مرد ،عورتوں کی نسبت زیادہ کورونا کا شکار ہوتے ہیں۔سائینسدانوں نے وجہ تلاش کر لی

Spread the love

ایمسٹرڈیم(مانیٹرنگ ڈیسک) مختلف ممالک کے سائنسدانوں کی تحقیقات میں تصدیق کی جا رہی تھی کہ کورونا وائرس خواتین کی نسبت مردوں کے لیے دوگنا زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اب نیدرلینڈز کے سائنسدانوں نے بالآخر اس کی وجہ بھی ڈھونڈ نکالی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی ممکنہ وجہ مردوں کے جسم میں ’اے سی ای 2‘ نامی انزائم کا زیادہ ہونا ہے۔ یہ انزائم دل، گردوں، خون کی وریدوں کے ٹشوز اور خصیوں سمیت دیگر کئی اعضاءمیں پایا جاتا ہے اور مردوں میں خواتین کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
یونیورسٹی میڈیکل سنٹر گرونیجن نیدرلینڈز کے ماہرین کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس انسان کے خلیوں کو متاثر کرنے کے لیے اس انزائم کا استعمال کرتا ہے۔ جس شخص میں یہ انزائم زیادہ ہو اس میں کورونا وائرس کی تباہ کاری زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ خواتین میں یہ انزائم کم پایا جاتا ہے لہٰذا کورونا وائرس ان کے لیے کم خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایڈریان وورز کا کہنا تھا کہ ”اے سی ای 2دراصل ایک ’ری سیپٹر‘ ہے جو خلیوں کی سطح کے اوپر ہوتا ہے۔یہ کورونا وائرس کے ساتھ مدغم ہوجاتا ہے اور اسے خلیے کے اندر داخل ہونے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردوخواتین کو کورونا وائرس لاحق ہونے کا خطرہ تو یکساں ہوتا ہے لیکن جسم میں جانے کے بعد مردوں کے لیے وائرس دوگنا زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں