علم دین اور علم دنیا الگ کیوں …. ڈاکٹرسید جواد شیرازی

Spread the love

علم ہر مسلمان مرد اور عورت پر سیکھنا واجب ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت یہ ایک ایسی حدیث ہے جو ہر سکول میں ہر مسلمان کو پڑھائی جاتی ہے تو پھر آج مسلمان عورتوں کی تعلیم کے مخالف کب سے ھوئےاور کیوں؟علم کی تقسیم کب سے ہوئی اور کس نے کی ؟کس نے مسجدوں اور دینی مدارس میں عقلی اور تجربی علوم کو پڑہنے سے مسلمانوں کو روکا؟
مسلمانوں کی فتوحات کا تذکرہ پڑھنے سے پتا چلا کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص نے عجمیوں کے کتابخانے کو اور عمر بن عاص نے اسکندریہ کے کتابخانے کو ویران کر کے( گمراھی پھیلانے والی ساری ادبی، تاریخی اور تجربی علوم پر مشتمل ہر طرح کی) کتابوں کو جلا کر یا دریا برد کر کے بہت بڑا ثواب کمایا مسلمانوں نے اس لے یہ نیک کام کیا کیونکہ ان کے پاس قرآن مجید تھا چوکہ انکی ھدایت کے لیے کافی تھا قرآن کے علم سے کتنے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ؟ اور کتنے لوگوں نے اس کو صرف ثواب کی نیت سے پڑھ کر زندگی گزار لی اس کا اندازہ آپ کواس وقت ہو گا جب آپ قرآن کی کسی ایک آیت کو کسی تجربہ گاہ میں تحقیق کے لئے پیش کریں تو آپ پر فورا کفر کا فتویٰ صادر ہو جائے گاآج کے کالم میں چند آیتوں کی طرف اشارہ کر کے پھر خدا سے معافی مانگ لیں گے خدا نے حضرت سلیمان نبی کی حکومت کا تذکرہ قرآن میں بیان کیا ہے جس میں ایک انسان کو ایک جن سے کہیں زیادہ طاقتور دکھایا گیا ہے جس نے کافی وزنی تخت کو ایک بہت دور کے علاقے سے پلک چھپنکے میں منگوالیا تھا جبکہ ایک جن کو اس کام کے لئے کافی وقت درکار تھا یہ منظر جس میں ایک پرندہ خبر لا کر دیتا ہے جسے آج کافر ڈرون کہتے ہیں اور ایک انسان جو جسم کو لمحے میں حاضر کرتا ہے اس پر بھی کافر اور مشرک ہی کام کریں گے اور جب وہ ٹیکنالوجی بنا لیں گے ہم اسے قرآن کی پیشین گوئی کہ دیں گے خدا قرآن میں کہتا ہے کہ دنیا میں ہر ذی روح کی روزی خدا کے ذمے ہے پھر ہم آبادی کو گھٹانے کے درپے کیوں ہیں ؟ خدا نے قرآن میں بیان کیا کہ زمیں حرکت کرتی ہے ہر چیز کا جفت خلق کیا ہے چاہے وہ حیوان ہو یا نبات جو کہ بعد میں ثابت ہو گئے لیکن قرآن کی کہی ہوئی حقیقت کو کسی نے نہیں پرکھا یا تجربہ گاہ میں رکھ کر عقل کو زحمت دیں کہ کیا کہا ہے اور کیوں کہا ہے؟ قرآن نےیہ بھی کہا ہے کہ تم سے پہلی قومیں آثار اور قوت میں تم سے زیادہ طاقور تھیں لیکں ہمیں تو یہ معلوم ہے کہ آج انسان کی ترقی تاریخ کی سب سے اونچی سطح پر ہے شاید ہم اہرام مصر سے زیادہ دیر تک باقی رہنے والےآثار بنا چکے ہیں یا پانچ سو سال تک صحت مند رہنے کا فارمولا ہمارے ہاتھ لگ گیا ہے خیر اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن کو جدید سائنس کے ساتھ موازنہ کرنے کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے خیر اسلام میں مرد عورت یکساں علم حاصل کر سکتے ہیں اسلام کی نگاہ میں مگر جو اسلام ہمارے ہاں ہے اس میں عورت کوتعلیم سےمحروم بھی رکھا جاسکتا ہےاور جائیداد میں بھی اس کو حصہ دئیے بغیر مسلمان رہا جا سکتا ہے لیکن ایک اور
مسلمانوں پر ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جس زمانے میں مسلمان طبیب آ نکھ کا آپریشن کرتے تھے جو کہ آج سے ہزار سال پہلے کی بات ہے اور انکی لکھی گئی کتابیں آج بھی مغرب کی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں اور وہ فقط جراح یا طبیب نہیں تھے بلکہ فلسفہ، علم، اخلاق، کلام تفسیر، فقہ اور تاریخ جیسے علوم پر کتابیں لکھتے تھے عجیب قسم کا ایک عالم گزرا ہے مسلمانوں کی تاریخ میں جو کہ موسیقی کا ماہر تھا علم فلکیات پر بھی عبور رکھتا تھا اور ہماری اصطلاح میں دینی علوم پر بھی مکمل عبور رکھتا تھا آج علم کی یہ تقسیم کس نے کی ہے کہ مدرسے میں فقہ و حدیث کے علاوہ اگر کسی علم کی بات کریں تو ملحد اور کافر قرار پاتے ہیں اور جو افراد سائنسی علوم حاصل کرتے ہیں وہ دین کو فقط قرآن وحدیث سمجھتے ہیں ہر علم جو انسان کی فلاح کے لئے استعمال ہو اسکو دینی علم کہنے کی جسارت کر سکتا ہوں؟ کیا جابر بن حیان ،بو علی سینا ، فارابی ، غزالی، ابن رشد جیسے لوگ جو مختلف علوم میں مہارت رکھتے تھے دین اسلام کے خدمت کرگئے یا وہ بھی فلسفہ یا موسیقی دان ہونے کی وجہ سے کافر ہو گئے
آج اگر مسلمانوں کو حلال بنکاری کرنی ہو تو وہ کس مدرسے کی طرف رجوع کریں جس میں جدید اقتصادی نظام اور اسلامی نظام کے ماہر اقتصاد دان بیٹھے ہوں؟ اگر کوئی مسلمان یہ چاہے کہ اس کی دوا میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو تو اس کوکس دوا ساز کمپنی کا پتا دینا پڑے گا؟ اگر مسلمان اپنا سیٹلائٹ فضا میں چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں جس کو اسلام دشمن قوتوں کے خلاف استعمال کیا جائے تو کہاں رجوع کیا جائے؟ اسلامی میڈیکل سائنس میں وبا کا کیا نظریہ ہے؟ اس کے دوسرے لوگوں پر کیا اثرات ہیں؟ اسکی احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟ تقریبا ایک ہزار سال قبل اسلامی مملکت میں طاعون کی وبا پھیلی تھی تو اس وقت بو علی سینا کا حفاظتی اقدامات پر مشتمل مکالمہ آپ کو کتابوں میں مل سکتا ہے اس کے بعد کب سے اسلامی ممالک میں علماء فقط فقہ اور حدیث کو علم دین اور باقی تمام علوم دنیاوی علوم کہنے لگے ہیں معلوم نہیں؟
ڈاکٹرسید جواد شیرازی
Mjawad99@yahoocom

اپنا تبصرہ بھیجیں