جنگ بند … افسانہ … ابرار مجیب

Spread the love

جمیل بھائی کی زندگی یوں ہی گزر رہی تھی، بندھی بندھائی ، صبح اٹھنا ، ضروریات سے فارغ ہونا، کٹورا بھر چائے کے ساتھ بناسپتی چپڑے ہوئے تین چار پراٹھے تیزی سے نگلنا اور ڈیوٹی کے لئے گھر سے نکل پڑنا۔ منظر علی کی دکان سے پان لے کر وہ تیزی سے سائیکل کا پینڈل گھماتے ہوئے کارخانہ پہنچ جاتے ۔ شام کو لوٹتے وقت کینٹین سے بچوں کے لئے کچھ آلو چاپ اور کچھ سموسے خریدتے اور گھر واپس آجاتے ۔ ان کی اس بے کیف زندگی میں ان کا پرانا مرفی ریڈیو اکثر رس گھول دیا کرتا تھا ۔ یہ ریڈیو انہیں شادی میں ملا تھا اس لحاظ سے اس ریڈیو کی اپنی ایک تاریخی اہمیت بھی تھی ، خیر ان دنوں یہ تاریخی عجوبہ بھی خاموش پڑا تھا۔

یوں ہی گزرتی ہوئی زندگی کی لایعنی یکسانیت کا تسلسل دفعتا مانو بہت سی چٹانوں کے اچانک نمودار ہوجانے کی وجہ سے منتشر ہوکر رہ گیا ۔ جمیل بھائی ہی نہیں بلکہ پورا محلہ جیسے اچانک صدیوں پرانی نیند سے بیدار ہوگیا ۔

اس روز شام کے وقت بھائی جمیل بالٹی لئے پبلک نل میں نمبر لگائے کھڑے تھے……اور دیکھ رہے تھے……. دیکھ رہے تھے اور حیران ہورہے تھے……حیران ہورہے تھے اور سوچ رہے تھے ……. وہ سوچ رہے تھے کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ معاملے کی اہمیت کا اندازہ وہ فوری طور پر نہیں لگا سکے، لیکن چوک پر، بدرالدین عرف بادو کے خستہ حال چائے خانے میں، پان کی دکانوں کے آس پاس ، نیتا جی کے گھر کے سامنے بچھی بنچوں پر ، یہاں وہاں ، ادھر اُدھر عام دنوں سے کچھ زیادہ ہی بھیڑ نظر آرہی تھی ۔ بات اتنی سی ہوتی تو بھی کوئی بات نہ تھی ۔ جمیل بھائی کو محسوس ہورہا تھا کہ یہ لوگ ایک خاص قسم کی بے چینی میں مبتلا ہیں اور شاید کسی بہت ہی پیچیدہ مسئلے پر بحث و مباحثہ میں الجھے ہوئے ہیں۔ جمیل بھائی کے اندر تجسس کے جراثیم کلبلانے لگے اور اس سے قبل کہ وہ ان کیڑوں کو پرسکون کرنے کے لئے کوئی طریقہ ڈھونڈتے ان کے پیچھے لائین میں کھڑی پھول پریا کی ماں تیز آواز میں بولی۔ ارے کھڑا کھڑا کا سوچتا ہے؟ پانی بھرو ، پانی ، لمبر آگیا ہے تمرا۔

چونک کر انہوں نے بالٹی پانی کی دھار سے لگائی ، جلدی سے پانی گھر پہنچایا اور تیزی سے چوک پر آگئے۔ بادو کے چائے خانے میں دھواں دھار ڈائلاگ بولے جارہے تھے۔

امریکہ کا بولا ہے؟ ابے شام والا نیوج سنا ہے کہ نہیں ؟

ہاں بے سب سن کے آرہا ہے۔ لگتا ہے تم ہی ایک ٹھو نیوج سننے والا ہے۔

ارے یار ہم ای تھوڑے بول رہا ہے ، نیوج میں کا خبر ہے ای بتاوء ؟

ابے امریکہ عرب سے اپنا جہا ج اُڑائے گا ، سمجھا۔

سنا ہے ترکی بھی اپنا ہوائی اڈہ دے رہا ہے۔

اب بولو سالا مسلمانے مسلمان کا دُس من ہے۔

حضور صلعم نے فرمایا، چودھویں صدی کے بعد کیا ہوگا میں نہیں بتا سکتا، ارے یہ سب قیامت کے آثار ہیں بھائی۔ کھچڑی داڑھی والے مسجد کے موذن صاحب نے ایک لمبی اور انتہائی سر د آہ کھینچتے ہوئے کہا۔

ارے او بھولا…… ای سالا بھولوا کہاں ہے رے…… ہوٹل کے مالک بادو کی کھرکھراتی ہوئی آواز دفعتا تمام آوازوں پر حاوی ہوگئی۔

کا ہے؟ بھولا کہیں سے نکل کر بولا۔

کا ہے…….آئیں……. ماریں گے سالے چار جوتا دماگے ٹھیک ہوجائے گا۔ کہاں مر گیا تھا بے؟……. چل جا احمد سیٹھ کے یہاں جلدی سے …… چار اسپیسل اور دو گلاس پانی…… کام نہ دھندا مارے رندا، ہنہ کام چوروا نہیں تو۔ خاموش ہوکر بادو مودبانہ انداز میں موذن صاحب کی طرف دیکھنے لگا لیکن شاید موذن صاحب آثار قیامت کے سلسلے کو مزید جاری رکھنے کے موڈ میں نہیں تھے۔

ہاں تو صدام حسین……. باتوں کا لامتناہی سلسلہ جاری تھا۔

اسی دوران، اچانک ایک بے نام لمحہ دھیرے سے جمیل بھائی کے اندر اترا اور انہیں تنہائی کے بے کراں سمندر میں غرق کرگیا۔ تنہائی کا احساس اس لئے نہیں تھا کہ وہ ان باتوں میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی محسوس نہیں کررہے تھے بلکہ اس لئے تھا کہ وہ مسلسل جاری اس عاقلانہ مباحثہ میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرپاررہے تھے۔ کرتے بھی کیسے جو کچھ معلوم ہوا تھا وہ یہیں سے ہوا تھا۔ انہوں کچھ ایسی خبریں ضرور سنی تھیں کہ جنگ ہونے والی ہے لیکن اچانک شروع ہوجائے گی اس کا انہیں اندازہ نہیں تھا، میزائل اور اسرائل، بار بار ان دو ہم صوت الفاظ کی تکرار نے بھائی جمیل کے پورے وجود میں سنسنی پیدا کردی تھی۔

مجلس ختم ہوئی ۔ بادو نے چائے خانہ بند کیا اور لوگ ایک ایک،دو دو کے گروپ میں اپنے گھروں کو لوٹ گئے……. بھائی جمیل رات بھر اپنے بستر پر کروٹیں بدلا کئے۔

دوسرے روز پہلی فرصت میں بھائی جمیل نے بے جان مرفی ریڈیو کو میکینک کے حوالے کیا لیکن وہاں پہلے ہی سے مرمت کے لئے ریڈیو کی خاصی تعداد موجود تھی اور دوچار روز کے اندر ریڈیو ملنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔

جنجھلا کر وہ بینک پہنچے ، روپے نکالے اور بازار سے ایک بلیک اینڈ وہائٹ پورٹیبل چودہ انچ کا ٹی وی خرید کر لے آئے۔ اینٹینا وغیرہ سیٹ کروانے کے بعد انہوں نے راحت کی سانس لی، گھڑی دیکھی ابھی سماچار کا وقت نہیں ہوا تھا ۔ بچوں کو سختی سے ٹی وی نہ چھونے کی تاکید کرتے ہوئے وہ باہر نکل آئے۔ نیتا جی کے گھر کے سامنے لوگ جمے ہوئے تھے۔ بھائی جمیل کے وجود میں دوڑتی سنسنی مزید تیز ہوگئی ۔ نیتا جی فرما رہے تھے۔

ای جو ورلڈ پالٹکس ہے نا اُو آپ لوگوں کے برین سے اوپر کی چیز ہے۔ امریکہ اور عراق جھوٹ موٹ کا لڑ رہے ہیں لیکن ای بات آپ کاہے کو انڈر اسٹینڈ کریں گے۔

خون کھول کر رہ گیا جمیل بھائی کا لیکن نیتاجی کے سامنے زبان کھولتے ہوئے ڈرتے تھے، لہجہ دبا کر بولے۔ کا بول رہے ہیں نیتا جی؟ اتنی بڑی بربادی کا جھوٹ موٹ کی جنگ میں ہوتی ہے؟

نیتا جی کے ماتھے پر بل پڑ گئے ، خفا ہوکر بولے۔ بھئیے بربادی تو سچ مچ کی ہے سولہ آنے لیکن کوئی ہم کو ای بتائے کہ صدام حسین اور جارج بشوا کا سیلف نقصان کیا ہوا ہے۔ آئیں؟

جمیل بھائی نے محسوس کیا کہ وہ زیادہ دیر تک اس سڑک چھاپ نیتا کی باتیں برداشت نہیں کرپائیں گے، صدام حسین کے خلاف بولتا ہے سالا، دین ایمان سے کوئی مطلب ہو تب نا۔ وہ نیتا جی کی چوپال سے بے دل ہوکر بادو کے چائے خانے میں چلے آئے۔ یہاں تل ابیب پر اسکڈ میزائل کے تابڑ توڑ حملوں کی منظر کشی جاری تھی۔

گواہ رہئیے گا، اسرائیل نام کا ملک صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا، اس کا نیست ونابود ہونا طے ہے۔ موذن صاحب اپنی کھچڑی داڑھی سے ایک سفید بال کو نوچتے ہوئے بولے۔

بجا فرما رہے ہیں آپ ، اور یہ جو اسکڈ میزائل گرائے جارہے ہیں اس سے تباہی تو بے انتہا ہوئی ہوگی؟ کسی نے اپنے جذبہ تجسس کی تسکین کے لئے پوچھا

تباہی! ارے میاں وہاں لوگوں کو گیس ماسک تقسیم کئے جارہے ہیں۔ ہزاروں لوگ مارے جارہے ہیں ، کڑوروں کی جائداد تباہ ہوچکی ہے۔

او چچا عراقی…….دفعتا کوئی چلایا۔

چچا برکت علی تھے۔ ان کا نام چچا عراقی کیوں رکھ دیا گیا جمیل بھائی کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا اور ان کے اس سوال کا جواب چچا کے آتے ہی مل گیا۔ ابھی ابھی وہ نیتا جی سے الجھ کر آرہے تھے اور کافی جوش میں تھے۔

’’بات کرتا ہے۔ کیا جانتا ہے بے !کھدر پہن لینے سے آدمی گاندھی نہیں بن جاتا، بات کرتا ہے، ابے ہم سے پوچھو صدام حسین کیا ہے، صلاح الدین ایوبی ہے، صلاح الدین ایوبی……بات کرتا ہے۔‘‘

حاضرین مجلس میں بیشتر اسلامی تاریخ میں صلاح الدین ایوبی کے رول سے ناواقفیت کی بنا پر خاموش ہی رہے، کسی نے پوچھا چچا جنگ کا انجام ؟ اس بے حد اہم لیکن انتہائی پراسرار سوال نے جمیل بھائی کے اندر جیسے ٹھہرے ہوئے پانی ابال پیدا کردیا۔

ابے ابھی تو جنگ شروع ہوئی ہے۔ سنا نہیں صدام نے کیا کہا ہے۔ یہ جنگ تمام جنگوں کی ماں ہے۔ بات کرتا ہے……. ابے انجام میں بھی کوئی شک ہے کیا، ارے بندہ مومن کے سر پر ہی فتح کا سہرا بندھتا ہے۔

دور درشن کے سماچار کا وقت ہورہا تھا۔ لوگ اٹھنے لگے ، جمیل بھائی بھی گھر آکر ٹی وی کے سامنے جم گئے ، پہلے جنگ ہی کی خبریں تھیں ۔ بتایا گیا کہ بغداد کے ایک بنکر کو متحدہ افواج کے بمبار طیاروں نے میزائل سے تباہ کردیا ہے، ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے، عراق نے سعودی عرب پر اسکڈ میزائل داغا جسے امریکی پیٹریارٹ میزائلوں نے فضا ء میں ہی ضا ئع کردیا۔ سماچار سن کر جمیل بھائی کا چہرہ اتر گیا، پھر بھی گھر سے نکل کر وہ بادو ہوٹل کی طرف تیزی سے چل پڑے تاکہ لوگوں کو اس خبر کی جانکاری دے دیں اور سب سے بازی مار لے جائیں لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، وہاں پہلے ہی سے اس مسئلے پر سنجیدگی سے بحث جاری تھی۔

ارے سب جھوٹی خبر ہے، بی بی سی ریڈیو اور سی این این ٹی وی انگلینڈ اور امریکہ کا ہی تو ہے۔ دور درشن کو بھی ان ہی کے ذریعہ خبر مل رہی ہے۔ کسی نے حالات کی وضاحت کی۔

جمیل بھائی نے محسوس کیا بات میں وزن ہے۔ انہیں تھوڑی دیر پہلے جس دکھ نے آگھیرا تھا اس کی شدت میں کمی آگئی اور اترے ہوئے چہرے پر رونق بحال ہونے لگی۔

اس سلسلہ روزوشب کے درمیان محلے میں کئی نئی باتیں وقوع پذیر ہوئیں، مثلا یہاں کے لوگوں کو اخباروں اور کتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اب محلے میں اردو اخباروں کا سیلاب آگیا۔ بھانت بھانت کے رنگ برنگے اخبار دھڑا دھڑ جنگ نمبر نکال رہے تھے۔ اخبار نئی کائنات کا جنگ نمبر صرف پانچ روپے کا تھا لیکن اسے بلیک میں پچیس روپے کا فروخت کیا جارہا تھا ، اس میں خاص چیز صدام حسین کی وہ جاذب نظر تصویر تھی جس میں وہ فوجی وردی میں ملبوس بارگاہ خداوندی میں دعاگو تھے۔ جمیل بھائی نے بڑی مشکلوں سے یہ نمبر حاصل کیا تھا اور صدام حسین کی تصویر کو فریم کروا کر اپنے کمرے میں ٹانگ دیا تھا۔

اس سلسلہء روز و شب کے درمیان کئی بچوں کی پیدائش ہوئی ، ان میں زیادہ تر لڑکوں کے نام صدام حسین رکھے گئے۔ جمیل بھائی کو اس بات کا کافی افسوس تھا کہ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا چھ برس کا ہوچکا ہے اور اب اسکول بھی جانے لگا ہے اس لئے اب وہ خواہش کے باوجود اس کانام تبدیل نہیں کرسکتے۔

خیر سلسلہء روز وشب کا سفر یوں ہی جاری تھا……

اس روز مسجد سے نماز مغرب ادا کرکے جب جمیل بھائی باہر نکلے تو دیکھا لوگوں میں کافی جوش و خروش ہے۔

جی ہاں! عراق نے الخفجی پر قبضہ کرلیا ہے۔ ماسٹر محسن عثمانی بڑے جذبات کے ساتھ اعلان کررہے تھے۔

آپ کو پتہ ہے عراق کی پیدل فورس دنیا کی سب سے طاقتور اور خوفناک فوج ہے۔ جمیل بھائی نے لوگوں کے جنرل نالج میں اضافہ کرنا چاہا۔

معلوم ہے بے ، سب معلوم ہے۔ بات کرتا ہے۔ ابے یہ تو اخبار نوائے عام کے پرسوں والے ایڈیشن میں تفصیل سے لکھا تھا۔ چچا عراقی اپنے مخصوص لہجہ میں بولے۔

جمیل بھائی نے وہاں سے کھسک لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی کیونکہ برکت علی عرف چچا عراقی آج کل جس کے پیچھے پڑ جاتے تھے اس کے سامنے دو ہی راستے رہ جاتے تھے یا تو وہ چچا عراقی کا گلا گھونٹ کر انہیں ہمیشہ کے لئے خاموش کردے یا خود ہی خودکشی کرکے اس آسیب سے ہمیشہ کے لئے نجات پالے۔

جنگ میں شدت آتی گئی…… اور محلے کا ماحول گرم ہوتا گیا، ساتھ ہی سا تھ ہمارے جمیل بھائی کا دوران خون بھی تیز ہوتا رہا…… اس سنسنی خیزی ، اس تجربہء رومان نے جمیل بھائی کی رکی رکی سی زندگی کو کافی بامعنی اور پر جوش بنا دیا تھا۔

جمیل بھائی آج ڈیوٹی سے لوٹتے ہوئے کینٹین سے بچوں کے لئے آلو چاپ اور سموسوں کے علاوہ کچھ لڈو بھی خرید لائے ۔ کچھ دیر بادو ہوٹل میں گپ شب کی ۔ حالات یہ تھے کہ الخفجی سے خود صدام نے ہی عراقی فوج کو واپس بلا لیا تھا ۔ متحدہ افواج گراوء نڈ وار کے لئے تیار تھی اور بغداد پر بمباری کی شدت میں مزید اضافہ کردیا گیا تھا۔ محلے کے لوگ جیسے دم سادھے صدام حسین کی نئی حکمت عملی کا بڑی بے صبری سے انتظار کررہے تھے۔

گھر آکر جمیل بھائی نے آلوچاپ، سموسے اور لڈو بچوں میں بانٹ دئے۔ تھوڑا آرام کیا۔ اٹھے وضو بنایا۔ مسجد گئے اور نماز پڑھ کر لوٹ آئے۔ سماچار کا وقت ہوا، ٹی وی کا بٹن دبایا، اسکرین چمک اٹھا…… تھوڑی دیر بعد سماچار شروع ہوا۔

…… عراق نے کسی شرط کے بغیر کویت سے فوج واپس بلانے کے معاہدے پر فورا عمل درآمد شروع کردیا ہے، اس کے ساتھ ہی دونوں فریقوں نے جنگ بند……گ بند……ایک خوفناک دھماکہ تھا جو اچانک جمیل بھائی کے ذہن میں ہوا اور ان کے سینے کو ایک زبردست دھچکا لگا……

جنگ بند……ان کے دماغ میں گونجا، اور اس سے قبل کہ نیوز ریڈر اپنا جملہ مکمل کرتا جمیل بھائی نے ٹی وی آف کردیا…… اسکرین اندھیرے میں ڈوب گیا۔

جنگ بند……

ایک اندھیرا خود ان کے اندر بھی پھیلنے لگا۔ دماغ میں سناٹا اپنے پاؤں پسارتا جارہا تھا۔ ان کی حالت کچھ ایسی ہوگئی تھی جیسے انہوں نے اپنے کسی عزیز کی موت کی خبر سن لی ہو۔

کافی دیر تک وہ یوں ہی بیٹھے رہے، پھر باہر نکل آئے۔ بادو ہوٹل، نیتا جی کے گھر کے سامنے، چوک پر ، یہاں وہاں، ادھر اُدھر سب طرف خاموشی تھی…… سناٹا تھا۔

اچانک جمیل بھائی نے محسوس کیا جیسے وہ اس بے کراں کائنات میں بالکل تنہا رہ گئے ہیں اور تاریکی کا اتھاہ سمندر چاروں طرف ہلکورے لے رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں