موت … ابرار مجیب

Spread the love

اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھا۔ اندھیرے کا ناگ ہر طرف پھن کاڑھے سرسر ا رہا تھا۔ اتنا گھنا اندھیرا کہ اسے خود اپنے وجود پر سے اعتبار اٹھ رہا تھا۔ شک کی تیز لہریں اس کے ذہن کی دیواروں سے ٹکرانے لگیں۔ ’’میں ہوں؟‘‘

’’میں ہوں؟؟‘‘

پہلے ایک سوال ابھرا۔۔پھر سوالوں کے دائرے ابھرے اور لمحہ بہ لمحہ گنجان ہوتے چلے گئے۔

’’ کہیں میں خود بھی تو اسی اندھیرے کا حصہ نہیں؟

’’یہ اندھیرا میں خود ہی تو نہیں؟‘‘

’’کیا روشنی بھی کوئی شئے تھی؟‘‘

سوالات، سوالات ، سوالات…….

سوچ ، سوچ کا سمندر…….

گھبرا کر اس نے آنکھیں موند لیں۔

آنکھیں کھولنے اور موندنے کا لاحاصل عمل نہ جانے کب سے جاری ہے۔ وقت کے سمندر میں لگاتار لمحوں کے بھنور پڑرہے ہیں، اور سورج کا کہیں پتہ نہیں۔ کیا وہ اسی طرح تاریکی کی سڑاند میں گھٹ کر دم توڑ دے گا؟ خیالات کی رسی پھندا بن کر اس کے گلے کو بھینچنے لگتی ہے۔ احساسات کا دھواں اس کے اندر پھیلنے لگتا ہے، اور وہ ان خیالات اور احساسات کو گر د آلود کپڑوں کی طرح جھاڑتا رہتا ہے۔

سمٹ سمٹا کر اس کا وجود اس اندھی کوٹھری میں محصور ہوگیا ہے۔ کن لوگوں نے اسے قید کردیا ہے، یہ بھی یاد نہیں۔ روشنی کی ایک دوھیا کرن کے لئے نہ جانے کب سے اس کی آنکھیں ترس رہی ہیں۔ وہ اس اندھی کوٹھری سے باہر نکلنا چاہتا ہے لیکن شاید اس میں نہ تو کوئی دروازہ ہے اور نہ ہی کھڑکیاں۔ چیخ چیخ کر اس کے گلے میں خراشیں پڑ چکی ہیں۔ بے حس وبے جان دیواروں سے سر ٹکراٹکرا کر وہ تھک چکا ہے او ر اپنے ہی لہوکا ذائقہ کئی بار اپنی زبان کی نوک پر محسوس کرکے کانپا ہے۔تلخ اور گھناؤنا ذائقہ…….

دفعتاکسی کے قدموں کی آہٹ سن کر وہ چونک گیا۔ پھر کسی نے دھیرے سے پکارا۔’’ڈیڈی!‘‘

وہ دم سادھے رہا، کہیں یہ میری سماعت کا دھوکا تو نہیں؟ بھلا اس اندھی کوٹھری میں مجھے پہچاننے والا کون ہو سکتا ہے؟

’’ڈیڈی!‘‘

تو کیا میں کسی کا ڈیڈی بھی ہوں۔ کوئی میرا بیٹا بھی ہے، ا س خوفناک اندھیروں میں رشتے ناتے؟ یہ بیہودہ مذاق کون کررہا ہے۔ اس کے دانت ایک دوسرے پر بڑی سختی سے جم گئے۔

’’ڈیڈی !‘‘ اس بار آواز بہت صاف تھی۔

اس نے ڈرتے ڈرے آنکھیں کھولیں، یہ کیا!!! وہ بھونچکا رہ گیا۔

یہ تو وہ اندھی کوٹھری نہیں جس میں وہ محصور تھا۔یہ تو کوئی اور ہی جگہ ہے۔ایک سجاسجایا خوبصورت کمرہ۔ دروازے اور کھڑکیوں پرپھولدارریشمی پردے لہرارہے ہیں۔ خوبصورت جلدوں سے مزیں کتابیں حسین الماریوں میں رکھی ہوئی ہیں۔ رنگین ٹی وی، خوبصورت فرج، سامنے کارنس پر گلدانوں میں پلاسٹک کے قدرتی رنگوں کو مات دینے والے پھول مسکرا رہے ہیں۔ دیواروں پر دنیا کے عظیم مفکروں کی تصویریں سنہری فریموں میں جڑی آویزاں ہیں۔ ایر کنڈیشن کی خوشگوار خنکی کمرے میں ہلکورے لے رہی ہے۔ ہلکی دودھیا روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی ہے۔

وہ خود ایک آرام دہ صوفے میں دھنسا ہوا ہے۔ سامنے میز پر ایک موٹی سی کتاب کھلی ہوئی ہے اور درمیان میں ایک سنہرا قلم رکھا ہوا ہے۔کتاب کی عبارتوں کے نیچے کئی ایک جگہ سرخ روشنائی سے نشانات لگائے گئے ہیں، اور ایک طرف حاشیے میں کچھ نوٹس بھی لکھے گئے ہیں۔ میز پر ہی رکھے ہوئے ایش ٹرے میں پھنسا سگار دھیرے دھیرے سلگ رہا ہے۔

اس نے ایش ٹرے سے سگار اٹھا کر ہونٹوں کے بیچ دبایا اور سر اٹھا کر سامنے کی طرف دیکھا۔ کوئی کھڑا ہوا ہے، کون ہے یہ؟صورت تو کچھ جانی پہچانی سی لگتی ہے۔ کہاں دیکھا ہے اسے؟ اچانک وہ چونک گیا اور اس کے چہرے پر عجیب قسم کے تاثرات ابھر آئے۔ یہ کیا ہوتا جا رہا ہے مجھے؟؟

’’کیا بات ہے ؟ کیوں آئے ہو؟؟‘‘ اس نے ٹوٹے ہوئے لہجہ میں پوچھا۔

’’ ڈیڈی ، آخر آپ کو ہو کیا رہا ہے، Absolutely absent ۔‘‘

’’ بکواس مت کرو، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ کیا بات ہے؟‘‘

’’ مسٹر اگروال آئے تھے، روپیے دے گئے ہیں، ان کے بیٹے کے سیلیکشن …..‘‘

’’جاؤ…….‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کے لئے کہا۔

’’ڈیڈی ۔‘‘ لڑکا بڑے پیار سے بولا….. ’’ میں اس پیسے سے بائیک لے رہا ہوں۔‘‘

’’ہوں۔‘‘ وہ ہولے سے غرایا۔ لڑکا چلا گیا۔

ایک بار پھر اندھیروں نے یلغار کردی ۔ اب وہ پھر اسی اندھیری کوٹھری میں محصور ہوچکا ہے۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا لیکن اس اندھیری کوٹھری میں دروازے ہیں نہ کھڑکیاں۔

اس نے گھبرا کر آنکھیں موند لیں۔

دوسرے دن یونیور سیٹی سے لوٹتے ہوئے ایک جگہ ہجوم دیکھ کر اس نے گاڑی روک دی۔ املی کے غلیظ گھنے پیڑ کے نیچے ایک دائرے کی شکل میں لوگ کھڑے تھے۔ اس نے اچک کر دیکھا، ایک عورت بالوں میں خاک ڈالتی ہوئی بدحواسی کے عالم میں رورہی تھی۔ پاس ہی ایک پھٹی ہوئی چادر میں کوئی لپٹا پڑا تھا اور چاروں طرف مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ زمین پر ادھر ادھر لوگوں کے پھینکے ہوئے سکے پڑے تھے۔

’’اللہ ، بھگوان کے نام پر، لاس واسطے کچھ دے دو بابا۔‘‘

عورت فریاد کرتی جارہی تھی۔

لوگ آرہے تھے، دیکھ رہے تھے، سکے اچھال رہے تھے اور اطمینان کی سانس لیتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ بے ساختہ اس کا ہاتھ بھی جیب میں چلا گیا اور جب باہر نکلا تو اس کی انگلیوں کے درمیان ایک روپے کا سکہ چمچما رہا تھا۔ ابھی وہ سکہ اچھالنا ہی چاہ رہا تھا کہ ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا اور لاش کے چہرے سے چادر ہٹ گئی۔ جیسے اچانک اسے بجلی کا شاک لگ گیا …… اس کا سارا وجود جھنجھنا کر رہ گیا…… اس نے بوکھلا کر سکے کو چھوڑ دیا اور انتہائی سرعت سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ یہ دیکھ کر اسے حیرت ہوئی کہ دوسرے لوگ بھی اتنی ہی تیزی سے بھاگ رہے ہیں۔

لاش کا چہرہ کسی اور کا نہیں خود اس کا اپنا چہرہ تھا۔

اب اسے قبر میں دفن سڑتی ہوئی لاش کی بو ہر طرف پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ گویا وہ کوٹھری نہیں قبر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں