دیکھا جو اُس کے بھیگے بدن کی تراش کو … غزل … حسین مجروح

Spread the love

دیکھا جو اُس کے بھیگے بدن کی تراش کو
مچلی بہت یہ آنکھ وہاں بود و باش کو
پتّوں کی بانٹ سے تو یہ لگتا ہے چرخ نے
پھینٹا نہیں ہے ٹھیک سے قسمت کی تاش کو
چکھتے کہاں ہے حسن کا سارا ثمر کہ ہم
معیار جانتے ہیں فقط ایک قاش کو
اشیاء کی چاہتوں میں گھرا آدمی کہاں
محسوستا ہے فرقِ تلاش و معاش کو
ناتے سبھی ہیں سانس کی ڈوری سے اس لیے
دریا قبولتا نہیں مچھلی کی لاش کو
مجروح اس کے بوسہ ء اول کی سنسنی
آوازتی ہے اب بھی لبِ خوش قماش کو
حسین مجروح

اپنا تبصرہ بھیجیں