بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے پیسے وصول کرنیوالی 8 خواتین افسران پکڑ میں آ گئی

Spread the love

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے پیسے وصول کرنے والی 8 خواتین سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی اے کے مطابق سکھر رینج میں فراڈ کرکے قومی خزانےکو نقصان پہنچانے پر 8 خواتین افسران پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ خواتین افسران محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت سمیت دیگر سرکاری اداروں میں گریڈ 17 سے گریڈ 20 پر تعینات ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال کے آخر میں وفاقی حکومت نے 8 لاکھ 20 ہزار سے زائد غیر مستحق افرادکو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکال دیا تھا۔
بعد ازاں رواں سال جنوری میں و زیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے انکشاف کیا تھا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے ایک لاکھ40 ہزار سرکاری ملازمین بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے وظیفہ وصول کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے پر تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو کارروائی کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کی تھی اور فراڈ کرنے والے افسروں کے خلاف دھوکا دہی کے مقدمات درج کر کے رقم وصول کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ دنوں بھی ایف آئی اے نے سکھر رینج میں 375 ایسے افسران کو نوٹس جاری کیے تھے جن کی بیگمات نے خود کو مستحق ظاہر کرکے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے وضیفہ وصول کیا تھا۔
بعد ازاں نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں ان افسران کی جانب سے ایک کروڑ سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جاچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں