جنتری نئے سال کی … ابنِ انشا

Spread the love

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

یعنی بلبل بولتا تھا یا بولتی تھی تو لوگ جان لیتے تھے کہ بہار آئی ہے۔ ہم نئے سال کی آمد کی فال جنتریوں سے لیتے ہیں۔ ابھی سال کا آغاز دور ہوتا ہے کہ بڑی بڑی مشہور عالم، مفید عالم جنتریاں دوکانوں پر آن موجود ہوتی ہیں۔ بعض لوگ جنتری نہیں خریدتے۔ خدا جانے سال کیسے گزارتے ہیں۔ اپنی قسمت کا حال اپنے خوابوں کی تعبیر، اپنا ستارہ (چاند سورج وغیرہ بھی) کیسے معلوم کرتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ جنتری اپنی ذات سے ایک قاموس ہوتی ہے۔

ایک جنتری خریدلواوردنیا بھرکی کتابوں سے بے نیاز ہوجاؤ۔ فہرستِ تعطیلات اس میں نمازِعیداورنمازجنازہ پڑھنےکی تراکیب، جانوروں کی بولیاں، دائمی کیلنڈرمحبت کے تعویز، انبیائے کرام کی عمریں، اولیائے کرام کی کرامتیں، لکڑی کی پیمائش کے طریقے، کون سا دن کس کام کے لئے موزوں ہے۔ فہرستِ عرس ہائے بزرگان ِدین، صابن سازی کے گر، شیخ سعدی کے اقوال، چینی کے برتن توڑنے اور شیشے کے برتن جوڑنے کے نسخے، اعضا پھڑکنے کے نتائج، کرۂ ارض کی آبادی، تاریخِ وفات نکالنے کے طریقے، یہ محض چند مضامین کا حال ہے۔ کوزے میں دریا بند ہوتا ہے اور دریا میں کوزہ۔ یوں تو سبھی جنتریاں مفید مضامین کی پوٹ ہوتی ہیں، جو ذرہ جس جگہ ہے، وہیں آفتاب ہے۔ لیکن روشن ضمیر جنتری (جیبی) کو خاص شہرت حاصل ہے۔ اس وقت ہمارے سامنے اسی کا تازہ ترین ایڈیشن ہے۔ ایک باب میں ہے، ’’کون سا دن کون سے کام کے لئے موزوں ہے۔‘‘

ہفتہ۔ سفرکرنے، بچوں کواسکول میں داخل کرانے کے لئے۔

اتوار۔ شادی کرنے، افسروں سے ملاقات کرنے کے لئے۔

بدھ۔ نیا لباس پہننے، غسل صحت کے لئے۔

جمعرات۔ حجامت بنانے، دعوتِ احباب کے لئے۔

جمعہ۔ غسل اورشادی وغیرہ کرنے کے لئے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ اندھا دھند جس دن جو کام چاہیں شروع کردیتے ہیں۔ یہ جنتری سب کے پاس ہو تو زندگی میں انضباط آجائے۔ ہفتے کا دن آیا اور سبھی لوگ سوٹ کیس اٹھا کر سفر پر نکل گئے۔ جو نہ جاسکے وہ بچوں کو اسکول میں داخل کرانے پہنچ گئے۔ اس سے غرض نہیں کہ اسکول کھلے ہیں یا کسی کے بچے ہیں بھی کہ نہیں۔ جدھردیکھو بھیڑلگی ہے۔ اتوار کوہرگھرکے سامنے چھولداریاں تنی ہیں اور ڈھولک بج رہی ہے۔ لوگ سہرے باندھنے کے بعد جنتری ہاتھ میں لئے افسروں سے ملاقات کرنے چلے جارہے ہیں۔ بدھ کو سبھی حماموں میں پہنچ گئے۔ اورجمعرات کو لوگوں نے حجامت بنوائی، اور دوستوں کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں کہ ہمارے ہاں آکردعوت کھا جائیو۔ جمعہ کو نکاح ِثانی کا نمبر ہے۔ جو لوگ اس منزل سے گزر چکے ہیں وہ دن بھرنل کے نیچے بیٹھ کرنہائیں کہ ستاروں کا حکم یہی ہے۔

ہم جو خواب دیکھتے ہیں وہ بالعموم عام قسم کے ہوتے ہیں اورصبح تک یاد بھی نہیں رہتے۔ جنتری سے معلوم ہوا کہ خوابوں میں بھی بڑے تنوع کی گنجائش ہے۔ خواب میں پھانسی پانے کا مطلب ہے بلند رتبہ حاصل ہونا۔ افسوس کہ ہم نے خواب توکیااصل زندگی میں بھی کبھی پھانسی نہ پائی۔ بلند مرتبہ نہ مل سکنے کی اصل وجہ اب معلوم ہوئی۔ من نہ کردم شماحذ ربکیند۔ اسی طرح گھوڑادیکھنے کامطلب ہے۔ دولت حاصل کرنا۔ قیاس کہتا ہے کہ مطلب وکٹوریہ کے گھوڑے سے نہیں۔ ریس کے گھورے سے ہے۔

خچر دیکھنے سے مراد ہے سفر پیش آنا۔ جو لوگ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں ان کو ہوائی جہاز دیکھنا چاہئے۔ بلی کا پنجہ مارنا بیماری کے آنے کی علامت ہے۔ سانپ کا گوشت کھانا۔ دشمن کا مال حاصل ہونے کی۔ خواب میں کان میں چیونٹی گھس آئے تو سمجھئے موت قریب ہے۔ (خواب کے علاوہ گھس آئے تو چنداں حرج نہیں، سرسوں کا تیل ڈالئے نکل آئےگی) اپنے سرکوگدھے کا سردیکھنے کامطلب ہے۔ عقل کا جاتےرہنا۔ یہ تعبیر ہم خود بھی سوچ سکتے تھے۔ کوئی آدمی اپنے سرکوگدھے کا سر(خواب میں بھی) دیکھے گا، اس کے متعلق اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ خواب میں مردے سےمصافحہ کرنے کی تعبیر۔ درازیٔ عمر، خداجانے یہاں عمرِفانی سےمراد ہے یاعمرجاودانی سے۔

ایک باب اس میں جسم کےاعضاء کے پھڑکنے اوران کےعواقب کے بارے میں بھی ہے۔ آنکھ پھڑکناتوایک عام بات ہے۔ رخسار، شانہ ِراست، گوش چپ، انگشت چہارم، زبان، گلا، گردن بجانب چپ، ٹھوڑی، بغل راست وغیرہ، ان پچاسی اعضاء میں سے ہیں۔ جن کے پھڑکنے پر نظر رکھنی چاہئے۔ ان میں سےبعض کے نتائج ایسے ہیں کہ ہم نقل کردیں توفحاشی کی زدمیں آجائیں۔ ایک دوامورالبتہ فاضل مرتبین نظراندازکرگئے۔ نگہ انتخاب کی پسلی پھڑک اٹھنا استادوں کے کلام میں آیا ہے۔ اس کا نتیجہ نہیں دیا گیا۔ ہماری رگِ حمیت بھی کبھی کبھی پھڑک اٹھتی ہے۔ اس کے عواقب کی طرف بھی یہ جنتری رہنمائی نہیں کرتی۔ یہ نقائص رفع ہونے چاہئیں۔

یہ معلومات توشاید کہیں اوربھی مل جائیں لیکن اس جنتری کامغز محبت کے عملیات اور تعویزات ہیں جو حکمی تاثیر رکھتے ہیں۔ قیس میاں کی نظرسےایسی کوئی جنتری گزری ہوتی تو جنگلوں میں مارے مارے نہ پھرتے۔ ایک نسخہ حاضرہے۔

’’محبت کے مارے کو چاہیے کہ 12 مارچ کو بوقت ایک گھڑی بعدِ طلوعِ آفتاب مشرق کی طرف منہ کر کے نقشِ ذیل کونامِ مطلوب بمع والدۂ مطلوب الو کے خون سے لکھ کر اپنے داہنے بازو پر باندھے اور مطلوب کو 20 مارچ بوقت ایک گھڑی 45 پل پربعد ِطلوعِ آفتاب اپنا سایہ دے۔ مطلوب فوراًمشتاق ہوجائے گا۔

91، 11م و م 10ع 11 ع 11

نام مطلوب مع والدہ مطلوب، اپنا نام مع نام والدہ

یہاں بعض باتیں جی میں آتی ہیں۔ اگر مطلوب یا محبوب بات نہیں کرتا تو اس کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں کے نام کیسے معلوم کئے جائیں؟ پھر الو کیسے پکڑا جائے اور 20 مارچ کو بوقت صبح عین ایک گھڑی 45 پل بعد طلوع آفتاب مطلوب کو کیسے مجبور کیا جائے کہ طالب کے سایے میں آئے۔ ان باتوں کا اس جنتری میں کوئی ذکر نہیں۔ ہاں جنتری کی پبلشر نے جنتر منتر مکمل نامی جو کتاب بقیمت چھ روپے شائع کی ہے۔ اس میں ان کی تفصیل ملے گی۔

جو لوگ ہماری طرح تن آسان ہیں۔ محبت میں اتنا کشٹ نہیں اٹھا سکتےان کے لئےمرتب جنتری نے کچھ آسان ترعمل بھی دئے ہیں۔ جن کی بدولت محبوب قدموں پر تو آکر خیرنہیں گرتا لیکن مائل ضرور ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تعویذ ہے جسے ہر روز کاغذ کے چالیس ٹکڑوں پر لکھ کر اورنیچے طالب و مطلوب کے نام درج کرکےآٹے کی گولیوں میں لپیٹ کر دریا میں ڈالنا چاہئے اور چالیس دن تک یہی کرنا چاہئے۔ ہم نے حساب لگایا ہے۔ از راہِ کفایت آدھے تولے کی گولی بھی بنائی جائے تو ایک پاؤ روزانہ یعنی دس سیرآٹےمیں محبوب کو راضی کیا جاسکتا ہے۔ جوحضرت اس میں بھی خست کریں اوراپنی محبت کوبالکل پاک رکھنا چاہیں۔ وہ ایک اور عمل کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ وہ یہ کہ ’’جب بھی محبوب سامنے آئے، آہستہ سے دل میں بسم اللہ الصمد، دس بار پڑھیں اور آخر میں محبوب کی طرف منہ کرکے پھونک ماریں۔ اس طرح کہ منہ کی ہوا اس کے کپڑوں کو چھو سکے۔ پندرہ بیس مرتبہ ایسا کرنے سے اس کےدل میں قرار واقعی محبت پیدا ہوجائے گی۔‘‘

یہ عمل بظاہر تو آسان معلوم ہوتا ہے۔ لیکن عملاً ایسا آسان بھی نہیں۔ اوّل تو محبوب کو اتنی دیرسامنے کھڑا رہنے پرمجبورکرنا کہ آپ دس بارعمل پڑھ کر پھونکیں مار سکیں اور وہ بھاگے نہیں۔ اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے۔ پھرآپ جو پھونکیں ماریں گے۔ اس کی بنا پر محبوب کیا رائے قائم کرے گا۔ اس کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ زیادہ شوقین مزاج ان دونوں سے قطع نظر کر کے’محبت کا سرما‘ استعمال کرسکتے ہیں۔ جس کا بنانا تھوڑی محنت تو ضرور لے گا لیکن اس کا جادو بھی عالمگیر ہے۔ یعنی صرف محبوب ہی پرکاری اثر نہیں کرتا بلکہ لکھنے والے نے لکھا ہے کہ یہ سرمہ ڈال کر’’جس کی طرف بھی صبح سویرے دیکھے وہی محبت میں مبتلا ہوجائے گا۔‘‘

یہ سرمہ بنانے کے لئے حاجتمند کو 19 فروری کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس روز وہ بوقتِ طلوعِ آفتاب پرانی داتن کو جلا کر اس کی راکھ میں چمگادڑ کا خون ملائے اور اس سے یہ نقش بوقت صبح ایک گھڑی 15 پل بعد طلوعِ آفتاب لکھےاوراس پرسورۂ فلق گیارہ سو بار پڑھے۔ پھر نئےچراغ میں روغن کنجد (تل کا تیل) ڈال کرجلائے اوراس کی سیاہی آنکھوں میں ڈالے، حسبِ ہدایت ایک صاحب نے یہ سرمہ دنبالہ دارلگایا تھا۔ اتنا ہم نے بھی دیکھا کہ محبوب انہیں دیکھتے ہی ہنس دیا۔ آگے کا حال ہمیں معلوم نہیں۔

یہی نہیں، صابن اورتیل تیارکرنے، بوٹ پالش بنانے، کھٹمل اورمچھرمارنے اور مشہور ِعام ادویہ کی نقلیں تیار کرنے کی ترکیبیں بھی اس میں درج ہیں۔ لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ اردو میں کوئی انسائیکلو پیڈیا نہیں۔ معلومات کی کتاب نہیں۔ انسائیکلوپیڈیا کیا ہوتی ہے۔ ہےادب شرط منہ نہ کھلوائیں۔ ہم نے انسائیکلوپیڈیا برٹینکا وغیرہ دیکھی ہیں۔ الم غلم مضامین کا طومار ہے۔ اہلِ دل کے مطلب کی ایک بات بھی نہیں۔ نہ نسخے نہ تعویذ۔ نہ عرسوں کی تاریخیں نہ محبت کے عملیات نہ خواب نہ خوابوں کی تعبیریں۔ ہمارا یہ دستور ہوگیا ہے کہ باہر کی چیزکو ہمیشہ اچھا جانیں گے۔ اپنے ہاں کے سونے کو بھی مٹی گردانیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں