غازی کے اداکاروں کو بھی بےحد پسند کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں