رَجعت … سو لفظوں کی کہانی … نیلم ملک

Spread the love

تُم کجھور کی سَرزمین کے باسی، میں زَعفران کی دَھرتی کی پَروردہ۔ مُعتدل فضاؤں کے عادی لُو کے تھپیڑوں کو سَہار نہیں سکتے۔
تُند ہواؤں کی دہک میں جُھلسے وُجُود نرم ہواؤں سے مانوس نہیں ہو پاتے۔
جُھلسے وُجُود کی ایک حالت سنگِ مَرمَر ایسی سرد، سخت اور ملائم بھی ہوتی ہے۔ یہ سُنی سُنائی نہیں، میں نے چُھو کر محسوس کیا ہے۔
وہ جُھلساؤ لُو نہیں، آگ سے واقع ہُوا۔
عشق بھی لُو ایسی دہک ہے، جسے طَلَب کی تخلیط آگ بنا دیتی ہے۔
وہی آگ جو وُجُود کو جُھلسا کر سنگِ مَرمَر بنا ڈالے۔
ہمیں اپنی سرزمینوں پر پَنپنا ہے۔
نِیلم ملک

رَجعت … سو لفظوں کی کہانی … نیلم ملک” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں