دو کو لڑانا … کنہیا لال کپور

Spread the love

دو مرغوں یا بٹیروں کو لڑانا شغل ہوسکتا ہے فن نہیں، البتہ دو آدمیوں کو لڑانا خاص کر جب کہ وہ ہم پیالہ و ہم نوالہ ہوں، دانتوں کاٹی کھاتے ہوں یقیناً فن ہے۔ اس فن کے موجد تو نارومنی ہیں کیوں کہ ان کا پسندیدہ شغل دیوتاؤں اور انسانوں کو آپس میں لڑانا ہے لیکن نارومنی کے علاوہ ایک اور ہستی کو بھی اس فن کا امام مانا جاسکتا ہے، اور وہ ہے بی جمالو۔ یہ وہی جانی پہچانی جمالو ہے جو اکثر بھُس میں چنگاری ڈال کر الگ کھڑی ہوجاتی ہے اور جب بھُس میں سے شعلے نکلنے لگتے ہیں تو بغلیں بجا کر اپنی مسرت کا اظہار کرتی ہے۔

اس فن کے لیے بڑے ریاض کی ضرورت ہے۔ جب تک ان تمام حربوں کا غور سے مطالعہ نہ کیا جائے جو نارومنی یا بی جمالو دو کو لڑانے میں استعمال کرتے ہیں کوئی شخص اس فن میں مشّاقی حاصل نہیں کرسکتا۔ سب سے پہلا حربہ یہ ہے کہ جن دو اشخاص کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں انھیں علیٰحدہ علیٰحدہ یقین دلا دیں کہ آپ سے بڑھ کر ان دونوں کا دنیا میں کوئی بھی خواہ نہیں اور آپ جو کہہ رہے ہیں بڑے خلوص سے کہہ رہے ہیں۔ دوسرا حربہ یہ ہےکہ آپ ان دونوں کی کسی دکھتی رگ کو چھیڑنے کی کوشش کریں۔ اس ضمن میں یاد رکھیں کہ ہر شخص کی کوئی نہ کوئی دکھتی رگ ضرور ہوتی ہے۔ کسی کی یہ کہ جس عزت کا وہ مستحق ہے اس سے اسے محروم رکھا جا رہا ہے، کسی اور کی یہ کہ اس کے سب احباب احسان فراموش واقع ہوئے ہیں اورکسی کی یہ کہ لوگ اس سے بلا وجہ حسد کرتے ہیں۔ تیسرا حربہ یہ ہے کہ جب وہ دونوں لڑنے پر آئیں تو آپ چپکے سے یہ کہہ کر کھسک جائیں کہ آپ کو یک لخت کوئی ضروری کام یاد آگیا ہے اس لیے آپ اجازت چاہتے ہیں۔

عام طور پر دیکھا گیا ہےکہ دو اشخاص کو لڑانےمیں نارومنی یا بی جمالو کا ضرور ہاتھ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گھوش بابو اور گپتا بابو ایک دفتر میں کلرک ہیں۔ دونوں پکے دوست ہیں یعنی ایک دوسرے پر جان چھڑ کتے ہیں۔ اسی دفتر میں بھٹا چاریہ بھی کام کرتا ہے جو نارومنی کی نمائندگی کرنے میں ید طولےٰ رکھتا ہے۔ ایک دن بھٹا چاریہ گھوش بابو کےکمرے میں آتا ہے، کہتا ہے۔

’’اپنا سمجھ کے ایک بات کہنا چاہتا ہوں برا تو نہیں مانوگے؟‘‘

’’نہیں برا ماننے کی کیا بات ہے شوق سے کہیۓ۔‘‘

’’پہلے یہ بتائیے کہ گپتا بابو سے کچھ ناچاقی تو نہیں ہوگئی؟‘‘

’’بالکل نہیں۔‘‘

’’بڑے تعجب کی بات ہے تو پھر معاملہ کیا ہے؟‘‘

’’بات کیا ہے ذرا کھل کر کہیۓ؟‘‘

’’کچھ نہیں، کچھ نہیں میرا خیال ہے مجھے خاموش ہی رہنا چاہئے۔‘‘ اتنا کہنے کے بعد واقعی بھٹا چاریہ خاموش ہوجاتا ہے۔ ادھرگھوش بابو سوچتا ہےکہ ضرورکوئی بات ہے اس لیے اصرار کرتا ہے۔

’’بھٹا چاریہ بھئی بتاؤ نا بات کیا ہے؟‘‘

’’بات ہے بھی اور کچھ بھی نہیں، میرا مطلب ہے کم از کم گپتا بابو۔۔۔‘‘

’’ہاں ہاں گپتا بابو۔‘‘

’’نہیں میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اچھا میں چلتا ہوں۔‘‘

اب گھوش بابو بھٹا چاریہ کو پرماتما کا واسطہ دے کر کہتا ہے کہ اُسے وہ بات ضرور بتانا پڑے گی۔ ایک بار انکار کرنے کے بعد بھٹا چاریہ راز دارانہ لہجہ میں کہتا ہے۔ ’’ذرا گپتا سے بچ کر رہئے گا وہ آپ کےخلاف صاحب کے کان بھر رہا ہے۔ پرسوں میں نے اسے یہ کہتے سنا کہ گھوش بابو ہر روز پندرہ منٹ لیٹ آتا ہے اور کام کرنے کی بجائے سارا دن اخبار پڑھتا رہتا ہے اور ہاں لیکن میرا خیال ہے مجھے یہ نہیں کہنا چاہئے۔‘‘

’’نہیں نہیں رک کیوں گئے اب بتانے لگے ہو تو چھپاتے کیوں ہو۔‘‘

’’بھئی تم دونوں میں خواہ مخواہ جھگڑا ہوجائے گا اور میں جھگڑے کو بالکل پسند نہیں کرتا۔‘‘

’’نہیں آپ کو ضرور بتانا پڑے گا۔‘‘

’’بتا تو دیتا ہوں لیکن یاراس سےیونہی جھگڑا نہ مول لے لینا۔‘‘

’’اچھا وہ بات بتائیے۔‘‘

’’ہاں تو وہ صاحب سے کہہ رہا تھا کہ آئندہ جب گھوش بابو لیٹ آیا تو میں آپ کو خبر کروں گا۔‘‘

بھٹا چاریہ بھس میں چنگاری رکھ کر رخصت ہوتا ہے اور گھوش بابو دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگتا ہے کہ یہ گپتا بابو تو دوست کے پردے میں دشمن نکلا۔

اب شامت اعمال سے ایک دن گھوش بابو دفترکے لئے لیٹ ہو جاتا ہے،شاید اسے بس نہیں ملی یا اس کی سائیکل پنکچر ہوگئی۔ ادھر صاحب کو کسی فائل کی جو گھوش بابو کے قبضے میں ہے،ضرورت پڑجاتی ہے۔ گھوش بابو کو اپنے کمرے میں نہ پا کر صاحب چپراسی سے کہتا ہے کہ جب وہ آئے اُسے صاحب کے کمرے میں حاضر ہونے کے لئے کہا جائے۔

گھوش بابو جب آتا ہے تواسے صاحب سخت سُست کہتے ہیں وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ معاملہ کیا ہے۔ صاحب کے دفتر سے نکل کر وہ سیدھا گپتا کے کمرے میں پہنچتا ہے۔

’’آؤ بھئی گھوش باب‘‘ گپتا مسکرا کرکہتا ہے۔

’’رہنے دو یہ بناؤٹی مسکراہٹیں، مجھے آج پتہ چلا کہ تم مارِ آستین ہو۔‘‘

’’بات کیا ہے، اتنے ناراض کیوں ہو رہے ہو؟‘‘

’’ناراض نہ ہوں تو اور کیا کروں یہ اچھی شرافت ہے، دوست بن کر پیٹھ میں چھرا گھوپنتے ہو۔‘‘

’’ارے بھئی کس نے چھرا گھونپا ہے۔‘‘

’’مجھے سب معلوم ہے، شرم آنی چاہئے تمہیں۔‘‘

چنانچہ دونوں میں وہ تو تو میں میں ہوتی ہےکہ دفتر کے تمام کلرک اکٹھے ہو جاتے ہیں آخر کچھ لوگ بیچ بچاؤ کر کے معاملہ رفع دفع کر دیتےہیں۔ جب سب کلرک اپنے کمروں میں چلے جاتے ہیں تو بھٹا چاریہ یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے ’’کیا زمانہ آگیا ہے صاحب دوست ہی دوست کے درپئے آزار ہوگیا اب کس پر اعتبار کیا جائے۔‘‘

یہ تو تھا نارومنی کا کارنامہ اب ذرا بی جمالو کی کارستانی ملاحظہ فرمائیے۔ بی جمالو کتھا سن کر مندر سے چلی آرہی ہے کہ راستے میں اُسکی ملاقات مالتی سے ہوتی ہے۔ مالتی کی شادی ہوئے سات آٹھ مہینے ہوئے ہیں، بی جمالو مالتی پر ایک چھچھلتی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے کہتی ہے۔

’’کتنی کمزور ہوگئی ہو تم مالتی، پہچانی بھی نہیں جاتیں۔‘‘

’’نہیں تو۔ ‘‘مالتی حیران ہوتے ہوئے جواب دیتی ہے۔

’’اری نہیں، سچ کہہ رہی ہوں تمہارا تو رنگ روپ ہی جیسے اُڑ گیا ہے معلوم ہوتا ہے بہت کام کرنا پڑتا ہے۔‘‘

’’ہاں کام تو کافی کرتی ہوں۔‘‘

’’یہی بات ہے، میں بھی کہوں ہو کیا گیا تمہیں، معلوم ہوتا ہے جٹھانی جی خوب کام کرواتی ہیں۔‘‘

’’بڑی جو ہوئیں۔‘‘

’’بڑے ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ خود تو سارا دن سیر سپاٹا کرے اور تم داسیوں کی طرح کام کرو، تم گھر میں کیا آئیں اس کی تو پنشن لگ گئی۔‘‘

’’نہیں کام کاج میں وہ بھی ہاتھ بٹاتی ہیں۔‘‘

’’وہ کیا ہوا جو ذرا دیر سبزی چھیل دی یا پھل کاٹ دیئے، یہ کام تھوڑا ہی ہے۔‘‘

’’پھر بھی بڑی بہو جو ٹھہری۔‘‘

’’بڑی بہو ہوا کرے لیکن کام اُسے آدھا ضرور کرنا چاہئے۔ تمہارے سیدھے پن کا نا جائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔‘‘

’’نہیں یہ بات تو نہیں‘‘

’’تم ایک دم مورکھ ہو مالتی، اپنا نفع نقصان نہیں سمجھتیں۔ میں نے تو سنا ہے دوکان کا سارا کام بھی تمہارا گھر والا کرتا ہے جیٹھ تمہارا تو موج کرتا ہے موج، کبھی تاش کھیل رہا ہے کبھی شطرنج اور کبھی سنیما دیکھ رہا ہے۔‘‘

’’گھروں میں ایسا ہی ہوتا ہے ماسی۔‘‘

’’لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ آخر برابر کا حصہ دار ہے وہ کام کیوں نہ کرے۔دیکھو میری مانو تو ابھی سے الگ ہو جاؤ نہیں تو پچھتاؤگی۔ تمہارا جیٹھ اور تمہاری جٹھانی دونوں بڑے چالاک ہیں اور تم دونوں ہو بھولے بھالے شرافت میں مارے جاؤگے۔ دیکھو اپنا سمجھ کر کہہ رہی ہوں ورنہ میری یہ عادت نہیں کہ دوسروں کے پھٹے میں ٹانگ اڑاؤں، اچھا رام رام۔‘‘

بی جمالو پھوٹ کا بیج بونےکےبعد چلی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد یہ پھوٹ وہ رنگ لاتی ہے کہ دیورانی اور جٹھانی میں جوتیوں میں دال بٹنے لگتی ہے۔

اب ذرا دیکھئےکہ نارومنی خاوند اور بیوی کو آپس میں کس طرح لڑاتے ہیں۔ راجیش اور نیلما ایک دوسرے کو بہت چاہتے ہیں لیکن نارومنی کو یہ بات ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ایک دن راجیش کی غیر حاضری میں نارومنی ایک چھوٹے سے لڑکے کے ہاتھ راجیش کے نام ایک خط بھجواتے ہیں۔ لڑکا خط نیلما کو دیتا ہے وہ اس سے پوچھتی ہے۔

’’تمہیں کس نے بھیجا ہے۔‘‘

’’جی کجلا دیوی نے۔‘‘

’’وہ کون ہے؟‘‘

’’جی وہی خوبصورت لڑکی جو ایم اے میں پڑھتی ہے۔‘‘

’’تم کون ہو؟‘‘

’’جی میں اس کا نوکر ہوں۔‘‘

’’اس نے تمہیں یہ خط راجیش بابو کو دینے کے لئے کہا تھا۔‘‘

’’جی ہاں۔ اور ساتھ ہی یہ کہا تھا کہ یہ خط کسی اور کے ہاتھ میں مت دینا۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’جی مجھے کیا معلوم؟‘‘

’’پھر یہ خط مجھے کیوں دے رہے ہو۔‘‘

’’آپ کو نہ دوں تو مجھے دوبارہ آنا پڑےگا، آپ انھیں دے دیجئے گا۔‘‘

لڑکے کے چلے جانے کے بعد نیلما سوچتی ہے کہ وہ خط پڑھے یا نہ پڑھے، کافی سوچ وچار کے بعد وہ فیصلہ کرتی ہے کہ اسے خط پڑھ لینا چاہئے۔ خط کو پڑھنے کے بعد اس کے تن۔’بدن‘ میں آگ لگ جاتی ہے کیونکہ وہ ایک نہایت جذباتی قسم کا محبت نامہ ہے۔ شام کو جب راجیش بابو گھر لوٹتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ شریمتی جی انگاروں پر لوٹ رہی ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں بات کیا ہے، لیکن روٹھی رانی جواب تک نہیں دیتی۔ آخر جب حد سے زیادہ اصرار کرتے ہیں تو بھنّا کر کجلا دیوی کا محبت نامہ ان کے سامنے پٹک دیتی ہے۔ خط پڑھنے کے بعد راجیش بابو بڑی سنجیدگی سے کہتے ہیں ’’یہ سب جھوٹ ہے۔ میں کسی کجلا دیوی کو نہیں جانتا۔‘‘ نیلما غصّے سےجواب دیتی ہے۔ ’’مجھے بہکانے کی کوشش مت کیجئے۔‘‘ راجیش اپنی صفائی میں بار بار قسمیں کھاتا ہے لیکن نیلما کو یقین ہی نہیں آتا۔ وہ ایک ہی فقرہ دہرائے جاتی ہے۔ ’’مرد کی ذات ہی ایسی ہوتی ہے۔‘‘ اس تہمت کی تاب نہ لاکر راجیش بھی آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور عورتوں میں جتنی خامیاں ہوتی ہیں انھیں گنوانے لگتا ہے۔ یہ تکرار دو ایک گھنٹے رہتی ہے اور جب ختم ہوتی ہے تو دونوں منہ پھلائے سونے کے لئے اپنے اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔

کبھی کبھی دو کو لڑانے میں بڑے شرارت آمیز حربے کا استعمال کیا جاتا ہے وہ کیسے یہ بھی سن لیجئے۔ ہمسائے میں لڑکی کے رشتے کی بات چل رہی ہے لڑکے والے لڑکی سے ملنے آتے ہیں، یک لخت رام گوپال اپنی بیوی سے بلند آواز میں لڑنے لگتا ہے، وہ کہہ رہا ہے۔ ’’اگر لڑکی میں نقص ہے تو تمہیں کیا لڑکے کی قسمت پھوٹے گی۔ تم کیوں خواہ مخواہ دوسروں کی باتوں میں دخل دیتی ہو۔ ایک آنکھ سے کانی ہے تو کانی سہی، آخر اس کی شادی تمہارے لڑکے سے تو ہو نہیں رہی اگر لڑکے والوں کو پسند ہے تو تمہیں کیا؟‘‘

دو ایک منٹ چپ رہنے کے بعد وہ پھرکہتا ہے۔ ’’تم چپ رہو لڑکا اگر ایک ٹانگ سے لنگڑاتا ہے تو ہوا کرے ہمیں کیا۔ اگر لڑکی والے جان بوجھ کر لڑکی کو اندھے کنوئیں میں دھکا دے رہے ہیں تو دیا کریں، ان کی لڑکی ہےجو چاہے سلوک کریں۔‘‘ تھوڑی اور دیر بعد وہ یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے۔ ’’میں کیوں لڑکے والوں سے جاکر کہوں مجھے کیا لینا دینا ہے، اگر وہ اپنے لڑکے کی زندگی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘

جب یہ باتیں لڑکے اور لڑکی والے سنتے ہیں تو ایک دوسرے کی طرف گھور گھور کر دیکھتے ہوئے کہتے ہیں، یہ ہم کیا سن رہے ہیں۔

’’تو اس کا مطلب ہے آپ ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘

’’آپ تو کہتے تھے لڑکی میں کوئی نقص نہیں۔‘‘

’’آپ بھی تو کہتے تھے لڑکے میں کوئی نقص نہیں۔‘‘

’’دیکھئے یہ رشتہ نہیں ہوگا۔‘‘

’’آپ تشریف لےجائیے۔‘‘

اور جب لڑکے والے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے لڑکی والوں کے گھر سے نکلتے ہیں تو رام گوپال سرگوشی کے انداز میں اپنی بیوی سے کہتا ہے’’ کیوں کیسا الوّ بنایا دونوں کو۔‘‘

دو کو لڑانا فن ضرور ہے لیکن خطرے سےخالی نہیں۔ اس کے لئے بڑی مشق کی ضرورت ہے اگر تھوڑی سی چوک ہو جائے تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں، اس لئے جب آپ دو کو لڑانے کی کوشش کریں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ اس فن کا کمال اس میں ہے کہ دو کو لڑائیں اور نارومنی یا بی جمالو کی طرح خود صاف بچ کر نکل جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں