ماں کی محبت میں ..ایک دن کیوں … کومل شہزادی

Spread the love

ماں کے لیے کوئی ایک دن مقرر نہیں کیا جاسکتا میرے مطابق ہر دن مڈرڈے ہے اتنی عظیم ہستی کی محبت کے لیے ایک دن کیسے مختص کیا جاسکتا ہے- ماں کائنات کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے عظیم سرمایہ ہے ۔ اس کی شفقت و محبت اور خلوص و وفا کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
ماں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے کہنے کو تو یہ تین لفظ ہیں لیکن ان میں ایک پوری دنیا بستی ہے -ماں کا جو رشتہ اولاد سے ہے وہ تمام رشتوں سے بڑھ کر ہے-دنیا میں اللہ کے بعد واحد یہ ایک عظیم ہستی ہے جو دنیا ادھر کی اُدھر ہو جائے لیکن اپنی اولاد کونہیں چھوڑتی -جتنا خیال یہ ہستی اپنی اولاد کا تا حیات رکھتی اس کی محبت کا موازنہ دنیا کی کسی محبت سے نہیں کیا جاسکتا- اس کی محبت سمندر کی مانند ہے جس کو ایک دن کے لیے منالینا ہی کافی نہیں یہ جنت تو جن کے پاس اُن کے لیے ہر دن ہی ماں کا دن ہے-بقول منور رانا
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
ماں ایسی ہستی جو اولاد کی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے اُس وقت تک کرب میں مبتلا رہتی ہے جب تک کہ اولاد اُس اضطراب سے چھٹکارا نہ حاصل کرلے- اس کی محبت میں جو خلوص ہے وہ دنیا کی کسی اور محبت میں نہیں اور اس جیسی محبت کا کوئی ہم پلہ نہیں ہے- یہ وہ ہستی ہے کہ اس سے دنیا کی تمام تفکرات سےانسان آزاد رہتا ہے- اللہ نے کائنات تخلیق کی تو اُس میں اُس کی ہر چیز ہی بے مثال ہے لیکن ماں دنیا کی سب سے خوبصورت اور عظیم تخلیق ہے-اللہ پاک کی سب نعمتوں میں ایک عمدہ نعمت ہے- سورہ الرحمن میں یہ آیت مبارکہ ہے:
“اور تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے-”
رب العزت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ماں ہے- اس کی دعائیں میں جو اثر ہے وہ اورکسی دعا میں نہیں -ماں کی دعائیں ہی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں.. جس کے پاس ہو وہی قسمت کا سکندر ہے-بقول شاعر
مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجئے روشنی بڑھ جائے گی
ماں کی بے لوث محبت پر لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے- ماں کی محبت کاحق ایک دن میں کہاں ادا ہوتا ہے ایک بار ایک صحابی حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ !میں نے اپنی ماںکو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے ، کیا میں نے ماں کا حق اداکر دیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، تُونے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں کیا ۔
یہ اغیار کے تہوار منانا اسلام میں ممنوع ہے -یہ دن تو اُن کے لیے جن کو اس ہستی کی محبت سے ناآشنائی اگر آشنا ہوتے تو ماں کی محبت کے لیے کوئی مڈر ڈے نہ منائے بلکہ ہر دن ,ہر سال ,ہر گھڑی ہی ماں کا دن ہے-ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لئے اپنی ماں سے پیار کے اظہار کیلئے کوئی ایک دن مخصوص کرنا غلط ہے بلکہ ہر دن اور لمحہ اپنی ماں کی خدمت اور خیال رکھنے کیلئے ہونا چاہئے- ماں کی دعائیں سایہ فگن کی مانند ہے-دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں اس کی دعائیں تیز دھوپ میں ٹھنڈک کی مانند ہیں- ۔ رَبِّ ا رْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؒ نے ماں کی تعریف کرتے ہوئے کچھ یوں کہا کہ
میری ماں کا چہرہ بھی اتنا حسین ہے تسبیح کے دانوں کی طرح اقبال
میں پیار سے دیکھتا گیا اور عبادت ہوتی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں