کتاب: دوستوں کے درمیاں … مضمون: تنہائی کی موج … نیل احمد

Spread the love

ویسے تو تنہائی کا خیال ذہن میں آتےہی کسی ایسے شخص کا تصور ابھرتا ہے جو رشتوں کے بندھن سے بیزار ہو ، جسے دوستوں نےچھوڑ دیا ہو ، معاشرتی لاتعلقاتی کو اپناۓ ہوۓ ، غمگین اور الگ تھلگ زندگی گزار رہا ہو ۔ بعض صورتوں میں تنہائی دماغی بیماری کے طور پر بھی برتی جاتی ہے جس میں فرد محبت اور اپنائیت جیسے جذبوں کی کمی محسوس کرتا ہے اور کبھی کبھی خود داری اور خود اعتمادی بھی اسے تنہا کر دیتی ہے ۔ تنہائی کا شکار فرد اپنی ذات اور زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے کا ہنر کھو دیتا ہے تو مایوسی ، اداسی اور جنجھلاہٹ کا شکار رہنے لگتا ہے ، مگر میرا ماننا ہے کا تنہائی ہر انسان پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے اور جب بات ہو ایک شاعر کی، کسی مصور یا فنکار کی تو تہنائی ان کے لیۓ مال غنیمت سے کم نہیں کیونکہ نزول فن تنہائی کا متقاضی ہے مگر کرب انگیز ۔

ایک تخلیق کار ہمیشہ تنہا ہوتا ہے ، تنہائی اسے راس ہے اور ایسا فنکار جو اپنے قبیلے کا مزاج سمجھتا ہو ، ارشد معراج ایسا ہی ایک شاعر ہے ، اس کا نظموں سے چھلکنے والا سب سے بڑا اور اہم احساس تنہائی کا ہے جو جابجا “دوستوں کے درمیاں” بکھرا پڑا ہے ۔ تنہائی جو جنم سے اس کے قلبوت میں چھپی بیٹھی ہے اسے دوستوں کے درمیاں بھی تنہا نہیں چھوڑتی ۔ ارشد معراج چونکہ خود ایک تخلیق کار ہے اور خالی پن کی اذیت سے واقف ہے لہذا وہ دوسرے وجود کے خلا میں اترنا جانتا ہے ، کھوکھلا کر دینے والی اذیت اسے ہر اس تصویر (مصور) نظم یا غزل (شاعر) میں محسوس ہونے لگتی ہے جس کا تار اس کی روح سے جڑا ہو ، یہ تعلق خودبخود قائم ہو جاتا ہے ، یہ جڑت اس کےاختیار سےباہر ہے ۔ فنکار سے فنکار کا رشتہ ہی خالی پن کا ہے جسے صرف ایک فنکار ہی محسوس کر سکتا ہے ۔ ارشد معراج نے جتنے بھی دوستوں کے نام نظمیں لکھیں ہیں وہ خوش نصیب ہیں کہ کوئی ان کے اندر اتر گیا ہے ، وہاں جہاں شاید کبھی ان کا بھی گزر نہیں ہوا تھا ۔ احساس تنہائی انسانی کیفیت کی وہ نہج ہے جہاں ایک فنکار بیگانگی ذات اور بیگانگی زیست کا شکار ہونے لگتا ہے اور یہ راستہ نہ شہر جاتا ہے نہ گاؤں ، نہ صحرا نہ جنگل بلکہ اس کے اندر ہی کہیں جاتا ہے

پہاڑی راستے پر ہجر کا موسم گزارا تھا
انھوں نے ہجر کا موسم
ستارے
ہجر کیا ہے جانتا ہے تو ؟
یہ ایسا وارداتی ہے
فقط جو خون پیتا ہے
بدن ساکت بناتا ہے
یہ سیسہ بن کے لانوں میں پگھلتا ہے
کسی لوہے کی بھٹی جیسا ہے
یہ آنکھوں سے چپکتا ہے تو سارے خواب کڑوے کر کے اٹھتا ہے
کسی امرود میں کیڑے کی صورت روح میں جیتا نہ مرتا ہے
تو تب نظموں کی کھیتی پر بہت سا بور آتا ہے

ارشد معراج کے یہاں تنہائی کسی بھی حیثیت میں ہو، چاٹ لیتی ہے ، انسان خالی ہو جاتا ہے ایسے جیسے ٹنڈ منڈ درخت ، جو ہر موسم میں بے ثمر و گل ہی رہتا ہے

آنکھیں نیندیں کھا جاتی ہیں
سورج جسم کو جھلساتا ہے
دل کے چاروں سوراخوں سے خون ابل کر جل جاتا ہے
عشق خزاں ہے
بندہ کیکر بن جاتاہے

کبھی کبھی تو وہ غائب ہو جاتا ہے مگر دراصل خود کو پا لیتا ہے

میں اور تم کہ وہ اور وہ
سبھی دھوکہ ہے نظروں کا
تجھے خود سے مجھے خود سے کہاں فرصت

اور کبھی کبھی وہ دنیا میں بہت تنہا ہو جاتا ہے جیسے نہ اس کا کسی سے کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی اس کے آس پاس

وقت محدود ہے
کوئی خواہش ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں
اور تمنا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں
کوئی آہٹ ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں
خود مداوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں
ایک انبوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کہیں بھی نہیں

اور پھر تنہائی میں اکیلے پن کا احساس بھی جاگتا ہے

میں چندرا بس اتنا جانوں
اپنے آپ کے اندھے غار میں
گیان کی مورت ، دھیان کا دیپک تب جلتا ہے
پریم کتھا جب ماس کو نوچے
ہڈی سکڑے
خون نچوڑے
اندھیاروں کو اندر اوڑھے
تب یہ راتیں
اپنا آپ بتاتی ہیں

مگر فنکار کا احساس تنہائی اسے مایوس نہیں ہونے دیتا ہاں مگر اداسی اور افسردگی ضرور عطا کرتا ہے جسے وہ متاع حیات سمجھ کر سنبھالے رکھتا ہے

وہی اداسی
تمھاری ساتھی
تمھارے بچپن سے ساتھ کھیلی
اور جوانی میں ساتھ ہو لی
وہی اداسی جو آنکھ سے اب چپک گئی ہے
لبوں پہ آکر رکی ہوئی ہے
جو شکل خوش پہ ٹھہر گئی ہے

اور ارشد معراج بھی اس احساس تنہائی سے مایوس نہیں ، وہ اسے مثبت انداز میں برتنے کا فن جانتا ہے کیونکہ وہ سماجی علیحدگی کا قائل نہیں ، وہ دوست بناتا ہے اور ان سے اپنے تجربات ، احساسات اور درد بانٹتا ہے ۔ گو کہ وہ خود پسند نہیں ہے اور کہیں چھپ جانا چاہتا ہے مگر جب اس دنیا کے سب سے عظیم اور بڑے مصور نے جانے جانے کی خواہش میں کائنات تخلیق کر ڈالی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان ، جو اس کی سب سے عظیم تخلیق ہے ، میں پہچانے جانے کی تمنا نہ جاگے لہذا ہر فنکار شناخت چاہتا ہے

سو ایسا ہے
میں ایزل پر ہوں برسوں سے
مجھے دیوار پر لٹکے ہوۓ خالی فریم اندر ہی لٹکا دو

ارشد معراج مسکراتا ہے جبکہ رونا چاہتا ہے ، وہ بولتا ہے مگر خاموش رہنا چاہتا ہے بظاہر خوش نظر آتا ہے اور حقیقت میں اذیت میں مبتلا

کوئی کلیہ بتا ایسا
مسلسل اضطرابی پھوٹ کر روۓ
بس اب تو بس ہوئی جاتی ہے ۔۔۔۔۔ لاغر ہیں
مسلسل درد رہتا ہے

مگر حیرت تو یہ ہے کہ وہ اس اذیت سے فرار نہیں چاہتا

عدم تکمیل کے اس مرحلے میں قید ہیں
اور قید رہنا ہے

ارشد معراج اچھی طرح جانتا ہے کہ تنہائی کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے ۔ نیلا رنگ ۔ جو اس کا محبوب رنگ ہے

مرا بھی واسطہ ہے نیلی رنگت سے
کتھا لکھی تھی میں نے نیلے پانی کی
بدن پر نیل ہیں صدیوں پرانے
کیا خبر کس نے یہ ڈالے ہیں
ٹکوریں روز کرتا ہوں
مگر یہ کم نہیں ہوتے

ایسے میں فنکار خود اپنےاندر سمٹ جاتا ہے

میرا سایہ فقط میں ہی ہوں ۔۔۔۔ کیا کروں ؟

پھر بس خود کو اپنے پاس رکھنا پسند کرتا ہے کیونکہ اسے ایسا کوئی نہیں ملتا جو اس کی اس کیفیت کو سمجھ سکے

رات کی کھونٹی پہ لٹکے
دھیان کی آشا لگاۓ
وقت کی ٹک ٹک پہ مرتے
سانس کی سڑ سڑ پہ جیتے
جواب کو خوگر بناۓ
آنکھ کی حیرت پہ ہنستے
جسم کی حدت میں جلتے
لمس کی خوشبو میں بہتے
خود کو دیکھا ہے فقط ؟

ارشد معراج اپنی تنہائی کی موج میں بہتے بہتے اپنے دوستوں کے اندر تنہائیوں کے سمندروں میں ڈوب گیا اور تہوں سے ایسے ایسے نگینے اور موتی نکالے جن کا خود دوستوں کو بھی ادراک نہ تھا ۔

بے سبس سی اک خلش کو کاغذوں میں چھاننا
دل میں ہلکی سی کھٹک ہو دیر تک پھر سوچنا
ایک جنبش ابروؤں کی خوش گمانی باندھنا
شام سے پہلے کسی کی شام رنگت بھاپنا

وہ دوستوں سے محبت کرتا ہے ، خاموش محبت ، اور ان کے باہر کے رنگوں سے اندر کے موسم جان لیتا ہے

میری رگ رگ میں تھا عشق
میٹھی چبھن
آگ ہولے سے اندر سلگتی رہی
درد بڑھتا رہا
چشم آہو سے نکلا
مرے دل کی گہرائیوں میں اترتا رہا
میں پگھلتا رہا

وہ دوسروں سے خوشی تلاش نہیں کرتا بلکہ ان کے اندر کی تنہائ سے جڑ جاتا ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ تنہائی فنکار کی میراث ہوتی ہے اسی لیۓ وہ اپنے قبیلے کے لوگوں میں اسے کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ نکالتا ہے

مساموں میں تمازت بھرنے لگتی ہے
ٹپکتی رال سے آنکھوں سے اک تنور ابلتا ہے
کسی کی پور سے شعلے پگھلتے ہیں
قطاروں میں لگے وہ سور
ہمیشہ کی طرح تیار ہوتے ہیں
کبھی تنہائی کی چنری کے سارے رنگ بھڑکیلے نہیں ہوتے

وہ راتوں میں دوستوں کے ساتھ ان کی تنہائی بانٹنے نکل پڑتا ہے

کاٹنی ہے رات تو پھر رات کو سینے میں بو
ہم کہ آنکھوں میں کھٹکتی شاہ کالی کے اسیر
ہم مسافت کو پروں میں بادھنے والے فقیر
رات ہجرت ، ہجر سب ہیں بس گماں کی اک لکیر

اور کہتا ہے

میں صدیوں سے ایسا ہی ہوں
اک درد مسلسل جوں کا توں
اور راتیں کروٹ کروٹ لے
کاٹوں تو خود بھی کٹتا ہوں
اک آری جسم پے چلتی ہے
پھر ٹکڑے ٹکڑے صبح تلک
پھر خود کو جوڑتا رہتا ہوں

مگر ارشد معراج ڈرتا رہتا ہے اپنے اندر کی تنہائی سے ، اسے خوف رہتا ہے کہ کہیں کسی روز یہ چھوت نہ بن جاۓ شائد اسی لیۓ وہ دوستوں کے درمیان ہوتے ہوۓ بھی تنہا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ تنہا

کہیں پر تو لکھا ہو گا ترے چینی مقالے میں
کہ جب جیون کٹورے میں مسلسل کرب بھر جاۓ
تو کیا کلیہ لگاتے ہیں
مرض حد سے زیادہ بڑھ رہا ہو ، چھوت کا ڈر ہو
کہیں تشویش یہ بھی ہو
کسی ودجے کو لگ جاۓ
اگر زندہ بھی ہو کوئی
مسلسل مر کے بھی وہ مر نہ پاۓ تو
اسے کیسے بچاتے ہیں
اسے کیا ماردیتے ہیں ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں