اگستیہ … شخصیات

Spread the love

اگستیہ یا اگستیا (ہندی: अगस्त्य) ہندو مت میں ویدوں کے ایک مشہور دانشور (رشی) تھے۔ ہندوستانی روایات کے مطابق وہ ایک قابل ذکر سنیاسی اور برصغیر کی مختلف زبانوں میں ایک بااثر عالم تسلیم کیے گئے ہیں۔ وہ اور ان کی زوجہ لوپا مُدرا سنسکرت کی مذہبی کتاب رگ وید کے بھجن 1.165 تا 1.191 اور دیگر ویدی ادب کے مصنف ہیں۔
اگستیہ کا نام متعدد داستانوں اور پرانوں (مثلاً دیومالائی کہانیوں اور علاقائی داستانوں) میں آتا ہے جن میں خاص طور پر رامائن اور مہا بھارت شامل ہیں۔وہ ویدوں کے سات یا آٹھ انتہائی قابل احترام رشیوں میں سے ایک ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کا ذکر شیو مت کی روایت تمل سِدّھار میں ایک سِدّھار کی حیثیت سے آتا ہے۔ علاوہ ازیں شکتی مت اور ویشنو مت کے پرانوں میں بھی ان کو بہت قابل قدر گردانا گیا ہے۔ نیز وہ ان ہندوستانی دانشوروں میں سے ایک ہیں جن کے قدیم مجسمے اور خاکے جنوبی ایشیا کے ہندو مندروں اور جنوب مشرقی ایشیا جیسے جاوا، انڈونیشیا وغیرہ میں ابتدائی قرون وسطیٰ میں تعمیر شدہ شیو کے مندروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ قدیم جاوی زبان کی تحریر، اگستیہ پرب میں وہ ایک بنیادی کردار اور استاذ کا درجہ رکھتے ہیں جس کا 11 ویں صدی کا نسخہ اب تک موجود ہے۔
اگستیہ کو روایتی طور پر کئی سنسکرت تحریروں کا مصنف مانا جاتا ہے، جیسے اگستیہ گیتا کو وراہ پران میں پایا گیا، اگستیہ سمہیتا کو اسکند پران اور “دویدھ نرنئے تنتر” میں پایا گیا۔ علاوہ ازیں ان کی دیومالائی شخصیت کا حوالہ من، کلساج، کمبھاج، کمبھایونی اور میترا ورونی کی حیثیت سے بھی دیا جاتا ہے۔
وجہ تسمیہ:
اگستیہ کے اشتقاق کے حوالے سے متعدد نظریات ہیں۔ ایک نظریے کے مطابق “اج” یا “انج” اس کا مادہ ہے جس کے معنی “روشن اور چمکنے والے” کے ہیں اور اس کا تعلق اگستیہ سے جوڑتا ہے، یعنی جو اندھیرے میں “روشنی پھیلاتا” ہے اور اگستیہ روایتی طور پر کینوپَس کا ہندوستانی نام ہے جو جنوب ایشیائی آسمانوں پر سیریس (Sirius) کے بعد دوسرا سب سے زیادہ چمک دار اور روشن ستارہ ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اس کو ایک پھولوں والے درخت سے بنایا گیا ہے جس کا نام اگاتی گاندی فلورا ہے، یہ برصغیر میں پایا جاتا ہے اور اسے تمل میں”اکٹّی” کہتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق “اگاتی” ارتقا پاکر “اگاستیح” میں تبدیل ہوا یہ نظریہ ویدوں کے اس دانش ور کی جڑیں دراوڑی ماخذ سے جوڑتا ہے۔
تیسرا نظریہ اگستیہ کا تعلق ہند یورپی ماخذ سے جوڑتا ہے، اس نظریہ کے مطابق یہ ایرانی لفظ گستہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی “گناہ اور ناپسندیدہ” کے ہیں اور اگستہ کا مطلب ہوگا “بے گناہ، پسندیدہ”۔چوتھا نظریہ لوک ماخذ سے منسوب ہے جو رامائن کے اشلوک 2.11 میں بیان کیا گیا ہے کہ اگستیہ، اگا (جامد یا پہاڑ) سے لیا گیا ہے اور مل کر یہ جڑیں یہ مطلب بیان کرتی ہیں “وہ شخص جو پہاڑوں کو ہلا دے” یا جامد چیزوں کو ہلا دے۔ اس لفظ کو اگستی اور اگستھیار بھی لکھا جاتا ہے۔(تمل: அகத்தியர் Agathiyar؛تیلگو: అగస్త్య؛ کنڑا: ಅಗಸ್ತ್ಯ؛ ملیالم: അഗസ്ത്യൻ or അഗസ്ത്യമുനി مالے: Anggasta؛ تھائی: Akkhot)
حالات زندگی:
رگ وید (1500 تا 1200 قبل مسیح) کے متعدد بھجنوں کے مصنف کو اگستیہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ بھجن ان کے حالات زندگی کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے ہیں۔ اگستیہ کے ماخذ افسانوی ہیں۔ اپنی روایتوں میں ویدوں کے زیادہ تر دانش وروں کے برعکس ان کی نہ تو کوئی انسانی ماں ہے نہ باپ۔ ان کی کرشماتی پیدائش ایک یوجنا کے بعد ہوتی ہے، جس کو ورون دیوتا اور متر دیوتا نے ادا کیا تھا، جہاں پر کائناتی اپسرا اُروَشی نمودار ہوتی ہے۔ دونوں دیوتا اُروشی کی غیر معمولی جنسی کشش سے جوش میں آجاتے ہیں اور مادّہ منویہ (نطفہ) کا اخراج کرتے ہیں۔ ان کا مادّہ منویہ کیچڑ کی ایک دلدل میں گرتا ہے، جو ایک ایسا رحم ہے، جس میں اگستیہ کا نطفہ پربن چڑھتا ہے۔ وہ اس مرتبان سے پیدا ہوتے ہیں؛ بعض دیومالائی داستانوں میں ان کے ساتھ ان کا جڑواں دانشور بھائی وسشٹھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ دیومالائی داستان انھیں کمبھایونی کا نام دیتی ہے، جس کے لفظی معنی “وہ شخص جس کا رحم کیچڑ کا مرتبان ہو۔
اگستیہ پاکیزہ اور نظم و ضبط سے بھرپور زندگی گزارتے ہیں، خود کو تعلیم یافتہ کرتے ہیں اور معروف دانشور بن جاتے ہیں۔ وہ برہمن والدین سے پیدا نہیں ہوتے، لیکن ان کو بہت ساری ہندوستانی تحریروں میں ان کے علم و دانش کی وجہ سے ‘براہمن’ کہا جاتا ہے۔ ان کے نامعلوم ماخذ نے قیاس آرائیوں پر مبنی اس تجویز کو شہ دی ہے کہ ویدوں کے دور کے اگستیہ مہاجر آریائی ہو سکتے ہیں، جن کے خیالات نے جنوب کو متاثر کیا اور متبادل طور پر ایک آبائی غیر آریائی دراوڑ، جن کے خیالات نے شمال کو متاثر کیا۔
پران کی اور قدیم داستانوں کی عدم تسلسل پر مبنی روایتوں کے مطابق ، پرہیز گار دانش ور اگستیہ نے لوپا مُدرا کو شادی کا پیغام بھیجا، جو ریاست ودربھ میں پیدا ہونے والی ایک شہزادی تھیں۔ شہزادی کے والدین اس شادی سے راضی نہیں تھے؛ انھیں اس بات کی فکر تھی کہ اگستیہ کی تنگ دستی کے باعث ان کی بیٹی صحیح طریقے سے جنگل میں رہ نہیں پائے گی۔ تاہم روایات کے مطابق، لوپا مُدرا نے ان کو اپنے شوہر کے طور پر قبول کر لیا ، یہ کہتے ہوئے کہ اگستیہ کے پاس پرہیز گاری کی دولت ہے، خود شہزادی کی اپنی جوانی بھی ڈھل جائے گی اور یہ کہ اگستیہ کی نیکی ہی ہے جو اس رشتے کے لیے مناسب ہے۔ اس طرح لوپا مدرا ، اگستیہ کی بیوی بن گئیں۔ دیگر روایتوں میں لوپا مدرا اگستیہ سے شادی کرتی ہیں، لیکن شادی کے بعد وہ اگستیہ سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ انھیں بنیادی آسائشیں فراہم کریں تب ہی ان کے رشتے کا نباہ ہو پائے گا۔ یہ ایک ایسا تقاضا ہوتا ہے جو آخر کار اگستیہ کو مجبور کرتا ہے کہ معاشرے میں واپس جاکر دولت کمائیں۔
اگستیہ اور لوپا مدرا کا ایک بیٹا ہوتا ہے، جس کا نام دِرِڑچِیُت ہے، جس کا نام بعض اوقات اِدھمواہ لیا گیا ہے۔ مہابھارت میں اسے ایک ایسے لڑکے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو رحم مادر میں اپنے والدین سے سن کر ویدوں کو سیکھتا ہے اور دنیا میں بھجن پڑھتے ہوئے پیدا ہوتا ہے
اگستیہ آشرم:
اگستیہ کا ایک آشرم تھا، لیکن قدیم اور قرون وسطیٰ کی ہندوستانی تحریروں کے مطابق اس آشرم کی کہانیوں اور مقامات میں تضاد ہے۔ دو روایتوں میں اس آشرم کا مقام شمال مغربی مہاراشٹر بتایا گیا ہے، ناسک کے قریب چھوٹے سے قصبوں اگستیہ پوری اور اکولے میں دریائے گوداوری کے کناروں پر۔ شمالی اور مشرقی ہندوستانی ذرائع میں ممکنہ مقامات کولہا پور کے قریب (مہاراشٹر کرناٹک کی سرحد پر مغربی گھاٹ) یا قنّوج (اترپردیش) یا اگستیہ مُنی گاؤں میں رُدرا پریاگ (اتراکھنڈ) کے قریب یا ستپوڑا سلسلہ کوہ (مدھیہ پردیش)۔ جنوبی ذرائع اور شمالی ہندوستانی دیوی بھگوَت پُران میں ان کا آشرم تمل ناڈو میں واقع ہے، جس کے لیے مختلف مقامات ترونل ویلی، پوتھی ول پہاڑیاں یا تنجاور کے نام لیے گئے ہیں۔
وید:
اگستیہ کا تذکرہ ہندو مت کے تمام چار ویدوں میں آیا اور یہ برہمانوں، آرانیاکاؤں، اُپنیشدوں، داستانوں اور بہت سارے پُرانوں میں ایک کردار ہے۔ وہ رگ وید کے بھجن 1.165 تا 1.191 کا مصنف ہے۔ وہ ویدوں کا ایک مدرسہ (گروکُل) چلاتے تھے جس کی شہادت رگ وید کے بھجن 1.179 میں ملتی ہے جو بتاتا ہے کہ اس کی مصنفہ ان کی اہلیہ لوپا مدرا اور ان کے شاگرد ہیں۔ ویدوں کے دور میں وہ ایک قابل احترام دانشور تھے، کیونکہ رگ وید کے دیگر دانشوروں کی جانب سے بہت سارے مرتبہ بھجن اگستیہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ اگستیہ کی جانب سے ترتیب دیے گئے بھجن زبانی کھیل اور تشبیہات ، ذہنی آزمائشوں اور الفاظ کی چھیڑ چھاڑ اور توجہ مبذول کرانے والے خاکوں کے حوالے جانے جاتے ہیں؛ جن میں ان کا روحانی پیغام پوشیدہ ہے۔

ان کی ویدوں کی شاعری خاص طور پر دو نہجوں کے حوالے سے قابل ذکر ہے۔ بھجن کے ایک خانے میں اگستیہ دو افواج کے مابین تصادم کو ظاہر کرتے ہیں جن کی قیادت الگ الگ دو دیوتا اِندر اور ماروتس کر رہے ہیں، جس کی ویدی علما نے تشریح کی۔ ایس۔ غوریے نے نظمیہ طور پر ایک تصادم کی شکل میں بیان کی ہے، جو آریہ (اِندر) اور داس (ردر) کے درمیان ہے۔ اگستیہ کامیابی سے ان کی محاذ آرائی کو حل کرتے ہیں، نذرانہ پیش کرتے ہیں – جس میں یہ دعا کرتے ہیں کہ دونوں دیوتاوں کے مابین ہم آہنگی محبت پر مبنی برتاؤ پیدا ہو۔ رگ وید کے منڈل 1 میں ستائیس میں اکیس بھجن جو انھوں نے ترتیب دیے ہیں، ان میں اختتام پر ان کے دستخط ہیں، جہاں پر وہ التجا کرتے ہیں، “دعا ہے کہ ہر برادری غذا اور بہتے پانیوں سے مالا مال ہو”۔ یہ خیالات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ آریہ اور دسا دونوں کے محافظ تھے۔ تاہم، بعض علما اسی بھجن کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ یہ نظمیہ پیش کش دو متصادم نظریات یا طرز زندگی کا عکّاس ہے، کیونکہ اگستیہ نے کبھی آریہ یا دسا کے الفاظ استعمال نہیں کیے اور صرف اُبھاؤ واناو (لفظی طور پر “دونوں رنگ”) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ “دوطرفہ ہم آہنگی” کا پہلو اور خیال بہ حیثیت دائمی مفاہمت—اگستیہ کے نام کے ساتھ – ہندو مت کے ایتاریہ ارانایکہ کی شق 1.2.2 میں دوبارہ نمودار ہوتا ہے۔
دوسرا پہلو – ہندو مت کے ادب میں معروف—ان کی اہلیہ لوپا مدرا اور ان کے مابین گفتگو کی شکل میں ہے۔ جو اس انسانی تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، جو روحانیت کی تلاش میں سنیاسی بن جانے اور گھریلو زندگی و خاندان پربن چڑھانے کی درمیان کش مکش سے پیدا ہوتا ہے۔ اگستیہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ خوشی اور آزادی کے حصول کے بہت سارے راستے ہیں، جبکہ لوپا مدر زندگی کی فطرت، وقت اور دونوں کے امکانات کی دلیل پیش کرتی ہیں۔ وہ کامیابی سے اگستیہ کو رجھاتی ہیں۔ تشبیہ سے بھرپور رگ وید کے بھجن 1.179 کی شکل میں ہے۔

اگستیہ کا حوالہ رگ وید (1500 تا 1200 قبل مسیح) کے دونوں قدیم ترین اور جدید ترین نسخوں میں دیا گیا ہے، جیسے منڈل 7 کے بھجن 33 میں، جو منڈل 1 سے زیادہ قدیم ہے۔[37] ان کا تذکرہ دیگر تین ویدوں اور ویدانگ ادب میں بھی کیا گیا ہے — جیسے نیروکتا کے اشلوک 5.13 تا 14۔[13][37] اگستیہ اور ان کے خیالات ویدوں کی متعدد تحریروں میں بیان کیے گئے ہیں — جیسے تیتیریا کی شق 7.5.5، کتھک سمہیتا کی 10.11، میترایانی سمہیتا کی 2.1، ایتاریا برہمنا کی 5.16، تیتریا برہمنا کی 2.7.11 اور پنکاوی مستی برہمنا کی 21.14۔

اپنا تبصرہ بھیجیں