بارش … افسانہ … ابرار مجیب

Spread the love

سفر کی ابتداء اور انتہا ہمیشہ نامعلوم ساعتوں کی گود میں اٹھکھیلیاں کرتی ہے اور ہم ذہانت کی ارفع سطح پر خود فریبی کے گیت گاتے ہیں۔ پکے راگ میں گیت کے بول فضا مرتعش ہورہے تھے اور باہر دھوپ نکھری ہوئی تھی۔ آسمان شفاف تھا۔ دور دور تک بادلوں کا نام ونشان نہ تھا، موسم سرما کا زمانہ تھا اس لیے آسمان پر بادل کم ہی نظر آتے، البتہ صبح صبح ہر طرف کہرے کی دھند ضرور چھائی رہتی۔ جیسے جیسے سورج کی روشنی میں تمازت آتی جاتی ……دھند چھٹتی جاتی اور……. جوں جوں سورج ……… دُور افق میں مغرب کی جانب اپنا سفر مکمل کرتا دھند کی چادر ایک ہلکی پرت کی صورت پھیلتی جاتی۔

یعنی زمین کی گردشوں کی صورت یہ سب ، یا سب کچھ۔

عمل اور پھر اس کا ردعمل!

اور ہم اسی مقام پر آ پہنچتے ہیں جہاں سے سفر کی ابتداء کی تھی۔ اگر اتفاقا” آسمان پر سیاہ گھنے بادل چھا بھی جائیں تو ہمارے دل و دماغ میں بظاہر یہ معمولی مگر بباطن ایسی گہری بات نہیں آ سکتی کہ بارش ہوسکتی ہے، بلکہ ہونے کا پورا پورا امکان ہے…… لیکن میری تجربہ کار ماں ہمیشہ مجھے آگاہ کرتی رہتی تھی۔

دُور کی کوڑی تو دور اندیش ہی لایا کرتے ہیں، اور دور اندیشی کے جراثیم بزرگوں میں کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں، اس کی وجہ بھی ہے عمر ، مشاہدہ اور تجربہ…….گزرے ہوئے زمانوں کو اپنے سینے کی قبروں میں چھپائے ہوئے یہ لوگ، پرانے راستوں کے گھماؤ ، پیچ وخم اور نشیب وفراز کو یاد کرکے جیتے ہیں اور اس پر فخر سے سر بلند کرکے ،مسرت اور سرشاری کے جذبوں سے معمور ہمیں تلقین کرتے رہتے ہیں کہ ہم الٹے قدموں ان ہی راستوں پر گامزن ہوں ، ان ہی رستوں پر کہ جن پر چل کر وہ قبر کی دہلیز تک پہنچے …… اس طرح ان کے خیال میں ہم معدوم پتھروں کی ٹھوکروں سے محفوظ رہیں گے۔

لیکن مجھے کیوں لگتا ہے کہ ہم …….

ان کے سفر کی تکمیل ہیں……

اور پھر……

ایک نئے سفر کا بلاوا……

ایک اور تکمیل…….

پکے راگ میں ایک گیت مسلسل چند لفظوں کی تکرار کے ساتھ کانوں میں گونچ رہا تھا۔ جانے کتنی صدیوں سے یہ گیت ایک ہی راگ میں جاری تھا ۔ اور آسمان پر بادلوں کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ ہر جہت دھوپ ہی دھوپ ، ایسے میں بارش کی امید بھی خود فریبی کی علامت تھی……. لیکن شام ہونے سے قبل ہی نیلا آسمان گھنے سیاہ بادلوں میں پوشیدہ ہوگیا…….

یاد کے پردے پر ایک منظر ہے…… کہ ہم روزانہ ندی کے کنارے ریت پر جاکر بیٹھ جاتے تھے اور پہاڑیوں کے پیچھے ڈوبتے سورج کا شرمسار چہرہ دیکھا کرتے تھے ، لیکن آج تو وقت سے پہلے ہی تاریکی چھا گئی تھی، اس تاریکی میں سورج کے فنا کا منظر آنکھوں میں اتارنا ناممکن تھا……. یاد کے پردے پر ہم نے سیاہی پھیر دی اور ایک ٹھیڈی آہ بھر کر آنے والی ساعتوں کی کوکھ سے نکلنے والے معجزہ کے دیدار میں ٹکٹکی لگائے عالم سکوت میں چلے گئے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماحول میں ایک عجیب طرح کی گھٹن اور یاسیت کی بُو پھیل گئی۔ فضا بوجھل ہوگئی، ہوا تھم گئی اور لوگ باگ اونگھنے لگے۔

لیکن وہ ایک بے چینی کا شکار تھی۔ اس نے کسمپرسی کے عالم میں کہا کہ اسے ہلکا ہلکا درد شروع ہوچکا ہے۔ باہر سڑک پر چھوٹے چھوٹے بچے رنگ برنگے اونی کپڑوں میں ملبوس جگہہ جگہہ منہ سے بھاپ اگلتے نظر آرہے تھے، اور اس طرح اپنے اپنے قدموں کو تول رہے تھے جیسے پرندے اُڑان بھرنے سے پہلے اپنے پروں کو تولتے ہیں۔

پہلے ٹپ….. ٹپ…… ٹپ ادھر اُدھر بوندیں گرنے لگیں ، پھر ہلکی اور اچانک تیز بارش شروع ہوگئی، لیکن عجیب بات یہ تھی کہ نہ بادل گرجا، نہ بجلی چمکی اور نہ ہی تیز ہوائیں چلیں ……. بس یوں ہی بارش شروع ہوگئی۔ مانو بارش اپنی مرضی سے شروع نہ ہوئی ہو بلکہ کسی جبر کے زیرِ اثر برس پڑی ہو…… ایک بے دلی کے ساتھ۔

کچھ بھی تو اپنی مرضی سے نہیں ہوتا۔

سب کچھ کسی جبر کے زیر اثر ہی ہوتا ہے۔

ہم دوسروں کے لیے اپنی جگہہ خالی کردیتے ہیں، عجیب بات ہے یہ دوسرے اس پرانی جگہہ کو نئی سمجھ کر خوش ہوتے ہیں، صدیوں کا سلسلہ ہے…… ایک نا مختتم سلسلہ۔

اس نامختتم سلسلہ پر شاگرد نے سوال کیا…… ہے پربھو یہ چکر ویو کیا ہے؟ کیا اس سے مکتی کی کوئی راہ نہیں ؟

رشی کے ہونٹوں پر ایک سوکھی سی مسکان اُبھری ۔’’بالک جس طرح ہم پرانے وستروں (کپڑوں)کو تیاگ کر نیا وستر (کپڑا) دھارن کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح نئے وستر پرانے ہوجاتے ہیں اور تیاگ دئے جاتے ہیں۔‘‘

مجھے کسی خوف نے آگھیرا ، جس میں موت کی اذیت شامل تھی۔ میری نظروں کے سامنے رنگ برنگے اونی کپڑوں میں ملبوس گہری سوچ میں غرق، منہ لٹکائے ہوئے بچوں کے چہرے ناچنے لگے جن پر سفید سفید پپڑیاں سی جمی ہوئی تھیں اور جو اپنے قدموں کو اس طرح تول رہے تھے جس طرح پرندے اڑان بھرنے سے پہلے اپنے بروں کو تولتے ہیں۔

مجھے یاد آیا کہ ماں نے کون سا قصہ سنایا تھا۔

جس روز اس کی بارات آنے والی تھی ، اس دن موسلا دھار بارش ہونے لگی تھی ، یہی جاڑوں کا زمانہ تھا۔ رات سیاہ تھی اور بارش کا پانی سفید جو سیاہ رات کی ساہی میں ایک پھیلے ہوئے سیاہ کمبل کا نظارہ پیش کررہا تھا۔ شادی کی خوشیوں کی جوالا مکھی کو اس برفیلی بارش نے برف سے بھی زیادہ سرد کردیا تھا۔ لوگ باگ روہانسے ہوگئے ، تقریباًرات کے دوبجے بارش کا قہر ختم ہوا اور بارات بالآخر آہی گئی، لیکن لوگوں کے چہروں پر وہ چمک اور خوشیوں کی دمک نہ آسکی جو بارش ہونے سے قبل پائی جاتی تھی۔

ماں ہمیشہ بتاتی تھی کہ جب میں نو ماہ کا اس کی پیٹ میں تھا اور گھر میں تین دنوں تک وہ دردزہ سے تڑپتی رہی لیکن میرا جنم نہیں ہوا تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسپتال لے جایا جائے ، ورنہ ماں کی موت یقینی ہے۔ اسپتال گاؤں سے دس کوس دور شہر میں تھا۔ رات ہی سے آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ صبح صبح ہوتے ہوتے بیحد گھنے اور سیاہ ہوچکے تھے۔ وہی جاڑوں کا زمانہ ، گاؤں کے جو چند رکشہ والے تھے وہ اپنے اپنے گھروں میں گرم گرم بستروں کے اندر اونگھ رہے تھے۔۔ کافی پریشانی کے بعد ایک بیل گاڑی کا انتظام ہوا جس میں دو مریل بیل جُتے ہوئے تھے ۔ بیل گاڑی نے رینگنا شروع کیا اور بارش شروع ہوگئی۔ تین دنوں تک مسلسل بارش ہوتی رہی …… اور ماں اسپتال میں درد کی شدت سے چھٹپٹاتی رہی …… بارش اور میرا جنم ……. اور گاؤں کا سیلاب ماں کے مطابق ایک تاریخی واقعہ تھا۔

ماں کو اب یہ یاد نہیں رہا کہ بارش ہوئی تھی تو بادل گرجے تھے کہ نہیں ، بجلی چمکی تھی کہ نہیں ، تیز ہوائیں چلی تھیں کہ نہیں …… لیکن مجھے نہ جانے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوگا۔ ایس بارشیں بہت خاموش ہوتی ہیں۔ جیسے قہر اچانک نازل ہوجاتا ہے۔

ماں کی کہانی اور ایسی کئی کہانیاں مجھے حیران کردیتی ہیں۔

سوچتا ہوں ، یہ بارش ، خاموش بارش ، موسلا دھار بارش ، سیاہ بارش …… جاڑوں کی اندھیری راتوں میں ایک سیاہ کمبل کی طرح کیوں خود کو کھولتی ہے۔

خیال آتا ہے قدم تولتے بچوں کا……. اور اپنا۔

اپنے بچپن کا اور بارش کا…….

پرندوں کا اور اڑانوں کا……..

بارش کا اور بھیگے ہوئے پروں کا…….

کہ بارش پابند ہے ، ایک جبر کے تحت برستی ہے۔

میں حیران ہوں ، پریشان ہوں ، خوفزدہ ہوں……. اس روز بھی تو بارش ہوئی تھی جس روز مجھے کسی کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لینا تھا، ہمیشہ کے لیے …… لیکن کتنی موسلا دھار بارش تھی وہ کہ باہر کی نالی کا گندہ پانی گھر کے کمروں میں داخل ہوگیا تھا…… وقت گزرتا جاتا ہے، دبے پاؤں کہ اس کے گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اور اب وہ اسپتال میں ہے، بارش شروع ہوچکی ہے، دل ایک اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہے…… مجھے رنگ برنگے اونی کپڑوں میں ملبوس گہری سوچ میں غرق منہ لٹکائے ہوئے بچوں کے چہرے جن پر سفید سفید پپڑیاں سی جمی ہوئی ہیں…….نظر آرہے ہیں۔

سوچتا ہوں ، شاید نوزائدہ بچوں کی جلد پر بھی سفید سفید پپڑیاں جمی ہوتی ہیں ۔

بارش تھم چکی ہے لیکن وہ جو سامنے پیپل کا درخت ہے اس کے پتوں سے ابھی تک بوندیں ٹپک رہی ہیں …… ٹپ ……ٹپ ……ٹپ …….

فون کی گھنٹی بجتی ہے۔

’’ہلو‘‘

دوسری طرف سے کسی نے کہا ۔ مبارک ہو……

میں ریسیور ہاتھ میں لیے پیپل کے پتوں سے ٹپکتی بوندوں کو بے خیالی میں دیکھتا رہا

وقت دبے پاؤں گزر گیا…….

بارش کے بعد ، پیپل کے پیڑ پر بیٹھے نوخیز پرندوں نے اپنے پر پھڑپھڑائے اور پانی کی بوندیں ادھر ادھر بکھر گئیں ۔ انہوں نے اپنے پروں کو تولا اور یکے بعد دیگرے اڑ گئے…… میری نظروں نے ان پیچھا کیا لیکن کب تک وہ تو آسمان کی وسعتوں میں کہیں گم ہوچکے تھے…… شفاف آسمان میں فی الحال سورچ چمک رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں