معروف مزاح نگار،افسانہ نگار اور سکرپٹ رائٹرگلِ نوخیز اختر سے آغر ندیم سحر کا مکالمہ

Spread the love

سوال۔ اپنی پیدائش، خاندان ، تعلیمی زندگی وغیرہ کے حوالے سے کچھ بتائیے…!!!
جواب۔ پیدائش ملتان میں ہوئی۔بی کام تک تعلیم کا سلسلہ بھی ملتان میں ہی مکمل کیا ۔1994میں لاہور آگیا ، جنرلزم کیا اور روزگار کی تگ و دو میں مصروف ہوگیا۔تعلق اُس خاندان سے ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ نچوڑے ہوئے لیموں سے بھی گلاس بھر رس نکال لیتے ہیں ، یعنی شیخ فیملی سے ہوں۔
سوال- لکھنے کی طرف کیسے آئے اور پھر صحافت کا انتخاب کیسے کیا؟
جواب۔ نوائے وقت اور امروز کے بچوں کے صفحات پڑھتے پڑھتے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ یہ 1986 کی بات ہے۔ایک لکھاری کے لیے عموماً صحافت کا پیشہ ہی قریب پڑتا ہے لہذا بڑا شوق تھا کہ خود اخبار میں کام کروں اور اپنی ساری تحریریں خود ہی اہتمام سے شائع کرلیا کروں۔ ان دنوں ویسے بھی چونکہ لکھنے کے لیے کوئی اور میڈیم دستیاب نہیں تھا لہذا اخبارات کے ایڈیٹرز اور صحافی بڑی بلا شمار ہوتے تھے۔ میٹرک کے دنوں میں روزنامہ سنگ میل ملتان میں کچھ عرصہ بطور سب ایڈیٹر کام بھی کیا اور ادبی صفحہ بھی مرتب کرتا رہا۔اسی اخبار میں ’نوخیزیاں‘ کے نام سے کالم لکھنے شروع کیے جو آج تک جاری ہیں۔
سوال۔ اردو کی بہت ساری اصناف ہیں، آپ نے مزاح کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
جواب۔ میں نے تو افسانہ نگاری اور شاعری کا انتخاب کیا تھا۔ آج بھی اچھی کہانی میری جان نکال لیتی ہے۔میری پہلی کتاب’’چھارجی‘‘ بھی افسانوی مجموعہ تھا۔ مجھے کہانیاں لکھنے میں مزا آتا تھا۔شاعری میرا جوانی کا شوق تھااور جوانی کے ساتھ ہی ٹھکانے لگ گیا البتہ کہانی میرے اندر رچ بس گئی۔ اب بھی کبھی موقع ملتا ہے تو یہ شوق اپنے کالم کے ذریعے پورا کر لیتا ہوں۔رہی بات مزاح کی تو میں نے مزاح کو نہیں بلکہ شائد مزاح نے مجھے منتخب کیا حالانکہ میرے سکول میں جب بزم ادب کا پیرڈ ہوتا تھا تو لطیفہ سناتے ہوئے میری ٹانگیں کانپتی تھیں اور ماسٹر کریم بخش صاحب مجھے موٹی سی گالی دے کر کہا کرتے تھے کہ ’جب تجھے دوسروں کو ہنساناآتا ہی نہیں تو کیوں لطیفہ سناتے ہو‘‘۔ لیکن میرے اندر ایک بھرپور شرارتی لڑکا موجود تھا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے قہقہے تخلیق لگانے کی عادت نے تیکھے جملے کو سمجھنے کی حس بیدار کردی تھی۔اُن دنوں میں نے استاد محترم عطاء الحق قاسمی کے کالم بہت شوق سے پڑھتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ یہی وہ بندہ ہے جو خوشیاں بانٹنے کے مشن پر مامور ہے۔ اُن کا انداز تحریر مجھے بہت پسند آیا سو میں نے بھی اسی انداز میں لکھنا شروع کر دیا۔مزاح میرا شوق تھا، شوق مجبوری بن گیا، مجبوری پیشہ بن گئی اور پیشہ ضرورت بن گیا۔میں آج بھی سنجیدہ کالم بہت آسانی سے لکھ سکتا ہوں لیکن مجھ سے مزاح کی ڈیمانڈ ہوتی ہے اور سچی بات ہے ایک مزاحیہ کالم لکھ کر مجھے یوں لگتا ہے جیسے بیس فٹ گہرا کنواں کھود کر آیا ہوں۔ میرے لیے آج بھی مزاح لکھنا انتہائی مشکل ہے لیکن کیا کروں ساری آمدنی کا دارومدار اسی پر ہے۔
سوال۔ کہا جاتا ہے کہ مزاح کی عمر صرف سٹیج تک ہوتی ہے، آپ اس سے متفق ہیں؟
جواب۔ میرا خیال ہے آپ مزاح نگار اور کامیڈین کو مکس کر رہے ہیں۔کامیڈین اپنی ایکٹنگ سے لوگوں کو ہنستاہے۔ مزاح نگار اپنے قلم سے گدگدی کرتا ہے اور صرف گدگدی ہی نہیں کرتا بلکہ بہت سی اہم معاشرتی کمزوریوں سے بھی آگاہ کرتا چلا جاتاہے۔یہ تو اب چار پانچ سال سے مزاح نگار اپنی تخلیقات سٹیچ پر پیش کرنے لگے ہیں ورنہ عموماً اس سے پہلے کب ہوتا تھا کہ سٹیج پر نثری تحریر پیش کی جاتی تھی۔ صرف مشاعرے ہوتے تھے جن میں سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں طرح کی شاعری پیش کی جاتی تھی ۔عطاء الحق قاسمی صاحب نے نثری مزاح کی روایت کو چار چاند لگاتے ہوئے الحمراء میں ہونے والی پہلی ادبی کانفرنس میں ایک سیشن مزاح نگاری کا بھی رکھا جس میں مجھ سمیت دیگر مزاح نگاروں کو پہلی بار سٹیج پر حاضرین کے سامنے مزاحیہ تحریر پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ لیکن اس مزاح سیشن کا رسپانس اتنا شاندار تھا کہ اگلی کانفرنس میں پھر یہی سیشن رکھا گیا۔ کچھ مجھ پر بھی جنون طاری ہوگیا کہ نثری مزاح کو فروغ دیا جائے۔ سو دوستوں نے مل کر کالجز اور یونیورسٹیز کو قائل کیا کہ وہ مزاحیہ مشاعروں کے علاوہ محفل مزاح بھی منعقد کیا کریں اور صرف نثری مزاح کی طرف مائل ہوں۔ شروع شروع میں یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ نثری مزاح کیاہوتا ہے لہذا اکثر جب کسی کالج میں نثری محفل مزاح کا اہتمام کیا جاتا تو دعوتی کارڈ پر ’مزاحیہ مشاعرہ‘ کے الفاظ ہی درج ہوتے تھے۔لیکن خوشی ہوتی ہے کہ محنت رنگ لائی اور اب نثری مزاح کی شاندار تقاریب منعقد ہونا شروع ہوگئی ہیں۔میں نے اس سلسلے میں ’طنزومزاح‘ کے نام سے یوٹیوب چینل بھی شروع کیا جس میں صرف نثری مزاح کو شامل کیا گیا ہے اور یقین کیجئے توقع سے بڑھ کر فیڈ بیک آتا ہے۔یہ چینل اردو مزاح کا سب سے بڑا آرکائیو بن چکا ہے جس میں مختلف مزاح نگار خواتین وحضرات کی اپنی تحریریں پڑھتے ہوئے سینکڑوں وڈیوز موجود ہیں۔اس چینل کی نثری مزاح لکھنے والے ہر فرد کو دعوت ہے کہ وہ اپنی وڈیو ہمیں بھیجیں اور ہمارے آرکائیو کا حصہ بنیں۔
سوال۔ نوخیز بھائی ایک مزاح تو وہ ہے جو آپ یا قاسمی صاحب یا دیگر کچھ مزاح نگار لکھ رہے ہیں لیکن ایک مزاح وہ ہے جو ہمارے سٹیج یا تھیٹر میں بولا جارہا ہے۔آپ کی دونوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟
جواب۔ دونوں کیDomains الگ ہیں۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ تحریری مزاح میں بہرحال درون خانہ ایک بھرپور میسج ضرور ہوتاہے ۔ لیکن سٹیج کا مزاح چونکہ کمرشل صنف میں آجاتا ہے لہذا وہاں انٹرٹینمنٹ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔میں اُسے بھی برا نہیں سمجھتا۔پوری دنیا میں مزاح کا مقصد خوشگواریت کی فضا پیدا کرنا ہوتاہے۔ لیکن مزاح نگار جب کچھ لکھتا ہے تووہ صرف ہنسانے کے لیے ہی نہیں ہوتا بعض اوقات اس میں آنسو بھی ٹپکتے دکھائی دیتے ہیں۔میں تو اکثر کہتا ہوں کہ اچھا مزاح نگار وہی ہے جو ہنساتے ہنساتے رُلا دے۔
سوال۔ہمارے ہاں حقیقی مزاح لکھنے والے بہت کم ہیں، ایسا کیوں ہیں؟
جواب۔ اب چونکہ ’’حقیقی مزاح‘ ‘ کی اصطلاح میرے لیے نئی ہے اس لیے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ہر کسی کے ہنسنے کا اپنا پیمانہ ہے لہذا یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ حقیقی مزاح کیا ہوتاہے۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اچھا مزاح وہی ہے جو بہرحال آپ کو تبسم یا قہقہہ ضرور عطا کرے۔ہمارے ہاں نئے مزاح نگاروں میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ آرہا ہے کہ وہ جملے کی طوالت کے خطرے سے آگاہ نہیں ہوپاتے۔مزاح کے جملے کو مصرعے کی طرح ہونا چاہیے، مکمل اور باوزن۔
سوال۔مزاح کو بطور سلیبس کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی یعنی صرف یوسفی صاحب یا چند ایک کو جگہ ملی …ایسا کیوں؟
جواب۔ آپ نے ٹھیک کہا۔ ایسا شائد اس لیے بھی ہے کہ ہمارے ہاں نئے مزاح کی نمو بہت سست روی کا شکا ر ہے۔ ویسے بھی اس میں محنت زیادہ ہے۔ ایک نوجوان نسبتاً کمزور شعر بھی کہہ لے تو بہرحال شاعر کہلاتا ہے ۔آپ نے کئی ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ان کا فلاں رشتہ دار شاعرہے۔ جب آپ اس کا کلام دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتاہے کہ ایک بھی شعر وزن میں نہیں لیکن اس کے باوجود لوگ اسے شاعر کہتے ہیں۔فیس بک پر بے وزن شاعروں کا انبار لگا ہوا ہے لیکن پڑھنے والوں کی اکثریت چونکہ شعری محاسن ، تراکیب اور اوزان سے ناآشنا ہے لہذا انہیں لگتا ہے کہ دو لائنوں میں لکھی ہوئی ہر چیز شعر ہوتی ہے۔ لیکن مزاح میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایک عام بندے کو بھی اگر آپ کہیں کہ یہ مزاحیہ تحریر ہے تو وہ توقع رکھے گا کہ اُسے تحریر پڑھتے ہوئے ہنسی آئے۔یہ بڑا سخت معیار ہے جس کا فیصلہ بھی فوری ہوجاتا ہے اس لیے بھی لکھاری اس صنف میں آنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اسی لیے سلیبس میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔دوسری بات یہ کہ شاعری کرنے میں مشاعرے کی صور ت ایک پلیٹ فارم میسر ہوتاہے اس لیے نوجوان شاعری کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔
سوال۔ آپ کے مزاح کا ایک خاص سٹائل ہے یعنی بے کار کی جگتوں کی بجائے عمومی اور واقعاتی تناظر سے تخلیق کیا ہواصاف ستھر ا مزاح۔ آپ نے کہیں سے اس کی تربیت لی؟
جواب۔ بالکل تربیت لی…مشتاق احمد یوسفی کی کتابوں سے، عطاء الحق قاسمی کے کالموں سے، پطرس بخاری کے انداز تحریر سے اور دیگر شہہ سواران ِ مزاح کے جملوں سے۔ دیکھئے بہترین افسانہ لکھنے کا طریقہ ہے کہ بہترین افسانے پڑھیں، بہترین شاعربننا چاہتے ہیں تو بہترین شاعروں کو پڑھیں۔ یہی فارومولامزاح سمیت ہر چیز پر فٹ بیٹھتاہے۔مزاح ہر چیز میں موجود ہے۔ بس اسے ڈھونڈنے کا گر آنا چاہیے۔ یہ گہرے کنویں کی تہہ میں بھی چھپا ہوا ہوسکتا ہے اورکسی پہاڑ کی چوٹی پر بھی۔لیکن جب آپ اسے ڈھونڈنے کا ہنر جان لیتے ہیں تو اسے اِسی کی آواز میں ایک سیٹی مارنے کی دیر ہے…یہ خودبخود دوڑا چلا آتاہے۔میں واقعاتی مزاح پر اس لیے بھی فوکس رکھتاہوں کہ اس سے مجھے اپنی بات سمجھانے میں آسانی رہتی ہے ۔ مجھے لوگوں کے شکلیں اور رویے آبزرو کرنے کا بہت شوق ہے۔ میں جہاز ، ٹرین یا بس میں بھی سفر کر رہا ہوں تو خاموشی سے مسافروں کو دیکھتا رہتاہوں۔ کئی لوگوں کی ایک ایک حرکت میں مزاح کے خزانے چھپے ہوتے ہیں۔کئی لوگ اچانک ایسا عام سا جملہ بول جاتے ہیں کہ خود انہیں بھی احساس نہیں ہوتا کہ کیا کہہ گئے ہیں۔ مثلاً ایک دفعہ میرے ایک دوست میرے ساتھ گاڑی پر جارہے تھے۔ انہیں مسواک کرنے کی عادت ہے۔ ایک جگہ انہوں نے گاڑی رکوائی اور فٹ پاتھ پر بیٹھے مسواک والے سے پوچھا کہ مسواک کتنے کی ہے؟ آگے سے مسواک والا بولا’کس لیے چاہیے؟‘۔
سوال۔ مزاح میں کسے استاد مانتے ہیں؟
جواب۔ بلاشبہ استاد محترم عطاء الحق قاسمی۔ میں نے ان سے بہت محبت پائی ہے۔ ان کے اندر ایک شفیق ترین انسان ہے۔میں نے اپنی موجودگی میں ان کے بدترین دشمنوں کو بھی ان کے پاس آکر معافی مانگتے دیکھا ہے لیکن قاسمی صاحب نے ہمیشہ کھلے دل سے انہیں ویلکم کیا۔ قاسمی صاحب نوجوان مزاح نگاروں کی چھائونی ہیں۔ان کے زیر سایہ بہت سے نوجوان مزاح نگاروں نے اپنا سفر شروع کیا۔ محبت کا ایک اتھاہ سمندر ہیں قاسمی صاحب…سو آپ مجھے مزاح کے فرقہ قاسمیہ کا ایک ادنیٰ سا کارکن کہہ سکتے ہیں۔
سوال۔کبھی محبت ہوئی؟ اور اگر ہوئی تو کامیاب بھی ہوئی یا محض خواب و خیال رہی؟
جواب۔ یہ ایک انتہائی دردناک قصہ ہے اور کئی دفعہ اسے بیان کرتے ہوئے خود بھی میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ بہرحال میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ جی ہاں میں نے محبت کی تھی…اور آج وہ میری بیوی ہے(ذرا ٹشو پیپر دیجئے گا)
سوال۔ (قہقہہ لگاتے ہوئے) تو گویا آپ کامیاب رہے؟
جواب۔ (ہنستے ہوئے) سو فیصد…ماں باپ کے بعدمیری زندگی کا محور و مرکز میری بیوی اور میرے بچے ہیں۔ یہی میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں، یہی میرے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور انہی کی وجہ سے میں مسکراہٹوں کی تلاش میں کامیاب ہوتاہوں۔
سوال۔ ہمارے بڑے اخبارات میں مزاح کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی دی جانی چاہیے تھی، ایسا کیوں ہے؟
جواب۔ حضور مجھے تو لگتا ہے لگ بھگ ہر کالم نگار مزاح پر ہی ہاتھ صاف کر رہا ہے۔میں جب زمانہ جاہلیت میں شاعری کیا کرتا تھا مشاعروں میں اکثر شاعر ناک بھوں چڑھاتے تھے کہ یہ تو کالم لکھتا ہے یہ کہاں سے شاعر ہوگیا؟ آج بھی آپ نے اکثر کالم نگاروں کے بارے میں یہ ریمارکس سنے ہوں گے۔ لیکن مزے کی بات ہے ہر دوسرا شاعر خود کالم نگار بنا ہوا ہے۔اور صرف کالم ہی نہیں، مزاحیہ کالم۔ان میں سے کئی بہت اچھے کالم لکھتے ہیں لیکن بہرحال ان کی پہچان شاعر کی ہے کالم نگار کی نہیں۔اصل میں ہمارے کچھ شعراء کو یہ زعم ہے کہ وہ شاعر، کالم نگار، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ناول نگارسب کچھ ہیں۔
سوال۔آج کے دور میں چلنے والے کامیڈی ٹاک شوز کی کوئی اہمیت ہے یا محض انٹرٹینمنٹ؟
جواب۔ محض انٹرٹینمنٹ کوئی چھوٹی چیز ہے؟ پیٹ تو گھر میں دال روٹی سے بھی بھرجاتاہے تو پھر ہم مہنگا پیزا کیوں کھاتے ہیں؟بلاوجہ لانگ ڈرائیو پر کیوں نکل جاتے ہیں؟گاڑی میں گانے کیوں سنتے ہیں؟ فلم کیوں دیکھتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ محض انٹرٹینمٹ اپنی جگہ ایک شاندار چیز ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر چیزکسی نہ کسی لیکچر پر ہی مشتمل ہو۔بعض اوقات بلاوجہ کا قہقہہ بھی ساری ٹینشن دور کر دیتا ہے لہذا میں کامیڈی ٹاک شوز کی ’محض انٹرٹینمنٹ‘ والی صفت سے بھی مطمئن ہوں۔
سوال۔ اب تک کتنے ٹی وی ڈرامے یا سکرپٹس لکھ چکے ہیں اور کتنے ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، آج کل کیا کر رہے ہیں؟
جواب۔ آج سے پندرہ سال پہلے مجھے احساس ہوگیا تھا کہ جس طرح کئی لوگ شادی کے قابل نہیں ہوتے اسی طرح میں نوکری کے قابل نہیں رہا۔ سو میںنے اپنا آفس بنایا اور فل ٹائم رائٹر کے طور پر پرائیویٹ کام کرنا شرو ع کیا۔اس کا یہ فائدہ ہوا کہ مجھ پر کسی چینل کی چھاپ نہیں لگی اور تقریباً سارے چینلز کے پراجیکٹس ہی آتے رہتے ہیں۔ عام طور پر ڈرامہ رائٹر کی اصل جاب کوئی اور ہوتی ہے لیکن وہ ساتھ ڈرامہ بھی لکھتے ہیں۔ میں نے اس کو مکمل طور پر پروفیشنل انداز دیا ہے۔یعنی ایک ایسے دفتر کی بنیاد رکھی جہاں صرف اور صرف سکرپٹس کا کام ہوتاہے۔آپ کا سوال تھا کہ کتنے ٹی وی سکرپٹس لکھ چکا ہوں۔ یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ بیسیوں ڈرامے ہیں ، ٹاک شوز ہیں، گانے ہیں، لنکنگ ہے، شارٹ فلمز ہیں۔ایکسپریس نیوز پر میرا لکھا ہوا ٹاک شو’’ڈارلنگ‘ ‘ گیارہ سال آن ایئر رہا۔ اسی طرح دُنیا نیوز کا ’مذاق رات‘ میرا شروع کیا ہوا ہے۔ہم ٹی وی پر سوپ کامیڈی سیریل ’زگ زیگ اور پھلجڑیاں‘۔ ٹیلی فلم ’کھٹ کھٹ‘۔اے ٹی وی پر’دوٹوک، سہیل کلینک، آدھا کار، شغل ان لمیٹڈ، بھولا ٹی سٹال، ہوائی عید، نو لفٹ لکھا۔اس میں دوٹوک اور سہیل کلینک وہ ڈرامے تھے جس میں سہیل احمد عرف عزیزی نے لازوال پرفارمنس دی۔ اے آر وائی پر ’کوکیز بیکری اور عید دربار ‘ کا سکرپٹ لکھا جسے معین اختر صاحب نے پرفارم کیا۔پی ٹی وی کے لیے تو 1999سے لکھ رہا ہوں۔ عید کے کئی سپیشل پلے ہیں، جاوید شیخ کا سٹ کام’ٹو ان ون‘۔ اسی طرح ایک ٹاک شو’وارننگ شو ‘ کے نام سے خود کیا۔جیو نیوز کے نادیہ خان والے مارننگ شو میں ’ہارر سکوپ‘ سیگمنٹ میرے ذمہ ہوتا تھا۔اس کے علاوہ پرائیویٹ ڈراموں کی تو شائد تعداد بھی یاد نہ ہو۔ اصل میں یہی وہ کام تھا جس سے بہرحال میری مالی آسودگی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ سو آج تک یہی کام کررہا ہوں۔ آج کل فلم کے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہا ہوں اور کچھ ٹی وی ڈرامے ہیں جن کے سکرپٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔
اس کے علاوہ یو ٹیوب پر اپنا ذاتی ایک چینل ’اچار‘ کے نام سے بھی شروع کیا ہوا ہے۔

سوال۔ کالم نگاری کی صنف نے کس حد تک ترقی کی اور اس کا مستقبل کیا ہے؟
جواب۔ کالم آپ کی پہچان کا ایک ذریعہ تو ہے…لیکن تخلیقی سفر کو مسلسل مہمیز دیے رکھتا ہے۔ ظاہری بات ہے اس میں معاوضہ بھی اچھا ملتا ہے لیکن معاوضے کی سطح تک پہنچنے کے لیے کم ازکم مجھے تو ایک اذیت ناک سفر طے کرنا پڑا۔میں سمجھتا ہوں کالم نگاری کی صنف کو فیس بک نے ٹکے ٹوکری کر دیا ہے۔ اب اچھا کالم اخبار کے علاوہ بھی سامنے آجاتاہے۔ بڑی شاندار ویب سائٹس وجود میں آئی ہیں جہاں سنسر پالیسی اخبارات کی نسبت بہت کھلی ڈلی ہے جس کی وجہ سے بات کہنے میں آسانی ہوگئی ہے۔ بڑے اخبارات میں البتہ اب بھی یہ پالیسی بڑی سخت ہے لہذا ناپ تول کر لکھنا پڑتاہے۔میرے خیال میںکالم نگاری کا مستقبل بھی آج جیسا ہی ہوگا کیونکہ بہرحال خبریں تو ہر اخبار میں ایک جیسی ہوتی ہیں، کچھ مختلف ہوتے ہیں تو کالمز ہوتے ہیں۔

سوال۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب۔ پرنٹ میڈیا ایک خاص عرصے بعد ختم ہوجائے گا۔ اب بھی بیشتر اخبارات اور میگزین آن لائن آچکے ہیں۔آپ کو یاد ہوگا ایک دور میں ’ضمیمہ‘ چھپا کرتا تھا۔ وہ تو بالکل ہی بند ہوچکا ہے۔کاغذی تحریر کا زمانہ ختم ہوتا جارہا ہے، یہ ہم جیسے لوگوں کے لیے دُکھ کی بات تو ہے لیکن ایسا ہی ہوتاہے۔ جب کاغذ ایجاد ہوا تھا تو شائد درختوں کی چھال پر لکھنے والے بھی اسی طرح اداس ہوئے ہوں گے۔میڈیم بدل جائے گا لیکن بہرحال اخبار آن لائن آئے یا کاغذ پر…کالم تو لکھنے والوں نے ہی لکھنے ہیں۔الیکٹرانک میڈیا بھی یوٹیوب کے آگے ڈھیر ہوتا نظر آرہا ہے۔عنقریب آپ کو اچھی اچھی کمپنیاں اپنے یوٹیوب چینلز کے ساتھ نظر آئیں گی اور اسی نسبت سے میڈیا کے مختلف شعبوں کے سٹاف کو بھی نوکریاں ملیں گی۔سوشل میڈیا ہی مستقبل کا میڈیا ہے۔ ابھی اس میں مصدقہ خبر کے حوالے سے مسائل موجود ہیں لیکن آہستہ آہستہ ایسی ویب سائٹس بھی چھانٹی ہوتی جائیں گی۔
سوال۔ان دنوں بہت سے نوجوان اور سینئرز کالم نگار لکھ رہے ہیں، آپ کے پسندیدہ کالم نگار کون ہیں اور کیوں ہیں؟
جواب۔ اخبارات اور ویب سائٹس کے سارے کالم نگار شامل کرکے میں عطاء الحق قاسمی، یاسر پیرزادہ، وجاہت مسعود، رضا عابدی، خورشید ندیم، انعام رانا، فرنود عالم، حسنین جمال اور کچھ دیگر احبا ب کے کالم میں کبھی مس نہیں کرتا۔
سوال۔ اور مزاح نگاروں کی تازہ کھیپ میں ؟
جواب۔ ہم نے ایک برائے نام تنظیم ’’ہیومر رائٹس‘ ‘ بنائی ہوئی ہے جس کے تحت مختلف پروگرامز بھی منعقد کرتے رہتے ہیں۔ سو اس حوالے سے ناصر محمود ملک، حسین احمد شیرازی، عائشہ عظیم، فاطمہ عمران، کرن خان، اشفاق ورک، شاہد ظہیر سید، علی رضااحمد، قمر بخاری، شہزاد بسرا، احمد سعید، حافظ مظفر محسن، ڈاکٹر محسن مگھیانہ ،ذوالفقار احسن سمیت کچھ دیگر بھی مزاح نگاری میں عمدہ کام کررہے ہیں۔ڈاکٹر یونس بٹ تو اب سینئرز کی فہرست میں آچکے ہیں۔

سوال۔اب تک کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں’
جواب۔ 9 کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں ’’آنکھیں غزل ہیں آپ کی (انتخابِ غزل) ، چھارجی (افسانے)، ٹائیں ٹائیں فش(مزاحیہ ناول)،نوخیزیاں(مزاحیہ کالم)، شرارتی (مزاحیہ کالم)، ڈونٹ وری(مزاحیہ کالم) ، رائٹرز ڈائریکٹری، طلسمہ(ناول) ،لیاری کنگ(مزاحیہ ٹاک شو) شامل ہیں جبکہ دو تازہ کتابیں اشاعت کے مراحل میں ہیں۔

سوال۔اپنا پسندیدہ شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈرامہ نگار بتائیں
جواب۔ پورا شاعر تو کوئی پسندیدہ نہیں البتہ شعر پسندیدہ ضرور ہیں جو مختلف شاعروں کے نکل آتے ہیں۔ لیکن بہرحال رانا سعید دوشی، عباس تابش، ندیم بھابہ، حسن عباسی، شازیہ اکبر، قمر ریاض ،سیدہ ہما شاہ اور تہذیب حافی زیادہ پسند ہیں۔موجودہ عہد کے ناول نگاروں میں محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب نے مجھے متاثر کیا ہے۔اسی طرح افسانہ نگاروں میں منیر احمد فردوس، سیمی کرن،منزہ احتشام گوندل، جمیل احمد عدیل، بشری اعجاز اور کئی نام ہیں جو فوری طور پر ذہن میں نہیں آرہے۔

سوال۔کرونا کے بارے میں کوئی رائے دیں؟
جواب۔ کرونا غریب لوگو ںکا لفظ ہے…سٹیٹس سمبل کا تقاضا ہے کہ اسے ’کووڈ19 ‘ کہا جائے۔ میں اس کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا یہ میرے بارے میں۔ لیکن احتیاط کرتا ہوں۔ماسک وغیرہ لگاتا ہوں اور سینی ٹائزر بھی رکھا ہوا ہے۔اس کے باوجود اگر کبھی میرا ٹیسٹ پازیٹو آگیا تو احتیاطاً دشمنوں کی ایک فہرست تیار کر رکھی ہے تاکہ محکمہ ہیلتھ کو بتا سکوں کہ میںاِن لوگوں سے ملتا رہا ہوں بلکہ جھپیاں ڈالتا رہا ہوں۔
آغر ندیم سحر:بہت شکریہ جناب گلِ نوخیز اختر کہ آپ نے تفکر کے قارئین کے لیے اپنا قیمتی وقت اور قیمتی گفتگو سے نوازا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں